قندوزکے معصوم فرشتے

سروں پر سفیدعمامے ، سفیدلباس میں نکھرے نکھرے سے خوبصورتی کے شاہکار،مسکراتے کھلکھلاتے چہرے، لبوں پہ تبسم آمیز مسکراہٹ، آنکھوں میں مستقبل کے سہانے خواب سجائے، شکل وصورت سے جنت کے شہزادے معلوم ہوتے ، گلے میں پھولوں سے سجے ہارڈالے محبت وامن کاپیغام دیتے ہوئے، سینوں کے طاقوں میں قرآن کومحبت کے غلاف...

مادرعلمی اور فضلاء کاتعلق

گزشتہ روزایک بہت ہی اہم اجلاس میں مجھے مدعو کیاگیا ،میری مرادپاکستان کے مشہورومعروف ادارہ او ر تعلیم وتربیت کی عظیم درسگاہ’’سلفیہ یونیورسٹی‘‘ ستیانہ بنگلہ ضلع فیصل آبادہے ۔اس...

اقوالِ کنفیوشس اور آج کا چائنہ

کنفیوشس 551 قبل از مسیح پیدا ہونے والا چینی ٹیچر،ایڈیٹر،سیاست دان اور فلاسفر تھا۔مگر اس کی وجہ شہرت اس کے اقوال جو کہ انفرادیت،حکومتی پالیسیوں،اخلاقیات،سماجی تعلقات ، اصلاح عامہ...

حیراں ہوں دل کو رؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

ایک طویل عرصے سے لاپتہ افراد کا معاملہ ایک معمہ بناہوا ہے۔ پاکستان میں ہزاروں خاندان اپنے اٹھائے گئے افراد کے سلسلے میں بہت پریشان ہیں۔ خاص طور سے...

لعنت کیا چیز ہوتی ہے؟

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب پولیس کے کسی عملدار کو اپنے بالا افسر کی طرف سے نوکری سے برخواستگی کا آرڈر موصول ہوتا ہے تو...

کتابوں کے بوجھ تلے دبی معصومیت

لفظ بوجھ کے آتے ہی ایک اکتاہٹ سی طاری ہونا شروع ہوجاتی ہے ، یوں تو بوجھ کی بے تحاشہ اقسام ہیں اور ہماری نئی نسل کے لیے توہر...

بدلو سوچ ۔۔۔بدلو زندگی

انسان روئے زمین کی وہ واحد مخلوق ہے جس کو اللہ تعالی نے اپنے مستقبل کے انتخاب کا موقع عنایت فرمایا ہے۔جدید نفسیات کی رو سے آج انسا ن...

کھانا گرم کرنا مشقت نہیں محبت ہے

جی ہاں آپ درست سمجھے۔ میں ہوں حقوقِ نسواں کی علمبردار! میں بحیثیت صنفِ نازک دنیا کو اس بات کا ادراک کرانا چاہتی ہوں کہ عورت کی تعریف وہ...

ابنِ خلدون عمرانیات کا بانی

امریکی صدر ریگن نے ایک بار اپنے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ”میں آج امریکہ کا صدر صرف اس لئے ہوں کہ میںنے ابنِ خلدون کے فلسفہ سے...

خدارا احتیاط کریں

شاید یہ طے کرلیا گیا ہے کہ ہم اپنے ماضی سے کبھی سبق نہیں سیکھیں گے۔ حالات کتنے ہی خوفناک کیوں نہ ہوں اور اندرونی خلفشار خواہ کسی بھی...

جینے کا ہنر

آپ خود کو صرف59 سیکنڈز میں بدل سکتے ہیں

آپ صرف 59 سیکنڈز میں اپنی شخصیت میں نمایاں تبدیلی لاکر ایک خوشگوار زندگی کا آغاز کرسکتے ہیں جی ہاں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں۔ یہ دعویٰ...

خوشگوار زندگی کا راز

بادشاہ وقت نے اپنے وزیر خاص سے پوچھا: یہ میرے نوکر مجھ سے زیادہ کیسے خوش باش پھرتے ہیں۔ جبکہ ان کے پاس کچھ نہیں اور میرے پاس کمی...

کامیابی کاحصول کیسے ممکن ہے؟

ایک بڑ ی کمپنی کا سالانہ اجلاس جاری تھا ۔صدرہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، سینکڑں ملازمین  اپنی اپنی نشستوں پر موجود بڑے ہی انہماک سے اسٹیج پر موجودمقرر...

مایوس ہونے کا پیمانہ

مایوس ہونے کا امکان ہر انسان میں پایا جاسکتا ہے، البتہ مایوس ہونے کی سطح الگ الگ ہو سکتی ہے۔ موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوان کسی راہگیر سے موبائل...

اگر آپ پریشان ہیں تو یہ نسخہ بھی آزما کر دیکھیں

 آج ہر دوسرا شخص پریشان ہے، کسی کو مالی پریشانی ہے، تو کوئی دوسروں کی وجہ سے نالاں وپریشان ہے، کسی کو کیا غم ہے تو کسی کو کیا؟ حضور...

کامیابی کو کیسے ممکن بنائیں

ایک کامیاب انسان اس پر پھینکے جا نے والے سنگ و خشت سے ایک مضبوط قلعہ تعمیر کر لیتا ہے اور اپنی کا میابی کے نقارے بجاتا ہے جب...

میڈیا واچ

ڈراموں کے ذریعے اخلاقی قدروں کی پامالی کیوں؟

کئی دنوں کے بعد موقع ملا کہ نسبتاً تسلی سے ریموٹ ہاتھ میں تھام کے چینل گردانی کی جائے، ایسے میں  ڈرامہ پکار میں اداکارہ یمنٰی زیدی اے آر...

ترکی ڈرامے۔۔ پاکستان میں

عشق ممنوع، میں عائشہ گل، میرا سلطان، کوسم سلطان، پیار لفظوں میں کہاں، الیف، ایک حسینہ ایک دیوانہ، فاطمہ گل، مناہل اور خلیل، آشیانہ میری محبت کا... 2012 سے پاکستان...

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

کوئی بھی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے اسباب و عوامل کی ایک لمبی فہرست ہے جن کی وجہ سے کوئی بھی انسان اس درندگی پر آمادہ...

اشتہارات: ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

          ہماری زندگی میں اشتہارات کی بہت زیادہ اہمیت ہے، ہر کمپنی اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے اشتہارات کا سہارا لیتی ہے۔ بل بورڈز، ریڈیو، اخبارات ، انٹرنیٹ...

ڈرامے, تفریح یا بے راہ روی

سڑکوں پہ ناچتی ہیں کنیزیں بتول کی اور تالیاں بجاتی ہے امت رسول کی یہ شعر ہمارے مسلم معاشرے میں اسلامی قدروں کی پامال ہوتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کسی...

میڈیا مذہب سے دوری اوراخلاقی بگاڑ کا سبب

موجودہ دور میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جو ٹیلی وژن سے خالی ہو۔ ٹی وی (ٹیلی وژن) جیسی سائنسی ایجادات کے فوائد تو کم ہی نظر آتے...

مباحث

سرسید اور ان کی پیدا کردہ ذہنیت

ایک مسلمان کے لیے سب کچھ اس کا دین ہے، اس کا خدا ہے، قرآن مجید ہے، رسول اکرمؐ کی ذات مبارکہ ہے، آپؐ کی سیرت ہے، آپؐ کی...

لبرل ازم کیا ہے ؟

یورپ کی نشاتِ ثانیہ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس سے افکارو نظریات میں بہت زبردست انقلاب رونما ہوا۔ یہ انقلاب اس قدر...

قدیم و جدید فتنے کہاں سے پھوٹے ؟

  کلامِ الہی قرآنِ مجید کیا کہتا ہے ؟ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا ہمیں کوئ نہیں بتائے گا ، قرآنِ مجید (کلامِ الہی) کے  ''شارح'' ...

کیا قادیانیوں کو جبرا غیر مسلم بنایاگیا؟؟

جیسے ہر ملک کا شہری بننے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طریقے کو فالو کئے بغیر آپ اسکے شہری نہیں بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ...

الفاظ کی توہین کا زمانہ

       ہمارا زمانہ الفاظ کی توہین کا زمانہ ہے۔ کنفیوشس نے کہا تھا کہ اگر مجھے زندگی میں صرف ایک کام کرنے کا موقع ملے تو وہ کام ہوگا الفاظ...

قدامت،لبرلزم اور فطرت

اگرچہ اب مذہبی لوگوں میں بھی ’’مزاحیہ فنکاروں‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ مگر مذہبی لوگ اس سلسلے میں سیکولر اور لبرل لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ہمیں یقین ہے کہ...

اہم بلاگز

کی محمدؐ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

فداک امی وابی یا رسول اﷲ ﷺ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان اے اﷲ کے رسول ﷺ!!! مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ بات کہاں سے شروع کروں، اتنی عظیم ہستی کے بارے میں کچھ لکھتے ہوئے بار بار قلم کو اپنی بے مائیگی کا احساس پکڑ لیتا ہے، مگر کیا کروں کہ آئے دن دل تڑپتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ دنیا ہمارے نبیﷺ کی ذاتِ اقدس پر حملے کر کر کے ہمارے ایمان کی کمزوری اور طاقت کا اندازہ لگاتی ہے، ہماری نیند ، بے ہوشی اور موت کا معائنہ کرتی ہے، کبھی تقریر، کبھی تحریر اور کبھی ان دونوں سے ہٹ کر مگر برق رفتار اور کثیر الاثر الیکٹرانک میڈیا کا ہتھیار!!! ایک جانب امت کو نازیبا الفاظ، خاکوں، فلموں کے ذریعے اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے تو دوسری جانب آزادیء اظہارکے عالمی دو غلے رویے کی کند چھری سے اس بے بس امت کو ذبح کیا جاتا ہے۔ شاید یہ گستاخانِ رسول ﷺ یہ نہیں جانتے کہ پوری امت کی تاریخ میں انکا انجام ذلت اور رسوائی ہی ہوا ہے جب کہ میرے نبی محترم ﷺ کے لئے اﷲ کا اعلان ہے : ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘۔ نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کا یہ بھی امتیاز ہے کہ آپؐ پر فدا ہونے والے ابتدائے اسلام ہی سے سر فروشی کی تاریخ مرتب کر رہے ہیں، اسلام کے پہلے شہید حارثؓ بن ابی ہالہ نے حضور اکرمﷺ کو بچاتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے آپ ؐ کو کفار کے حملے سے بچایا، اور وہ آپ ؐ کا دفاع کرتے ہوئے فرما رہے تھے:’’اتقتلون رجلًا ان یقول ربی اﷲ‘‘۔۔۔۔(سورۃ المومن، آیۃ۲۸)۔ کفر واسلام کی پہلی جنگ غزوہء بدر میں دو بچے کفر کے ایک سردار کی تلاش میں ہیں، انہوں نے اسے دیکھا نہیں، مگر اس کے قتل کا عزم لئے بڑے اصرار کے ساتھ اجازت لے کر میدانِ جہاد میں اترے ہے، ایک صحابی سے ابو جہل کا پوچھتے ہیں، اور اپنا ارادہ بھی بیان کر دیتے ہیں، وہ اس عزم کا سبب پوچھتے ہیں تو معاذؓ اور معوذؓ کا جواب ہے: ’’کان یوذی رسول اﷲ ﷺ‘‘، یعنی ابو جہل رسول اﷲ ﷺ کو مکہ میں ایذا دیا کرتا تھا، اس لئے وہ اسکے بدلے اسے قتل کرنا چاہتے ہیں، اور یہ اﷲ کی قدرت ہے کہ وہ اس سورما کو ان بچوں کے ہاتھوں ذلت سے قتل کرواتا ہے۔ رسالت مآب حضرت محمد ﷺ نے نبوت کا اعلان کیا تو انکے چچا زاد اور ابو لہب کے بیٹے عتیبہ نے اپنے باپ کے کہنے پر آپؐ کو اذیت دینے کے لئے برا بھلا کہا اورآپکی بیٹی کو طلاق دے دی، رسول اﷲ ﷺ نے اسے بددعا دی: ’’اللہم سلّط علیہ کلباً من کلابک‘‘، (اے اﷲ اس پر اپنا ایک کتا مسلط کر دے)۔ عتیبہ شام کے سفر پر تھا جب اس نے رات کو پڑاؤ ڈالا تو اسے ایک شیر کی دھاڑ سنائی دی، اس کا رواں رواں کانپ اٹھا، ساتھیوں نے اسے تسلی دی مگر اسے یقین تھا کہ محمد (ﷺ) کی بددعا سے وہ بچ نہ پائے گا، انہوں نے اس کے...

آئیے بد دعا کریں۔

سیلانی کے قلم سے احسان اللہ اور حبیب اللہ کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی وہ بار بار کمرے میں جا کر کھونٹی سے لٹکے ہوئے بے داغ سفید لباس کو دیکھتے اور چھ گز کی پشتون دستار کو چھو کران لمحات کی مسرت محسوس کرنے لگتے جب ان کانام لاؤڈ اسپیکر پر پکارا جاتا اور بھرے مدرسے میں سینکڑوں لوگوں کے سامنے استاد انہیں سینے سے لگا کر ان کی پیشانی کو بوسہ دے کر ان کے لئے دعا کرتے اور دستار باندھ دی جاتی ۔۔۔۔احسان اللہ اور حبیب اللہ سرخ وسپید رنگت اور چمکدار آنکھوں والے ویسے ہی خوبصورت بچے تھے جیسے عموماً افغان بچے ہوتے ہیں،وہ ’’طالب ‘‘تھے اس لئے ان کے سروں پر عموماً ٹوپی اور کاندھے پر بڑا سا عربی رومال ہوتا تھا۔ یہ عربی رومال بیک وقت جائے نماز کا کام بھی دیتا ہے اور وضو کے بعد تو لیہ کا بھی ،یہ مدرسے کے بعد بستہ بھی بن جاتا ہے ۔یہ ٹوپی ،رومال اورسینے سے لگا قرآن مجیدجاگتے میں ان کے ساتھ ساتھ رہتے تھے ۔یہ دونوں بھائی چھوٹے سے تھے، جب ان کی قرآن پاک سے دوستی ہوئی ،انہیں یاد تھا جب انہیں دشت ارچی کے مدرسہ جامعہ ہاشمیہ میں داخل کرایاگیا تب انہیں ٹھیک سے ٹوپی بھی لگانی نہیں آتی تھی ،انہیں ان کا والد لے کر آیا تھا۔استاد نے ان سے ان کا نام پوچھا،رجسٹر میں اندراج کیااوروہ باقاعدہ طالب ہو گئے۔ انہیں مدرسے میں ناظرہ کی جماعت میں بھیج دیاگیا۔ یہاں ان کی عمر کے بہت سارے بچے لہک لہک کر قرآن پڑھ رہے تھے۔مولوی صاحب سامنے بید رکھے آنکھیں موندے مراقبے کی سی کیفیت میں بیٹھے تھے۔یہ بھی ان بچوں میں شامل ہوگئے ۔یہ ان کی جماعت تھی جہاں انہوں نے الف ،با ،تا سیکھا اور پھر یہ سیکھتے اورپڑھتے چلے گئے ۔تجوید کے بعد انہوں نے قرآن مجید کا حفظ شروع کیا۔استاد جی بتاتے تھے کہ یہ کتاب خود کسی معجزے سے کم نہیں کہ عرب سے عجم تک بدلتی دنیا میں کوئی اس کا ایک نکتہ تک نہیں بدل سکا ہے۔ وہ طلباء کو بتاتے کہ قرآن پاک حفظ کرنے کی بڑی فضیلت ہے آخرت میں حفاظ کی پیشانیاں چمک رہی ہوں گی ،ایک حافظ ستر بندوں کو جنت میں لے کر جائے گا۔۔۔احسان اللہ یہ ساری باتیں بڑے غور سے سنتا اور موقع ملتے ہیں آئینے میں اپنی پیشانی پر نظریں جما کر سوچنے لگتا چمکتی روشن پیشانی کے ساتھ وہ کیسا لگے گا ،اس نے تو ایک فہرست بھی بنانی شروع کر دی تھی۔ اس فہرست میں وہ لوگ تھے جن کی اللہ میاں سے سفارش کرکے جنت میں ساتھ لے جانا تھا۔ دونوں بھائی ہوشیار اور ذہین طالب علم تھے۔ قرآن ان کے لئے آسان ہوتا چلا گیا۔ ان کے سینے میں آسانی سے یہ نور سماتا چلا گیا اور پھر وہ دن بھی آگیا جب وہ حافظ احسان اللہ اور حافظ حبیب اللہ ہو گئے۔ انہوں نے قرآن پاک سے دوستی کی تھی۔ قرآن نے بھی ان دوستی نبھائی اور ان کے سینوں میں محفوظ ہوگیا۔استاد جی انہیں کھڑاکرتے اور جہاں...

