دینی طبقہ پرنٹ میڈیا کو کیسے استعمال کرے؟۔۔۔۔محمد عاصم حفیظ

پرنٹ میڈیا یعنی اخبارات ، رسائل و جرائد وغیرہ اہم ترین ذرائع ابلاغ میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ دینی حلقے زیادہ تر اسی پر انحصار کرتے ہیں جبکہ یہ بھی اچھی بات ہے کہ ہمارے ملک میں سینکڑوں کے حساب سے دینی جرائد شائع ہوتے ہیں ۔ اخبارات دینی ایڈیشن شائع کرتے ہیں جبکہ اہم مذہبی تہواروں کے موقعے بھی خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ تصاویر کے معاملے پر معمولی اختلاف کے علاوہ دینی طبقہ اس قسم کی صحافت میں کافی حد تک دلچسپی رکھتا ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ مذہبی جماعتوں کی سب سے زیادہ سرگرمی بھی اسی میدان میں نظر آتی ہے ۔
شعبہ نشر واشاعت کی بہتری:
بہت سی جماعتوں نے اپنے اخبارات جاری کرنے کے تجربات بھی کئے ہیں جو کہ کسی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں جبکہ علمائے کرام اور دینی سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد دیگر اخبارات اور رسائل کے لیے بھی دینی مواد فراہم کرتے رہتے ہیں جس سے عوام الناس کو یقیناً فائدہ پہنچتا ہے ۔ ان سب کوششوں کے باوجود اب بھی پرنٹ میڈیا کے میدان میں محنت کی ضرورت ہے ۔ میرے خیال میں اس کی بڑی وجہ بھی تربیت یافتہ افراد کی کمی ہی ہے۔ مذہبی جماعتوں کے شعبہ نشر و اشاعت اور مختلف دینی رسائل کے ذمہ داران بغیر کسی پیشہ ورانہ تربیت کے اس کام سے منسلک کر دئیے جاتے ہیں ۔ یہ المیہ ہی ہے کہ آج کے اس دور میں کہ جب ذرائع ابلاغ کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل بن چکا ہے دینی اور مذہبی جماعتیں شعبہ نشرواشاعت میں محض خانہ پری کے لئے تقرریاں کرتی ہیں یعنی جس کسی اہم بندے کے لئے کوئی بھی عہدہ نہ بچے تو اسے شعبہ نشرواشاعت کا ذمہ دار بنا دیا جاتا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ بعض بڑی بڑی مذہبی جماعتوں کے شعبہ نشرواشاعت بھی کچھ زیادہ سرگرمی دکھانے میں ناکام رہتے ہیں ۔ دراصل یہ لوگ اپنے رہنماؤں کی خبریں چھپوانے کے لئے بھاگ دوڑ میں مصروف نظر آتے ہیں ۔ پاکستانی پرنٹ میڈیا کا اسٹریکچر کچھ ایسا ہے کہ اس میں حکومتی عہدیداروں کے علاوہ سیاسی ، مذہبی اور دیگر شخصیات کو اپنے آپ کو خبروں میں رکھنے کے لئے مخصوص ہتھکنڈے استعمال کرنے پڑتے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ خبریں چھپوانے کے لئے رپورٹرز کی خوشامد اور بعض مواقع پر رشوت بھی دی جاتی ہے ۔ خیر بہت سی جماعتیں اس قسم کا خرچہ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اس لئے ان کے رہنما ہمیشہ خبروں میں رہتے ہیں ۔ ایک اور بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اخبارات میں شائع ہونیوالی خبریں کبھی بھی دعوتی حوالے سے مفید ثابت نہیں ہو سکتیں کیونکہ ان کی نوک پلک سنوارنے والے سب ایڈیٹرز ہر خبر کو بے ضرر اور سیاسی ماحول کے مطابق بنا دیتے ہیں ۔ اخبار کی خبر نظریاتی پیغام کو واضح نہیں کرتی ۔ اس سے صرف یہ فائدہ ہوتا ہے کہ بعض رہنما اپنے بیانات کے ذریعے عوامی مقبولیت برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ معمول یہی ہے کہ اخبار میں خبر صرف مشہور علمائے کرام اور سیاست سے منسلک مذہبی رہنماؤں کی ہی چھپتی ہے جبکہ دینی تبلیغ اور خالص علمی کاموں میں مصروف علمائے کرام کو ہرگز خبروں میں جگہ نہیں مل سکتی ۔ اس وضاحت کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اخبارات میں بیانات چھپوانے کے لئے دیکھائی جانیوالی سرگرمی دینی اور مذہبی جماعتوں کے اصل مقصد کے لئے کچھ زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی۔ اس سے ہرگز یہ مراد بھی نہیں کہ دینی جماعتوں کے عہدیداران اور مذہبی رہنما بلکل ہی اس سے لاتعلق ہو جائیں ۔ بلکہ میرا مقصد تو بس یہ کہنا کہ دینی جماعتوں کو چاہیے کہ صرف بیانات چھپوانے کے لئے ہی کوششیں نہ کی جائیں ۔ دینی حلقے پرنٹ میڈیا سے بے پناہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں ۔
دینی جرائد میں جدت :
دینی جماعتوں کے جاری کردہ اخبارات اور رسائل تو ان کے پیغام کے عکاس ہوتے ہی ہیں جبکہ دیگر اخبارات اور جرائد کو بھی دینی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
