تمباکو کی جگالی۔۔نذیر الحسن

          گزشتہ دنوں ایک منسٹر کو تقریب میں مدعو کرانے کے سلسلے میں سندھ سیکریٹریٹ جانا ہوا ، وزیر موصوف نہیں ملے تو ہم نے اپنی عرضی دفتر کے عملے کے حوالے کر کے ان سے ریسیونگ چاہی تو جواب میں اوں…. اوں…. کرنے لگے اور لگے ڈھونڈنے ڈسٹ بن ، ڈسٹ بن نہ ملنے پر تحریراً مجھے کہا کیا چاہیے جس کے جواب میں ہم نے بھی انہیں تحریری جواب دیا…………خدا جانے ان کے منہ میں پان تھا ، گٹکا تھا یا مین پوری۔ ایسی صورتحال صرف آفس کے عملے میں ہی دیکھنے کو نہیں ملتی یہ روز کا مشاہدہ ہے ۔گھر سے آفس جاتے اور آتے وقت بسوں پر سوار مسافر ، رکشہ سوار ، ڈرائیور، بائیک سوار حتی کہ لاکھوں روپے مالیت کی چمچماتی گاڑی پر سوار نوجوان فراٹے بھرتے ہوئے اچانک کھڑکی سے سر نکال کر پان ، گٹکا یا مین پوری کے استعمال شدہ لوازمات سڑکوں پر پھینکتے نظر آئیں گے۔ اگر آپ بائیک چلارہے ہیں تو دیکھیے آپ کے ساتھ آنے والی بائیک کا مسافر پچکاریاں مارتا ہوا، زوں سے نکل جائے گا اور آپ اپنے کپڑوں پر اس کے نشانات تلاش کرتے ہی رہ جائیں گے ۔ کئی مرتبہ ایسا بھی دیکھا کہ گاڑی والے نے اپنی گاڑی آہستہ کی آپ نے سمجھا کہ شاید گاڑی خراب ہوگئی ہے اسی لیے موصوف شاید گاڑی کنارے پر لگا نا چارہے ہیں مگر یہ کیا درواز ہ کھلا گاڑی سوار نے منہ بھر تمباکو سے سڑک کو رنگین کردیا ۔ بعض اوقات اس عمل سے وہ ابکائی آتی کہ الامان

          کبھی کسی تمباکو نوش کے اس عمل کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ڈیڑھ چھٹانک حجم کے منہ میں یہ پائو بھر تمباکو کیسے سماتاہے،یوں تو پان اور چھالیے کی جگالی برصغیر پاک و ہند کی روایت ہے ۔اچھے اچھے

 شرفاءپان چباتے تھے، مگر ان کی پان خوری میں وہ نفاست اور ادا ہوتی تھی کہ اس کا اب صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے مگر اب جو وبا پھیلی ہے جس میں سڑک پر چلتا ہرتیسرا فرد آپ کو پان ، چھالیہ ، گٹکا ، مین پوری اور اس نام سے آنے والی نہ جانے کن کن چیزوں کی جگالی کررہا ہے وہ انتہائی تکلیف دہ اور فکر انگیز ہے ۔ فکر انگیز ان معنوں میں کہ یہ تمباکو جن اشیاءسے تیار کی جارہی ہیں وہ انتہائی مضر صحت اور جان لیوا ہیں ۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ ہر جگہ کسی نہ کسی شکل میں تمباکو خوری کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ دفاتر میں تو یہ مناظر عام ہیں ۔ اگر آپ سڑک پر جارہے ہوں اور سگنل پر کسی سے کسی مقام کا پتا پوچھیں تو جس سے پتا پوچھا جارہا ہے وہ اوں اوںہی کرتا رہ جائے گا اور آپ صورتحال بھانپتے ہوئے پتا پوچھنے کا ارادہ ترک کردیں ۔ اتنی بڑی تعداد میں تمباکو خوری کی اصل وجہ تو ماہرین نفسیات ہی بتاسکتے ہیں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈپریشن اور ٹینشن زدہ افراد کو شاید تمباکو خوری سے تھوڑی بہت ریلیف مل جاتی ہوگی اور تمباکو چباتے وقت ان کا آف موڈ آن ہوجاتا ہوگا ۔

یوں تو تمباکو کی جگالی ایک عام سی بات ہے مگر المیہ یہ ہے کہ جب سے گٹکے،مین پوری اور ماوا کی وبا عام ہوئی ہے اچھے اچھے اور ہٹے کٹے جوانوں کو موت کے منہ میں جاتے دیکھا ہے۔ان اشیاء کے استعمال سے منہ کا کینسر معمول کی بات بن گئی ہے۔اگر انٹرنیٹ پر اس حوالے سے تصاویر دیکھیں تو طبیعت وہ مکدر ہوتی ہے کہ مت پوچھیے۔۔۔ان اشیاء کا استعمال کرنے والوں سے بس اتنی سے گزارش ہے کہ اپنا نہ سہی اپنے بچوں کا ہی خیال کر یں اور اسے ترک کرنے کی منصوبہ بندی کریں۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں