سوشل ازم کیا ہے؟۔۔۔۔فاروق دلاور

تعارف اور تاریخی مادیت پاکستان اس وقت جس بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے وہ دراصل عالمی سرمایہ داری نظام کے استحصال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کی ایک گھمبیر شکل ہے

تعارف اور تاریخی مادیت پاکستان اس وقت جس بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے وہ دراصل عالمی سرمایہ داری نظام کے استحصال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کی ایک گھمبیر شکل ہے موجودہ بحران کا خاتمہ اب اصلاحات نہیں بلکہ انقلابات سے ممکن ہے۔پاکستان جیسے ملک میں رہنے والے محنت کشوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو نظریاتی طور پر مسلح کریں تاکہ وہ آنے والے حالات کا درست تجزیہ کر کے درست حکمت عملی اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ نظریات کے بغیر سیاسی کارکن کی مثال اس کشتی کی طرح ہے جو بحرے بیکاراہ میں موجوں کے جھونکے کے ساتھ اپنا رخ تبدیل کرتی ہے۔ ایسے کارکن کسی بھی بڑی تحریک میں پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ڈگمگاتے رہتے ہیں۔ لیبر پارٹی پاکستان اور اس کی ہمدرد تنظیموں کے کارکنان کی نظریاتی تربیت کے بغیر پاکستان میں انقلاب اور تبدیلی کا خواب پورا نہیں کیا جاسکتا۔ مزدور جدوجہد اسی مقصد کے حصول کیلئے نظریاتی تعلیمی سلسلہ شروع کر رہا ہے۔

میدانِ عمل میں جدوجہد کرنے والے مزدور، کسان، طالب علم، خواتین اور نوجوان اس نظریاتی تعلیمی سلسلے سے فائدہ اٹھا کر ایک ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکتے ہیں جسے کوئی نہ توڑ سکے۔تمام متحرک ساتھی اس نظریاتی بحث میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ہم میں سے شاید ہی کوئی شخص ہو گا جس نے سوشلزم کا نام نہ سنا ہو لیکن عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ حقیقی سوشلسٹ نظریات سے تو واقف نہیں ہوتے لیکن سوشلزم پر گھناونے الزامات ضرور لگاتے ہیں۔ کوئی اسے سابقہ سوویت یونین کا حوالہ دے کر آمرانہ جابرانہ نظام حکومت بنا کر پیش کرتا ہے جس میں عوام کو کسی قسم کی سیاسی و انفرادی آزادی حاصل نہیں ہوتی اور کوئی اسے بے مذہب لوگوں کا مذہب بنا کر پیش کرتا ہے حالانکہ حقیقی سوشلزم کا ان ساری باتوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے برعکس اکثر لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ سوشلزم سے مراود ایک ایسا نظام ہے جس میں سب برابر ہوتے اور کوئی امیر یا غریب نہیں ہوتا۔ یہ بالکل دو متضاد رائے ہیں۔ آئیے ذرا دیکھیں سوشلزم کیا ہے؟ سوشلزم ایک سماجی سائنس، اقتصادی نظام اور فلسفہ حیات کا نام ہے۔ سوشلزم ایک ایسی اقتصادی سائنس ہے جو پہلے تو یہ بتاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں جو سرمایہ دار طبقہ ہے وہ مزدور طبقہ کا استحصال کس طرح کرتا ہے یا یوں کہئے سوشلزم یہ بات سمجھاتا ہے کہ چند لوگ امیر سے امیر تر اور اکثریت غریب سے غریب تر کیوں ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ اقتصادی سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اگر اکثریت یعنی محنت کش اقتدار اور ذرائع پیداوار یعنی صنعت، زراعت، معدنی ذخائر، قدرتی دولت پر قبضہ کر کے پورے معاشرے کی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کے تحت صنعتی اور زرعی پیداوار حاصل کریں تو نہ صرف معاشرے میں موجود طبقاتی تفریق یعنی امیرغریب کا فرق ختم ہو جائے گا بلکہ غربت بھی ختم ہو گی۔ عوام کی ضرورتیں پوری ہوں گی اور ان کی مانگ یعنی ان کے مطالبات کا خاتمہ ہو گا جن میں روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، صحت کی سہولتیں، ٹرانسپورٹ سب کچھ شامل ہوتا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ سوشلزم مانگ کا خاتمے کرنے والی اقتصادی سائنس کا نام ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ موجودہ اقتصادی نظام یہ سب کچھ کیوں نہیں کر پاتا اور سوشلسٹ اقتصادی نظام یہ سب کچھ کرنے میں کامیاب کیسے ہو جاتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ موجودہ نظام جسے ہم سرمایہ داری نظام کہتے ہیں اس نظام میں ذرائع پیداوار چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ سوشلسٹ ان سرمایہ داروں کو بورژوا طبقہ یا بورژوازی کہتے ہیں۔یہ سرمایہ دار اپنی صنعتوں میں جو مال تیار کرتے ہیں اس مال کو وہ بیچ کر صرف اور صرف منافع کمانا چاہتے ہیں۔

ان کا مقصد عوام کی ضرورتیں پوری کرنا نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ہم لاہور شیخورہ روڈ پر واقع گلاس بنانے والی ایک فیکٹری کے حوالے سے دے سکتے ہیں۔ ٹویوناسک نامی ایک فیکٹری میں ایک عرصہ تک ہوتا تھا کہ جب جگ اور گلاس جب تیار ہو جاوتے تو انہیں دوبارہ بھٹی میں ڈال دیا جاتا کیونکہ اس فیکٹری کے مالک نہیں چاہتے تھے کہ یہ گلاس اور جگ مارکیٹ میں اتنی بڑی تعداد میں جائیں کیونکہ اس طرح قیمت کم ہوجاتی ہے اور ان کے منافع میں کمی آجاتی ہے۔ حالانکہ مارکیٹ میں جگ اور گلاس کی مانگ موجود تھی۔
