تحصیل جتوئی کی تاریخی اور جغرافیائی پہچان

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کی 4تحصیلوں میں سے ایک تحصیل جتوئی...

چھاتی کا سرطان اور ہماری قدامت پسندی

بریسٹ کینسر کو چھاتی کا سرطان بھی کہتے ہیں یہ خواتین کا قدیم تربور(دشمن) ہے...

یہ نہیں سدھرنے والے

جمعے کی نماز کے لیے نکلا، بیان ختم ہونے کے قریب تھا۔۔۔ اس لیے جلدی...

دیوالی۔۔ہندو برادری کا بڑا مذہبی تہوار

دنیا بھر میں تمام مذاہب سے وابستہ کچھ ایام ایسے ہوتے ہیں جنہیں خصوصی اہمیت...

ہمارا بدلتا معاشرتی رویہ 

کسی بھی معاشرے میں بسنے والے افراد کا اخلاقی اور معاشرتی رویہ اس قوم کی...

بے نظیر پیسے بھیجتی ہے

اماں بے نظیر کیسے بھیجتی ہے پیسے؟؟ وہ تو ۔۔۔۔۔ باجی بھیجتی ہے شکر اللہ کا...

جینے کا ہنر

اگر آپ پریشان ہیں تو یہ نسخہ بھی آزما کر دیکھیں

 آج ہر دوسرا شخص پریشان ہے، کسی کو مالی پریشانی ہے، تو کوئی دوسروں کی...

کامیابی کو کیسے ممکن بنائیں

ایک کامیاب انسان اس پر پھینکے جا نے والے سنگ و خشت سے ایک مضبوط...

کامیاب اور پُرسکون زندگی گزارنے کے سنہری اصول.

۔ جھوٹ جھوٹ دو ہی وجہ سے بولا جاتا ہے کسی خوف سے یا کسی مفاد سے ہمیشہ سیدھے راستے...

انسانی سوچ اور خیال کی کرشمہ سازیاں…ایم صادق

انسانی خیال یقینا ایک پر اسرار قوت ہے لیکن یہ ہر کسی کیلئے پر اسرار...

آٹھ مسائل

ایک روز شیخ شفیق بلخیؒ نے اپنے شاگرد حاتمؒ سے پوچھا.. "حاتم! تم کتنے دنوں...

شاہراہ زندگی پر وقت کی تنظیم و ترتیب کی اہمیت

وقت ایک انمول دولت ہے اور اس کی اہمیت سے وہی لوگ واقف ہوتے ہیں...

میڈیا واچ

عاشقوں کا پوسٹ مارٹم

جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں سینکڑوں گزر چکے ہزاروں تیاربیٹھے ہیں کرکے برباد عشق میں...

بچے کا ذہن محفوظ بنائیے،  ٹی وی بند کر دیجیے

کیا کیا جائے! بات جب تک کسی امریکی یا یورپی یونیورسٹی یا ان کے تحقیقی...

ماہرہ۔۔۔! تمہارے سوٹے ہمارے لیے برابلم نہیں

ہماری قوم نے عجب کلچر پروموٹ کرنے شروع کر دیے یہاں میرا، متیرا، ماہرہ کے...

دی لیڈی ۔۔۔کہانی ایک قاتل عورت کی

دو ہزار گیارہ میں ہالی ووڈ نے میانمار میں جمہوری جدوجہد کرنے والی نوبل ایورڈ...

کچے ذہنوں کی پکی محبت

ان دنوں سوشل میڈیا پر  کراچی کے نجی اسکول کی  متوقع  منعقد ہونے والی تقریب ...

میں کوئی بھیڑ بکری نہیں ہوں

ڈرامہ سیریل باغی  قسط نمبر 1،2سوشل میڈیا سے شہرت پانے والی بے باک قندیل بلوچ...

مباحث

کیا قادیانیوں کو جبرا غیر مسلم بنایاگیا؟؟

جیسے ہر ملک کا شہری بننے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طریقے کو فالو کئے...

الفاظ کی توہین کا زمانہ

       ہمارا زمانہ الفاظ کی توہین کا زمانہ ہے۔ کنفیوشس نے کہا تھا کہ اگر مجھے...

قدامت،لبرلزم اور فطرت

اگرچہ اب مذہبی لوگوں میں بھی ’’مزاحیہ فنکاروں‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ مگر مذہبی لوگ...

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟

عہد حاضر کا خدا ا علیٰ معیارِ زندگی ہے جو سرمایہ سے حاصل ہوتا ہے...

جدیدیت کیا ہے،کیانہیں؟

دنیا کی ٢٣ روایتی، الہامی دینی تہذیبوں میں انسان عبد تھا۔ وہ جو اس نیلی...

آپ کا مسئلہ کیا ہے۔۔؟محمد اعظم

ملازمت کے شروع دنوں کی بات ہے جب دفتر میں کام کرنے والوں سے زیادہ...

