جذبات کیا ہیں؟۔۔۔عرفان احمد

کوئی جذبہ یا احساس کسی واقعے کے بارے میں ہم سے گفت گو کی ایک شکل ہوتا ہے۔ ہم ہر لمحے کسی نہ کسی جذبے کے تجربے سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ مرد عورت، مسلم غیر مسلم، بچے، جوان بوڑھے، پڑھے لکھے او ر ان پڑھ… سبھی انسان ہر وقت کسی نہ کسی جذبے کو محسوس کرتے ہیں۔ یہ جذبات یا احساسات دو قسم کے ہوتے ہیں: منفی یا مثبت؛ تخریبی یا تعمیری۔ ہم کسی بھی جذبے سے گزر رہے ہوں، ہماری وہ حالت ہماری جذباتی کیفیت کہلاتی ہے۔
ہر جذبہ یا جذباتی کیفیت انسان کی دماغی کیمیا (برین کیمسٹری) کو تبدیل کرتی ہے۔ یوں دماغ سے مختلف ہارمونوں کا افراز (اخراج) ہوتا ہے اور جسمانی کیفیت بدلتی ہے۔ مثال کے طور پر، خوف کی صورت میں دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے، اسٹریس کی وجہ سے سر پر بوجھ بڑھ جاتا ہے اور اطمینان کی صورت میں دل کی دھڑکن نارمل رہتی ہے اور جسم حالت سکون میں آجاتا ہے۔ یہ جسمانی کیفیات انسانی ”برتاو“ یا رویے کو تشکیل دیتی ہیں۔ جذباتی کیفیت کسی کو نظر نہیں آتی، جسمانی کیفیت یا برتاو سب کے سامنے ہوتا ہے۔
جذبات اور جذباتی ذہانت: اب تک کی بحث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان کی خوشی، راحت اور کامیابی میں درحقیقت اس کے جذبات یا جذباتی کیفیت سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چنانچہ جو لوگ اپنے جذبات کو بہتر طور پر پہچانتے اور انھیں کنٹرول کرپاتے ہیں، وہ جذباتی ذہانت کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ای کیو لیول بلند یا زیادہ ہوتا ہے۔ جن افراد کا ای کیو لیول کم یا پست ہوتا ہے، ایسے لوگ اپنے جذبات کو شناخت کرنے اور انھیں کنٹرول کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ اپنے جذبات کو پہچاننے، اپنی جذباتی کیفیت کو جانچنے اور اپنے جذبات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا نام “ای کیو” یا جذباتی ذہانت ہے۔
جذبات متعدی ہوتے ہیں، یعنی یہ وبا کی طرح پھیلتے ہیں۔ جس قسم کے جذبات رکھنے والے افراد کے ساتھ ایک شخص زیادہ وقت گزارتا ہے، اس پر اسی قسم کے جذبات غالب آجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے، جارحانہ مزاج رکھنے والوں کے ساتھ بیٹھنے والے فرد کی جذباتی کیفیت پر جارحیت کا غلبہ ہوگا؛ تحمل پسند لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے فرد کی جذباتی کیفیت پر تحمل غالب ہوگا۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں