تخلیقی سوچ کیا ہوتی ہے۔۔۔۔رفیق جعفر

ہمارے ہاں اس بچے یا فرد کو پسند کیا جاتا ہے جو فرمانبردار ہے، دوسروں کا ادب کرتا ہے، اپنا کام وقت پر مکمل کرتا ہے، اس کے ہم عصر اسے پسند کرتے ہیں اور جو دوسروں میں مقبول ہے۔ اس کے مقابلے میں ہم ایسے بچوں کو پسند نہیں کرتے جو بہت زیادہ سوال پوچھتے ہیں، سوچنے اور فیصلہ کرنے میں خودمختار ہوتے ہیں، اپنے عقائد پر ڈٹے رہتے ہیں، کسی کام میں مگن رہتے ہیں اور کسی بااختیار شخص کی بات کو من و عن تسلیم نہیں کرتے۔ پہلی قسم کے بچے کو ہم ’’اچھا بچہ‘‘ کہتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے بچے کو ہم بدتمیز یا نافرمان بچہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی ماحول میں بھی تخلیقی سوچ کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اگر ایک بچہ امتحان میں کسی سوال کے جواب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے تو اسے کم نمبر دیئے جاتے ہیں۔ بچوں کو اول آنے کی ترغیب تو دی جاتی ہے لیکن علم حاصل کرنے اور نئی باتوں کو کم اہمیت دی جاتی ہے۔ یہاں اگر کچھ فنکاروں اور ان کی تخلیق کو اہمیت دی جاتی ہے تو اس عمل کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں کسی تصویر، دھن وغیرہ کی تخلیق ہوئی ہے، یعنی تخلیق کے نتائج کو تو سراہا جاتا ہے لیکن اس محنت اور جدوجہد کو نظرانداز کیا جاتا ہے جسے تخلیقی عمل کہتے ہیں۔ یوں ہمارے ملک کا ماحول تخلیقی سوچ کے فروغ کے لیے سازگار نہیں۔ مختلف لوگوں نے تخلیقی سوچ کے لیے مختلف اصطلاحات استعمال کی ہیں مثلاً قابلیت، وجدان، جدت پسندی، اختراع یا ایجاد کی قوت، قوت متخیلہ، کھوج لگانے کی صلاحیت وغیرہ۔ ماہرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ تخلیقی سوچ میں تین اہم عناصر ہوتے ہیں۔ ۱۔ جدت، ۲۔ کسی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت اور ۳۔ کوئی قابل قدر مقصد حاصل کرنے کی صلاحیت۔ جدت سے مراد موجودہ یا روایتی انداز میں پائی جانے والی چیزوں، تصورات وغیرہ کو انفرادی انداز میں آپس میں ملانا یا نئے سرے سے ترتیب دینا ہے۔ دنیا میں جتنے تخلیقی کام کیے گئے ہیں ان میں پرانی چیزوں یا تصورات کو نئے انداز میں دیکھا گیا ہے۔ مثلاً جب نیوٹن (1642-1727) نے سیب کو گرتے ہوئے دیکھا تو یہ عمل نیوٹن کے لیے اور نہ ہی کسی اور کے لیے انوکھا واقعہ تھا لیکن نیوٹن نے اس عمل کو ایک خاص انداز سے دیکھا، اسے نئے معنی دیئے اور اس طرح کشش ثقل کا قانون دریافت کر لیا۔ تاہم صرف جدت ہی کسی سوچ یا عمل کو تخلیقی نہیں بنا دیتی۔ اگر کوئی فرد سر پر کتاب رکھ کر اسے پڑھنے کی کوشش کرے تو اس عمل میں جدت ضرور ہے لیکن اس عمل سے نہ کوئی مسئلہ حل ہو گا اور نہ یہ تخلیقی کہلائے گا۔ ذہنی مریضوں کی عجیب و غریب حرکتوں میں جدت ہو سکتی ہے لیکن یہ عمل تخلیقی نہیں کہلاتے۔ کئی مرتبہ اس کا الٹ بھی ہوتا ہے، یعنی ایک سوچ یا عمل میں جدت ہو سکتی ہے اور ممکن ہے اس سے کوئی مسئلہ بھی حل ہو جائے لیکن وہ فوری طور پر کارآمد ثابت نہیں ہوتا۔ مثلاً دوسری صدی قبل مسیح میں یونانی فلسفی ہیرو نے ایک کھلونا بنایا تھا جو بھاپ سے چلتا تھا لیکن بھاپ کا انجن دو ہزار سال بعد اس وقت ایجاد ہوا جب فنی اور صنعتی ترقی اس درجے پر پہنچی کہ اس قسم کا انجن تیار کیا جا سکے۔ تخلیقی سوچ کوئی حادثاتی واقعہ نہیں جو صرف خوش قسمت افراد کو پیش آتا ہے، بلکہ یہ ایک مسلسل محنت کا سلسلہ ہے جس میں کبھی کبھار امید یا وجدان کی وجہ سے کامیابی کا احساس ہوتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے مشہور برطانوی ڈرامہ نگار برنارڈ شا نے تخلیقی عمل کو ’’نوے فیصد پسینہ اور دس فیصد آمد‘‘ قرار دیا تھا۔ تخلیق کار افراد کی خصوصیات: تخلیق کار افراد کی نمایاں خصوصیت انفرادیت پسندی ہوتی ہے۔ یہ روایتی سوچ اور کردار کے مقابلے میں اپنی ذات اور سوچ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس خود اعتمادی کی وجہ سے وہ دوسروں پر کم انحصار کرتے ہیں اور اکثر معاملات میں خود مختار ہوتے ہیں، یہاں تک کہ کئی افراد انہیں ضدی اور سرکش قرار دیتے ہیں۔ لیکن تخلیقی افراد پر دوسروں کی منفی رائے کا بہت کم اثر ہوتا ہے کیونکہ ان کے اندر لوگوں پر اچھا تاثر قائم کرنے یا ان کی خوشنودی حاصل کرنے کا احساس بہت کم ہوتا ہے۔ تخلیقی افراد کی ایک اور خصوصیت ان کی مستقل مزاجی ہے۔ وہ جس کام میں دلچسپی لیتے ہیں اسے تندہی سے کرتے ہیں اور ناکامیوں اور مشکلات سے نہیں گھبراتے۔ کئی بار ان کے ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں کیونکہ وہ چیزوں اور خیالات کی توڑ پھوڑ سے گھبرا جاتے ہیں۔ تخلیقی افراد کی سوچ بہت لچکدار ہوتی ہے۔ وہ پیچیدہ، الجھی ہوئی، غیر متوازن اور نامکمل چیزوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ نئے نئے خیالات کو ٹٹولنے، انہیں توڑنے مروڑنے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ تخلیق کار میں عام لوگوں سے زیادہ آگاہی ہوتی ہے اور وہ عموماً اپنی خوبیوں اور خامیوں سے واقف ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں مزاح کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ تخلیق کار افراد کے گھریلو ماحول کے مطالعہ سے پتا چلا ہے کہ عام طور پر یہ ماحول مثبت ہوتا ہے، خاندان مستحکم ہوتا ہے اور گھریلو لڑائی جھگڑے بہت کم ہوتے ہیں۔ والدین بچوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہیں۔ وہ بچوں کو آزادانہ ماحول فراہم کرتے ہیں جس میں بچہ خود اپنے تجربات کے ذریعے ماحول سے جان کاری حاصل کرتا ہے۔ ایسے والدین بچوں میں تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ افرائی کرتے ہیں۔ وہ علم کی بطور علم قدر کرتے ہیں اور ڈگری اور نوکریاں ان کے لیے ثانوی حیثیت رکھتی ہیں
حصہ

جواب چھوڑ دیں