اب ذرا سوچیں اگر یہی فیکٹری مزدوروں کے کنٹرول میں ہوتی اور ملک میں سوشلسٹ نظام ہوتا تو اس فیکٹری کو چلانے والے مزدور بیٹھ کر پہلے یہ دیکھتے کہ مارکیٹ میں کتنے جگ اور گلاس چاہیں پھر وہ اپنی فیکٹری کی پیداوار کی صلاحیت دیکھتے اور وہ عوام کی ضرورت کے مطابق وہ جگ اور گلاس بنا کر مارکیٹ میں بھیجتے اور یوں وہ نا صرف عوام کی مانگ کا خاتمہ ہوتا بلکہ فیکٹری کے مزدور (جنہیں سوشلسٹ پرولتاریہ کہتے ہیں) کی محنت کا پھل بھی انہیں ملتا۔اس مثال سے ہم سمجھتے ہیں کہ سرمایہ داری یعنی موجودہ نظام میں ذرائع پیداوار چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہیں جو یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ان ذرائع پیداوار سے کتنی پیداوار حاصل کرنی ہے اور ان کے پیش نظر پیداوار کا مقصد صرف اور صرف منافع حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح یہ نظام منافع کا اور اقلیت (یعنی سرماہ دارانہ اقلیت)کانظام ہے جبکہ سوشلسٹ نظام معیشت میں ذرائع پیداوار اجتماعی ملکیت ہوتے ہیں۔ ان ذرائع پیداوار سے کتنی پیداوار حاصل کرنی ہے اس کا فیصلہ مزدوروں کی منتخب کمیٹی کرتی ہے جسے سوشلسٹ سوویت کہتے ہیں۔ سوویت جمہوری انداز میں یہ منصوبہ بندی کرتی ہے کہ معاشرے میں کس چیز کی کتنی مانگ ہے اور اسے کس طرح پورا کرنا ہے۔ اس نظام میں ذرائع پیداوار سے حاصل ہونے والی پیداوار کا مقصد منافع نہیں بلکہ عوام کی ضرورتوں کا خاتمہ کرنا ہوتا ہے چونکہ اس نظام میں اکثریت (یعنی محنت کش طبقہ) ذرایع پیداوار کو پرولتاریہ کی قیادت میں اپنے کنٹرول میں لے کر ضرورتوں اور مانگ کا خاتمہ منافع کے لیے نہیں کرتے۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ سوشلسٹ نظام اکثریت کا نظام ہے جس میں پیداوار کا مقصد منافع

نہیں بلکہ مانگ کا خاتمہ ہوتا ہے۔
مگر اصل بات تو یہ ہے کہ سوشلسٹ اقتصادی نظام جس میں ہم نے ابھی دیکھا کہ اتنی زیادہ خوبیاں ہیں۔ کیا وہ لوگو بھی کیا جاسکتا ہے یہ ہے وہ اہم سوال جو فوری طور پر ذہن میں آتے ہیں۔ سوشلزم اس سوال کا جواب بھی دیتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح ہم یعنی محنت کش، مظلوم اور محکوم مزدور طبقہ یعنی پرولتاریہ کی قیادت میں یہ کام کر سکتے ہیں۔ سوشلزم ہمیں بتاتا ہے کہ جس طرح سائنس کی دنیا میں سائنس کے اپنے اصول ہوتے ہیں اس طرح سماج کے اندر بھی سماج کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ سائنس میں ہم دیکھتے ہیں کہ سائنسدان مادی دنیا کے فارمولے اور قوانین دریافت کرنے کے بعد جب ان پر عملدرآمد کرتے ہیں تو انسان کے لیے آسانیاں اور آسائشیں پیدا کر دیتے۔ اسی طرح سوشلسٹ سماج کے قوانین دریافت کر کے اور ان پر عملدرآمد کر کے سماج کو بدل سکتے ہیں اور اس سماج میں انسان کے لیے آسانیاں اور آسائشیں پیدا کر سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سوشلزم کو ہم سماج کی سائنس اور سوشلسٹوں کو سماجی سائنسدان کہتے ہیں۔ ان سماجی سائنس کو باقاعدہ سائنس بنانے والا پہلا شخص کارل مارکس تھا۔ کارل مارکس نے اپنے دوست اینگلز کی مدد سے سوشلسٹ اقتصادی سائنس اور سماج کو بدلنے کے لیے قوانین کو سب سے پہلے پچھلی صدی کے درمیان میں پیش کیا اور پھر اس صدی کی دوسری دہائی میں روس کے اندر 1917میں وہاں مارکسٹ پارٹی نے (جو اس وقت RSDLP کے نام سے کام کرتی تھی نے لینن کی قیادت میں مزدوروں اور کسانوںکی حمایت سے وہاں پر سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی حکومت کا خاتمہ کر دیا اور دنیا میں پہلی مزدور سوشلسٹ ریاست کی بنیاد رکھ دی اور یہ ثابت کیا کہ مارکس اور اینگلز نے جو سائنسی نظریات پیش کئے وہ خیالی نہیں بلکہ قابل عمل باتیںہیں۔ اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ مارکس سے پہلے بھی ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں، جنہوں نے ایک نئے نظام کی ضرورت پر زدور دیا اور اس کے خدوخال پیش کیے۔ یہ لوگ بھی سوشلسٹ کہلاتے تھے۔ ان میں بابیوف اور رابرٹ اوون اہم نام ہیں۔ مگر مارکس سے پہلے جتنے بھی سوشلسٹ آئے وہ خیالی سوشلسٹ تھے جبکہ مارکس سائنسی سوشلسٹ تھا۔ ہم جس سوشلزم کا اب تک ذکر کررہے ہیں وہ درحقیقت سائنسی سوشلزم ہے۔ خیالی اور سائنسی سوشلزم میں فرق یہ ہے کہ سائنسی سوشلزم کی بنیاد حقائق پر ہے جسے کوئی بھی دیکھ اور پرکھ سکتا ہے اور جنہیں ثابت کیا جاسکتا ہے جبکہ خیالی سوشلسٹ اپنے ذہن اور دماغ سے باہر نہیں نکلتے اور اوپری سطح سے معاشرے کو سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل یہ تھوڑی سی طویل بحث ہے ہم مارکسی سوشلزم کو سائنسی سوشلزم کیوں کہتے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان تین ستونوںکا مطالعہ کریں جن کے سارے سوشلزم یعنی مارکسزم کی عمارت کھڑی ہے اور وہ تین ستون ہیں۔ (1) تاریخ مادیت (2) جدلیاتی مادیت (3) مارکسی معیشت تاریخی مادیت موجودہ قسط میں ہم سوشلزم کے پہلے ستون یعنی تاریخی مادیت کے متعلق بات کریں گے۔آئیے دیکھتے ہیں تاریخی مادیت ہمیں کیا بتاتی ہے۔

جنگل اور غاروں میں زندگی گزارنے سے لے کر موجودہ کمپیوٹر کے عہد تک انسان نے تاریخ کا ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔ غاروں کی زندگی سے موجودہ عہد تک انسان نے ترقی کی ہے بے شمار منزلیں طے کی ہیں، تاریخ کے اس ارتقاکے بارے میں ہمیں دو نظریات ملتے ہیں، ایک وہ نظریہ جو مارکس نے دیا جسے مادی تاریخ کہتے ہیں اور ایک وہ نظریہ جو سرمایہ داروں نے ہمیں دیا اور چونکہ موجودہ سماج سرمایہ دارانہ سماج ہے لہذا ہمیں عام طور پر مادی تاریخ سے استفادہ کرنے کا موقع نہیں ملتا اور تاریخ کو سرمایہ داروں کے نقطہ نظر سے پڑھایا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تاریخ کا دھارا چند بڑے لیڈر ہی بدل سکتے ہیں۔ یہ عام بندے کے بس کی بات نہیں جبکہ مارکس نے یہ نقطہ نظر پیش کیا کہ تاریخ بدلنے کا فریضہ طبقہ انجام دیتا ہے۔ اس کی سچائی کو ہم پرکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تاریخ کا ارتقاء تاریخ کے لفظی معنی تو وقت کی نشان دہی کے ہیں لیکن اصطلاحا اس کا مطلب وقت بتا کر متعین کرنا ہے۔ اس لحاظ سے ماضی تاریخ کا ہے اور تاریخ مختلف ادوار میں ہونے والے واقعات کی کہانی بیان کرتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ زمین کی عمر تقریبا 5ارب اور دھرتی ماتا کے سینے پر نسل انسانی کا ظہور ماہ سال پہلے کی بات ہے۔ ہمارے آبا اجداد ارتقائی عمل کے ذریعے موجودہ شکل و صورت میں بنے، بندروں اور لنگوروںکی طرح درختوں پر جھولنے سے لے کر کمپیوٹر اور روبوٹ کے موجودہ دور تک ہم نے فطرت کی تسخیر میں ان گنت منزلیں طے کی ہیں۔ وقت کی ڈوری سے بندھی ہوئی یہ لمحہ بہ لمحہ تبدیلی ترقی ارتقاکہلاتی ہے چنانچہ جب ہم تاریخ کے ارتقاکا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر وقت کی وسیع کینوس پر پھیلی ہوئی وہ تمام تصویریں ہوتی ہیں جسے فطرت کے رنگوں سے انسانی دست محنت نے مختلف ادوار میں تخلیق کیا۔ انسانی معاشرے کے مذکورہ بالا ارتقاکی تہہ میں مادی تبدیلیاں کارفرما ہیں۔ اسی لیے تاریخی ارتقاکو تاریخی مادیت کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ تاریخ جو ہمیں پڑھائی جاتی ہے سکولوں، کالجوںاور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ کا ناقدانہ جائزہ لیں تو ان میں بادشاہوں، جرنیلوں، منصب داروں، امرائ، وابستگان، دربار مصاحین اور حکمران کی ولادت، وفات، ثقافت، جنگوں، فتحوں، شکستوں اور پھر سیلاب، زلزلہ، طوفان وبائی امراض اور عمارت سازی کے واقعات کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ حادثات و واقعات کا لامتناہی سلسلہ ہے جس کی نہ تو کوئی سائنسی توجیہہ کی جاسکتی ہے اور نہ ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ یہ تاریخ جنگ و جدل کے پہلو کو نمایاں کر کے پیش کرتی ہے جس نے جتنا زیادہ انسانی خون بہایا وہ اتنا ہی بڑا سورما ٹھہرا۔ یہ حکمران طبقات کی ہوس ملک گیری کے لیے لڑی جانے والی جنگوں کو قوم اور ملک کی جنگیں قرار دیتے ہیں اور یوں قوموں اور ملکوں کے درمیان نفرتوں، عداوتوں، دشمنیوں اور تعصبات کو زندہ رکھتے ہیں۔ آج بھی تاریخ کے صفحات میں انگلستان اور فرانس کی جنگیں، ترکوں اور بلقانی ریاستوں کی جنگیں، صلیبی جنگیں، یورپ اور نوآبادیاتی ممالک کی جنگیں محفوظ ہیں۔ تاریخ کا یہ سرمایہ مختلف ملکوں میں بسنے والے غریب عوام کو خواہ مخواہ ایک دوسرے کا دشمن بنارکھتا ہے۔ ہر ملک اور قوم کے مورخوں نے تاریخ لکھتے وقت اپنی قوم ملک کی شان و شوکت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ تاریخ کا یہ پہلو عوام کو شاندار ماضی پر فخر کرنے کا جواز فراہم کرتا ہے جس کی بنیاد پر بعض لوگ احیاکی تحریکیں شروع کر دیتے ہیں۔یہ لوگ حال کی جنگ کو ماضی کے زنگ آلودہ ہتھیاروں سے لڑنا چاہتے ہیں اور تاریخ ہی وہ میوزیم ہے جہاں زنگ آلودہ ہتھیاروں اور فرسودہ نظریات کو سنبھال کر رکھا جاتا ہے۔ روایتی تاریخ سے حکمران طبقات ایک اور اہم مقصد بھی حاصل کرتے ہیں چونکہ اس تاریخ میں اکثریت یعنی محنت کش عوام کا کہیں ذکر نہیں ہوتا اس لیے عوام اپنی قوت و طاقت کے احساس سے ناآشنا رہتے ہیں ان میں خود اعتمادی نہیں آئی۔ قوت و طاقت کے احساس سے عاری عوام حکمران طبقے کے لیے چیلنج نہیں بن سکتے اور یہی بات حکمران طبقہ چاہتا ہے۔ یہ تاریخ افراد کے گرد گھومتی ہے لیکن بڑی ہی چالاکی اور چابکدستی سے افراد کی تاریخ کو پورے معاشرے کی تاریخ بنادیا جاتا ہے۔ مسلمان حکمران خاندانوں کی تاریخ کو مسلم معاشرے کی تاریخ کہہ کر پڑھایا جاتا ہے حالانکہ جب بادشاہ ظل سبحانی کی سواری آتی تھی تو اس معاشرے کے کئی افراد صرف اس لیے قدموں تلے کچل کر مر جایا کرتے تھے کہ وہ ان پیسوں کو حاصل کرنا چاہتے تھے جو بادشاہ رعایا پر نچھاور کیا کرتے تھے۔ یہ تاریخ تاج محل کو شاہجہاں کا کارنامہ بتاتی ہے۔ حالانکہ اس نے تاج محل کی تعمیر میں ایک اینٹ بھی نہیں لگائی۔ ان لاکھوں دستکاروں، مزدوروں اور کاریگروں پر تاریخ کے دروازے بند ہیں جنہوں نے اپنی ہنر مندی اور مہارت سے تاج محل، اہرام، مصر اور دوسرے عجائبات علم کو تخلیق کیا۔ اس تاریخ میں معاشرے کی اکثریت محض تاوبع محمل بے ہودہ اور اقلیت کی آلہ کار نظر آتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یک طرفہ اور گمراہ کن بھی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تاریخ واقعی کوڑے کا ایسا ڈھیر ہے جس میں کوئی کارآمد چیز نہیں ہے یا یہ ممکن ہے کہ حالات و واقعات کے اس انبار کی چھان بین کر کے ان بنیادی اصولوں کا پتہ لیا جائے جو ان حالات و واقعات کو عمل میں لانے کا باعث بنے۔ تاریخ کی سائنس انسانی سماج کا ارتقاجن اصولوں اور قوانین کے تحت ہوتا ہے انہیں تاریخ کی سائنس کہتے ہیں۔ تاریخی مادیت بھی انہیں اصولوں اور قوانین کے مطالعے کا نام ہے۔ ان قوانین کی دریافت انسانی تاریخ کے گہرے مطالعے اور تحقیق کے بعد ممکن ہو سکی۔ طبیعات، حیاتیات، کیمیا اور دوسری سائنسوں کے قوانین کی طرح انسانی تاریخ کے قوانین بھی حقیقی ہیں۔ اہم تاریخی تبدیلیاں ہر دور اور ہر جگہ ان قوانین کی پابند رہی ہیں۔ یہ اصول و قوانین نوع انسانی کا انمول سرمایہ ہیں۔ انہیں انسانی سماج کی بہتری کے لیے اسی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے جس طرح دوسری سائنسوں کے قوانین نت نئی ایجادات کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی مدد سے ہم نہ صرف یہ بتاسکتے ہیں کہ تاریخ کے مخصوص دور میں مخصوص قسم کے واقعات ہی کیوں رونما ہوئے بلکہ یہ بھی کہ آنے والے کل میں کیا ہو گا اور کس طرح ناپسندیدہ اور آج واقعات کو قوع پذیر پر ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ طبقے اور طبقاتی کشمکش ایسے افراد جو ایک ہی طریقے سے روزی کماتے ہیں۔