اہم بلاگز

کمرۂ جماعت پرقابو ،کیوں اور کیسے؟

کسی بھی ملک اور معاشرے کی قسمت اور خوشحالی تعلیم سے وابستہ ہوتی ہے۔ہمارے ذہنوں میں یہ بات ترازو کی طرح قائم کر دی گئی ہے کہ معیاری تعلیم اچھی نصابی کتب کے ذریعہ فراہم کی جاسکتی ہے۔بالکل اس حقیقت سے ہم سرموئے انحراف نہیں کر سکتے ہیں کہ کتاب حصول علم کا ایک کارگر وسیلہ ہے لیکن ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی ضروری ہے کہ بغیر استاد کے یہ وسیلہ اپنی افادیت گنوا دیتا ہے۔کتابیں معلومات کی فراہمی میں نہایت کار گر ثابت ہوتی ہیں۔ لیکن سماج میں تبدیلی اور انقلاب کا نقیب کتاب نہیں بلکہ استا د ہوتا ہے۔ قوموں کی قسمت کی تبدیلی کا کام کتابیں نہیں بلکہ استاد انجام دیتے ہیں۔تعلیم جو تربیت سے عاری ہو وہ تعلیم نہیں محض معلومات کا ڈھیرکہلاتی ہے۔جس کتاب کے الفاظ کے پیچھے استاد کی زندہ شخصیت، جانفشانی و جفاکشی، اور جذبہ تعمیر و تبدل موجود نہ ہووہ کتاب بے جان الفاظ کا مجموعہ ہوتی ہے۔جس تعلیمی نظام میں استاد کو مرکزی اور قابل قدر حیثیت حاصل نہیں ہے وہ نظام ایک مہذب ڈھونگ کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔اپنے مضامین میں بارہا میں نے ایک بات پیش کرنی کی کوشش کی ہے کہ ’’استاد کتاب نہیں بلکہ زندگی پڑھاتا ہے۔‘‘استاد کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھناضروری ہے کہ وہ معلومات کے فراہمی کا ایک آلہ نہیں بلکہ وہ قوم و انسانیت کا معمار ہے۔کمرۂ جماعت معلومات کی فراہمی کا ایک پلاٹ فارم ضرورہے لیکن یہاں پر استاد اپنی حکمت اور علم کی توانیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انسانیت اور معاشرے کی تعمیر انجام دیتا ہے۔استاد کے لئے کتاب صرف نصابی سرگرمیوں کی ادائیگی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ استاد اگر استاد ہے تو وہ کتاب کیسی بھی کیوں نہ ہو وہ اپنے مطلب کی چیزیں اس سے برآمد کر لے گا۔سیکولرازم کی کتاب سے اسلامیات اور اسلامیات کی کتاب سے سیکولرازم برآمد کرنا ایک استاد کے لئے معمولی کام ہوتا ہے۔تربیت کے لئے استاد کے پاس بڑی اور اعلیٰ ڈگریوں کا ہونا ضروری نہیں ہوتا ہے۔ تربیت کے جذبے سے سرشار استاد خواہ اس کی ڈگری معمولی اور چھوٹی کیوں نہ ہو تربیت کے جذبے سے عاری اعلیٰ ڈگری کے حامل استاد سے تربیت سازی کا کام بہتر انجام دیتا ہے۔ بڑی ڈگریوں کے حامل اساتذہ اگر تربیت کے جذبے سیعاری ہوں تب بڑی بڑی تعلیمی ڈگریوں کے باوجود بھی وہ چھوٹی سی تربیت کے کام بھی انجام نہیں دے سکتے ہیں۔تدریس آدمی کو ایک اچھی مشین اورمہذب جانور تو بنا سکتی ہے لیکن ایک اچھا انسان بنانا اس کے بس کا روگ نہیں ہے۔تربیت کا زیور ہی اسے شرف انسانیت سے سرفراز کر تاہے۔تربیت کے بغیر ایک اچھے انسان کی تعمیر کا تصور محال نظرآتا ہے۔اسی لئے کہا گیا ہے کہ ’’اچھے استاد کے ہاتھ میں بری کتاب بھی اچھی بن جاتی ہے اور اچھے استاد کے بغیر اچھی کتا ب بھی بری ہوجاتی ہے۔ کسی بھی قوم کے مستقبل کا دارو مداراس کی نوجوان نسل پر منحصر ہوتا ہے۔جو لوگ اپنے مستقبل کو محفوظ اور تابناک بنانا چاہتے ہیں ان کے...