سب سے پہلے تو یہ ضروری ہے کہ دینی جماعتیں اپنے زیر انتظام چلنے والے اخبارات اور جرائد کو معیاری بنائیں ۔ ان کی تیاری اور اشاعت کو بہتر بنانے کے لئے پیشہ ورانہ افراد کا تقرر کیا جائے ۔ ہمارے ہاں ہوتا یہ ہے کہ کسی دینی رسالے کو چلانے اور اس کی تیاری وغیرہ کا کام بھی رضاکارانہ طور پر کارکنوں سے ہی لیا جاتا ہے ۔ تحریریں مختلف قارئین روانہ کر دیتے ہیں یا پھر زیادہ تر مختلف کتابوں سے اخذ کردہ مواد ہی قسط وار مضامین کی شکل میں شائع کیا جاتا ہے ۔ بہت کم دینی رسائل اور اخبارات ایسے ہیں کہ جن میں قارئین کو ان کی ضرورت کے مطابق اور نیا مواد پڑھنے کو ملتا ہے ۔ ان رسائل کو تیار کرنیوالے افراد کے خلوص پر تو شک نہیں کیا جا سکتا لیکن پیشہ ورانہ تربیت کی کمی اور تحریروں کو عوامی مزاج کے مطابق نہ ڈھالنے کے باعث دینی رسائل زیادہ مقبولیت حاصل نہیں کرپاتے اور اکثر ایک محدود طبقے تک ہی رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ دینی رسائل میں زیادہ تر تحریریں مشکل پیرائے میں لکھی گئی ہوتی ہیں جو عام لوگوں کے لئے زیادہ کشش نہیں رکھتیں ۔ اشتہارات کی کمی اور وسائل نہ ہونے کے باعث دینی رسائل مشکل سے ہی معیار برقرار رکھ پاتے ہیں ۔ اس لئے ضروری یہ ہے کہ دینی طبقہ سب سے پہلے تو اپنے زیر انتظام ہونیوالی صحافت کو لوگوں کے لئے زیادہ سے زیادہ دلچسپ بنائے ۔ دینی رسائل کا اسلوب زیادہ سے زیادہ عوامی بنایا جائے تاکہ یہ رسائل زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائل حاصل کر سکیں ۔
پیشہ ور افراد کا تقرر :
بڑی دینی جماعتیں اور اچھی مالی حیثیت رکھنے والے دینی اخبارات کے لئے مذہبی رجحان رکھنے والے پیشہ ورانہ افراد کو متعین کیا جائے ۔ یا پھر پہلے سے مقرر عملے کے لئے صحافتی اصول و ضوابط اور پراپیگنڈا کے طور طریقوں کی تربیت کا اہتمام کیا جائے ۔ دینی رسائل میں چھپنے والی ہر ایک تحریر کو خوب جانچ پرکھ کر آسان فہم بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں ۔ اس کے لئے بعض نامور لکھاریوں سے بھی تحریریں لکھوائی جا سکتی ہیں یا ان سے ایڈیٹنگ کے سلسلے میں مدد لی جا سکتی ہے۔ یہ لوگ تحریروں کو زیادہ پرکشش بنانے کا فن جانتے ہیں جبکہ موضوعات کے انتخاب کے سلسلے میں بھی مفید رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ انہیں کل وقتی ملازم ہی رکھا جائے بلکہ ان سے جزوقتی کام بھی لیا جا سکتا ہے ۔ اکثر اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض اچھے لکھاری دینی حلقے سے عقیدت تو رکھتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے حوالے سے کوئی میدان عمل ہی موجود نہیں ہوتا۔ اس لئے دینی جماعتوں کو چاہیے کہ میڈیا کے شعبوں کو مضبوط بنائیں تاکہ ایسے افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
نمائندگان کا تقرر :
دوسری جانب وسائل کی کمی اور محدود رسائی کی وجہ سے دینی رسائل کے لئے تازہ مواد کی فراہمی انتہائی دشوار گزار مرحلہ ہوتا ہے ۔اس مقصد کے لئے ہر رسالے کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ اپنے وسائل کے لحاظ سے ایک پالیسی ترتیب دیں۔ اگر تو ممکن ہو کسی اچھے ، تربیت یافتہ اور دینی سمجھ بوجھ رکھنے والے صحافی کو ہی رسالے کی ایڈیٹر شپ دی جائے ۔ اگر یہ ممکن نہیں تو اپنے بندوں کے لئے تربیت کا اہتمام کیا جائے ۔ دیگر اخبارات اور رسائل کی طرح دینی جرائد بھی مختلف علاقوں میں نمائندگان کا تقرر کریں جو کہ نہ صرف ان کی اشاعت بڑھانے کا باعث بنیں گے جبکہ مواد کی فراہمی کا بھی باعث ہوں گے ۔ جس طرح اخباری نمائندگان سرکاری ، سیاسی اور معاشرتی سرگرمیوں کی رپورٹ بھیجتے ہیں بلکل اسی طرح دینی رسائل کے نمائندگان دینی سرگرمیوں کی رپورٹ بھیجیں جبکہ اس سے بھی ضروری یہ ہے کہ اپنے علاقے کے اہل علم سے اچھی تحریریں لکھوائیں ۔ یہ نمائندگان رسالے کا تعارف کرائیں اور اپنے نظریے کے حامل پڑھے لکھے افراد اور علمائے کرام کو رسالے کے لئے مواد فرام کرنے پر راضی کریں۔ اس طرح دینی رسائل کے لئے کافی تازہ مواد مل سکتا ہے جس سے یقیناً لوگوں کی دلچسپی بھی بڑھے گی۔ ان نمائندگان کی رسالے کے لئے اہل علم ، دینی رہنماؤں ، بزرگان اور اہم علمائے کرام کے انٹرویوز وغیرہ کرنے کی ڈیوٹی بھی لگائی جا سکتی ہے۔ دینی جماعتوں کے کارکنان بغیر کسی معاوضے کے یہ ذمہ داری نبھانے پر تیار ہو جاتے ہیں ۔ صرف ان کو چند بنیادی باتوں سے متعلق تربیت فراہم کر دی جائے ۔ انٹرویوز وغیرہ کے لئے ان کو سوالنامہ ایڈیٹر کی جانب سے بھی بھیجا جا سکتا ہے جبکہ ان کی تحریروں کو مزید بہتر اور قابل اشاعت بنانے کی ذمہ داری بھی آخر کار ایڈیٹر کی ہی ہو گی ۔
ایڈیٹرز کی ذمہ داری :
مذہبی رسالے کی اشاعت کے ذمہ دار افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ حالات حاضرہ سے بخوبی آگاہ ہوں اور خالص دینی احکام ومسائل کے ساتھ دیگر موضوعات پر بھی مواد شامل کریں۔مذہبی جماعتوں کو چاہیے کہ اپنے رسائل میں دینی مسائل کی علمی بحثوں کے ساتھ ساتھ عوامی مزاج کے مطابق تحریریں بھی شائع کریں۔ یعنی کچھ رسائل تو علمی سطح کے ہوں جبکہ بعض کو عوامی بنانے کی کوشش کی جائے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی ایک ہی رسالے میں علمی مباحث اور عوامی تحریروں کو جمع کر دیا جائے ۔ دینی رسائل اور اخبارات کو معاشرے کی ضرورتوں کے لحاظ سے تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ لادین اور سیکولر طبقہ لوگوں کی توجہ دین سے ہٹانے کے لئے پرنٹ میڈیا کو بھرپور طریقے سے استعمال کر رہا ہے ۔ دینی طبقہ کو بھی چاہیے کہ ان کے بنائے گئے معیارات کو بدلنے کی کوشش کرے ۔ لوگوں کے لئے ایسا متبادل اور دلچسپ مواد پیش کیا جائے کہ جو ایک طرف دینی تقاضوں کو پورا کرتا ہو جبکہ دوسری جانب اس قدر دلچسپ اور عوامی نوعیت کا بھی ہو کہ بڑے پیمانے پر پڑھا جائے۔ دینی رسائل کے ایڈیٹرز معاشرتی مسائل کو زیر بحث لائیں اور ان کے متعلق دینی موقف واضح کریں ۔ اپنے قارئین کو عالمی حالات سے آگاہ رکھیں اور رسالے کو متنوع موضوعات سے مزیں کریں۔
