میں نے نوکری کا خیال دل سے کیوں نکالا – چار اہم وجوہات

میرے کچھ ٹیچرز کہتے ہیں کہ میں بچوں کو گمراہ کرتا ہوں۔ انہیں کرئیر کے مین سٹریم پیٹرن سے ہٹاتا ہوں۔ انہیں پٹیاں پڑھاتا ہوںاور انکے کان بھرتا ہوں۔

مجھے قبول ہے کہ میں ایسا کرتا ہوں۔ اور یہ کام میں نے صرف بچوں کے ساتھ نہیں، بلکہ استادوں کے ساتھ بھی کیا ہے۔ عادت سے مجبور جو ٹھہرا۔ ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ روایات سے ہٹ کر جو بات بھی کی جائے، جس بات کی بھی ترغیب دی جائے وہ گمراہی میں شمار ہوتی ہے۔ چاہے وہ بات اپنے آپ میں منطقی طور پر کتنی ہی درست کیوں نہ ہو۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں معاشرے کے لیے فِٹ نہیں ہوں۔ پھر مجھی سے پوچھتے ہیں کہ کوئی کام بتاؤ جس سے تھوڑے بہت مہینے کے پیسے آجائیں۔

یعنی مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے اصولوں پر مجھے لا کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہی کرو جو ہم کر رہے ہیں۔ لیکن اپنے کام سے خود مطمئن بھی نہیں ہیں۔ اب یہ لوگ کیا کر رہے ہیں یہ بھی سن لیجیے۔

 بارہ سال انٹر تک کی پڑھائی۔

اس کے بعد چار سال (میرے کیس میں پانچ سال) کالج گریجویشن کے۔

پھر دو سال اور بعض وقت ڈھائی سال انٹرنشپ یا ہاؤس جاب۔

یہ ہو گئے کُل اٹھارہ یا انیس سال۔

اب نوکری کے لیے اپلائی کرو تو معلوم ہوتا ہے کہ بغیر تجربے کے نوکری نہیں ملے گی۔ لیکن تجربے کے لیے بھی تو نوکری ضروری ٹھہری۔ اب غریب مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق بیس پچیس ہزار کی نوکری میں راضی ہو تو جاتا ہے، لیکن اس وقت تک اس کی عمر کہیں پچیس سے اٹھائیس سال تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پڑھائی کے دوران ہی وقت نکال کر نوکری کی جائے اور اپنے پیٹ کا بند و بست کرلیا جائے۔

لیکن دونوں صورتوں میں ایک بات مشترک ہے اور وہ ہے ”نوکری“۔ اور یہی وہ چیز ہے جس سے لوگوں کو بد ظن کرنا اور کاروبار کی تلقین کرنا ہمارے سو کالڈ پڑھے لکھے اکیڈیمک کلاس کے ”پروفیسری زدہ“ بزرگوں میں گمراہی کہلاتا ہے۔

تخلیقی صلاحیتوں کا خاتمہ

کسی بھی معاشرے کی ترقی میں سب سے بڑا جو خلا پیدا ہوتا ہے وہ معاش کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور یہی چیز ہمیں تعلیمی میدان اور نوکریوں کے چکر میں بھی جھیلنی پڑتی ہے۔ ہم تعلیمی میدان میں بھی مزدور کشی کو اپنا شعار بنا چکے ہیں۔ ٹیچرز اور پروفیسرز دن کے اکثر حصے اپنا وقت پڑھانے میں گزارتے ہیں۔ یا پھر شاگردوں کو اپنے پی ایچ ڈی مقالے لکھنے کے لیے گھیرنے میں وقت صرف کرتے ہیں۔

ایسے میں ڈگری کرنے کے بعد ہمیں ڈاکٹری یا انجینئرنگ کی ایک ”عدد مشین“ مل جاتی ہے جو اپنا رٹا رٹایا سب کچھ پیسہ کمانے، Boss  کو خوش کرنے اور پروموشن کے لیے نئے سے نئے جتن کرنے میں لگادیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ علم اپنی اس شکل میں نمودار ہو ہی نہیں پاتا کہ اس سے شعور کو نمو پانے کا کوئی بامعنی رستہ مل سکے۔