آہ۔۔۔حافظ قرآن بچے۔

ایک سو ایک حافظ قرآن بچے۔ رسول اللہ اور رسول خدا کے مہمان بچے۔۔۔ معصوم چہرے مہکتی کلیاں اور دین کی شان بچے۔۔۔ کٹے بدن۔۔۔بکھرے اعضاء۔۔۔خون میں لت پت۔۔۔انسانی گوشت کے لوتھڑوں کا انبار ایک سو ایک گھرانوں اور سینکڑوں خاندانوں پر کل کا دن قیامت بن کر بیت گیا۔۔۔ ملالہ کی ایک گولی پر آسمان سر پر اٹھانے والے نیشنل انٹرنیشنل میڈیا کی بین الاقوامی میڈیائی طوائفیں چپ ہیں۔۔۔ انسانیت کی پھکی بیچنے والے گونگے شیطان خاموش ھیں۔۔۔ بچوں کے حقوق پر آہ و فغاں کرنے والے دجالی وظیفہ خوار گنگ ہیں۔۔۔ ایک قاری کی غلطی سے ایک۔۔۔قتل خطا۔۔۔ ھوجائے۔۔۔ تو ان کلاب الدجال کی ٹاوں ٹاوں سے آسمان سر پر اٹھا دیا جاتا ھے۔۔۔ مگر جان بوجھ کر۔۔۔کروسیڈ وار۔۔۔کے علمبردار نے حاملین قرآن ذبح کر ڈالے۔۔۔ مگر ان کی زبان پر لگے تالے کبھی نہ کھل پائیں گے۔۔۔ ھم سمجھتے ھیں کہ تم کس کے پیرول پر ھو۔۔۔ سو تمھیں بھونکنے کا کہا جاتا ھے تو گز بھر زبانیں نکال کر غوغاشیطانی سے سر پر آسمان اٹھالیتے ھو۔۔۔ اب تمھاری موم بتیاں گل ہیں۔۔۔مست شیطان بنے بیٹھے ھو۔۔۔ لعنت ھو تمھارے گھٹیا افکار۔۔۔اور رذیل کردار پر۔۔۔ آج غم سے میرا کلیجہ پھٹ رھا ھے۔۔۔ کب تک آخر کب تک یہ امت یوں کٹے پھٹے بدن اور گوشت کے لوتھڑے اٹھاتی رہے گی۔۔۔؟؟ کب تک ھم خون کے ان دریاوں میں ڈوبتے مرتے رھیں گے؟؟؟۔۔۔ میرے اپنے ہی بدبخت اور رذیل نہ ھوتے تو عالم کفر میں یہ ہمت قطعی نہ ھوتی۔۔۔ چلو کچھ دیر ھی تو ہے۔۔۔ محشر بپا ھونے کوہے۔۔۔ سیاہ رو۔۔۔اور روشن چہرے سب عیاں ھوجائیں گے۔۔۔۔ اک ذرا صبر۔۔۔!! آج دکھ اور غم میں سخت الفاظ لکھے۔۔۔کسی اپنے کو اچھا نہ لگے تو معذرت۔۔۔باقی چور چمار اعتدال کی چادر میں منہ دابے دین دشمن شیطان۔۔۔جہاد کو کرائے کی صنف دکھانے والے نولبرل لونڈے جلتے ہیں تو جل مریں۔۔۔آج میرا دکھ حد سے سواہے۔ ۔۔انتخاب۔۔

غلطی کا خوف

پروفیسر صاحب کلاس میں داخل ہوئے اور پوری کلاس پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی ۔ حسب معمول کلاس کی اگلی نشستوں پر پوری کلاس کی " کریم " بیٹھی تھی ۔ جن کے پاس ان کی اسٹیشنری سے لے کر استاد کے ہر سوال کا جواب تک موجود تھا ۔ جبکہ پچھلی نشستوں پر وہی نوجوان تھے جو شاید خانہ پری کے لئیے کلاس میں موجود تھے ۔ کم و بیش پیچھے بیٹھے تمام ہی طلبہ کسی نہ کسی پیپر میں سپلی کا " فیض " پاچکے تھے ۔ پروفیسر صاحب مسکرائے اور آگے بیٹھے طلبہ سے مخاطب ہوکر کہا "پیچھے مڑ کر دیکھو کون بیٹھا ہے ؟ " ۔ اگلی نشستوں پر براجمان طلبہ و طالبات نے حیرت اور تچسس سے پیچھے دیکھا اور ہنسنے لگے ۔ پچھلی نشستوں پر موجود طلبہ کے لئیے ویسے بھی یہ کوئی نئی بات نہیں تھی ۔ ہر ٹیچر کو اپنے لیکچر کے دوران  ویسے بھی ان کی عزت افزائی کرنی ہی ہوتی ہے ۔ پروفیسر صاحب کی آواز کلاس میں دوبارہ گونجی ۔ وہ پھر آگے والوں سے مخاطب تھے ۔ " دوبارہ پیچھے والوں کو دیکھو ! "۔ آگے بیٹھے طلبہ کی حیرت اب پریشانی میں تبدیل ہونا شروع ہوگئی تھی ۔ ابھی پوری کلاس حیرانی اور پریشانی کے ملے جلے جذبات  اور تاثرات سے باہر بھی نہ آسکی تھی کہ پروفیسر صاحب نے تیسری دفعہ اپنی بات دہرائی ۔ اب کی بار آگے بیٹھے کلاس میں سب سے زیادہ جی – پی – اے لینے والے لڑکے نے جھنجلا کر کہا " سر ! اس سب کا کیا مطلب ہے ؟ "۔ پروفیسر صاحب مسکرائے اپنا چشمہ اتارا اور گویا ہوئے ۔ ان پیچھے بیٹھے " سپلی زدہ "  نالائق اور نکمے لوگوں کی شکلیں اور نام اچھی طرح یاد کرلو ، ذہن میں بٹھا لو ۔ کیونکہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد تمام جی – پی – اے ہولڈرز نے ان ہی کے پاس نوکریاں کرنی ہیں ۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے کہ آپ چاہ کر بھی جس کا انکار نہیں کرسکتے ہیں ۔ آپ سن کر حیران رہ جائینگے کہ دنیا کا 90 فیصد کاروبار اور معیشت جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اور جنھوں نے اس دنیا کے 90 فیصد لوگوں کو نوکریاں دے رکھی ہیں ان کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جنھوں نے اپنی ڈگریاں تک مکمل نہیں کیں ۔ جو اپنے کالجز تک سے نکال دئیے گئے  لیکن پھر کمال کرگئے ۔ میں ایک صاحب کے بارے میں جانتا ہوں جو اسکول کی دیوار پھلانگ کر بریک میں ہی بھاگ جایا کرتے تھے ۔ وہ اسوقت چار فیکٹریوں کے مالک ہیں اور بقول ان کے میری کلاس کے پوزیشن ہولڈرز تک میرے پاس نوکری کرتے ہیں ۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام فطرت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے ۔ اللہ تعالی نے سیکھنے کا کوئی عمل غلطی کے بغیر نہیں رکھا ہے ۔ اگر آپ کچھ نیا کرنا یا سیکھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو خود سے تجربہ کرنا پڑیگا ۔ اس تجربے...

باڈی لینگویج۔خاموش اظہار کا مستند فن

بچپن کے علم کو پتھر کی لکیر سے تعبیر کیا جا تا ہے۔بچپن میں دینی تعلیم کی غرض سے محلے کی مسجد کو بھیجا جا تا تھا جہا ں نہ صرف ما ثورہ دعاؤں،منتخب قرآنی آیا ت و سورتوں کا حفظ کروایا جا تاتھابلکہ زندگی گزارنے کا قرینہ بھی اسا تذہ اکرام سکھایا کر تے تھے۔بچپن میں مسجد میں دینی تعلیم کے دوران مولوی صاحب نے بتا یا کہ اللہ کے حضور روز محشر جب بندوں کو پیش کیا جا ئے گا تو اللہ بندے کی زبان پر مہر ثبت کر دیں گے اور اس کے اعضاء اور جوارح اس کی گواہی دیں گے کہ اس نے کیا کیا گناہ کیئے ہیں۔ گویا جسم کے ہر روئیں کو زبان عطاکر دی جا ئے گی ۔یہ بات ذہن میں اس طرح پیوست ہو گئی کہ اللہ کا جلال و قہر اور اس کی کبریا ئی بچپن میں جیسے نقش کر دی گئی تھی اس میں کبھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ابتداَ یہ با ت سمجھ میں نہیں آ تی تھی کہ اعضاء و جوارح کس طرح سے با ت کر یں گے اللہ رب العزت تو ہر چیز پر قادر ہے اور ہر شئے اس کے قبضے قدرت میں ہے ۔لیکن عمر کے سا تھ کسی قدر علم سے آگہی پیدا ہوئی اور عمرانیات و نفسیاتی علوم کے مطالعہ کا موقع ملا تو پتہ چلا کہ صرف زبان ہی گفتگو نہیں کر تی ہے بلکہ انسانی جسم بھی خاموش گفتگو انجام دیتا ہے۔اور جسم کی یہ گفتگو اتنی پر اثر ہو تی ہے کہ اسی گفتگو پر زبانی گفتگو اپنی تا ثیر بر قرار رکھتی ہے یا اپنا وقار گنوا بیٹھتی ہے۔ انسانی زندگی میں کئی ایسے مقام آتے ہیں جہا ں وہ ایک لفظ زبان سے ادا کیئے بغیر اپنے جسم کے رویوں اور برتاؤ سے اپنا پیغام ترسیل کر دیتا ہے ان رویوں اور بر تا ؤ سے لوگ اندازہ قائم کر لیتے ہیں کہ وہ کیا کہنا اور کر نا چا ہتا ہے۔زبان انسانوں کے باہمی رابطے کا بنیادی ذریعہ ہے جس کے ذریعہ وہ اپنی فکر اور تخیلات کی تر سیل کا کام انجام دیتے ہیں پیغام کی ترسیل میں زبان کے ساتھ لہجہ نہایت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے لہجہ دراصل الفاظ کی تشریح اور ترجمانی کا کا م انجام دیتا ہے یہ اہم نہیں ہو تا ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بلکہ یہ اہم ہو تا ہے کہ آپ کا لہجہ کیا کہہ رہا ہے۔لہجہ بھی زبان کا محتاج ہو تا ہے لیکن صرف ایک ایسی زبان ہے جو الفاظ و لہجہ کی محتاج نہیں ہے اور اسے باڈی لینگویج (غیر لفظی زبان)،خاموش زبان یا جسمانی اظہار کے نام سے معنون کیا جا تا ہے۔ عالمی سطح پر بیشمار زبانیں بولی اور سمجھی جا تی ہیں جن میں سب سے زیادہ بولی جا نے والی مینڈیرن (Mandarin) زبان سرفہرست ہے اس کے بعد ہسپانوی اور پھر انگریزی کا نمبر آتا ہے۔ہمارے ملک ہندوستان میں بھی کئی بولیا ں اور زبانیں رائج ہیں۔ان تما م زبانوں کے با وجود دنیا بھر میں صرف...

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بلاگ

ڈراموں کے ذریعے اخلاقی قدروں کی پامالی کیوں؟

کئی دنوں کے بعد موقع ملا کہ نسبتاً تسلی سے ریموٹ ہاتھ میں تھام کے چینل گردانی کی جائے، ایسے میں  ڈرامہ پکار میں اداکارہ یمنٰی زیدی اے آر وائی پہ نظر آئیں ، سفید لباس میں روتی بین کرتی بیوہ کے روپ میں ،شوہر کا التفات  اور اس کی محبت یکے بعد دیگرے مناظر کی صورت میں ثمرہ کے ذہن کے ساتھ ساتھ پردہِ سیمیں پر بھی ابھرتے چلے گئے، اور ہمیں اپنے صاحبزادے کے احساس دلانے پہ معلوم ہوا کہ یمنیٰ نے ثمرہ کے روپ میں بھلے ہی مصنوعی آنسو بہائے ہوں لیکن ہمارے چہرے کو حقیقی آنسو بھگو رہے تھے، یہ خبر سکھر کے دورے پہ نکلے ہوئے شوہرِ نامدار تک بھی تیزی سے پہنچا دی گئی ، اور فوراٍ ہی وہاں سے فون بھی آ گیا، حد کرتی ہو یار، یہ کوئی رونے والی بات ہے،مرد کی سرزنش میں چھپی محبت کو ڈھونڈ کو محسوس کر لینے کا گر عورت سیکھ لے تو زندگی گلزار ہو جائے ، بہر حال اس منظر نے ہمیں کچھ ایسا جکڑا کہ اس کہانی کو شروع سے جاننے کی خواہش پیدا ہوئی ، اس ڈرامے کے مصنف  عدیل رزاق ہیں ،جو اس سے پہلے  ہم ٹی وی پہ چلنے والی  ایک  ڈرامہ سیریز میں انتہائی متنازعہ موضوع پہ ڈرامہ بھی لکھ چکے ہیں۔  ہدایتکار فاروق رند ہیں، جن کے مشہور ڈراموں میں ،محبت تم سے نفرت، بے شرم، گلِ رعنا، لا ،رشتے کچھ ادھورے سے اور جگنو شامل ہیں ۔ جن لوگوں نے ان ڈراموں کو ذرا گہری نظر سے دیکھا ہے انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ   ان میں سے اکثر کہانیاں ہمارے معاشرے  میں عورت سے سلوک اور اسکی حیثیت کو قابلِ رحم انداز میں پیش کرتی ہیں، یقیناً اس میں کسی حد تک حقیقت بھی شامل ہوتی ہے ،لیکن اس حقیقت کو اس اندز میں بیان کرنا کہ اسکے منفی پہلو ساری مثبت باتوں کو کمال مہارت سے نگل لیں یہ بہر حال انصاف  کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بنیادی طور پہ یہ کہانی ثمرہ  کے گرد گھومتی ہے جو اپنے "روشن خیال" ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہے، اور اسی روشن خیالی کا ثبوت دیتے ہوئے  والدین ثمرہ کی شادی اس کی پسند سے کر دیتے ہیں، شوہر کا تعلق ایک خالص جاگیردار گھرانے سے ہوتا ہے جو اپنے گاؤں میں سیاست میں بھی سرگرم ہوتے ہیں،اور پیر بھی مانے جاتے ہیں ،لڑکے کا باپ اس خیال سے پہلی بار خاندان سے باہر کی بہو لانے پہ تیار ہوتا ہے کہ بیٹا جو  تعلیم حاصل کرنے کے نتیجے میں ،جاگیرداری نظام کے نقائص ،پیری فقیری کی مذموم روایات  اور سیاست کے غلط استعمال سے خائف ہو کر اس سب سے دور رہنا چاہتا ہے، وقت پڑنے پر وہ اس احسان کا حوالہ دیتے ہوئےاسے اپنی ڈگر پہ چلایا جا سکے۔ثمرہ کو شادی کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا سسرال حقیقتاً کس پس منظر سے تعلق رکھتا ہے، رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی عورت ،کا کن کن مراحل پہ کس کس طریقے سے استحصال ہوتا ہے،اس ڈرامے میں  بلا شبہ اس کی عکاسی کرنے...

بچوں کے بدتمیز ہونے کی وجوہات

آج کل ہمارے معاشرے میں بہت سننے میں آتا ہے کہ ہماری اولاد بہت بدتمیز ہوگئی ہے بڑوں کی عزت نہیں کرتی عجیب پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین بچوں کو سب کچھ دیتے ہیں مگر انہیں یہی بات ہی نہیں سیکھاتے۔ والدین اپنی اولاد سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، ہر خواہش پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچوں کو ذرا بھی تکلیف ہو تو خود تکلیف میں آجاتے ہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا بے حد خیال رکھتے ان کے پیچھے خود کو فراموش کردیتے ہیں مگرانہیں عزت کرنا اور عزت سے پیش آنا سیکھاتے ہی نہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ والدین اپنے بچوں کو سمجھاتے نہیں ، سمجھاتے بہت کچھ ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے فعل سے انجانے میں بچوں کو عزت و احترام نہ کرنا سیکھا رہے ہوتے ہیں۔ بچوں کو محبت دی جائے، انہیں خلوص دیا سب کچھ دیا جائے مگر انہیں عزت نہ دی جائے تو پھر بچے بدتمیز ہی بنتے ہیں۔ بچوں کو محبت سے زیادہ عزت کی ضرورت ہوتی۔ جبکہ انہیں اکثر بہن بھائیوں یا پھر پڑوسیوں کے بچوں سے موازنہ کرکے ڈی گریڈ کیا جاتا ہے۔ سب کے سامنے یا تو ڈانٹا جاتا ہے یا پھر انہیں شرمندہ کیا جاتا ہے۔ کیا عجیب بات ہے کہ جب بچوں کو اپنے گھر والے، والدین ، بہن بھائی ہی عزت و احترام نہیں دیں گے تو بچے کیسے سیکھیں گے کہ یہ سب۔ پھر یوں کہا جائے کہ یہ سب بچوں کے لیے گویا ایک اجنبی سی چیز ہے۔ بعض اوقات بچوں میں چڑچڑاپن اور بدتمیزی کی ایک بڑی وجہ والدین کا آپسی لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔ والدین کی آپس میں کشیدگی کا نشانہ بچے بنتے ہیں۔ کسی اور کا غصہ کسی اور پر نکال دیا جاتا ہے۔ بیوی شوہر کا یا پھر شوہر بیوی کا غصہ بچوں پر نکالتا ہے۔ بچے کچھ چاہ رہے ہوتے ہیں مگر والدین کا بچوں سے بات کرنے کا انداز غیر ضروری حدتک تلخ ہوتا ہے۔ اس کا سیدھا اثر بچے کے کمزور دماغ پر پڑتا ہے۔ بچوں کے سامنے غیر ضروری اور غیر شائستہ گفتگو کرنے سے گریز نہ کرنا بھی بچوں کی تربیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ بچوں کے سامنے ہر طرح کی باتیں کرتے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ بچوں پر ان کا کیا اثر پڑ رہا ہے۔ بچے جو کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں وہی کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ والد بچے کو کہتا ہے کہ ’’بیٹا! اگر کوئی تھپڑ مارے تو تم بھی دو لگا دینا‘‘۔ یہ بات بچہ سیکھتا ہے اور پھر جب اس کا چھوٹا بھائی اسے مارتا ہے تو وہ سب کے سامنے اپنے بھائی کو دو جڑ دیتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر سب اسے ڈانٹتے ہیں اور والد صاحب اٹھ کراپنے بیٹے کو تھپڑ لگا دیتے ہیں۔ ’’یہ سب کس نے تمہیں سیکھایا، بدتمیز بن گئے ہو‘‘، وغیرہ وغیر۔۔ اب اس میں اس بچے کا کیا قصور ہے۔ اس میں کس کا قصور ہے۔ خود ہی سیکھایا اور پھر خود ہی کہا کہ یہ سب کس نے سیکھایا۔ یہ...

بچوں کو اپنا بنائیے

آپ سروے کرلیں آپ کو ننانوے فیصد مائیں اپنے بچوں سے ناخوش اور پریشان دکھائی دیں گی۔ ان کے بچے ان کی بات نہیں سنتے ہیں ، شرارتیں کرتے ہیں ، ہر وقت موبائل ، لیپ ٹاپ یا ٹیب پر کارٹون دیکھتے یا گیم کھیلتے رہتے ہیں ، بے انتہا بدتمیز اور نالائق بھی ہو گئے ہیں۔ بات بات پر چڑ چڑا پن اور غصہ بھی دکھاتے ہیں۔ پڑھائی میں بھی انکا دل بالکل نہیں لگتا ہے۔ آپ کسی بھی ماں سے پوچھ لیں آپ کو سوائے ان شکایتوں کے اور کوئی شکایت نہیں ملے گی۔ اور آخر میں ایک ٹھنڈی آہ کے ساتھ یہ جملہ بھی’’ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں ؟‘‘۔ آپ ماؤں سے صبح سے رات تک چوبیس گھنٹوں کے دوران ان کے کیے گئے کاموں کی فہرست بنوالیں۔ آپ یقین کریں سوائے سونے ، کھانے ،ڈرامے دیکھنے اور موبائل کے علاوہ حد سے حد کھانا پکانے اور صفائی کے کوئی اور قابل ذکر کام انھوں نے نہیں کیا ہوگا۔ ہم صبح سے شام تک اور شام سے رات تک مارننگ شوز ، ڈرامے اور سوشل میڈیا کے سوا کوئی اور کام نہ کریں اور چاہیں کہ بچے ڈاکٹر عبد القدیر خان بن جائیں تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ بچے کو موبائل میں کارٹون لگا کر دے دیں اور خود ڈراموں میں لگ جائیں۔ بچہ کچھ پوچھنا چاہے تو دھتکار دیں۔ اپنی سوانح عمری سنانے لگ جائیں اور چاہیں کہ بچہ باادب نکلے تو مان لیں کہ آپ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں ، میں نے خود دیکھا ہے مائیں بچوں کو چیخ کر بولتی ہیں کہ چھوٹے بھائی سے چیخ کر بات نہیں کرتے ہیں ، باپ ایک زور کا ہاتھ لگا کر کہتا ہے ’’منع کیا ہے نا کہ ہاتھ مت چلایا کرو۔‘‘ موبائل پر بچے سے کہلواتے ہیں کہ بول دو بابا سو رہے ہیں یا ممی گھر پر نہیں ہیں۔ اور بچے کو نصیحت بھی کرتے ہیں کہ’’ جھوٹ بولنا بری بات ہوتی ہے‘‘۔ بچوں کے سامنے جھوم جھوم کر اور ہنس ہنس کر لوگوں کو بیوقوف بنانے کے قصے سناتے ہیں اور اولاد کے ایماندار ہونے کی تمنا کرتے ہیں۔ ہم بھی بڑے معصوم لوگ ہیں۔ کانٹے بوتے ہیں اور پھول لگنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ بچے نے کبھی گھر میں کوئی کتاب نہیں دیکھی اور اگر دیکھی بھی تو اماں یا ابا کے ہاتھ میں نہیں دیکھی اور ہم چاہتے ہیں کہ بچہ پڑھنے کا شوقین نکلے۔ کبھی اس نے اپنے ماں اور باپ کو قرآن کی تلاوت کرتے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے نہیں دیکھا ، کبھی کسی کتاب پر ڈسکشن کرتے نہیں دیکھا اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ قرآن کا عاشق بن جائے۔ آپ یقین کریں میں نے جتنی بھی نبیؐ کی سیرت پڑھی ہے مجھے ان کی دعوت کی کامیابی میں سوائے عمل کے اور کوئی دوسری چیز نظر نہیں آئی۔ پہلے آپ نے دو پتھر اپنے پیٹ پر باندھے پھر اپنے ساتھی کو صبر کی تلقین کی۔ اللہ کے نبیؐ نے کبھی اپنی سوانح عمری...

’’یار یہ حافظ نعیم کون ہے؟‘‘

’’یار یہ حافظ نعیم کون ہے؟‘‘ ’’ نام سے تو کوئی مولوی لگتا ہے، کہیں تم مفتی نعیم کا ذکر تو نہیں کررہے؟‘‘ ’’ نہیں یہ مولوی نہیں انجینئر ہیں بھائی۔‘‘ ’’ پھر تو میں ایسے کسی انجینئر مولوی کو نہیں جانتا۔‘‘ ’’ بڑے افسوس کی بات ہے جو کچھ نہیں کرتے انہیں سب جانتے ہیں اور جو تمہارے لیے آواز بلند کرتے ہیں انہیں تم جانتے تک نہیں۔‘‘ ’’ کیا یہ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے ہیں ؟‘‘ ’’نہیں لیکن پھر بھی یہ ان سب پر بھاری ہیں۔‘‘ ’’کیوں کیا یہ زرداری ہیں ۔مطلب پیسے والے ہیں۔‘‘ ’’ نہیں ایسا بھی نہیں ہے۔ ‘‘ ’’ تو پھر یہ کیسے ہمارے لیے آواز بلند کرسکتے ہیں؟ ‘‘ ’’ایک توتم لوگوں کی یادداشت بہت خراب ہے، کل تک جب کے الیکٹرک تمہاری گردن مروڑ رہا تھا تو تمہارے اپنے نمائندے کدھر تھے؟‘‘ ’’ اپنوں کو تو ابھی اپنی ہی پڑی ہوئی ہے۔ ‘‘ ’’ یہ حافظ نعیم تمہارے لیے نکلا تھاتمہاری آواز بن کر عدالتوں کے چکر کاٹے،نیپرا کی عدالت میں تمہارا کیس لڑا، تمہارے گھر کی روشنی کے لیے اس نے سڑکوں پر دھرنے بھی دیئے ، اسے گرفتار بھی کیا گیا لیکن اس کی آواز کو کوئی دبا نہیں سکا۔‘‘ ’’ مجھے یاد آگیا یہ وہی جماعت اسلامی کے امیدوار تو نہیں جنہیں ان کے حلقہ والوں نے ووٹ نہ دے کر بہت بڑی غلطی کی تھی۔‘‘ ’’اس کے باوجودکہ اس کے پاس کوئی اختیارات نہیں ،یہ اختیارات کا رونا رونے کے بجائے میدان عمل میں کراچی کے لیے بہت کچھ کررہاہے۔‘‘ ’’کے الیکٹرک کو تو واقعی اس نے لگام دے رکھی ہے، عوام کو جہاں کوئی جماعتی ملتا ہے وہ اس کے پاس کے الیکٹرک کا مسئلہ لے کر پہنچ جاتاہے۔‘‘ ’’ لیکن ووٹ تم نے پھر بھی ان کو نہیں دینا یہ مجھے پتا ہے۔‘‘ ’’بھائی مسئلہ شناخت کا ہے ، انہوں نے ہماری شناخت کے لیے کچھ نہیں کیا۔‘‘ ’’ بڑے افسوس کی بات ہے جس کو تم نے ووٹ دیئے تھے وہ تو اب تک کوٹہ سسٹم تک ختم نہیں کرسکے۔کجا یہ کہ وہ تمہاری شناخت کا مسئلہ حل کرتے۔‘‘ ’’اب تو ہماری شناخت بھی مشکوک بنائی جارہی ہے۔‘‘ ’’یہ تو ہونا ہی تھا، لیکن فکر نہ کرو یہی حافظ نعیم اب تمہاری شناخت کے لیے بھی نکل رہا ہے۔کے الیکٹرک کے بعد اب یہ نادرا والوں کوبھی لگام دے گا، بے شک تم پھر بھی اس کو ووٹ نہ دینا۔‘‘ ’’بس ایک بار میرا شناختی کارڈ بنوا دو پھر دیکھو تمہارا ووٹ پکا ہے۔ کتنے دنوں سے لائن میں لگا کر ذلیل و خوار کررہے ہیں اور کہتے ہیں دادا کا شناختی کارڈ لاؤ ۔‘‘ ’’اپنی شناخت چاہیے تو پھر پہلے ’اپنوں‘ کی شناخت کرنا سیکھو ۔ورنہ ذلت و خواری ہی ہمارا مقدر بنے گی۔‘‘ ’’نہیں ا ب میں سمجھ گیا کہ اپنی شناخت’ اپنوں‘ کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔‘‘ ’’چلو پھر اپنی شناخت کے لیے اپنوں کے ساتھ نکلیں!‘‘ *۔۔۔*

آرمگڈون کی آخری لڑائی

اسوقت دنیا میں موجود تمام ممالک میں سب سے کم عمر ملک اسرائیل ہے  جو 14 مئی 1948 کو وجود میں آیا ۔ آپ نقشے پر نظر ڈالیں تو آپ کو نظر آئیگا کہ یہ ایک خنجر کی طرح مشرق وسطی میں گھونپا گیا ہے ۔ اسرائیل نے اپنے آپ کو عرب اسرائیل جنگ میں منوایا  جب 5 جون 1967 کو تین عرب ممالک شام ،مصر اور اردن سے اسرائیل کی جنگ شروع ہوئی آپ تماشہ ملاحظہ کریں سترہ عرب ممالک میں سب سے بڑی ائیر فورس رکھنے والا مصر، اسرائیل سے کہیں زیادہ آرمی اور اسلحہ رکھنے والے اردن اور شام کو محض 6 دن بعد 10 جون کو اسرائیل کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔ اس جنگ کا اختتام مسلمانوں اور خاص کر مشرق وسطی میں موجود عرب ممالک کے لئیے ذلت آمیز تھا ۔ اسرائیل جاتے جاتے مسلمانوں کی عزت بھی اتار لے گیا ۔ مصر کو اپنا پورا جزیرہ نمائے سینا ، اردن کو اپنا پورا مغربی کنارا جو کہ " ویسٹ بینک " کہلاتا ہے اور شام کو اپنی گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کے حوالے کرنا پڑیں ۔ ان عرب ممالک کے بیس ہزار سے زیادہ فوجی اس جنگ میں مارے گئے جب کہ اسرائیل کے چند سو لوگ ہی ہلاک ہوئے ۔ محض انیس سال بعد اسرائیل نے اپنا رقبہ دگنا کرلیا ،پورے مشرق وسطی کو خصوصا اور عالم اسلام کو عموما یہ پیغام بھی دے دیا کہ آئندہ ہاتھ ذرا دیکھ کر رکھنا ۔ آپ اسرائیل کی ڈھٹائی دیکھیں اقوام متحدہ جس علاقے کو فلسطینی ریاست بولتا ہے اسرائیل ان کو متنازعہ علاقہ بولتا ہے ۔ 8،379،379 لوگوں پر مشتمل اسرائیل " چھوٹے سے قد پر قیامت شریر " کی مانند چھایا ہوا ہے ۔ اسرائیل کی فوج اسوقت دنیا کی چوتھی بڑی فوج ہے ،صرف امریکا ، چین اور روس کی افواج ہی اس سے بڑی ہیں ۔ اسرائیل میں لازم ہے کہ ہر گھر سے کوئی نہ کوئی مرد یا عورت فوج میں شامل ہوگا ، آپ اسرائیل کی بد معاشی کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ دنیا میں موجود ہر یہودی اسرائیل کا شہری ہوتا ہے اور اسرائیل کے نزدیک ہمارے کسی بھی شہری پر حملہ یا اس کی بے عزتی پورے اسرائیل پر حملہ یا بے عزتی سمجھی جائیگی اور اسرائیل اپنے ایک شہری کے بدلے اس ملک کے ایک ہزار لوگ مارنے کا اختیار رکھتا ہے ۔ دنیا کا سب سے مضبوط دفاعی میزائل سسٹم بھی اسرائیل کے ہی پاس ہے ۔ آپ سائنس اور ٹیکنالوجی میں اسرائیل کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اسرائیل کی شرح خواندگی 97 فیصد  سے زیادہ ہے ۔ گھروں میںکمپیوٹر کے استعمال کے حوالے سے اسرائیل پہلے نمبر پر ہے ۔ دنیا کا سب سے پہلا اینٹی وائرس بھی اسرائیل نے ہی بنایا تھا ۔ مائیکرو سوفٹ اور سیسکو جیسی عظیم الشان کمپنیز کے ریسرچ سینٹرز بھی امریکا کے بعد اسرائیل میں ہی ہیں ۔ اسوقت صرف نو ممالک ایسے ہین جنکا اپنا سیٹلائٹ سسٹم ہے اور اسرائیل ان میں سے ایک ہے ۔ مزے کی بات...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

اُف یہ بیویاں

عورت ٹیڑھی پسلی کی وہ تخلیق ہے کہ ایک بار بیوی بن جائے تو پھر ٹیڑھے سے ٹیڑھے مرد کو بھی یک جنبش انگلی ایک ہی پاؤں پہ وہ ناچ نچواتی ہے کہ شوہر نامدارکے تمام کس بل نکال دیتی ہے۔اور مرد بے چارہ جو قبل از شادی کسی کو پلے نہیں باندھتا تھا اب بیوی کے پلو سے ایسے بندھا رہتا ہے جیسے اونٹ کے گلے میں بلی اور بلی بھی وہ کی جو بہت سے بلوں میں اکیلی گھری ہوئی ہو جیسے رضیہ غندوں میں اور دور کھڑا ایک خاوند لاچارگی و نحیف آوازمیں کہہ رہا ہو کہ :شیر بن شیر؛ بیوی آ پکا وہ قانونی حق ہے جسے آپ سو(۱۰۰)دو سو(۲۰۰) افراد کی موجودگی میں قبولیت ثلاثہ کے ساتھ بخوشی حق قبولی میں لیتے ہیں۔بعد از شادی بعدین دو سو دن شادی مرگ ہو بھی جائے تو یقین مانیں آپ دنیا کے خوش قسمت ترین خاوند خیال کئے جائیں گے ہو سکتا ہے آپ کو :عائلی شہید: کے اعلی رتبے پر خیال کیا جائے۔ بیوی میں کوئی اور خوبی ہو نہ ہوایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ یہ جب چاہے کوئی سا بھی روپ دھار سکتی ہے۔جب چاہے گرگٹ بن کے کوئی سا بھی رنگ بدل لے۔رنگ بدلنے کے لئے خاوند،سسرال،یا میکہ کہیں سے بھی بیوی کو اجازت نامہ درکار نہیں ہوتا بلکہ یہ پہلے سے ہی :بیوی نامہ:میں ڈیٹا اسٹور میں پڑا ہوتا ہے۔بس یہ بیوی پر منحصر ہے کہ ذاتی منشا و مدعا کے مطابق کب ،کونسا روپ دھار کر خاوند،ساس،نند،اوردیورانی کو بیوقوف بنانا ہے۔یعنی گھر میں دھونے والے برتنوں کی کثرت ہو تو کثرت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے لئے بھی بیوی کے سر میں درد نکل سکتاہے،سسرالی مہمانوں کی آمد آمد ہو تو :خاتون خانہُ:گندے دوپٹے سے سر باندھ کر بوڑھی :دائیہ ؛کی وضع اپنا سکتی ہے۔اور اگرمیکہ والوں سے کوئی دور پار کے رشتہ دار بھی آ جائیں تو :کپتی بیوی: کے غلاف سے دھارمک ،بی بی اور موٗدب بیوی کہاں سے عود کر آ جائے گی کہ پورا سسرال انگشت بدنداں،حیران و ششدر رہ جاتا ہے کہ :ہیں: ایسا روپ تو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔البتہ تنخواہ کا دن وا حد دن ہوتا ہے جس میں ایک دم کپتی بیوی گل اندام محبوبہ کی وضع قطع اپنا لے گی کہ :سکے خاوند: کو یقین نہیں آتا کہ وہ ذاتی بیوی سے مخاطب ہے یا کسی اور کی بیوی کے سامنے کھڑا ہے۔بیوی کے یہ ناز و نخرے اس وقت تک چلتے ہیں تا وقتیکہ شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی نہ ہو جائے۔ ایام ماہ آ خرجب شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی ہو جاتے ہیں تو فوری طور پہ :گجی ماں:جیسے ٹکا کے بے عزتی کرتی ہے جیسے بچپن میں رات تاخیر سے وآنے پہ اماں کرتی تھیں۔بعض اوقات تو اماں سے بھی دو ہاتھ آگے ہی رہتی ہے۔ بیوی کا پاور ھاؤس اسکا میکہ ہوتا ہے جبکہ خاوند کے لیے یہ جگہ بارگاہ ادب سے کم نہیں۔ ہر اس شخص کو کسھیانی مسکراہٹ اور عزت و مقام بخشتے ہوئے جھک کر سلام اور گلے لگانا پڑتا ہے جو آر...