ایک ہی طبقے کے افراد کہلاتے ہیں مثلا سرمایہ داری نظام میں تمام سرمایہ داروں کا روزی کمانے کا طریقہ یکساں ہے۔ وہ ذرائع پیداوار کے مالک ہوتے ہیں یعنی فیکٹریاں، بینک اور کمپنیاں وغیرہ ان کے اپنے قبضے میں ہوتی ہیں جہاں مزدور، ملازم کام کرتے ہیں اور مالک سے طے شدہ معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ تمام سرمایہ داروں کا طبقہ ایک ہی ہوا کیونکہ ذرائع پیداوار ملکیت کی وجہ سے ان کا طریقہ یکساں ہے اسی طرح تمام مزدور ملازم وغیرہ ایک ہی طبقے کے افراد ہوتے ہیں کیونکہ سبھی افراد اپنی محنت بیچ کر روزی کماتے ہیں اول الذکر کہ بورژوا طبقہ جبکہ دوسرے کو پرولتاری طبقہ یا پرولتاریہ کہا جاتا ہے۔ تمام سرمایہ داروں کا طبقاتی مفاد ایک ہی ہوتا ہے کیونکہ سبھی اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ کم سے کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ پیداوار ملے۔ کم سے کم مزدور ملازم رکھے جائیں اور یہ زیادہ سے زیادہ کام کریں۔ انہیں کم سے کم تنخوادہ دی جائے تاکہ منافع کی شرح زیادہ سے زیادہ ہو۔ دوسری طرف پرولتاریہ اس کوشش میں ہوتا ہے کہ تنخواہ میں اضافہ ہو، بونس زیادہ ملے چھٹیوں کی تعداد بڑھے، اوقات کار میں کمی ہو۔ تعلیم، صحت اور رہائش وغیرہ کی سہولتیں ہوں۔ غور کریں تو یہ تمام خواہشات سرمایہ دار کی خواہشات کے برعکس ہیں۔ اسے ہم یوں کہتے ہیں کہ دونوں طبقات کا مفاد الگ الگ ہے۔ طبقاتی مفادات میں تضاد کی بدولت ان کے درمیان طبقاتی کشمکش جنم لیتی ہے جو اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک خود طبقے ختم نہ ہو جائیں۔ معاشرے میں طبقاتی کشمکش کا اظہار ہر سطح پر ہوتا رہتا ہے جو پھیل کر بڑی بڑی لڑائیوں اور جنگوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ طبقوں کے درمیان یہ تنا اور کھینچا تانی تاریخ کے صفحات پر بغاوتوں، انقلاب اور آزادی کی تحریکوں کے نام سے درج ہوتا ہے۔ طبقاتی کشمکش کا یہ اصول قدیم کمیونسٹ سماج کو چھوڑ کر انسانی تاریخ کے ہر دور میں کارفرما نظر آتا ہے۔ سرمایہ داری نظام سے پہلے جاگیرداری نظام میں یہ کشمکش جاگیردار اور مزارعے کے درمیان تھی۔ دور غلامی میں یہ تضاد آقا اور غلام کے مابین تھا۔ قصہ کوتاہ یہ کہ اس تضاد نے ان گنت جنگوں، بغاوتوں اور انقلابات کو جنم دیا ہے چنانچہ ہر تاریخی واقعات کو اس کشمکش کی تفصیل میں جائے بغیر حالات و واقعات کے گورکھ دھندے کو سلجھایا نہیں جاسکتا۔ سماج کی مادی زندگی اور تاریخ ہم نے دیکھا کہ طبقاتی کشمکش روپ بدل بدل کر تاریخ کا حصہ بنتی رہی، سوال یہ ہے کہ آقا اور غلام کس طرح جاگیردار اور مزارعے بن گئے یا پھر جاگیردار اور مزارعے کیسے سرمایہ دار اور مزدور کی شکل میں آگئے۔ اس بنیادی سوال کا جواب ہمیں سماج کی مادی زندگی کے تجزئیے سے حاصل ہوتا ہے۔ روایتی مورخ اس ضمن میں فطرت اور آبادی کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں تو آیئے سب سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ ان کے دعوی میں کتنا وزن ہے۔ یہ صحیح ہے کہ سماج کی مادی زندگی میں سب سے پہلا نمبر فطرت کا ہے۔ وہ جغرافیائی ماحول جس میں سماج نشوونما پارہا ہے سماج کی تشکیل اور ہیئت ترکیبی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ جغرافیائی ماحول کی تبدیلی سماج کی اجتماعی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ جغرافیائی تبدیلیاں کا عمل بہت سست روی سے ہوتا جبکہ تاریخ کا علم بتاتا ہے کہ یورپ میں صرف 3ہزار سال کے عرصے میں 3مختلف سماجی نظام کامیابی سے منسوخ کر دیئے گئے۔ جغرافیائی ماحول میں تو قابل ذکر تبدیلیوں کے لیے لاکھوں سال کا عرصہ درکار ہے۔ سماج کی مادی زندگی کا دوسرا اہم پہلو سماج کی مجموعی آبادی ہے۔ آبادی کا کم یا زیادہ ہونا مادی حالات کے تعین میں کردار ادا کر سکتا ہے لیکن یہ چیز بھی مشاہدے کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی کیونکہ اگر گنجان آبادی ترقی کا عنصر بن سکتی ہے تو چین، بنگلہ دیش اور بھارت جیسے ممالک سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتے۔ تو آخر وہ کون سی قوت ہے جو سماج کو ایک نظام میں دھکیلنے کا سبب بنتی ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ انسان کی سب سے بڑی خواہش زندہ رہنا ہے اس بنیادی جبلی تقاضے کی تکمیل کے لیے اسے مادی وسائل مثلا غذا، کپڑا، جوتا، مکان اور ایندھن وغیرہ کی ضرورت ہے۔ یہ سب چیزیں فطرت میں تیار شدہ حالت میں نہیں ملتیں بلکہ فطرت سے خام مال لے کر انسان اپنے ہاتھوں سے بناتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ساری چیزیں تیار کرنے کے لیے انسانوں کے پاس آلات پیداوار اور انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔ عوام جو اپنی محنت، تجربے اور مہارت سے آلات پیداوار کو استعمال کر کے مادی وسائل پیدا کرتے ہیں، مجموعی طور پر سماج کی پیداواری قوتیں کہلاتے ہیں۔ پیداواری قوتیں ایک طرف تو انسان اور فطرت کے تعلق کو ظاہر کرتی ہیں اور دوسری طرف پیداواری عمل میں انسانوں کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتی ہیں۔ مارکس کا قول پیداواری عمل کے دوران انسان نہ صرف فطرت پر بلکہ ایک دوسرے پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔ وہ امداد باہمی اور مشاغل کے باہمی تبادلے سے اشیاپیدا کرتے ہیں۔ دولت پیدا کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مخصوص تعلقات اور روابط قائم کرتے ہیں اپنے سماجی تعلقات اور روابط کے اندر فطرت پر ان کا عمل ہوتا ہے۔ یعنی دولت پیدا ہوتی ہے۔ ہم اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کر رہے تھے کہ آخر وہ کون سی قوت ہے جو سماج کو ایک نظام سے دوسرے میں دھکیلنے کا سبب بنتی ہے۔ اس ضمن میں ہم نے سماج کے مادی حالات کا ذکر کیا تھا۔ مادی حالات میں سر فہرست جغرافیائی ماحول اور آبادی کا زیادہ یا کم ہونا آتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ نہ تو جغرافیائی ماحول اور نہ ہی آبادی کی کمی بیشی فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے پھر فیصلہ کن عنصر کی تلاش میں چلاتے چلتے ہم پیداواری قوتوں تک پہنچے تھے اور پیداواری قوتوں سے ہماری مراد آلات پیداوار اور وہ عوامل تھے جو ان آلات کو اپنی محنت اور مہارت سے استعمال کر کے وسائل زندگی پیدا کرتے ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا تھا کہ وسائل زندگی پیدا کرنے میں انسان نہ صرف فطرت بلکہ ایک دوسرے پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے پر اثر اندازی کو ہم تعلقاتِ پیداوار کہتے ہیں۔ تعلقات پیداوار انسان باہمی تعاون اور میل جول کے ذریعے چیزیں بناتے ہیں۔ کوئی بھی چیز انفرادی طور پر نہیں کی جاسکتی بلکہ تقریبا ہر مرحلے پر دوسرے افراد کی مدد اور تعاون درکار ہوتا ہے اور تعاون کیسا ہو گا یا دوسرے لفظوں میں پیداوار کی شکل کیا ہو گی اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ چیزیں کس طریقے سے پیدا کی جارہی ہیں اور کون سے آلات چیزوں کی تیاری میں استعمال ہورہے ہیں۔ یعنی پیداواری قوتوں کی حالت اور نوعیت کیا ہو گی کیونکہ پیداواری قوتیں ہی تعلقات پیداوار کرتی ہیں جس طرح کی پیداواری قوتیں ہوں گی۔ تعلقات پیداوار کا ویسا ہی ہونا لازم ہے۔ تاریخ میں آج تک پانچ قسم کے تعلقات پیداوار سامنے آئے ہیں۔

-1 قدیم پنچائتی یا قدیم کمیونسٹ -2 آقا۔ غلام -3 جاگیردار، مزارع -4 سرمایہ دار۔ مزدور -5 اشتراکی۔ سوشلسٹ غورکریں تو یہ بات واضح ہو جانے گی کہ پوری انقلابی تاریخ تعلقات پیداوار کی ہی تشریح و تفسیر ہے اس لیے کوئی بھی تاریخی واقعہ اس وقت تک نہیں سمجھ آسکتا جب تک اس کا رشتہ تعلقات پیداوار سے جوڑ نہ لیا جائے اور یہ تو ہم جان ہی چکے ہیں کہ ان تعلقات کو پیداواری قوتیں کنٹرول کرتی ہیں۔ پیداواری قوتیں کبھی لمبے عرصے کے لیے ایک ہی نقطے پر نہیں ٹھہرتیں بلکہ تبدیلی اور نشوونما کے عمل سے گزرتی رہتی ہیں۔ آئے دن کی نت نئی ایجادات اور تکنیکی پیش رفت پیداواری قوتوں کی حالت کی نوعیت کو بدلنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جب پیداواری قوتیں بدلتی ہیں تو لامحالہ آلات پیداوار کو بھی نئے سرے سے ترتیب دینا پڑتا کیونکہ بدلی ہوئی پیداواری قوتوں کے تقاضے ہوتے ہیں کہ ذرائع پیداوار کی مخصوص نوعیت و طریقہ عمل میں جتے ہوئے لوگوں کو نئی صورت کے سانچے میں ڈھلنے پر مجبور کر دیا جائے۔ تعلقات پیداوار کی نشوونما پیداواری قوتوں کی نشوونما پر منحصر ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ تعلقات پیداواری قوتوں پر اثر انداز ہی نہ ہوتے ہوں سچ تو یہ ہے کہ تعلقات پیداوار یا تو پیداری قوتوں کی نشوونما کو تیز کرتے ہیں یا ان میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ اگر پیداواری قوتیں تو ترقی کر جائیں مگر تعلقات پرانی حالت پر ہی ٹھہرے رہیں تو سماج میں بدامنی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ انتشار اور بدامنی اس حد تک موجود رہتی ہے جب تک تعلقات پیداوار پیداواری قوتوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہو جائیں۔ تاریخ میں ہمیں جتنی بھی جنگیں، بغاوتیں وغیرہ نظر آتی ہیں وہ دراصل تعلقات کو ہی نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوششوں کے عمل کااظہار ہیں۔ سرمایہ داری نظام میں بار بار آنے والے بحران کے پیچھے تعلقات پیداوار کی یہی ناموزینت کار فرما ہوتی ہے۔ ذرائع پیداوار کی انفرادی ملکیت اور پیداوار کی نوعیت میں کھلی ٹکر ہے۔ پیداوای قوتوں کی راہ میں تعلقات پیداوار رکاوٹ بن کر کھڑے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں اس طرح سے تبدیلی کیا جائے کہ یہ پیداواری قوتوں کی ترقی کی راہ میں مزاحم نہ ہوں بلکہ ان کی نشوونما کو مزید تیز کریں، یہیں سے ہمیں سماجی انقلاب کی معاشی بنیادیں فراہم ہوتی ہیں جس کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ موجودہ تعلقات پیداوات کو نیست و نابود کر کے ایسے تعلقات پیداوار قائم کیے جائیں جو پیداواری قوتوں کی حالت و نوعیت سے مطابقت رکھتے ہوں۔ تاریخ کے ادوار سرمایہ دار مورخوں نے انسانی تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یورپی تاریخ نگار اسے تین حصوں میں بانٹتے ہیں یعنی قدیم دور، وسطی دور اور جدید دور، جبکہ برصغیر کی تاریخ کو مورخین نے مذہبی اختلافات کی بنیاد پر رقم کیا ہے یعنی ہندوں کی تاریخ، مسلمانوں کی تاریخ اور انگریزوں کی تاریخ۔ تاریخ انسانی کی یہ تقسیم غیر سائنسی اور تعصب پر مبنی ہونے کیساتھ ساتھ گمراہ کن بھی ہے کیونکہ اس نظر سے تاریخ کو پرکھا جائے تو وہ واقعات کا ایک انبار نظر آئے گا جس سے لاکھ کوشش کے باوجود کوئی اصول کوئی نتیجہ یا ارتقااور تبدیلی کا کوئی حتمی سبب اخذ نہیں کیا جاسکتا، تاریخ کا یہ نقطہ نظر ان غیر حقیقی اور فرسودہ نظریات کو پروان چڑھانے اور فروغ دیئے رکھنے کا باعث بنتا ہے جو معاشرے کی سائنسی نہج پر ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور جن کے مطابق تاریخ کے رونما ہونے والے واقعات کسی مافوق الفطرت ہستی کے اشارہ ابرو کے محتاج ہیں۔ آسمانوں کی وسعتوں میں گم یہ ہستی ہر حادثے ہر واقع اور ہر تبدیلی کو روبہ عمل لارہی ہے اور تاریخ محض ان خدائی منصوبوں کی تکمیل کا دوسرا نام ہے۔ اس کے برعکس اگر تاریخ کا سائنسی تجزیہ کیا جائے تو بظاہر الگ تھلگ اور ایک دوسرے سے لا تعلق نظر آنے والے حالات و واقعات باطن میں ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں نظر آتے ہیں اور یہ زنجیر ہے پیداواری قوتوں اور تعلقات پیداوار کی مخصوص حالت و نوعیت کی زنجیر۔ سچ تو یہ ہے کہ اس ان دیکھی زنجیر کے فہم و ادراک کے بغیر اور اس کی تشریح و تفسیر کئے بغیر کسی بھی تاریخی واقعہ کی حقیقی علت تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ یہ صرف اور صرف سائنسی اپروچ ہی ہے جو حادثات و واقعات کی پیچیدہ گتھیاں سلجھا دیتی ہے اور تمام تاریخی واقعات کا باہمی رابطہ و تعلق واضح ہو کر سامنے آجاتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ حقیقت کے انکشاف سے جہالت و گمراہی کی آلائشیں دور ہو جاتی ہیں۔ بے یقینی کے سائے مٹ جاتے ہیں اور ابہام کی دھند چھٹ جاتی ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جہاں تاریخی واقعات کی گرہیں کھلتی چلی جاتی ہیں ان کی علت اور سبب متعین کرنے کے لیے کسی ایشور، کسی اوتار، کسی بھگوان یا کسی رام کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانی شعور کو گمراہ کرنے والے تمام فرسودہ اور حقیقی نظریات اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ سائنسی اپروچ پوری انسانی تاریخ کو تعلقات پیداوار کی طرح مندرجہ ذیل پانچ ادوار میں تقسیم کرتی ہے۔ -1 قدیم پنچائتی دور -2 دورِ غلامی -3 دور جاگیردار -4 دور سرمایہ داری -5 اشتراکی دور قدیم پنچائتی نظام انسانی تہذیب کے آغاز کی نشانی ہے۔ اس وقت انسانوں کو اپنی بقاکے لیے مل جل کر کام کرنا پڑتا تھا۔ جنگلی پھل جمع کرنے، مچھلیاں پکڑنے، شکار کرنے اور رہائش گاہیں تعمیر کرنے کے لیے وہ ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کے محتاج تھے۔اگر وہ مشترکہ طور پر کام نہ کرتے تو بھوک سے مر جاتے یا پھر فطرت کی دیگر قوتیں جن مین جنگلی درندے اور ہمسایہ قبائل بھی شامل تھے انہیں چیر پھاڑ کر کھا جاتے۔ اپنی بقاکے لیے کی جانے والی اس مشترکہ محنت نے ذرائع پیداوار اور خود پیداواری کی مشترکہ ملکیت کو جنم دیا۔ اس دور میں ہمیں ذرائع پیداوار کی انفرادی ملکیت کا کوئی تصورنہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سماج میں نہ تو طبقے ہیں اور نہ ہی معاشی لوٹ مار۔ اسی خصوصیت کی بناپر اس سماج کو قدیم کمیونسٹ سماج بھی کہا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ آلات پیداوار کی ترقی نے قدیم کمیونسٹ سماج کے اندر ایک خاموش انقلاب کو جنم دیا۔ پتھر کے آالات کی جگہ لوہے کے آلات استعمال ہونے لگے۔ جنگلی جانوروں کے شکار کے ساتھ ساتھ گلہ بانی، جوتنے، بونے اور انفرادی دست کاری کا بھی رواج شروع ہو گیا۔ عمل پیداواور میں کام کی تقسیم کا دور آیا اور یہ امکان پیدا ہوا کہ مختلف افراد کے درمیان مصنوعات کا تبادلہ ہو۔ چند لوگوں کے ہاتھ میں دولت جمع ہو۔ ذرائع پیداوار چند لوگوں کے قبضے میں آجائیں اور یہ چند لوگ اکثریت کو ذاتی ملکیت کے ذور پر تابع کر کے اپنا غلام بنالیں۔ یہ ہے دور غلامی جس سے سماج کے تمام ارکان کی مشترکہ اور آزاد محنت کی بجائے غلاموں کی جبری محنت کا رواج ہوا۔ محنت نہ کرنے والے مگر ذرائع پیداواور کے مالک مٹھی بھر لوگ غلاموں کے بھی مالک ہیں۔ وہ انہیں خرید سکتے ہیں۔ بیچ سکتے ہیں۔ قتل کر سکتے ہیں گویا وہ غلام کوئی جانور ہیں۔ مختصر یہ کہ آقا اور غلام کی یہ کہانی لوٹنے والے اور لٹے جانے والے طبقوں کی شدید طبقاتی کشمکش کی کہانی ہے۔ عہد جاگیرداری میں جاگیردار ذرائع پیداوار کا مالک ہوتا ہے مگر ان غلاموں کا بھی پورے طور پر مالک ہوتا جو پیداواری عمل میں جتے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ انہیں قتل نہیں کر سکتا اس لیے نہیں کہ جاگیردار کو کسی نے اخلاقی قدروں کا درس دے دیا ہے بلکہ اسی لیے کہ اب روایتی حلام سے کام نہیں چل سکتا۔ ذرائع پیداوار کی نوعیت ایسی ہو گئی ہے کہ دلچسپی کے بغیر پیداواری عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ لوہاڈھالنے اور اس سے مختلف اوزار بنانے کے فن میں ترقی زراعت، باغبانی اور دودھ ہی کی پیداوار میں وسعت انفرادی دست کاری کے ساتھ چھوٹے چھوٹے کارخانوں کا بھی وجود میں آجانا۔ یہ نشوونما اس بات کا تقاضا کرتی تھی کہ مزدور اپنے کام میں دلچسپی ظاہر کریں۔ روایتی غلام تو مجبور اور بے گھر تھا۔ اس کام سے متعلق دلچسپی نہ تھی اس کے مقابلے میں رعایتی نظام (مزارع/ہاری) جاگیرداری لئے زیادہ موزوں تھا کیونکہ اس کے پاس اپنے مویشی اور کاشت کاری کے اوزار ہوتے تھے۔ اسی وجہ سے کسی حد تک اپنے کام سے دلچسپی بھی تھی۔ یہ دلچسپی زمین کاشت کرنے اور اپنی فصل کے ایک حصہ کو بطور لگان جاگیردار کے حوالے کرنے کے لیے تھی۔ عہد جاگیرداری میں معیشت زرعی پیداوار کے گرد گھومتی تھی۔ مزارعے کھیتی باڑی کے ذریعے نہ صرف اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے بلکہ محنت کا بہت بڑا حصہ جاگیردار وڈیرے یا مختلف واجبات اور لگانوں کی صورت میں ادا ہوتا تھا۔ یہ لوگ قانونا زمین سے بندھے ہوتے تھے۔ کھیتی باڑی کے علاوہ کوئی دوسرا پیشہ اختیار کرنے اور دوسری جگہ جا کر آزاد ہونے کی مطلق اجازت نہ تھی۔ اپنی زرعی پیداوار کا نصف سے تین چوتھائی حصہ ریاست کے نمائندوں، نوابوں، جاگیرداروں اور ان کے حوالے کرنا پڑتا تھا۔ مفت بیگار اور جبری محصولات اور نذرانے اس کے علاوہ تھے اس سماج میں روز مرہ استعمال کی اشیالوگ پیدا کرتے تھے۔ سکے کا رواج بہت کم تھا۔ اناج، اور استعمال کی تمام اشیامل جاتی تھیں جو اپنے میں پیدا نہیں ہوتی تھیں۔ جاگیرداروں، نوابوں وغیرہ کو اپنے اپنے علاقے میں ہر قسم کے عدالتی اختیارات حاصل تھے۔ انہیں مقدموں کا فیصلہ کرنے، مجرموں کو جرمانہ، قید اور موت کی سزا دینے کا حق تھا۔ شہروں میں مزارعوں کی بجائے ہنر مندوں و فنکاروں کی زیادہ اکثریت تھی۔ لوہار، موچی، درزی، حجام، معمار، رنگریز، ظروف ساز، سنگ تراش اور ایسے ہی بیسیوں پیشے رائج تھے۔ا ن دستکاروں کے آلات، اوزار وغیرہ ان کی ذاتی ملکیت ہوتے تھے البتہ ان کی الگ الگ انجمنیں یا گلڈیں (برادریاں) تھیں جن کے قانون اور ضابطوں کی پابندی کرنی پڑتی تھی۔ نظام سرمایہ داوری عہد جاگیرداری کے بطن سے سرمایہ داری کا ظہور ہوا۔ پیداواری طریقوں کی تبدیلی اور ترقی نے نئے تقاضوں کو جنم دیا اور ان تقاضوں یا ضرورتوں کی جیسے تکمیل ہوتی گئی۔ سرمایہ داری نظام جڑ پکڑتا گیا۔ کاشتکار، مزارع یا ہاری اپنا فاصل اناج اور دستکار اپنی مصنوعات اشیائے ضرورت خریدنے کے لیے بازار میں فروخت کرتا تھا۔ اس کے پیش نظر ضروریات زندگی کا حصول ہوتا تھا اور بس!لیکن جب اور جہاں بازار کا رخ ضروریاتِ زندگی کے لیے نہیں بلکہ منافع کے حصول کے لیے کیا جانے لگا وہیں ہم کہتے ہیں کہ اب یہ نظام سرمایہ داری ہے۔ کارل مارکس کے بقول سرمایہ داری نظام کا بیچ تو چودہویں اور پندرہویں صدی میں ہی پھوٹنے لگا تھا مگر اس نظام کی کونپلیں سولہویں صدی میں نکلیں۔ پندرہویں صدی تک برطانیہ میں چاکری کا نظام ختم ہو چکا تھا۔ چھوٹے کاشتکار اور کھیت مزدور تھے جو اپنے فاضل وقت میں نوابوں کی زمینوں پر کام کرتے تھے، ان دونوں قسم کے کاشتکاروں کو شاملات یعنی گاں کی مشترکہ زمین پر مساوی حق تھا، شاملات کے علاوہ ہر جگہ ریاستی زمینیں بھی تھیں مگر بیلجیم میں اونی صنعت کو فروغ ہوا اور اون کی مانگ بڑھی تو برطانیہ کی منڈیوں میں بھی اون کا دام چڑھ گیا، نوابوں اور بڑے زمینداروں کے لیے روپیہ کمانے کا یہ سنہری موقع تھا۔ انہوں نے شاملات اور ریاستی زمینوں پر قبضہ کر کے بھیڑوں کی افزائش شروع کر دی۔ یوں اون کی برآمد سے نہ صرف سرمائے کا ارتکاز ہوا بلکہ ہزاروںبے دخل شدہ کاشتکار بھی پرولتاریہ میں تبدیل ہو گئے۔ ان کے پاس اپنی قوت محنت کے سوا بیچنے کے لیے کچھ باقی نہ بچا، لہذا انہوں نے مجبورا لندن، گلاسکو اور دوسرے شہروں کا رخ کیا۔ بازار ان محنت کشوں سے بھر گئے اور صنعت کار انہیں کم سے کم اجرت پر ملازم رکھنے لگے۔ مینوفیکچرنگ دور جب رفتہ رفتہ مصنوعات کی مانگ بڑھنے لگی تو کاروباری طبقے نے ایک ہی پیشے کے بہت سے کاریگروں کو ایک ہی جگہ اکٹھا کر کے ان سے کام لینا شروع کر دیا۔ یہ جگہ کارخانہ کہلائی۔ یہ کارخانہ، یہاں استعمال ہونے والے آلات و اوزار اور خام مال سب اس کی ذاتی ملکیت تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تیار شدہ مال بھی اس کی ذاتی ملکیت بن گیا۔ کاریگر جو پہلے آزاد ہنر مند تھے۔ کاروباری طبقے کے اجرتی مزدور ہو گئے۔ ایک ہی جگہ بہت سے کاریگروں کے کام کرنے سے تقسیم کار ممکن ہوئی جس سے پیداواور کی فی کس فی گھنٹہ مقدار بڑھ گئی اور سرمایہ کے منافع میں اسی نسبت سے اضافہ ہو گیا یہ سرمایہ داری کا پہلا دور تھا جسے مینو فیکچرنگ دور کہتے ہیں۔ فیوڈل دور کے پیداواری عمل اور مینوفیکچرنگ کے پیداواری عمل میں بنیادی فرق یہ ہے کہ یہاں کاروباری طبقہ مال اپنے ذاتی استعمال کے لیے تیار نہیں کرواتا تھا اور نہ ہی مال کو بازار میں اس غرض سے بیچتا تھا کہ اپنی ذاتی اشیائے ضرورت خریدے بلکہ اس کا واحد مقصد منافع کا حصول یا دوسرے لفظوں میں اپنے سرمائے میں اضافہ کرنا ہوتا تھا۔ اشیاکی بجائے سرمایہ پیداوار۔۔۔زائد سرمایہ ہو گیا۔ یہاں کلیسا کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ یہ فیوڈم ازل کا دوسرا بڑا اہم ستون تھا۔یہ یورپ کی نہایت دولت مند سیاسی طاقت تھی۔ اٹلی کے علاوہ دوسرے ملکوں میں بھی لاکھوں ایکڑ زمین اس کے قبضے میں تھی۔ جس پر اس کو کوئی لگان یا محصول ادا نہیں کرنا پڑتا تھا اور کلیسا کے کاشتکار پادریوں کے غلام تصور کئے جاتے تھے۔ مزید برآں نوابوں کی رعایا کو بھی آمدنی کا دسواں حصہ کلیسا کو ادا کرنا پڑتا تھا کلیسا کے پادری ہر قصبے اور شہر میں پھیلے ہوئے تھے۔ جائیداد کی نگرانی کے علاوہ لوگوں کے ذہنوں پر بھی انہی کی حکمرانی تھی کیونکہ پادریوں کے سوا کسی کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا۔ رومن کلیسا ان پڑھ نوابوں سے بھی زیادہ معاشرتی اصلاح و ترقی کا دشمن تھا۔ ان کی مذہبی عدالتوں میں بادشاہ بھی مداخلت کی جرات نہ کرتا تھا۔ پادریوں کی مسلسل کوشش رہتی تھی کہ ایسے عناصر سر نہ اٹھانے پائیں جن سے کلیسائی آمدنی یا ذہنی و فکری اجارہ داری کو خطرہ ہو۔ کلیسا کی سزاں کے خوف سے ہر شخص کانپتا تھا۔ اگر کسی شخص کے عقائد کے بارے میں شبہ بھی ہو جاتا تو اسے آگ میں زندہ جلا دیا جاتا۔ یورپ کے فیوڈل طبقے اور رومن کلیسا کا مفاد ایک تھا۔ دونوں معاشرتی یا فکری اصلاح کے شدید مخالف تھے لطف یہ ہے کہ پاپائے روم اور دوسرے لاٹ پادری صرف اٹلی کے نواب خاندانوں ہی سے منتخب کئے جاتے تھے۔ اٹلی کے تجارتی شہروں میں مینوفیکچری کا دور چودہویں صدی میں شروع ہوا اور تاجروں نے دست کاری کے بڑے بڑے مراکز قائم کر لیے اس سے معاشرتی زندگی کے دوسرے شعبے بھی متاثر ہوئے۔ شہروں کی فضاپر رونق ہو گئی۔ سامان عیش و عشرت آرام کی فروانی سے لوگوں کے مزاج و مذاق میں خوشگوار تبدیلیاں آئیں۔ قصہ کوتاہ یہ اٹلی کی نشا ثانیہ کا دور ثابت ہوا۔ مشینی دور گو مینو فیکچرنگ کا طریق پیداوار فیوڈل طریقہ پیداوار سے بہت بہتر تھا لیکن اپنے داخلی تضادات کو حل کرنے کی قدرت اس میں نہ تھی۔ اس میں پیداوار کو نہ تو ایک مخصوص سطح سے اوپر لے جانے کی گنجائش تھی اور نہ ہی گلڈوں کی بندشوں کو توڑنے کی ہمت اور اہلیت۔ ہر مینوفیکچرر ہنر مند اور سوداگر کو اپنے پیشے کی گلڈ کارکن بننا لازمی تھا۔ نیم ہنر مند اور بے ہنر مند مزدوروں کو سرے سے گلڈ بنانے کی اجازت ہی نہ تھی۔ مینو فیکچرنگ نے اٹلی کی تجارتی ریاستوں میں تقریبا سو سال تک بڑی رونق دکھائی۔ اسی اثنامیں فرانس، سپین، پرتگال، ہالینڈ اور برطانیہ کے بڑے بڑے شہروں میں بھی فیوڈل نوابوں کی مخالفت کے باوجود مینوفیکچرنگ کا پیداواری طریقہ رائج ہو گیا۔ ادھر امریکہ اور ہندوستان کے بحران راستوں کی دریافت نے مغربی یورپ کی تقدیر بدل دی۔ بین الاقوامی تجارت کی خاطر بڑی بڑی کمپنیاں قائم ہونے لگیں۔ تجارت پر اجارہ داری کے لئے، امریکہ کی سونے چاندی کی کانوں پر قبضہ کرنے کی خاطر، افریقی غلاموں کی خرید و فروخت میں سبقت لے جانے کی خاطر سپین، پرتگال، ہالینڈ، فرانس اور برطانیہ میں اقتصادی اور سیاسی رسہ کشی شروع ہو گئی۔ اس جنگ میں بلاخر فتح برطانیہ کو حاصل ہوئی اور وہ اپنے سب حریفوں سے آگے نکل گیا۔ سولہویں اور سترہیں صدی میں برطانیہ میں کان کنی، شیشہ سازی، ادنی پارچہ بانی اور اسلحہ سازی کی صنعتیں خوب پھیلی پھولیں اور تب نئے حالات پیداوار اور فیوڈل ازم کا پرانے پیداواری رشتوں میں تصادم ہونے لگا۔

ابھرتے ہوئے سرمایہ دار طبقے کو یقین ہو گیا کہ صنعت و حرفت اور تجارت کی راہ میں جو رکاوٹیں ہیں ان کو سیاسی اقتدار حاصل کئے بغیر دور نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا سترہیں صدی کی ابتدامیں لندن کے سرمایہ داروں اور بادشاہ جیمز اول کے درمیان اقتدار کی کشمکش شروع ہو گئی جو چارلس اول کے عہد میں باقاعدہ خانہ جنگی کی صورت اختیار کر گئی۔ 1649 میں بادشاہ کا سر قلم ہوا اور سیاسی اقتدار فیوڈل طبقے سے نکل کر سرمایہ دار طبقے کے ہاتھ میں آگیا۔ لیکن برطانیہ کا پیداواری نظام ہنوز مینوفیکچرنگ ہی کے دور میں تھا اور سرمایہ دار طبقے کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتا تھا۔ غیر انسانی طاقت سے چلنے والی خود کار مشینوں کی ایجاد وقت کی اہم ضرورت ہو گئی۔ اگرچہ پن چکیوں اور ہوائی چکیوں سے کام لیا جاتا تھا لیکن یہ صرف آبشاروں دریا کے کناروں اور تیز ہواں میں ہی زیر استعمال آسکتی تھیں۔ وہ جو کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے تو دیگر میکانکی ایجادوں کا سلسلہ چل نکلا جو سوتی پارچہ بانی کی صنعت سے شروع ہو کر مختلف تبدیلیوں کے ساتھ آج تک جاری ہے۔ ان ایجادات کی وجہ سے سبھی صنعتوں کے پیداواری طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں واقع ہو گئیں۔ پیداواری رشتوں کو از سر نو ترتیب دینے کی ضرورت محسوس ہوئی اور یوں برطانیہ کے بعد فرانس، ہالینڈ، بیلجیم، جرمنی اور شمالی امریکہ میں بھی صنعتی انقلاب آگیا۔ خام مال اور مصنوعات کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ صنعت کار ریاستیں منڈیوں کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئیں۔ سرمایہ داری مقرر ہو گئی۔ ہر چیز کے خریدار وجود میں آئے۔ ہر شے بکا مال ہو گئی۔ انسان کا ضمیر اس کی سوچ، اس کے افکار اس کے عقائد لوح علم و فن سب کے دام لگنے گے۔ ہم نے دیکھا کہ قدیم اشتراکی سماج نے دور غلامی کو جنم دیا۔ دور غلامی کی کوکھ سے جاگیرداری سماج وجود میں آیا اور جاگیرداری کے بطن سے نظام سرمایہ داری پیدا ہوا۔ انفرادی دستکاریوں نے مینو فیکچرنگ کی شکل اختیار کی اور مینو فیکچرنگ بعد میں مشینی دور میں ڈھل گیا۔ آج بھی مشینی دور کا ارتقاجاری ہے۔ سامراج کا ظہور، ملٹی نیشنل کمپنیوں کا قیام اور اس کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر ٹیکنالوجی روبوٹ ٹیکنالوجی اور سپر کنڈکڑ کی ایجاد نے سرمایہ داری نظام کو ارتقاکی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ اوپر کی بحث میں یہ بات واضح ہو کر سامنے آچکی ہے کہ پیداواری قوتوں کے ارتقاکے ساتھ ساتھ پیداواری رشتوں کا ارتقابھی لازم ہے اور سماج کی ایک سے دوسرے دور میں تبدیلی دراصل انہیں پیداواری رشتوں کی نئے سرے سے ترتیب کا دوسرا نام ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج سرمایہ داری نظام جس مقام پر کھڑا ہے کیا پیداواری رشتے اس سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ اس سوال کا جواب یقینا نفی میں ہے کیونکہ پیدوار کی اجتماعی ہیئت کا تقاضا ہے کہ پیداواری رشتوں میں بھی انفرادیت کی بجائے اجتماعیت نظر آئے۔ سوشلزم کی جدوجہد اسی اجتماعیت کے حصول کی کوشش کا نام ہے اور مادی تاریخ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ تمام تاریخ مختلف طبقوں کی آپس میں کش مکش یعنی طبقاتی جدوجہد کا نام ہے کیونکہ نظام جب تبدیل ہوتا ہے تب اس میں سماج ترقی دینے کی اہلیت نہ رہے اور ایک طبقہ نئے تعلقات پیداوار ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اس نظام کا خاتمہ کر دے۔ موجودہ سرمایہ داری نظام کا گورکن مزدور طبقہ ہے۔ سرمایہ داری نظام اگرچہ گل سڑ چکا ہے لیکن اس نظام کا خاتمہ تب تک ممکن نہیں جب تک مزدور طبقہ اسے ختم کر کے سوشلزم کا دور بپا نہیں کر دیتا

حصہ

جواب چھوڑ دیں