اصلاح معاشرہ کے دواہم کردار

کسی بھی معاشرے کی کردار سازی کی ذمے داری اس معاشرے سے تعلق رکھنے والے تمام افراد پر عاید ہوتی ہے لیکن ہر معاشرے میں ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو رہنما کہلاتے ہیں اور ان پر معاشرے کی اصلاح کی ذمے داریاں دوسروں سے زیادہ ہوتی ہیں ۔ اسلامی معاشرے میں بھی ہر فرد اصلاح معاشرہ کا ذمے دار ہے ۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ" تم میں سے  ہر شخص راعی  ہے اور اس سے اس کی رعیت سے متعلق پوچھا جائے گا“(مفہوم) یہ اجمالاً ذکر ہے ، جن لوگوں پر یہ ذمے داری خصوصی طور پر عاید ہوتی ہے وہ اس معاشرے کے وہ لوگ ہیں جن میں قائدانہ صلاحیتں موجود ہوتی ہیں انگریزی زبان میں اس کو لیڈر شپ اسکل کہا جاتا ہے ، لیڈر جو کہ انگریزی زبان کا لفظ ہے اس کا عربی ترجمہ امام ہے جو اردو میں بھی مروج ہے ۔ امام کا نام سامنے آتے ہی ہمارے ذہن میں ایک مخصوص نقشہ آجاتا ہے ایک مخصوص شکل و صورت وضع قطع کا فرد جو کہ مسجد میں ہر نماز کے وقت موجود ہو اور آگے کھڑے ہوکر باجماعت نماز پڑھائے ، کسی کے ہاں نکاح ہوتو اس کی خدمات لی جائیں اور اگر کوئی فوت ہوگیا ہو تو اس کی امامت میں نماز جنازہ ادا کی جائے یا کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو تو نومولود کے کان میں اذان دے ۔ وہ معاشرے کے دیگر کاموں سے لاتعلق رہے کسی کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرے ، اس معاشرے کی بہت سی سہولیات سے استفادہ بھی اس کے لیے جرم قرار دیاگیا ہے اور ایسی کسی صورت میں اس پر لعن طعن کی جائے ، وہ محلے اور علاقے کی مسجد میں بے شمار لوگوں کے مزدور کا کردار ادا کرے۔ حالانکہ امامت تو ایک منصب ہے، ایک ذمے داری ہے، ایک توانا آواز ہے، اسلامی معاشرہ امام کے کردار کے گرد گھومتا نظر آتا ہے ، دراصل امام اس علاقے کے اس اسلامی کمیونٹی سینٹر کا ذمے دار ہے جسے اسلامی اصطلاح میں مسجد کہا جاتا ہے، یہ مسجد صرف عبادت کے لیے مخصوص جگہ کا نام نہیں بلکہ مسجد میں عبادات کے ساتھ ساتھ معاشرتی معاملات طے کرنے کا نظام ، تعلیم اور صحت کے پروگرام، امدادی فلاحی سرگرمیوں پر مشتمل سہولیات اور عام معاشرتی مسائل کے حل کے لیے انتظامات موجود ہوں ، لوگوں کی ایک دوسرے کی خبر گیری کرنا، ایک دوسرے کے معاملات سے آگاہی حاصل کرنا، مریضوں کی عیادت کرنا، محلے اور علاقے سے برائیوں کو ختم کرنے اور نیکیوں کو فروغ دینے کے لیے کردار ادا کرنا، سب اس مسجد سے وابستہ افراد اور امام مسجد کی اجتماعی ذمے داری ہے ، عوام کی اخلاقی اور فلاحی تربیت کرنا امام مسجد کی ذمے داری ہے۔ وہ ان کاموں کے لیے ایسے رضا کار افراد تیار کریں جو ان کاموں میں دلچسپی لیں اور ان کا منشا رضائے الٰہی کے حصول کے سوا کچھ نہ ہو۔ نادار اور غریب مریضوں کے علاج معالجے کا انتظام کرے، یتیم و بے سہارا بچوں اور بچیوں...

اسپیم ای میلز ملنے کی وجوہات 

موجودہ دور میں تقریباَ ہر ذی نفس انٹرنیٹ اور الیکٹرونک میل یا ای میل کے استعمال سے واقف ہے۔الیکٹرونک میل الیکٹرونک ڈیوائیسز یا کمپیوٹر کا استعمال کرنے والے افراد کے درمیان پیغامات کے تبادلے کا بہت موثر ذریعہ ہے ۔ ہر دن ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کے درمیان ای میل پیغام رسانی کا باعث بنتا ہے اور ای میل استعمال کرنے والے ہر فرد کو روزانہ کتنے ہی غیر متعلقہ پیغام موصول ہوتے ہیں ۔ ان غیر متعلقہ پیغامات کو اسپیم ای میلز کہا جاتا ہے۔ اسپیم ای میلز کا ملنا زندگی کی بہت سی تلخ حقیقتوں کی طرح ایک حقیقت ہے جس سے نہ تو بچا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس سے پیچھا چھڑانا ممکن ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اسپیم ای میلز کیسے اور کیوں موصول ہوتی ہیں ۔۔؟ اسپیم ای میلز موصول ہونے کی وجہ جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ ای میلز بھیجنے والے اسپیمرز ہمارے ای میل تک کیسے رسائی ممکن بناتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ٹیکنالوجی کی اس دنیا میں کسی کی ای میل تک رسائی حاصل کرنا بہت ہی آسان ہے ۔ ایک بڑی تعداد میں شائع شدہ ای میل کے پتے (ایڈرسز) انٹرنیٹ پر گردش کرتے ہیں ۔ اسپیمرز ان ای میلز کو ڈاﺅن لوڈ کر کے اسپیم یا غیر متعلقہ پیغامات بھیجنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس بات کے بھی امکانات پائے جاتے ہیں کہ ہمارے ای میلز ای میل تلاش کرنے والی مختلف ویب سائٹس اور فورم چلانے والے چھوٹے پروگراموں سے بھی مل سکتے ہیں۔ یہ چھوٹے پروگرام مخصوص متن کا نمونہ جن میں''ایٹ دا ریٹ آف'' اور” ڈاٹ کام “ یا ” ڈاٹ نیٹ“ کی علامات ہوں کو تلاش کرتے ہیں ۔ اگر اس مخصوص نمونے کی کوئی ای میل پہچان لی جائے تو یہ پروگرام اسے محفوظ کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ اسپیمرز کے لیے ای میل حاصل کرنے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہمارا کمپیوٹر یا سمارٹ فون کسی وائرس سے متاثر ہو جائے تو یہ وائرس سب سے پہلے ہمارے ایڈریس بک تک رسائی حاصل کر کے انھیں ریکارڈ کر لیتا ہے۔اس سے راتوں رات اسپیم ای میلز موصول ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔۔ اس طریقے سے ای میل ایڈریس کے نکلنے کا مسئلہ صرف چند لوگوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی کمپنیوں کے ساتھ بھی درپیش رہتا ہے۔ ان بڑی کمپینوں کی ای میلز تک رسائی حاصل کر کے ان ای میلز کو چور بازار میں بیچا جاتا ہے جس سے ان کمپنیوں کو غیر تلافی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے۔ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ جب بھی ہم اپنی ای میل کسی ویب سائٹ ،کسی فرد یا ادارے کو دیتے ہیں تو ہمیں اسپیم میلز موصول ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔بعض اوقات کمپنیاں یا ویب سائٹس اپنے صارفین کے ای میل پتے براہ راست اسپیمرز کو بھیج دیتے ہیں جو کہ ایک بدترین عمل ہے۔بعض دفعہ اسپیمرز مشہور ناموں کا مرکب بنا کے ای میل...

حکیم محمد سعید کا لہو ہم پہ  قرض ہے

اردو سے پہلی محبت روزنامہ جنگ میں روز چھپنے والی ٹارزن کہانی سے پیدا ہوئی اور پھر نونہال ، تعلیم و تربیت ، ساتھی اور ٹوٹ بٹوٹ نے ماہانہ بنیادوں پہ اسے پروان چڑھایا " نونہال " سے حکیم محمد سعید کا تعارف ہوا اور وہیں سے انکی دیگر کتب  جو سیرت نبوی و سیاحت سے متعلق تھیں ، دل میں گھر کر گئیں ۔ بہت حیرت ہوتی جب ہم پڑھتے کہ حکیم صیب دوپہر میں کھانا کھانے کے بجائے پھلوں پہ اکتفاء کرتے اسی طرح انکے سفر نامے ہمیں لمحوں میں امریکہ جاچان وغیرہ کی سیر کرادیتے ۔ یہ غالباً ترانوے کی بات ہے جب حکیم صیب  سندھ کے عبوری گورنر مقرر ہوئے ایک تعلیمی تقریب میں انکی آمد تھی اور مجھے اپنی ایک کلاس فیلو کیساتھ انہیں گلدستہ پیش کرنا تھا ، مجھے یاد ہے کہ اس شب میں صحیح طرح سے نہ سو سکا کیونکہ سویرے اس شخصیت سے مختصر ملاقات ہونا تھی جو بلاشبہ ہمارا ھیرو تھا ۔ گزشتہ دنوں زاہد علی خان صاحب کے گھر میں سجی ایک مجلس کے دوران کراچی کا رونا رویا گیا تو ڈاکٹر فیاض عالم صاحب نے یہ واقعہ سنا کر سب کو مزید دکھی کردیا کہ نوے کی دھائی کے ابتدائی برسوں میں انہوں نے ایک دن نائن زیرو کے باھر کرسی پہ  حکیم محمد سعید کو بیٹھے دیکھا اور خاصی دیر تک جب انہیں یوں عظیم قائد کی گلی میں انتظار کرتے دیکھا توالطاف  بھائی کے ایک عقیدت مند سے کہا کہ حکیم صاحب کوجانتے ہو جو انہیں یوں ذلیل کر رہے ہو ؟ جواب ملا ، جلدی کیا ہے جب " بھائی " کو فرصت ملے گی بلالیں گے ۔ حکیم صاحب بڑے انسان تھے ہماری خوش قسمتی کہ انہیں دیکھنے ملنے اور سننے کی سعادت ملی پھر آج ہی کے دن کئی برس پہلے " نامعلوم افراد " جاگو اور جگاؤ کا نعرہ لگانے حکیم صاحب کو صبح سویرے سلاگئے ، حکیم صاحب کی کریم کلر کی شیروانی لہو سے بھیگ گئی اور درجن بھر گولیاں انکا سینہ چاٹ گئیں ۔ گھر و شہر سے بزرگ قتل ہوکر  قبرستان آباد کرنے لگیں تو نئی نسل کو آسیب بھر ماحول ملتا ہے اور اسکا حتمی نتیجہ تباھی ۔ حکیم محمد سعید کا لہو ہم پہ  قرض ہے اور اسے چکانے کا راستہ وہی ہے جو شہید سمجھا گئے تھے ۔ جاگو اور جگاؤ ، پاکستان سے محبت کرو پاکستان کی تعمیر کرو  ۔  