بچوں اور خواتین کے لئے مواد :
بچوں ، خواتین اور نوجوان طبقے کے لئے مواد کی تیاری ایسی ہونی چاہیے کہ جو انہیں اسلامی روایات کا پاسدار بنانے اور دینی احکام و مسائل کا پابند بنانے میں مددگار ہو ۔ اس مقصد کے لئے اخلاص ، دینی علم ، بھرپور محنت کے ساتھ ساتھ تربیت اور پیشہ ورانہ اصول و ضوابط پر عمل پیرا ہونے کی بھی ضرورت ہے ۔ نظریات ، عقائد ، اسلامی روایات اور دیگر مذہبی احکام و مسائل کو بدلنے کی نہیں بلکہ ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے اور جس دن اسلامی تحریکوں نے پرنٹ میڈیا کا ایسا استعمال شروع کر دیا کہ جس کے ذریعے عوام کے ایک بڑے طبقے کو متاثر کیا جا سکے تو یقیناً اس سے ایک انقلابی تبدیلی رونما ہو گی۔بعض دینی رسائل اور اخبارات اس میدان میں اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں ۔ ان شااللہ اگر دیگر حلقوں میں بھی یہ جذبہ بیدار ہوجائے جبکہ پہلے سے موجود افراد اپنی محنت میں اضافہ کر دیں تو یقیناً بہت ہی مفید نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔
اخبارات کے دینی ایڈیشن:
اسی طرح موجود پرنٹ میڈیا کو دینی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا سوال بھی کافی اہم ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان سمیت کہیں بھی پرنٹ میڈیا کو روزانہ ہی کافی زیادہ تازہ مواد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ خبروں کے علاوہ اخبار یا رسائل کے دیگر حصوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ کالم ، رنگین صفحات ، ایڈیشنز ، خصوص اشاعتیں اور دیگر سلسلوں کے لئے دینی سوچ اور فہم رکھنے والے افراد کو مواد فراہم کرنا چاہیے۔ دینی جماعتوں کے شعبہ نشرواشاعت کو چاہیے کہ خبریں چھپوانے کے علاوہ اس طرف بھی توجہ دیں ۔ پاکستانی اخبارات میں ہر جمعتہ المبارک کے دن دینی ایڈیشن شائع کیا جاتا ہے ۔ المیے کی بات یہ ہے کہ دینی حلقے تمام اخبارات کے ان دینی ایڈیشنز کے لئے ہی مضامین اور عوامی دلچسپی کا مواد فراہم نہیں کر پاتے۔اکثر ان ایڈیشنز میں مختلف بڑے علمائے کرام کی کتابوں کو ہی قسط وار شائع کیا جاتا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے کہ دینی سمجھ بوجھ رکھنے والے پڑھے لکھے افراد اور علمائے کرام باقاعدگی سے ان ایڈیشنز میں لکھا کریں ۔ حالات حاضرہ کے مطابق اور ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جائے کہ جن سے اخبار کے قارئین زیادہ متاثر ہوں ۔ مثلًا اگر یورپ میں حجاب پر پابندی کا مسئلہ درپیش ہے تو اخبارات کے دینی ایڈیشنز میں دلائل کے ساتھ اسلامی موقف واضح کیا جائے نہ کہ ان دینی ایڈیشنز میں کسی حج و عمرے سے متعلق مسائل کی کتاب کو قسط وار شائع کیا جا رہا ہو ۔ معاشرتی برائیوں کو اسلامی نقطہ نظر سے بیان کیا جائے۔کرپشن کے قصے اگر اخبار کی خبروں میں ذکر ہو رہے ہیں تو دینی ایڈیشن میں بدعنوانی ، جھوٹ ، رشوت اور اقربا پروری سے متعلق اسلامی احکامات کا تذکرہ ہو ۔ اخبارات میں دینی ایڈیشن کے انچارج کو تو اپنا صفحہ بروقت تیار کرنا ہوتا ہے۔ اس کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ وہ معاشرے کی دینی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے مواد تلاش کرے۔ یہ ذمہ داری تو دینی جماعتوں کی ہے کہ وہ ایسے مسائل کہ جو معاشرے میں لادینیت پھیلا رہے ہیں یا جن سے اسلامی روایات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ان کو زیر بحث لائیں۔
سنڈے میگزین :
اسی طرح سنڈے میگزین میں بھی ایک خاص حصہ دینی مضامین کے لئے مختص ہوتا ہے ۔ اس میں بھی اچھے مضامین شائع کرائے جا سکتے ہیں ۔ سنڈے میگزین میں کافی زیادہ جگہ میسر ہوتی ہے اور اس میں مواد شائع کرانا انتہائی آسان ہوتا ہے ۔ اس کے موضوعات بھی سیاسی سے زیادہ معاشرتی طرز کے ہوتے ہیں جبکہ دینی موضوعات کو زیر بحث لایا جا سکتا ہے ۔ مثلًا اسلام میں عورت کا مقام ، اسلام کا نظریہ تفریح ، اسلام اور مغرب کی کشمکش ، مغرب کی اسلام مخالف سازشیں ، صہیونیت کا کردار ، اسلام کا خاندانی نظام ، معاشرتی تبدیلی میں علمائے کرام کا کردار ، مختلف علمائے کرام کے واقعات ، ان کا تعارف وغیرہ وغیرہ۔
اشاعت خاص:
اخبارات کی جانب سے مختلف دنوں کی مناسبت اور تہواروں کے موقعے پر خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ اگر دینی جماعتوں کے شعبہ نشرواشاعت سے منسلک افراد کو اس کا احساس ہوتو پہلے سے ہی ان کے لئے مضامین لکھوائے جا سکتے ہیں ۔ یا پھر علمائے کرام بھی اس کا خیال رکھ سکتے ہیں کہ چند روز بعد فادرز ڈے ، مدرز ڈے ، مزدوروں کا دن ، تمباکو نوشی کے خاتمے کا دن ، منشیات کے خلاف دن وغیرہ آنے والے ہیں ۔ ان کے لئے پہلے سے ہی اسلامی تعلیمات کے مطابق مضمون لکھ کر اخبارات کو ارسال کئے جائیں ۔ یقین مانیں کہ یہ مضامین ضرور شائع ہوں گے اور اس طرح عوام کو یہ بھی احساس ہو گا کہ دینی طبقہ معاشرے کی ضروریات سے آگاہ ہے اور ایسے مسائل کو بھی زیر بحث لانے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ جو موجودہ دور میں انسانی زندگی کے لئے مشکل پیدا کر رہے ہیں ۔ اس کا دوسرا بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ منشیات ، تمباکو نوشی ، ماں اور باپ کے دن وغیرہ کے حوالے سے صرف لادین اور مغرب زدہ طبقہ ہی سرگرم نہ ہو بلکہ ان مواقع کو اسلامی تعلیمات کے فروغ اور لوگوں میں دین سے متعلق شعور کی بیداری کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ ہمارے ہاں بہت سے حلقے ایسے دنوں کی مخالفت میں ہی پورا زور لگا دیتے ہیں حالانکہ ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہیے ۔ ہاں البتہ کچھ ایسے تہوار اور دن کہ جو اسلامی تعلیمات کے صریح مخالف ہوں اور ان سے بے ہودگی اور فحاشی وغیرہ کا تاثر ملتا ہو یعنی ویلنٹائن ڈے ، نیو ائیر نائٹ وغیرہ تو ان کی بھرپور طریقے سے مخالفت کی جائے۔ لیکن یہ مخالفت صرف آپس میں بحث و تکرار تک ہی محدود نہ ہو بلکہ ان تہواروں کو معاشرے کے لئے مضر اور نقصان دہ ثابت کرنے کے حوالے سے بھرپور مہم چلائی جائے اور میڈیا میں مواد فراہم کیا جائے ۔ ان دنوں کے خلاف اسلام اور معاشرتی زندگی کے لئے نقصان دہ ہونے کے حوالے سے مضامین شائع کیے جائیں ۔ اگر دینی سمجھ بوجھ رکھنے والے کسی لکھاری کا مضمون علمی نوعیت اور موقف کی بھرپور ترجمانی کرتا ہو گا تو ضرور شائع ہوجائے گا ۔
ایڈیٹرکے نام خط:
اور اگر مضامین ، رنگین صفحات اور سنڈے میگزین وغیرہ میں نہ شائع ہونے کا خدشہ ہوتو اسے ایڈیٹر کے نام خط کے طور پر بھیج دینا چاہیے ۔ اخبارات ایڈیٹرز کے نام خط کے کالم میں ہر قسم کا موقف پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایڈیٹر کے نام خط بھی ایک اہم جگہ ہے کہ جہاں آپ اپنا موقف واضح کر سکتے ہیں اور اس کالم کو کافی پڑھا بھی جاتا ہے ۔ دینی طبقے سے منسلک افراد کو چاہیے کہ وقفے وقفے سے معاشرتی مسائل ، دین سے دوری ، بے راہ روی ، تہذیب کی بربادی ، فحاشی و عریانی اور ایسے ہی مسائل کے حوالے سے چھوٹی چھوٹی تحریریں ایڈیٹر کے نام خط میں لکھتے رہیں ۔ جو کہ زیادہ تر شائع ہو جاتی ہیں اور بہت سے لوگ ان سے مستفید ہو سکتے ہیں ۔سنڈے میگزین وغیرہ میں دین سے دوری اور معاشرتی بگاڑ سے متعلق واقعات بھی ارسال کیے جا سکتے ہیں ۔
ادارتی صفحہ:
ایک اور اہم ترین چیز ادارتی صفحے کو استعمال کرنا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ اخبارات سینئر صحافیوں یا پھر نامور افراد کے کالم ہی شائع کرتے ہیں ۔ نئے لکھنے والوں کے لئے ادارتی صفحے میں جگہ حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے ۔ اگر دینی جماعتیں ، ادارے اور افراد ان ادارتی صفحات پر اپنے مطلب کا مواد دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ اول یہ کہ ایسے علمائے کرام جو کہ عوامی مقبولیت رکھتے ہیں وہ کالم لکھا کریں ۔ مثلا جماعتوں کے سربراہان وغیرہ ۔ ان رہنماؤں کی عوامی مقبولیت کی وجہ سے ان کے کالم ضرور شائع ہو جائیں گے ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ان رہنماؤں کی مصروفیت اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ وہ مستقل کالم نہیں لکھ سکتے ۔
دینی رہنماؤں کے نام پر کالم لکھنا:
اس کا حل یہ ہے کہ بعض اچھے لکھنے والے افراد مذہبی رہنماؤں کے لئے کالم لکھا کریں جو کہ ان کے نام سے شائع ہوں ۔ بڑے دینی رہنما کالم کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر ایسے لکھاریوں کو بتا دیا کریں ۔ یہ طریقہ بہت زیادہ قابل استعمال ہے اور بہت سے اہم لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں ۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی جماعت کا منشور کافی تجربہ کار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تیار کرتی ہے جبکہ اس کا اعلان تو صرف لیڈر ہی کرتا ہے۔ اخبارات کو بھیجنے سے پہلے یہ کام ضرور اس رہنما کو دکھا یا جائے تا کہ وہ اس میں ضروری ترامیم وغیرہ کر سکے جبکہ میڈیا اور اپنی گفتگو میں اس کی وضاحت بھی کر سکے ۔
کالم نگاروں کو مواد کی فراہمی:
دوسرا طریقہ پہلے سے موجود کالم نگاروں کو مواد فراہم کرنا ہے۔ مثلا قانون توہین رسالت ﷺ میں تبدیلی ، حدود آرڈینینس کے خاتمے وغیرہ کے معاملات سے متعلق ملک میں بحث جاری ہو تو یہ مفید ثابت ہوتا ہے کہ بعض بڑے کام نگار بھی ان مسائل پر دینی جماعتوں کے موقف اور اس بارے میں اسلامی تعلیمات کے متعلق تحریر لکھیں ۔بڑے کالم نگاروں کی مصروفیت بھی کافی زیادہ ہوتی ہے ۔
دینی جماعتوں سے منسلک افراد اور علمائے کرام اگر خط ، ای میل وغیرہ کی صورت میں یا بالمشافہ مل کر اس بارے میں تحقیقی مواد فراہم کر دیں تو ان میں سے اکثر کالم لکھنے پر راضی ہو جائیں گے ۔ کیونکہ بہت سے اچھے لکھاری دین سے لگارکھتے ہیں ۔ حالات حاضرہ کے بڑے ایشوز کے علاوہ معاشرے میں موجود دیگر مسائل سے متعلق اسلامی موقف واضح کرنے اور لوگوں میں دینی شعور کی بیداری کے حوالے سے بھی کالم لکھنے پر راضی کیا جا سکتا ہے ۔ مثلًا کسی مغربی ملک میں کسی عالم دین کو گرفتار کر لیا گیا ہے یا کسی تنظیم پر بغیر کسی وجہ کے پابندی لگا دی گئی ہے ، یا پھر اسلام مخالف کوئی کتاب شائع ہوئی ہے ۔ کیونکہ دینی طبقہ ہی ایسی خبروں میں دلچسپی لیتا ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ معاشرے میں اس سے متعلق شعور بیدار کرنے کے لئے کوشش بھی کرے ۔ اس کے لئے زیادہ پڑھے جانیوالے کالم نگاروں کی توجہ اس طرف دلائی جا سکتی ہے ۔ اس طرح کسی بھی موضوع سے متعلق زیادہ سے زیادہ آگاہی حاصل ہو گی ۔ یعنی پہلے سے موجود کالم نگاروں تک رسائی حاصل کرکے ، ان کو مواد فراہم کرکے اور ان کی توجہ کسی خاص مسئلے کی طرف مبزول کراکے بھی کافی زیادہ فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ دینی جماعتوں کے شعبہ نشرواشاعت کو چاہیے کہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کی تحریروں کو اخبارات و رسائل تک رسائی دلانے کے لئے کوششیں کی جائیں ۔ یعنی جو بھی دینی موضوعات پر اچھا لکھتا ہو اس کی تحریر کو شائع کرایا جائے ۔ اس طرح حوصلہ افزائی کرنے سے دین سے لگارکھنے والے نئے لکھاری جلد ہی اچھی تحریریں لکھنا شروع ہو جائیں گے۔
رپورٹرزکا کردار:
پرنٹ میڈیا میں رپورٹرز اور نمائندگان سے تعلقات استوار کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے ۔کیونکہ یہ افراد اپنے اداروں کو تحریریں ، خبریں وغیرہ فراہم کرتے ہیں ۔ دینی پروگراموں کی کوریج اور ان کی رپورٹس شائع کرانے کے لئے رپورٹرز سے اچھے تعلقات ضروری ہے ۔ مختلف قسم کے مسائل اور حالات کے مطابق انٹرویوز کرنا بھی رپورٹرز کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ مذہبی جماعتوں کی بیٹ کرنیوالے رپورٹرز سے واقفیت رکھی جائے ۔ اس سے خبریں چھپوانے میں بھی آسانی رہتی ہے ۔ بعض اوقات کچھ دینی جماعتوں کے کارکنان ہی صحافت کو بطور پیشہ اختیار کرکے رپورٹرز بن جاتے ہیں جس کے کافی مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ دینی پس منظر رکھتے ہیں اس لئے مختلف معاملات میں مذہبی رہنماؤں کی رائے لینا نہیں بھولتے ۔ رپورٹنگ کسی بھی اخبار یا رسالے کا اہم ترین حصہ ہوتا ہے اس لئے مذہبی جماعتوں کو چاہیے کہ اس شعبے سے منسلک افراد کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کئے جائیں۔ وقفے وقفے سے مذہبی رہنماؤں کے انٹرویوز کی اشاعت کے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس سے عوام تک مذہبی طبقے کی آواز پہنچتی رہتی ہے ۔ اس کے علاوہ ان رپورٹرز کو ایسی اسٹوریز پر کام کرنے پر بھی مائل کیا جا سکتا ہے کہ جن سے معاشرے میں پھیلتی فحاشی ، بے راہ روی اور معاشرے پر غیر ملکی اثرات کے مسئلے کو اجاگر کیا جا سکے ۔ مثلًا اگر اخبار میں یہ اسٹوری چھپے گی کہ کہ انڈین فلموں کے باعث ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور نوجوان نسل تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ بظاہر یہ اسٹوری مذہبی نہیں لگتی لیکن اس سے مذہبی طبقے کو فائدہ ضرور پہنچے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ اس پر فکر مند ہوں اور حکومت ایکشن لے ۔ اسی طرح فیشن ، منشیات ، مذہب سے دوری کے باعث معاشرتی بگاڑ ، دینی روایات ، مختلف اسلامی ہستیوں کا تعارف اور ایسی ہی بہت سے موضوعات کو رپورٹرز کی مدد سے زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔ معاشرتی برائیوں سے متعلق فیچرز میں دینی موقف آنے سے ایک اچھا تاثر جنم لیتا ہے۔
نمائندگان کا کردار :
دوسری جانب چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں نمائندگان کی اہمیت تو بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ کسی علاقے کے حوالے سے یہ افراد مکمل طور پر با اختیار ہوتے ہیں۔اخبارات کے مرکزی دفاتر میں صرف ان کی ہی رسائی ہوتی ہے اور ان کی ہی بھیجی گئی رپورٹس ، خبروں اور تجزیے وغیرہ کو شائع کیا جاتا ہے ۔ اس لئے مختلف چھوٹے علاقے میں موجود اخبارات کے نمائندگان بھی کافی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ مذہبی جماعتوں کو چاہیے کہ اپنے کارکنوں کی اخبارات کے نمائندے بننے کی حوصلہ افزائی کریں کیونکہ ان کے ذریعے ہی اپنے مطلب کے موضوعات اور مسائل کو زیر بحث لایا جا سکتا ہے ۔ یہ افراد اپنے علاقے میں کافی زیادہ اثرورسوخ کے حامل بھی ہوتے ہیں ۔اخبارات کے رپورٹرز کی طرح یہ نمائندگان بھی اگر دینی ذہن کے حامل ہوں تو معاشرے کی اصلاح کے لئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔
بچوں کے رسائل:
ان سب کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کے مخصوص رسائل اور اخبارات میں ان کے لئے مختص کردہ جگہ کو استعمال کرنا بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے ۔ سب سے پہلے تو ضروری یہ ہے کہ دینی جماعتیں اور مختلف دینی اخبارات اور رسائل کو چلانے والے افراد بچوں اور خواتین کے لئے پوری توجہ سے اچھا مواد سامنے لائیں ۔ جدید تقاضوں کے مطابق اور موجودہ انگلش میڈیم طبقے کے لئے ایسا مواد تیار کرنے کی ضرورت ہے کہ بچے شروع سے ہی اسلام کی طرف مائل ہو سکیں۔ ان کو اسلام کی باتیں اس انداز میں سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بچپن سے ہی انہیں اسلامی بنیادی معلومات حاصل ہو جائیں ۔ مغربی ممالک میں اس پر انتہائی زوروشور سے کام جاری ہے اور خاص کر بچوں کو اپنے نظریات کا پابند کرنے کے لئے میڈیا کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ناول ، اخبارات کے صفحات ، میگزین ، کتابیں غرض ہر طرح کے پرنٹ میڈیا کے ذریعے ایسا مواد فراہم کیا جاتا ہے کہ جو بچوں کے ذہنوں میں سیکولر ازم اور لادینیت کو پختہ کر دیں ۔ ایسی کہانیاں عام کی جاتی ہے جو کہ بظاہر تفریح کے نام پر ہوتی ہیں لیکن ان کا بڑا مقصد بچوں کو مذہب سے دور کر نا ہوتا ہے ۔ ہیری پوٹر سیریز ، کارٹونز ، جن بھوتوں کی کہانیاں ، لطائف اور ایسی ہی بہت سی چیزیں بچوں کو مصروف رکھتی ہیں اور ان کے ذہن دین کی طرف مائل نہیں ہو پاتے ۔ معاشرے میں ان چیزوں کو ایک مستقل معیار کا درجہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ہمارے ملک میں مشنری ادارے اور مغرب زدہ این جی اوز کے تحت چلنے والے ادارے بچوں کے ذہنوں کو دین سے دور کرنے کے لئے کوشاں ہیں ۔ ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ یہ کچے ذہن کے بچے عیسائی یا ملحد بن جائیں اور اگر ایسا ممکن نہ ہوتو کم سے کم اچھے مسلمان نہ رہیں ۔ ان کے نصاب تعلیم اور میڈیا میں آپ کو کارٹون ہیروز ، فلمی اداکار ، نت نئی گیمز کا تعارف اور ایسے ہی مغرب زدہ مواد کی تو بھرمار ملے گی لیکن اسلامی تاریخ اور روایات سے منسلک کوئی بھی کہانی اور مواد ہرگز نہیں مل پائے گا ۔ا سکولز کی لائبریریز میں موجود کتابوں اور بچوں کے حوالے سے ہر قسم کے مواد میں انہی نظریات کی ترویج ہوتی ہے ۔ بچوں کے حوالے سے خصوصی نظمیں تیار کی جاتی ہیں جبکہ اسکولز کے مختلف فنکشنز میں ان کو رقص وغیرہ کی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے ۔ اس طرح یہ بچے اسلامی روایات سے زیادہ قریب نہیں رہتے اور آہستہ آہستہ دین سے دور ہوتے جاتے ہیں ۔ بچوں کو اسلام کی طرف مائل کرنا ایک چیلنج ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ پرنٹ میڈیا کے میدان میں بھی بچوں کی دلچسپی کا متبادل مواد فراہم کر دیا جائے ۔ یہ مواد سیکولر اور لادین طبقے کی جانب سے پھیلائے جانیوالے زہر کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ نصاب تعلیم اور میڈیا کے لئے ایسی نظمیں اور اسلامی واقعات کو کچھ اس طرح پیش کیا جائے کہ جس میں نہ صرف بچے دلچسپی لیں بلکہ اس پر عمل بھی کریں ۔ چھوٹی چھوٹی کہانیوں ، اسلامی واقعات ، بچوں سے متعلق اسلامی احکامات ، آداب اور بچوں کی تربیت سے متعلق زیادہ سے زیادہ تحریریں سامنے لانے کی ضرورت ہے ۔ دینی طبقے کو چاہیے کہ پرنٹ میڈیا کے بچوں سے متعلق حصوں کو محض گھسے پٹے مواد کی آماجگاہ نہ بنایا جائے بلکہ اس کے لئے بھرپور تیاری کے ساتھ مواد فراہم کیا جائے ۔ آسان فہم تحریریں سامنے لائی جائیں۔ اسلامی ہیروز اور دینی شخصیات کے بچپن کا تذکرہ ہو یعنی انہوں نے کس طرح مشکل حالات کا سامنا کیا اور ایک بڑا مقام حاصل کیا ۔ کہانی ، مکالمے اور دیگر قسم کے تحریری اسلوب استعمال کرکے بچوں کی دلچسپی کا مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔ دینی حلقوں کی جانب سے اخبارات میں بچوں کے لئے مختص حصوں کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور اہم ترین بات یہ بھی ہے کہ بچوں کے صفحات میں تحریریں شائع کرانا انتہائی آسان بھی ہے اور ہر اچھی چیز ضرور شائع ہو جاتی ہے ۔ موجودہ دور میں بہت سے گھرانے بچوں کی تربیت کے حوالے سے انتہائی پریشانی کا شکار ہیں اور اگر اسلامی حلقے ان موضوعات پر مواد پیش کریں تو اس کو بے پناہ پذیرائی ملنے کا امکان ہے ۔
خواتین کے رسائل:
بچوں کی طرح خواتین بھی معاشرے کا اہم ترین حصہ ہوتی ہیں ۔ مغرب نے اسلامی ممالک میں خواتین کے حقوق اور اسلام کے احکامات کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلانے کے لئے سرتوڑ کوششیں کی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ خود اسلامی ممالک میں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ بہت بڑا حلقہ واقعی مذہبی طبقے کو خواتین کے حقوق کا دشمن سمجھتا ہے ۔ میرا خیال ہے کہ اس تاثر کو بنانے میں جتنا بڑا کردار سیکولر اور مغرب نواز طبقے کا ہاتھ ہے شاید اس سے زیادہ قصور خود دینی طبقے کا بھی ہے ۔ کیونکہ بہت کم مذہبی جماعتوں اور حلقوں نے خواتین کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ہے ۔ اور یہی حال میڈیا کا بھی ہے ۔ مغربی پروپیگنڈے کے جواب میں علمائے کرام کی جانب سے خواتین کے حقوق کے موضوع پرکچھ کتابیں سامنے آئی ہیں لیکن ایک بار پھر میڈیا کے میدان پر کچھ زیادہ توجہ نہیں دی گئی ۔ یہ حقیقت ہے کہ میڈیا لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال کی کوریج کا نام ہے ، خالص علمی اور تحقیقی موضوعات پر لکھی گئی کتابوں کے ذریعے اس کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ۔ جی ہاں مقابلہ تو وہیں ہو گا کہ جہاں پر حملہ کیا گیا ہے۔ اگر سیکولر اور مغرب نواز طبقے کی جانب سے خواتین سے بدسلوکی کا پروپیگنڈا میڈیا کے میدان میں کیا جا رہا ہے تو ظاہر ہے کہ اسلام میں عورت کے مقام اور اسلامی نظام معاشرت میں اس کی حیثیت سے متعلق موقف میڈیا پر ہی پیش کیا جائے گا۔ یعنی میڈیا پر پیش کیے جانیوالے ایسے مواد کا منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے کہ جس کے زریعے خواتین کو اسلامی روایات سے دور کیا جا رہا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ میڈیا پر تواتر کے ساتھ خواتین کے حقوق کی آڑ میں سامنے آنیوالے زہریلے مواد کی وجہ سے معاشرے پر انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ قرآن کے ساتھ شادی ، گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کے واقعات ، کاروکاری اور ایسے ہی بہت سے مواقع پر بلاوجہ مذہبی روایات کو حرف تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایسا تاثر دینے کی کوشش ہوتی ہے کہ جیسے اس سب بگاڑ کا موجب مذہبی احکامات ہی ہیں ۔ دینی طبقے کو چاہیے کہ ان مواقع پر پرنٹ میڈیا میں ہونیوالے پروپیگنڈے کا جواب دے ۔ علمائے کرام کو چاہیے کہ خواتین سے متعلق موضوعات پر تحریریں لکھیں ۔ غیر ملکی کلچر کے فروغ، بہودہ فلمیں اور ڈرامے معاشرے پر کیا اثرات مرتب کر رہے ہیں اور ان سے ہماری نسل کو کس تباہی کا سامنا ہے ۔ ان موضوعات پر لکھنا دینی طبقے کی ہی ذمہ داری ہے ۔ بے پردگی کے اثرات ، اور خود مغربی ممالک میں خواتین کی حالت زار کو بیان کرنا چاہیے ۔ علمائے کرام نے اس موضوع پر اچھی کتابیں لکھی ہیں بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان میں موجود مواد کو حالات حاضرہ سے منسلک کرکے میڈیا میں پھیلا دیا جائے۔ جیسے ہی کوئی واقعہ سامنے آئے مثلا گھریلو جھگڑے سے ہلاکت ، محبت میں ناکامی پر خودکشی ، گھر سے بھاگ کر شادی وغیرہ تو ان مواقع کو استعمال کرتے ہوئے دوسروں کو عبرت دلانے کی کوشش کی جانی چاہیے جبکہ ساتھ ساتھ اس بارے میں اسلامی احکامات کا بھی تذکرہ ہو۔ پردے کے معاملے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اس کا مقصد خواتین کو بیکار بنانا ہے ۔ علمائے کرام اور دینی طبقہ کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ دلائل اور حقائق سے یہ ثابت کریں کہ بے پردگی معاشرے میں کن مسائل کو جنم دے رہی ہے ۔ کس قسم کے جرائم کی بڑی وجہ بے پردگی اور خواتین شرعی تقاضوں کے بغیر گھر سے باہر نکلنا ہے ۔ مغربی ممالک میں اسلام قبول کرکے باپردہ اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے والی خواتین کے انٹرویوز شائع کرائے جائیں۔ ان کے حالات زندگی پر تحریریں لکھی جائیں ۔ دین کی پابندی کرنیوالی باپردہ خواتین کو بھی چاہیے کہ وہ ان موضوعات پر قلم اٹھائیں اور اس تاثر کو دور کرنے کی کوشش کریں کہ اسلام پر پابندی عورت کو بیکار بنا دیتی ہے ۔ ایسا تو شاید ممکن نہیں کہ ان کوششوں سے ہر خاتون ہی اسلامی احکامات کی پابند ہو جائے گی لیکن یہ ضرور ہے کہ اس کاوش کا انتہائی مثبت اثر ضرور ہو گا ۔ دین کی پاسداری کرنیوالی خواتین کے پاس دوسروں کو سمجھانے کے لئے دلائل میسر آئیں گے ۔ کیونکہ یہ سب تحریریں اخبارات اور جرائد کی زینت بنیں گی جو کہ بڑے پیمانے پر عوام تک رسائی رکھتے ہیں اس لئے ہو سکتا ہے کہ اس سے راہ راست سے بھٹک جانیوالی بہت سی خواتین کی اصلاح بھی ہو جائے ۔ حاصل کلام یہ کہ دینی طبقے کو اخبارات اور جرائد میں خواتین کے لئے مخصوص صفحات اور جگہ کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنا چاہیے ۔ اگر کچھ بویا جائے گا تو ہی کاٹنے کی امید کی جا سکتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اسلامی طرز زندگی میں اس قدر کشش ہے کہ وہ خواتین کو اپنی جانب کھینچ سکتا ہے ۔ اگر اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر مغرب کے بہودہ ترین ماحول میں پلنے والی خواتین باپردہ اور شریعیت کی پابند بن سکتی ہیں تو اگر کوشش کی جائے تو ہمارے معاشرے میں بھی خواتین کے زریعے ایک اسلامی لہر برپا کی جا سکتی ہے۔