علم کو سانس لینے کے لیے جو وقت درکار ہے وہ نوکری اور نوکری زدگانوں کی کشمکش اور الجھاؤ میں کہیں کھو جاتا ہے۔
ابھی چند دنوں پہلے ہی کی بات ہے کہ ایک نامور ادارے کی ایک پروفیسر صاحبہ (جو کہ طبابت کے شعبے سے ہیں) کہہ رہی تھیں کہ ”گرمی دانے خون کی گرمی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔“

سیمنار میں سبھی ڈاکٹر اور پروفیسر درجے کے لوگ تھے۔ کوئی کچھ نہیں بولا۔ ہم بھی خاموش رہے۔ لیکن سمجھ میں یہ بات ضرور آگئی کہ ہم مزدور ذہن کے لوگوں میں سے اکثر لوگ سائنس کو بھی شوق سے نہیں، بلکہ نوکری کی کمی کی مجبوری کی وجہ سے پڑھتے ہیں۔ کیونکہ سائنس پڑھنے کے بعد اچھی نوکریاں مل جاتی ہیں۔ اور جو پڑھ لیا اسے ری انوینٹ کرنے کا اس گدھا کشی کے ماحول میں وقت ہی نہیں مل پاتا۔  اور ان باتوں کو سمجھنے کے لیے فیس بک یا سوشل میڈیا ویب سائٹس کا مشاہدہ کافی نہیں ہے۔ بلکہ اصلی دنیا کے ملازمت پیشہ سائنسدانوں، انجینئیروں اور ڈاکٹروں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ضروری ہے۔

یہ وہ باتیں ہیں جو انسان میں سے تخلیقی صلاحیتیں (creativity) ختم کرکے اسے بے جان کر دیتی ہیں۔ معاشرے میں سے آگے بڑھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ کسی بھی معاشرے میں تخلیقی صلاحیتوں کی پامالی کی سب سے بڑی وجہ اس کی معاشی اور سماجی ناہمواری ہوتی ہے۔ ایسے میں حقیقی تخلیق کار پیدا نہیں ہوتے بلکہ ادھار کی صلاحیتوں کو اپنے کاموں کے لیے استعمال کرنے والے بانجھ دماغ ہی پیدا ہوتے ہیں۔

نوکریاں ختم ہوتی جارہی ہیں

یہ قصہ صرف پاکستان یا کسی ترقی پذیر ملک کا نہیں ہے۔ یہ قصہ ہر ملک اور بحیثیتِ مجموعی پوری دنیا کا ہے۔ دنیا فری لانسنگ کی طرف آرہی ہے۔ لوگ اپنی اپنی سپیشئلیٹی کی طرف بڑھتے جارہے ہیں۔ کمپنیوں کے مالکان مسلسل ایک ہی شخص سے کام لینے سے بہتر یہ سمجھتے ہیں ورائیٹی کو موقع دیا جائے۔ ایک کو کمپنی سے نکال دو تو پیچھے سیکڑوں نہیں ہزاروں امیدوار لائن میں کھڑے ہیں۔ یہاں بھی وہی کامپٹیشن ہے جس سے بچ کر کاروبار کو چھوڑ آئے تھے۔ نوکریوں کا فقدان پچھلے دس سال سے بڑھتا ہی جارہا ہے۔

ریٹنگ چاہیے۔ پی آر بڑھانی ہے۔ اور یہ معاملہ اب کمپنیوں سے نکل کر نوکری پیشہ طبقے پر بھی لاگو ہونا شروع ہوگیا ہے۔ لیکن مالکان کو اس بات سے بھی اکثر غرض نہیں ہوتی۔ انہیں تو کام نکالنا ہے۔ ماہوار تنخواہ کا ملازم اگر مارکیٹنگ کا بندہ ہے تو اس سے کلرک کا کام بھی کروائیں گے۔ جب تک آپ ایک وقت میں تین بندوں کے کام کی صلاحیتیں نہیں رکھتے تب تک آپ کی ویلیو نہیں۔ کیونکہ ایک بندے کو مستقل ہر مہینے تنخواہ دینا بہت بھاری کام ہے۔ اور پھر جہاں آپ کی عمر پینتیس سال ہوئی وہاں آپ اپنا کوئی دوسرا ٹھکانہ تلاش کرنا شروع کردیجیے کیونکہ کمپنی سے کسی بھی وقت آپ کو وائپ آؤٹ کیا جاسکتا ہے۔