روح تعلیم

کسی بھی ملک وقوم کی ترقی کا انحصار اس کے تعلیمی نظام پر ہوتا ہے۔خوشحال معاشرے کی تشکیل میں بلند معیا ر تعلیم ،اچھے مدارس اور بہترین اساتذہ کا اہم کردار ہوتاہے۔لیکن وہ معاشرہ جہاں تعلیم کو قانونی طور پر تجارت کا موقف حاصل ہو اور مدارس کو طبقاتی نظام کی بنیادوں پر قائم کیا جائے وہاں صحت مند جمہوری نظام کی کس طرح توقع کی جا سکتی ہے۔ہمارا تعلیمی نظام طبقاتی کشمکش کی منہ بولتی تصویر ہے۔غریبوں وناداروں کے لئے محدود وسائل بلکہ کثیر المسائل مدارس،متوسط و درمیانی طبقے کے لئے ادنی خانگی اسکولس اور دولت مندوں کے لئے اعلی و بہتر کار پوریٹ تعلیمی نظام۔تعلیمی نظام کا یہ فرق ہمارے منقسم اور زوال پذیر معا شرے کی اعلی مثال ہے۔غریب طبقہ کے لئے سرکاری مدارس کا جال تو موجود ہے لیکن تعلیمی ما حول اور تعلیمی ضروریات کی فراہمی وتکمیل میں ارباب مجاز نا کام ہو چکے ہیں ۔ مدارس کو وسائل کی فراہمی و تکمیل حکومت کے لئے اگرچہ ایک معمولی کام ہے ا ور حکومت یہ معمولی کام انجام دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ان مدارس سے غیر معمولی افراد کا ظہوریقینی ہے۔حیدرآباد فرخندہ بنیاد کے حکمرانوں سے ایک نہایت ہی اعلی اور مثالی تعلیمی نظام وراثت میں ہم کو ملا تھا لیکن اس نظام کو مزید ترقی دیناتو در کنار اس نظام کو ہماری حکو مت سنبھال تک نہ سکی۔شہر حیدرآبا د میں سر کاری اعلی تعلیمی اداروں کا ایک مبسوط جا ل بچھا ہواتھا غریب اورامیرایک ہی مدرسہ میں تعلیم حا صل کر تے تھے لیکن یہ ان دنوں کی بات ہے جب تعلیم کو عبادت سمجھاجاتاتھااور اسے تجارت کا درجہ حاصل نہیں ہوا تھا۔�آج سرکا ری اسکولس کے جائزے سے ایک سوال ذہن میں ابھرتاہے کہ ماضی میں ہم ترقی یافتہ تھے یا آج ہم تر قی کی منازل طئے کر رہے ہیں۔ دو تاتین کمروں پر مبنی یہ اردو مدارس کس طرح اردو قوم کو ایک صحت مند تعلیمی ما حول فراہم کر سکتے ہیں اساتذہ کی قلت کے ہوتے ہوئے ملک کی تر قی ایک خام خیالی نہیں تو اور کیاہے۔ ۱۰۰گز پر مبنی 10/10 کے رقبے پر محیط دو تین کمروں کے مدارس جن کی دبتی ہو ئی اس بسطاس کی چھت مو سم گر ما کے آغاز سے ہی ا پنی قہر سامانیوں کانظا رہ پیش کر تی ہے وہیں بارش میں ٹپکتی ہو ئی یہ چھتیں بچوں کو حفظ ما تقدم کی تعلیم بھی بدرجہ اتم دیتی نظر آتی ہیں۔ ان مدارس کے طلباء کے لئے رحمت باراں بھی کسی عذاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔الغرض طلباء تعلیم حاصل کر یںیانہ کر یں موسم کی ستم ظریفوں کوسہنے کے ضرور عادی ہوجا تے ہیں۔ پانی ، بجلی کی سربراہی اور بیت الخلاء کی جھنجھٹ سے یہ مدارس بالکل آزاد ہیں۔ میدان کی عدم موجودگی کی بنا ء پر فزیکل ایجوکیشن ٹیچر کا تقرر بھی بے فیض ہے۔ پانچ جماعتوں کے لئے ایک یادو اساتذ ہ کا تقرر حکومت کی کفایت شعاری کا غماز ہے۔ کسی بھی ملک کی تر قی میں سیاستداں اہم کردار...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

سالا ، اتنا متنازع کیوں؟

سالا متنازع ترین رشتہ ہے، بارہا دیکھا گیا کہ جو شخص کسی کو یکطرفہ طور پر، اور فریق ثانی کی رضامندی کے بغیر لیکن علی الاعلان اس رشتے پر فائز کر دیتا ہے وہ ضرور (جوابی) گالیوں کا نشانہ بنتا ہے، اور نوبت بعض اوقات خراشوں یا  خون خرابے تک جا پہنچتی ہے۔ مشرقی معاشرے میں سالا ہونا قابل فخر بات نہیں، البتہ بہنوئی ہونے پر فخر کرتے ہوئے بھی ہم نے کسی کو نہیں دیکھا۔ جہاں تک خجالت کا سوال ہے تو اس کا تعلق کسی رشتے سے جوڑنا مناسب نہیں البتہ کوئی رشتہ دار ضرور کسی کے لیے باعث خجالت ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود سالا بنتے دیر نہیں لگتی۔ تحقیق (جو کسی امریکی یا برطانوی یونیورسٹی نے نہیں بلکہ ہم نے خود کی ہے) سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف ایک بے ضرر سی شادی کئی سالوں کو وجود میں لانے کا سبب بنتی ہے۔ ہمیں اس موضوع سے گہری دلچسپی تھی کہ مغرب میں سالا ہونا لوگوں کو کیسا لگتا ہے؟ ہمارے یار دوست جب بھی یورپ یا امریکہ کا چکر لگا کر آتے ہم یہ سوال ان کے سامنے ضرور  رکھتے۔ اکثر کا جواب یہ ہوتا تھا کہ ابھی تو مغرب کے مردوں نے خود کو شوہر محسوس کرنا شروع نہیں کیا، سالے کی باری تو نہ جانے کب آئے گی۔یہ پوچھنے کا جی چاہا کہ مغرب کے مرد فی الحال خود کو کیا محسوس کرتے ہیں، لیکن اس مختصر سے تبصرے کو سن کر ہماری تحقیق کی روح پرواز کر گئی۔ کہتے ہیں، عورتوں میں برداشت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ ہم نے ’’سالی‘‘ کہے جانے پر کسی عورت کو برا مانتے  ہوتے نہیں دیکھا (شرماتے ہوئے البتہ دیکھا ہے)۔ عورتیں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے میں ایک دوسری کے لیے حددرجہ محتاط واقع ہوئی ہیں، وہ ذاتی جھگڑے میں بھی مردوں کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتی ہیں، تب ہی تو آپس میں ’’اللہ کرے تیری سوکن آئے، تجھے جلائے‘‘ جیسی بددعائیں دیتی ہیں جس پر متعلقہ مرد زیرلب ’’آمین، ثم آمین‘‘ کہتے پائے جاتے ہیں۔