کہانی ، ناول اور افسانے :
ناول ،افسانوں ، کہانیوں اور فیچرز پر مشتمل کتابیں اور جرائد بھی پرنٹ میڈیا کی ہی ایک صورت ہیں ۔ ہمارے ملک میں نسیم حجازی کے ناولوں نے لاکھوں لوگوں کو اسلامی تاریخ سے روشناس کرانے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے ۔ اگر دینی ذہن رکھنے والے کچھ اچھے لکھاری اس طرف بھی توجہ دیں تو اس کے معاشرے پر اچھے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ واقعات سے متعلق کتابیں ہمیشہ ہی مقبول رہی ہیں ۔ اسلاف کے واقعات کو موضوعات کے لحاظ سے ترتیب دے کر کتابی شکل میں لانا چاہیے اور ایسے کتابوں کو زیادہ سے زیادہ پروموٹ کیا جائے ۔ میری مراد تحقیقی اور علمی موضوعات پر لکھی جانیوالی کتابیں نہیں کیونکہ ان کا دائرہ کار محدود ہوتا ہے بلکہ وہ کتابیں ہیں کہ جو معاشرتی موضوعات پر آسان فہم زبان میں لکھی گئی ہوں ۔ ان کا مخاطب ہر کوئی ہو اور ان کو پڑھنے والا مشکل محسوس نہ کرے ۔ اسی طرح معاشرتی مسائل اوردینی موضوعات کو ناول اور افسانے کاموضوع بھی بنایا جا سکتا ہے ۔ ان کا مقصد صرف اور صرف یہ ہونا چاہیے کہ لادینیت سے معاشر ے میں ہونیوالے بگاڑ کو واضح کیا جائے اور تمام کہانیوں اور افسانوں کا مرکزی خیال لوگوں کو اسلام کی طرف لانا ہی ہو ۔ اس طرح منظر کشی کی جائے کہ قارئین ان تحریروں کو اپنی ہی کہانیاں سمجھیں اور زندگی میں اسلامی طرز زندگی کو اپنانے پر قائل ہو جائیں ۔ اسلام قبول کرنیوالوں اور عیاشی و بے راہ روی سے تائب ہو کر دین کے پیروکار بن جانیوالوں کی کہانیوں کو پراثر انداز میں لکھا جائے ۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی جائے کہ دین پر عمل کرنے کا مطلب خود کو معاشرے سے الگ کرنا ہے ۔ ان تحریروں ایسے لوگوں کو سامنے لایا جائے کہ جو اپنے اپنے شعبوں میں انتہائی کامیاب بھی ہیں اور ساتھ ساتھ اپنی دینی زمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں ۔ اس کے لئے جہاں مناسب ہو افسانے ، ناول یا فیچرز کا اسلوب استعمال کیا جائے ۔ اس قسم کا مواد نوجوان نسل اور بہت سے علمی اور ادبی حلقوں کو متاثر کرتا ہے اور اس کے انتہائی مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
کمپوز شدہ مواد :
پرنٹ میڈیا میں اچھی کوریج کے لئے ایک انتہائی اہم بات یہ بھی ہے کہ کسی اخبار یا رسالے کو مواد کمپوٹر پر کمپوز کرکے فراہم کیا جائے ۔ اس طرح آپ کی تحریر چھپنے کے امکانات میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے ۔ تحریر کو کمپوز کرنے سے اس کو وسیع تر مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ مثلا اس کو مختلف ویب سائٹس پر بھی بھیجا جا سکتا ہے ۔ اس کو ایک تصویر کے روپ میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر بھی شئیر کیا جا سکتا ہے ۔ اخبارات اور جرائد کے ایڈیٹرز کمپوزنگ کے بغیر مواد پر کم توجہ دیتے ہیں اس لئے ضروری ہے مواد کو کمپوز کر لیا جائے۔ اس طرح یہ آپ کے پاس محفوظ بھی ہو جائے گا اور مستقبل میں بھی کام آ سکے گا ۔
مختصر اور جامع تحریر:
پرنٹ میڈیا کے حوالے سے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مواد مختصر اور جامع ہو ۔ زیادہ لمبی تحریریں اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں ۔ قسط وار مضامین کی اشاعت پسند نہیں کی جاتی جبکہ زیادہ بڑے مضمون کی کانٹ چھانٹ کی مصیبت اکثر ایڈیٹر کو اسے ردی کی ٹوکری میں پھینکنے پر بھی مجبور کر دیتی ہے ۔ موجودہ دور مختصر ترین لکھنے کا دور ہے کیونکہ ہر کوئی ٹائم کی کمی کا شکار ہے ۔ چھوٹی اور جامع تحریر زیادہ توجہ حاصل کر لیتی ہے ۔ مختصر تحریر کو انٹرنیٹ پر شئیر کرنے میں بھی آسانی رہتی ہے ۔ مختصر نگاری کو مستقل اصول تو نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بعض موضوع تفصیل طلب ہوتے ہیں لیکن کوشش یہی ہونی چاہیے کہ تحریر مختصر ہی ہو۔
حاصل کلام :
دینی طبقے کو چاہیے کہ پرنٹ میڈیا کی اہمیت کے پیش نظر اسے بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے ۔ اس کے لئے پیشہ ورانہ اصول و ضوابط کی پاسداری کرتے ہوئے انتہائی پرکشش انداز میں تحریریں سامنے لائی جائیں ۔ دینی حلقے اپنے زیر اہتمام ہونیوالی صحافت اور دیگر اخبارات و جرائد کے لئے باقاعدگی سے مواد فراہم کرنے کی کوشش کریں اور ذرائع ابلاغ کی اس قسم کو بھرپور انداز میں دعوت دین کے لئے استعمال کیا جائے۔ کیونکہ پرنٹ میڈیا ہی ذرائع ابلاغ کی ایک قسم ہے کہ
جس تک ہمارے ہاں کی مذہبی جماعتوں ، علمائے کرام اور دینی شعور رکھنے والے افراد کو سب سے زیادہ رسائی حاصل ہے ۔اس لئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انشااللہ خلوص نیت سے کی گئی کوششیں ضرور رنگ لاتی ہیں

 

حصہ

جواب چھوڑ دیں