ذہنی دبائو سے بچنے کے طریقے

ضروریات زندگی کی جدوجہد نے بالخصوص نچلے اور درمیانے طبقے کے ذہنی دبائو اور تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ اگر انسان مسلسل ذہنی دبائو کا شکار رہے تو نفسیاتی بیماری کا شکار ہو سکتا ہے۔ ذہنی دبائو اور تشویش کی کچھ وجوہات بیرونی ہوتی ہیں جیسے مشکل حالات کا سامنا۔ تاہم ایک اہم سبب ان دونوں سے نپٹنے کے طریقوں سے ناواقفیت بھی ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم روزمرہ زندگی میں ذہنی دبائو اور تشویش سے کیسے بچ سکتے ہیں۔
رابطہ بڑھائیں
زیادہ تعداد میں اچھے دوست بنانے کی کوششیں کرنی چاہیے اور ان سے رابطے میں رہیں۔ معاشرے میں زیادہ افراد سے روابط اور گفتگو سے جذبات میں توازن رہتا ہے اور تشویش کم ہوتی ہے۔ عام مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ دوستوں اور بااعتماد ساتھیوں کے ساتھ دکھ سکھ بانٹنے سے راحت کا احساس ہوتا ہے۔ یوں حاصل ہونے والا ذہنی سکون روزمرہ کے امور کو بہتر انداز میں نپٹانے میں
معاون کا کردار بھی اداکرتا ہے۔
آج کے بارے میں سوچیں
کچھ لوگ ماضی میں کھوئے رہتے ہیں اور کچھ کو مستقبل کی فکر ستاتی رہتی ہے۔ ایک حد تک آئندہ کے بارے میں سوچنا درست ہے لیکن حد سے زیادہ نہیں۔ ماضی کی غلطیاں اور آئندہ کے خوف میں مبتلا رہنا ذہنی صحت کے لیے مناسب نہیں ہوتا۔ ان سے جلد از جلد جان چھڑانی چاہیے اور آج پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ایسا کرنے کے لیے شعوری کوشش کرنا پڑتی ہے اور دیگر غیر ضروری خیالات کو ذہن سے نکالنا پڑتا ہے۔
 اپنی ذات پر کنٹرول
انسان کبھی حالات کے بہائو میں بہتا چلا جاتا ہے۔ وہ اس عمل میں خود کو روک نہیں پاتا۔ جس کی وجہ سے نقصان بھی اٹھاتا ہے اور کوفت کا سامنا بھی کرتاہے۔ روزمرہ زندگی اور کام کے دوران اپنی ذات پر کنٹرول کرنا ذہنی دبائو اور تشویش سے دور رکھتا ہے۔
جسمانی مشقت
جسمانی سرگرمی میں اضافے سے ذہنی دباؤ کا مقابلہ کرنے والا ہارمون توازن میں رہتا ہے جس سے ذہنی دبائو میں کمی واقع ہوتی ہے۔ دوسری جانب سست روی اور مشقت سے گریز نا صرف موٹاپے‘ دل اور دیگر بیماریوں کا سبب بنتا ہے بلکہ ذہنی صحت کو بھی نقصان پہنچاتاہے۔
متوازن خوراک
 بعض اوقات ذہنی دبائو تمباکو نوشی کے آغاز یا اس میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح کچھ افراد زیادہ چائے یا کافی پینے لگتے ہیں۔ ان سے فائدے سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر سکون آور ادویات کا استعمال بھی غلط ہے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ زودہضم اور سادہ خوراک لی جائے اور زیادہ چکنائی والی اور ثقیل خوراک سے گریز کیا جائے۔
فوری حل کوئی نہیں
 اس حقیقت کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ ذہنی دبائو اور تشویش سے نجات فوری طور پر ممکن نہیں۔ کوئی ایسا جادو نہیں جو اچانک ہشاش بشاش کر دے۔ مذکورہ طریقوں کو آزمانا چاہیے اور امید کرنی چاہیے کہ روزمرہ زندگی میں ذہنی دبائو اور تشویش سے نجات مل جائے گی اور اگر مسئلہ بڑھ جائے تو ماہرنفسیات سے رجوع کرنا چاہیے۔
حصہ

جواب چھوڑ دیں