طلاق میں اضافے کی وجوہات

طلاق کی بعض وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ملک کے اکثر شہروں میں منہ دکھلائی، دودھ پلائی جیسی رسموں کے ساتھ ساتھ شادی کے فوراً بعد "منہ دھلائی" کی رسم نے جڑ پکڑ لی ہے۔۔ خادم اعلیٰ و دیگر اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ اس "حقیقت پسندانہ رسم کی جلد سے جلد سرکوبی کر کے سماج میں بکھرتے رشتوں کی نیا کو ڈوبنے سے بچانے کےلیے اقدامات کیے جائیں۔۔۔ نیز ملک بھر میں موجود بیوٹی پارلر جیسی جھوٹ کی فیکٹریوں​ سے دھوکہ دہی میں اعانت فراہم کرنے والوں اوزاروں اور کایا پلٹ و چہرہ بدل بیماروں کا جلد سے جلد قلع قمع کر کے کنواروں کے جذبات کو مجروح ہونے سے بچانے لیے تگ ودو​ کی جائے۔۔ نوجوانان کنوارہ ایسوسی ایشن کے صدر نے اپنی پارٹی کی ذیلی تنظیم "ڈسے ہوئے دلہے" سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ اس حوالے سے کسی خاتون، جیسا کہ مریم نوازشریف کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ملک کے چپے چپے میں پھیلے ایسے پارلرز پر چھاپے مارے اور اصل و نقل کے مابین فرق واضح کرنے کو کوئی اصول و ضوابط متعین کرے تاکہ نوجوانوں کو شادی جیسے پاکیزہ رشتے کی ابتدا ہی میں جوے جیسی لعنت سے محفوظ و مامون رکھا جا سکے۔۔ دھوکہ خورد نوجوانوں کے مظلوم صدر نے صدر مملکت سے بھی درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "آپ تو اس قسم کے واقعات سے بخوبی واقف ہی ہیں کہ کس طرح پھر زندگی بھر چپ لگ جاتی ہے پھر چاہے آپ ملک کے صدر ہی کیوں نہ بن جائیں" صدر مظلوم نے نوجوانوں کی آہ و بکا میں فوجی انتظامیہ کی بھی اس جانب توجہ دلائی کہ سی پیک کے بعد ایسے واقعات میں چینی مداخلت کے باعث اصل و نقل کے مابین فرق میں مزید خلا آنے کا خدشہ محسوس کیا جا رہا ہے لہٰذا ان خدشات کا ابھی سے تدارک کیا جائے۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نوجوان زندگی بھر کی جمع پونجی تو لٹوا ہی بیٹھیں ساتھ ہی ساتھ "مایوسی"کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گمراہ ہو کر "منزل نہیں رہنما چاہیے"جیسے بے ہودہ نعروں پر وشواس کرنا شروع کر دیں۔۔۔لٹے پٹے نوجوانوں کے صدر نے حکومت وقت سے آخری درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں اب بینکوں کے سامان کی نیلامی کے اشتہارات کی مانند رشتوں کا بندوبست کروایا جائے کہ جن میں مشتہر لکھتا ہے کہ "سامان جہاں جیسے کی بنیاد پر موجود ہے بولی میں شرکت کے خواہشمند حضرات جلد ازجلد دیے گئے نمبروں پر رابطہ کر کے خریداروں کے فہرست میں اپنا نام درج کروائیں شکریه"

شکوے شکایت

عمر میں  چھوٹے لیکن عقل و فہم میں بڑے نذیر الحسن کا حکمیہ فون آیا،حسب عادت پہلے ہمارا مذاق اڑایا اس کے بعد عشق و محبت پر اتر آئے کہنے لگے کہ آپ کو پیر سمجھتا ہوں لیکن نذرانہ  سب اپنی جیب میں رکھوں گا۔ یہ جو آپ کے بالوں میں سفیدی آگئی ہے اس کی وجہ سے پیر سمجھتا ہوں۔ ان کی یہ ساری باتیں ہم نے بغور سنیں اس کے بعد کہا بھائی نذیر الحسن آپ سے واقفیت اور تعلق جو کبھی برادر یوسف کا سا لگتا ہے کم و بیش 15 برس تو بیت گئے ہیں ۔فون تو آپ نے کسی کام سے ہی کیا ہوگا اور اس لیے میٹھی زبان میں ہماری چٹکیاں لے رہے ہو۔فرمانے لگے کہ جسارت اپنا بلاگ لے کر آرہا ہے اور آپ کو بھی اس میں لکھنا ہے کب تک آپ کا بلاگ آجائے گا۔ہم نے کہا کہ بھائی ہم تو ویسے ہی جسارت سے راندہ درگاہ ہیں کچھ عرصہ پہلے تک وہاں قلم توڑتے تھے لیکن جب سے قلم میں روانی آئی تو ایڈیٹر صاحب نے کہا کہ یہ آپ کے قلم میں روانی ذرا سیاسی زیادہ ہے اور خصوصاً آپ عمرانی نظریات و خرافات کے ہمنوانظر آتے ہیں اس لیے ہم آپ کو جسارت میں تو داخل نہیں ہونے دیں گے۔ہم نے بھی اپنا قلم اپنے ہی کان پر دھرا اور ڈاکخانہ کے باہر بیٹھ کر چھٹیاں لکھنے لگے کبھی کبھی منی آرڈر بھی آجاتے تھے لیکن بھلا ہو اس نئے دور کا اس نے خط کا رومانس اور ڈاکیے کی مخصوص آوازبھی ہم سے چھین لی۔ اب نہ وہ نورجہاں کی آواز رہی کہ "چھٹی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے" اب تو سیاں اور میاں دونوں کے ساتھ chat ہو جاتی ہے اور وٹس اپ پر تصویر شیئر ہوجاتی ہے۔ ایک وہ زمانہ  تھا کہ شہر کا شہر عشق کا دشمن ہوتا تھااور پورا محلہ مل کر آپ کے اخلاق و کردارکی رکھوالی کرتا تھا۔گوکہ کہ کالج تک پہنچنے سے قبل علم الابدان کے بارے میں ہم صرف وہ جانتے تو جو ہم نے بزرگوں کی گالیوں سے سنا تھا لیکن اب کا بچہ شاید میٹرنٹی ہوم سے ہی میٹرک کر کے نکلتا ہے۔اور ماں باپ اس کے نرسری میں ایڈمیشن کے لیے پی ایچ ڈی کا نصاب پڑھنے لگتے ہیں بچے کے ایڈمیشن کے لیے کسی اچھے اسکول میں اس کو انٹریو دینا بچہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل لگنے لگتا ہے۔ خیر قصہ مختصر بات یہ ہورہی تھی جسارت میں بلاگ لکھنے کی۔بھائی ہم کہ ٹھیرے دقیانوسی اور ساتھ ساتھ رجعت پسندبھی اس لیے یہ بلاگ والی کہانی ہم کو آتی نہیں ہے۔ برادر نذیر الحسن کے کہنے پر قلم گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں جسارت بے شمار حوالوں سے ایک راہ متعین کرنے ولا اخبار ہے اور اس نئے طریقہ تحریر میں بھی ایک راہ متعین کرے گا۔تمام دوسروں کو اس کی تقلید کرنی پڑے گی۔ہم تو آپ کے ساتھ ہمشیہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے اور اگر چھاپتے رہے تو بلاگ بھی لکھتے رہیں گے نہیں تو" اور بھی غم ہیں زمانے میں بلاگ...

عقل بڑی کہ بھینس ۔۔۔ ؟؟

خدانخواستہ اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جو عقل کو بھینس سے بڑا بتاتے ہیں تو میری یہ تحریر آپ ہی کے لیئے ہے تاکہ اگر آپ میں‌ بھینس سے متعلق دیرینہ غلط فہمیاں اگر ختم نہیں کی جا سکتیں تو کم ضرور ہوسکیں اور آپ بھینسوں سے متعلق اپنے ناگوار خیالات کی اصلاح کرکے کسی بھینس کو منہ دکھانے کے قابل ہو سکیں اور ان سے متعلق ایک نئے نظریئے کے ساتھ جی سکیں- یہاں میں یہ حوالہ دیئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ صاحب طرز مزاح نگار شفیق الرحمان نے بھینسوں‌ سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی ہیں اوریہ کہ کر انکا مستقبل تاریک کرنے کی کوشش کی ہے کہ " بھینسیں ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتیں کیونکہ محبت اندھی تو ہوتی ہے لیکن اتنی بھی اندھی نہیں ہوتی " ۔۔۔ لیکن بڑے اطمینان کی بات یہ ہے کہ ایک دوسرے سے منہ پھیر کے بیٹھی رہنے والی ان بھینسوں کے یہاں بھی بالکل دوسرے مویشیوں کی مانند نئے مہمانوں کی ریل پیل لگی رہتی ہے - جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ محض محبت اور حسن کی تلاش میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی بجائے عمل اور حمل پہ یقین رکھتی ہیں حالانکہ وہ بالکل بھی نہیں جانتیں کہ عمل سے زندگی بننے کے بارے میں اقبال کیا کہ گئے ہیں - ایک بات اور بھی بھینسوں کے حق میں جاتی ہے اور وہ یہ کہ انکی اس بے نیازانہ طرز حیات نے انسانی زندگی پہ بھی بہت اثر ڈالا ہے اور ان سے متاثر ہوکے ہمارے بہت سے ناراض ازدواجی جوڑے باہم راضی بھی نہیں ہوتے لیکن پیہم 'گل کھلانے ' سے باز بھی نہیں آتے - اسی طرح یہ خصلت بھی وہیں سے آئی ہے کہ بھینس اور بھینسے کی مانند لحیم شحیم دکھنے والے اور اسکے سینگوں‌ کی مانند بڑی بڑی اور نوکیلی مونچھیں رکھنے والے بہت سے خوفناک صورت مرد عین خطرے کے وقت بیٹھے کے بیٹھے ہی رہ جاتے ہیں اور بعضے وقت تو اسی حالت میں بغیر اف کیئے ذبح تک ہوجاتے ہیں ۔۔۔ میری دانست میں اب اس بے نیازانہ و صلح جویانہ سوچ کو نفسیات کے باب میں بفیلو سائیکلوجی کی صورت اک خاطر خواہ مقام ضرور دیا جانا چاہیئے- یہ عرض کردوں کہ آپ میری اس تحریر کو کائنات میں بھینس کا مقام متعین کرنے کی کوشش کے طور پہ ہرگز نہ لیں کیونکہ وہ پہلے سے واضح ہے بس یہ تو اس بڑے مغالطے کی اصلاح کی ایک عاجزانہ سی کوشش ہے کہ جسکی رو سے عقل کو بھینس سے بڑا بتانے کی کوشش کی جاتی ہے - آپ خود ہی دیکھیئے کہ یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ جو کچھ لوگ عقل اور بھینس کا موازنہ کرتے ہیں اوردو روشن آنکھوں کے حامل ہونے کے باوجود عقل کو بھینس سے بڑا بتاتے ہیں حالانکہ بینائی سے محروم افراد تک ٹٹولے بغیر بھی بتاسکتے ہیں کہ بھینس عقل سے بڑی بلکہ بیحد بڑی ہے اور زیادہ ٹٹولنے سے تو بھینس خود ہی بتا دیتی ہے کہ وہ کتنی بڑی ہے- تحقیق...