انگریزی،انگریزنی اور ہم پاکستانی

انگریز برصغیر سے جاتے ہوئے اپنی اپنی انگریزنیوں کو تو ساتھ لے گئے۔تاہم انگریزی ہمارے واسطے بطور عذاب اور امتحان کے چھوڑ گئے۔ہم ٹھہرے باوقار پاکستانی،اپنی چائے میں مکھی بھی پڑ جائے تو اسے مکمل نچوڑ کر اور کبھی کبھار چوس کر چائے بدر کرتے ہوئے کہیں دور پھینک کر بقیہ چائے یہ کہتے ہوئے پی لیتے ہیں کہ حلال کمائی کی ہے، مگر کسی کی جھوٹی چائے کو تو ہاتھ لگانے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔بھلا تصور کریں کہ انگریز کی چھوڑی ہوئی انگریزی کو ہم کیسے ہاتھ لگائیں گے۔ہاں اگر انگریزی کی جگہ انگریزنی ہو تو ہاتھ اور منہ لگانے کو ہم قومی فریضہ خیال کریں گے۔پھر بھی ہم یارانِ مہر و محبت ،انگریزی کو بھی صیغہ مونث خیال کرتے ہوئے اس امید سے برداشت کر رہے ہیں کہ اک روز تو آئیگی آتے آتے’’پر کتھوں‘‘نہ انگریزی اور نہ ہی انگریزنی آتی ہے،مایوسی کہیں کفر تک نہ لے جائے اور مذکور ان دو صنف اور صنفِ نازک سے بدلہ لینا مقصود ہو تو رختِ سفر باندھیے گوروں کے دیس کا اور ایک عدد گوری سے شادی کر وا کے خوب اپنی تشنگی بجھائیے۔جیسے 90 کی دہائی میں میرا ایک دوست اس عزمِ صمیم سے ولایت پڑھنے گیا تھا کہ وہاں جا کر انگریزی اور انگریزنیوں سے گن گن کر بدلے لوں گا۔اور وہ اپنی زبان کا پکا نکلا کہ گن گن کر اس نے سات آٹھ انگریزنیوں سے شادیاں کی ،گن گن کر پندرہ بیس مکس کراپ( mix crop ) قسم کے بچے پیدا کئے جنہوں نے بڑھاپے میں ایک ایک کر کے چھوڑ دیا اور اب محترم سوچ رہے ہیں کہ ’’اپنے اور اپنا پاکستان زندہ باد‘‘۔مگر یہ سب ہر بندے کے بس کی بات نہیں ہوتی کہ انگریزی اور انگریزنی کو ایک ساتھ ہاتھ ڈال لے۔اور اگر یہ دونوں ایک ساتھ کہیں ہمارے ہتھے چڑھ جائیں تو پھر ہم ان دونوں کی وہ ’’ماں بہن‘‘ ایک کرتے ہیں کہ خدا پناہ۔میرا ایک دوست انگریزی کے ساتھ وہ ’’کتے خوانی‘‘ کرتا ہے کہ گورے ان کی انگریزی اگر پڑھ لیں تو انگریزنیوں کو بچوں سمیت موصوف سے ایسے چھپاتے پھریں جیسے بلی اپنے بچوں کو منہ میں دبائے سات گھروں میں لئے پھرتی ہو۔میری نظر سے ان کا لکھا ہوا ایک پیرا گراف گزرا ۔اس پیراگراف پڑھنے کے بعد جو میرے احساسات تھے میں چاہتا ہوں کی قارئین کی نذر کروں،پیرا پڑھتے ہوئے مجھے ایسا لگا جیسے preposition کو دھوبی پلڑا مار کر اور مجھے کرنٹ لگا کر زمیں پر دے مارا ہو،preposition کے بے ہنگم استعمال سے میں سمجھا ،کہ ہو سکتا ہے کہ میں ہی ذہنی طور پہ تیا ر نہ تھا ،ایسا ہرگز نہیں تھا کیونکہ use of tense کو بھی انہوں نے اتنی tention میں رکھا ہوا تھا کہ میں خود tense ہو گیا کہ الہی ماجرا کیا ہے،بندہ ماسٹر ڈگری کر کے ماسٹر لگا ہوا ہے تو پھر انگریزی میں اتنا ماسٹر کیوں نہیں کہ ایک جملہ ہی ٹھیک سے لکھ سکتا ہو۔اب دیکھئے ذرا کہ ’’میں کہتا ہوں‘‘ کی انگریزی me told اور ’’تم آجانا‘‘ کی they come کی...

ہم تو گم راہ جوانی کے مزوں پر ہیں 

ایک سلپ دینا ، انہوں نے میٹھے اور دھیمے سے لہجے میں کہا۔ میں نے سر اٹھایا تو ایک چالیس پینتالیس سالہ خاتون استقبالیہ کے کاؤنٹر پر میرے سامنے کھڑی تھیں۔ جی آنٹی؟’’ اپنی ایج بتا دیجئے گا پلیز‘‘۔ بس یہ کہنا تھا کہ وہ تو آپے سے ہی باہر آگئیں۔ ایسے لگا جیسے میں نے ان سے عمر نہ پوچھی ہو بلکہ بھڑوں کے چتھے میں ہاتھ ڈال دیا ہویا کوئی ننگی سی گالی دے دی ہو۔ پہلے تو انہوں نے خوب ناک سکیڑی اور پھر غصے سے پھنکارتے ہوئے بولیں : ’’او ہیلو!! کہاں سے آنٹی لگتی ہوں ہاں؟ میں نے ان کے بپھرتے انداز سے ڈرتے ہوئے پیشہ ورانہ معذرت کی اور کہا: سوری باجی غلطی ہو گئی۔ آپ اپنی عمر بتا دیں تا کہ میں سلپ بنا دوں ۔ انہوں نے غصے سے لبریز لہجے میں بڑبڑاتے، منمناتے ہوئے پچیس سال بتائی اور میں سوچنے لگاکہ دِکھتی توچالیس کی ہیں اور بتاتی پچیس ہیں ۔ پھر میں سوچنے لگاممکن ہے سات ادوار میں سے کوئی دور ہو۔ مارک ٹوئن نے کسی سے پوچھا تھا:’’کیا آپ عورت کی زندگی کے سات ادوار سے واقف ہیں؟‘‘تو جواب ملا: نہیں واقف،کون سے ہیں؟ مارک ٹوئن نے جواب دیا: ’’ بچپن، لڑکپن، جوانی، جوانی، جوانی اور جوانی اور پھر جوانی۔ویسے بھی عمر کے معاملے میں عورتوں کا ہمیشہ سے یہ رویہ رہا ہے کہ جب وہ چھوٹی ہوں تو چاہتی ہیں کہ انہیں بڑا سمجھا جائے اور جب بڑی عمر کی ہوتی ہیں تو چاہتی ہیں کہ انہیں چھوٹا سمجھا جائے۔ خیر ! میں نے سلپ بنا کے دی تو بلا ٹلی اور میں نے سکھ کا سانس لیا کیوں کہ جب تک وہ یہاں کھڑی تھیں مجھے ہی گھورے جارہی تھیں۔ جیسے نظروں ہی نظروں میں ہڑپ کر جانا چاہتی ہوں۔ شاید انہیں لگ رہا تھا کہ میں نے راز سے پردہ اٹھا لیا۔تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ بیل بجی ، جو اشارہ تھا خطرے کا، کہ ڈاکٹر صاحب بلا رہے ہیں۔چشمہ ناک پے اوپر کیا جو ذرا سرک کر چونچ پر آگیا تھا، کپڑے وپڑے ٹھیک کیے اورجا پہنچے ڈاکٹر صاحب کے کمرہ میں اور ہاتھ باندھ کر مؤدبانہ انداز سے کھڑے ہوئے اور عرض کیا : جی سر؟ ڈاکٹر صاحب نے اول تو چشمے کے اوپر سے مجھے گھورتے ہوئے سر تا پا جائزہ لیا پھر بولے: بھئی عبدل!آپ عمر تو ٹھیک لکھا کریں ۔ آپ جانتے بھی ہیں کہ میں مریض کو اس کی عمر کے حساب سے میڈسین دیتا ہوں ۔ یہ دیکھیں اب ، آپ نے فورٹی پلس کی سلپ پر عمر پچیس سال لکھی ہے جبکہ آئی ڈی کارڈ کے حساب سے چالیس، اکتالیس بنتی ہے۔میں نے سر جھکالیا اور رسماً معذرت کی، وہ خاتو ن وہیں پر سانس کھینچے بیٹھی مجھے ہی گھور رہی تھیں۔جان چھوٹی سو لاکھوں پائے۔ میں سوچ رہا تھا، پتا نہیں خواتین اپنی عمر چھپاتی کیوں ہیں؟ شائد احساس کمتری کی وجہ سے یا کم عمر نظر آنے کے لیے؛ کہتی ہوں گی انہیں جوان سمجھا جائے۔ ویسے بعض مرد بھی اپنی عمر چھپاتے ہیں ۔ مرد کی...

روحانی ریمانڈ

صاحبو، مجھ سے اگر کوئی یہ پوچھے کہ انسانی اعصاب کیلیئے سب سے کڑا وقت کونسا ہوتا ہے تو میں بلا تردد عرض کروں گا کہ "عین اس وقت ، کہ جب کوئی لکھنے پڑھنے والا فرد نصف شب کے بعد کسی بیتاب قوال سے بہت کم فاصلے پہ موجود ہو" ، مجھے یقین ہے کہ کسی دوسرے فرد کو میرے اس بیان کی فکرانگیزی اس وقت تک سمجھ آہی نہیں سکتی کہ جب تک کہ وہ خود کبھی اس کڑی آزمائش سے دوچار نہ ہوا ہو اور رات کے پرسکون لمحات میں اسکی سماعت ، اچانک کسی بپھرے ہوئے قوال کے ہتھے نہ چڑھ چکی ہو۔۔۔ میری یہ بپتا پرانی نہیں ابھی گزشتہ شب ہی کی ہے کہ جب میرے گھر کے عین سامنے اک مست قوال محفل سماع کے نام پہ مائیکروفون پہ کان پھٹنے اور پو پھٹنے تک نجانے کیا کیا کرنے پہ تلا رہا،،، اور میں گویا شب بھر 'روحانی ریمانڈ' پہ رہا،،، ابتداء میں تو میں نے بہت برداشت سے کام لیا اور بہت دیر تک ضبط نفس کے طریقے آزماتا رہا لیکن کانوں پہ امنڈتی بانگ درا جب اسپیکروں کی ہنرمندی سے چنگھاڑتی ضرب کلیمی بن گئی تو خوار و مضطرب ہوکر خود بھی پرعقیدت سامع بن کر 'وقوعہ' پہ جاپہنچا۔ دیکھتا ہوں کہ درمیان میں بیٹھا جو شخص متواتر گردن ہلارہا ہے اور زور زور سے ہاتھ چلا رہا ہے وہی اس 'مقدس ورکشاپ' کا استاد ہے اور اس نے کئی 'چھوٹے' یعنی اپرنٹس قوال آہ وفغاں کیلیئے دائیں بائیں ساتھ بٹھا رکھے ہیں جو کہ نہایت متناسب انداز میں گردن مٹکانے کیساتھ ساتھ استادانہ لے کی آنچ بڑھانے کیلیئے برابر سے زوردار تالیاں بھی پٹخارتے جاتے ہیں اور تالیاں بھی کیا گویا ایک ہتھیلی سے دوسری کو اور دوسری سے پہلی کو کس کس کر چانٹے لگا رہے ہیں،،، ہمراہ ایک نائب قوال بھی ہے کہ باربار بوکھلا کر اچانک اچانک واویلا مچانے کیلیئے مخصوص ہے،، اس کا دوسرا کام پوری چوکسی سے اپنے سر کو 'استاد' کی تالیوں کے بیچ آکر چپاتی بننے سے بچانا ہے کیونکہ وہ قوال کے بالکل نزدیک بیٹھا ہے اور ہر لمحے گمان ہوتا ہے کہ اس قربت کی سزا اسے آج مل کر رہے گی،،، طبلہ ٹھنک رہا ہے اور طبلہ نوازاسی سے ہم آہنگ کرکے اپنی گردن اور دیدے دونوں برابر سے مٹکارہا ہے،،، ایک لاغر و فاضل سا بچہ بھی وہیں ساتھ دبکا بیٹھا ہے جس کا کام سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وقفے وقفے سے چونک کے سیٹی جیسی باریک اور چبھتی ہوئی آواز میں چیخیتی ہوئی ایں ایں یا ریں ریں کرنے کی کوششیں جاری رکھے اور اسٹیج پہ کسی جونیئر قوال کو نیند کی جھپکی لینے نہ دے ، حاضرین کو جگائے رکھنے کا کام البتہ اسی چھٹے ہوئے قول نے مستقل اپنے ذمے لے رکھا ہے۔۔۔ ساز و صدا کی اسی ہڑبونگ میں دیکھتے ہی دیکھتے میرے سامنے بیٹھے دو افراد دفعتاً ہڑبڑا کر اٹھے اور اسٹیج کی جانب بڑھے اور،،،، اسٹیج تک پہنچنے سے پہلے ان میں سے ایک نے جیب میں ہاتھ ڈالا جس سے میں نے...

لائن پر آؤ یا لائن بناؤ

الن کلن کی باتیں ’’ہمارے یہاں عقلمندوں کی کمی نہیں، ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔‘‘ ’’جب ہزار ملتے ہیں تو پھر ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ ’’اسی لئے ڈھونڈنے کی زحمت نہیں کی جاتی بلکہ جو مل جائے اسی سے کام چلا لیا جاتا ہے۔‘‘ ’’ایسا کیا ہوگیا، کچھ بتاؤ گے بھی یا پہیلیاں ہی بھجواتے رہو گے؟‘‘ ’’اب دیکھو ناں ہمارے ملک میں جو عقلمند ملتے ہیں وہ عوام کے خادم نہیں بلکہ عوام کے حاکم ہوتے ہیں۔ اسی لئے وہ عقلمندی کے ایسے جوہر دکھاتے ہیں کہ جس سے عوام کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔‘‘ ’’ ایسا کیا ہوگیا جو تم ایسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہو؟‘‘ وارداتیں ہورہی ہیں یا ہونے کا خطرہ ہے تو ڈبل سواری پر پابندی لگا دو۔ موبائل سے ریکی کی جاتی ہے تو موبائل کا نیٹ ورک بند کردو۔ بجلی کی ادائیگی کسی علاقے میں کم ہورہی ہے تو وہاں پر لوڈ شیڈنگ کرو۔ آٹا مہنگا ہے تو ڈبل روٹی کھا لو۔ ‘‘ ’’واقعی یہ بات تو تم نے ٹھیک کہی، لیکن اصل بات کیا ہے؟ وہ بتاؤ، یہ پرانی باتیں ہیں۔‘‘ ’’عوام کے نصیب میں دربدر کی ٹھوکریں کھانا لکھا ہے۔ کبھی یوٹیلٹی بلوں کے لئے لائن میں لگایا جاتا ہے، کہیں گیس بھروانے کی لائن میں لگایا گیا، کہیں پیٹرول نایاب کرکے لائن میں لگایا گیا، کہیں سم رجسٹریشن کے نام پر لائن میں لگایا گیا، کہیں ووٹ ڈالنے کے لئے لائن میں لگایا، کہیں لائسنس کے لئے لائن میں لگایا اور کہیں شناختی کارڈ کے حصول کے لیے نادرا کی لائن میں لگایا۔‘‘ ’’جو قوم لائن پر نہیں آتی پھر اسے اسی طرح لائن میں لگایا جاتا ہے۔ تم یہ بتاؤ کہ ابھی کون سی لائن لگنے والی ہے؟‘‘ ’’سنا ہے چھ ماہ میں شناختی کارڈ کی دوبارہ تصدیق ہوگی۔‘‘ ’’ٹھیک سنا ہے۔‘‘ ’’مطلب ایک بار پھر دوبارہ سے لائن میں لگ کر تصدیق کرنی ہوگی؟‘‘ ’’اب تک تو آپ کو لائن میں لگنے کی عادت ہوجانی چاہیئے تھی۔ لیکن چونکہ یہ قوم لائن میں لگنے کی عادی نہیں اس لیے یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے۔‘‘ ’’اب آپ کیا چاہتے ہو بغیر لائن کے تمہارا کام ہوجائے؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ زرداری کے بیٹے بلاول تو نہیں ہیں یا آپ شریف خاندان سے تو تعلق نہیں رکھتے جو آپ بغیر لائن میں لگے اپنا کام کروا سکیں۔‘‘ ’’تو پھر ایک کام کیوں نہیں کرتے۔ سب کو لائن میں لگا کر چار چار جوتے کیوں نہیں لگائے جاتے تاکہ سب کی عقل ٹھکانے آجائے۔‘‘ ’’ایسی ذلت بھلا کون پسند کرے گا؟‘‘ ’’ذلت عوام کا مقدر ہے کیونکہ ان کے پاس شعور نہیں۔ انہوں نے اس کو اپنا نصیب سمجھ لیا ہے اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ عقلمند ہم پر کیوں حکومت کررہے ہیں جو ہمارے ووٹ لے کرآتے ہیں اور ہمارے ہی پیسوں پر پلتے ہیں اور ہمارے درمیان اس طرح وی آئی پی انداز میں نکلتے ہیں، جیسے یہ انسان ہیں اور ہم سب گدھے۔ ان کی جان کی قیمت ہے اور ہم چیونٹیاں ہیں جس کے جی میں ا?ئے پاؤں تلے روند جائے۔‘‘ ’’تو تمہارے خیال میں عوام کیا کرسکتی ہے؟‘‘ ’’کہہ تو رہا ہوں چار جوتے سب کو...

ہمارے بلاگرز