لکھنے کے اعضا۔

اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ لکھنے میں کون کون سے اعضا استعمال ہوتے ہیں؟ تو آپ ’کوئی‘ کو پاگل سمجھیں گے۔ عام خیال یہی ہے کہ  لکھنے میں صرف ایک ہاتھ اور آنکھیں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ خیال درست ہے، لیکن نامکمل ہے۔ لکھنے میں کون سے اعضا استعمال ہوتے ہیں، انحصار اس بات پر ہے کہ لکھنے والا کون ہے بلکہ کیا ہے؟ اگر لکھنے والا چار جماعت فیل ہے تو لکھنے میں (کچھ بھی لکھے، خواہ دستخط کرے) اس کے یہ اعضا استعمال ہو  سکتے ہیں: ایک ہاتھ کی چاروں انگلیاں، انگوٹھا (قلم کو زور سے پکڑنے کے لیے)اور ہتھیلی(کاغذ پر ٹکی ہوئی)، دوسرے  ہاتھ کی چاروں انگلیاں (کاغذ کو میز پر دبانے کے لیے پھیلی ہوئی)، کہنی (میز کو دبا کر رکھنے کے لیے)، ماتھا (شکن ڈالنے کے لیے)، دونوں ابرو (چڑھانے کے لیے)، زبان (ہونٹوں سے ذرا سی باہر کو نکلی ہوئی)، گردن (فرماں برداری سے کاغذ کی طرف جھکی ہوئی)، آنکھیں (کاغذ پر)۔تحریر کے بعد، یا دستخط کی تقریب کے بعد یہ اشیا اپنے معمول پر آ جاتی ہیں۔ اس کے برخلاف ، لکھنے والا  عادی ہے، یعنی ادیب، صحافی یا لکھاری ہے تو اس کے کم سے کم اعضا استعمال ہوں گے، مثلاً دو انگلیوں اور انگوٹھے میں تھاما ہوا قلم اور آنکھیں۔ زیادہ سے زیادہ کہنی میز پر ٹکی ہوئی۔ دوسرا ہاتھ سر کھجانے یا سگریٹ نوشی کے لیے وقف ہوگا۔ زبان باتوں میں مصروف یا خاموش ہوگی (کم از کم ہونٹوں سے جھانک نہیں رہی ہوگی)۔ یہ دو مختلف مناظر دراصل دو ذہنی کیفیتوں کا اظہار ہیں۔ اول الذکر علم سے نابلد ہے، اسے اپنی کم علمی کا احساس بھی ہے، کم مائیگی کا یہ احساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اس کمی کو پورا کرنے کو ممکنہ حد تک زور لگائے چنانچہ زور لگانے میں اس کے بہت سے اعضا لکھنے میں مصروف ہو جاتے ہیں  اور وہ ہمہ تن قلم بن جاتا ہے۔جیسا کہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ایسا شخص کبھی کبھار ہی قلم اٹھاتا ہے، چنانچہ لاشعوری طور پر وہ اس قیمتی شے کو جکڑ لینا چاہتا ہے۔ اُس کے نزدیک لکھنا (خواہ دستخط ہی ہوں)بے حد اہم اور لائقِ توجہ کام ہے جسے انجام دینے کے لیے اسے گردوپیش سے بلکہ اپنے آپ سے بھی بے گانہ ہو جانا چاہیے۔ مؤخر الذکر چونکہ لکھنے کا عادی ہے، قلم اس کا دن رات کا ساتھی ہے، یہ مشق اس کے لیے اتنی اہمیت نہیں رکھتی۔ وہ ارد گرد موجود لوگوں سے بات چیت بھی کرتا جاتا ہے۔ابنِ انشا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لکھنے کے دوران دوستوں سے باتیں بھی کرتے جاتے تھے، چائے بھی چلتی رہتی تھی، ہنسنا ہنسانا بھی جاری رہتا تھا، قلم بھی چلتا جاتا تھا، لکھنے کے بعد شاذونادر ہی دوبارہ دیکھتے تھے۔ اُن کے اس طرح لکھے گئے بیشتر کالم ’خمارِ گندم‘ میں اور سفر نامے دیگر کتابوں میں ہیں۔ پڑھتے جائیے اور مسکراتے جائیے۔

ہمارے بلاگرز