کیوں؟

کیونکہ آپ کا تجربہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ آپ کی تنخواہ اور عمر بڑھنے سے پہلے ہی کمپنی کسی کم تنخواہ اور کم عمر والے کو تلاش کرچکی ہے جو آپ سے زیادہ کام کرکے دے گا۔

ٹیکنالوجی کا انقلاب

یہ بات کم لوگ سمجھتے ہیں لیکن ٹیکنالوجی کا انقلاب نوکریوں میں اور بھی مزید کمی لے کر آرہا ہے اور لے کر آئے گا۔ کون جانتا تھا کہ ستر اور اسّی کی دہائیوں میں اخبار لکھنے والے خطاطوں پر یہ بُرے دن بھی آئیں گے کہ انہیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہوگا؟ انہیں کوئی جانتا تک نہیں ہوگا؟

خط لانے والے قاصدوں سے لے کر نجومیوں تک اور ہاتھ کے کاریگروں سے لے کر فن کاروں تک، ملازمت کے سبھی ابواب بند ہو کر ختم ہوچکے ہیں۔ اور یہ سلسلہ مستقل جاری و ساری ہے۔

ٹیکنالوجی کا نیا سورج ایسی لاکھوں کہانیاں لے کر آئے گا جب سکرپٹ رائٹنگ کے لیے نہ کسی رائٹر کی ضرورت ہوگی، نہ کِلرکی کے لیے کسی جیتے جاگتے شخص کی۔

انڈسٹریل ورکرز کے کام روبوٹس اور مشینوں کو سونپے جارہے ہیں۔ کورئیر اور ڈاک کا نظام تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کے بعد ایک نیا زوال دیکھ لے گا۔

ہے نا سوچنے کی بات؟

آگے پڑھیے۔

بائیو ٹیک، روبوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسانوں کی نوکریوں کا سفایا کرکے رکھ دیں گے۔ کیونکہ دنیا علاج سے پریوینشن اور بیماری کی روک تھام کا سفر انتہائی تیز قدموں سے طے کرتی جارہی ہے۔ ڈاکٹرز کیا کریں گے؟ کاریں اور بسیں خود بخود چلنا سیکھ رہی ہیں۔ ڈرائیوروں کی نوکریاں ختم ہونے کو ہیں۔ بینک کے کیشئیر سے زیادہ اچھے کام روبوٹس کرسکتے ہیں۔ اور کر رہے ہیں۔ انسانوں کی جگہ کہاں گئی؟

اکانومی میں نا ہمواری

ٹیکنالوجی ہی کی مرہونِ منت بہت سے کاموں کی معاشیاتی حیثیت ختم ہو گئی۔ یا ختم ہو جائے گی۔ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا سوال ہی یہی ہے کہ کس طرح معاشیاتی ناہمواریوں کو سمجھا اور قابو میں کیا جائے۔ آتا ہوا پیسہ اور جاتی ہوئی دولت کا کسی کو بھی علم نہیں سوائے اس شخص کے جو کہتا ہے کہ میری تنخواہ ہر مہینے کی پانچ تاریخ کو آجاتی ہے۔

لیکن یہ شخص بے وقوف ہے۔

کاروبار میں ایک کمپنی کے پاس اگر ایک کلائنٹ ہے تو وہ خطرے میں ہے۔ کبھی بھی ڈوب سکتی ہے۔ یہی دلیل ملازمت اور نوکری میں بھی اپلائی ہوتی ہے۔ ایک شخص (آپ کی کمپنی کے مالک) کے لیے کام کرنا آپ کو کسی بھی وقت ڈبو سکتا ہے۔ اور یہ میں بے پر کی نہیں اڑا رہا۔ مطالبے پر بے شمار مثالیں باحوالہ پیش کروں گا۔

تیل کی صنعت دنیا میں ایک بہت بڑی مثال ہے۔ بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی نے تیل کی ڈیمانڈ کو کم کیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ تیل کی قیمتیں کم ہونا شروع ہوگئیں۔ تیل کی مہنگائی نے ترقی یافتہ ممالک کے ہاتھوں شیل کے ذریعے تیل نکالنے کے محرک کا کردار ادا کیا۔ اور اب حال یہ ہوا کہ سعودیہ جیسے مضبوط ترین ملک کے بارے میں آئی ایم ایف نے گزشتہ سال بیان دے دیا کہ سعودیہ اگلے پانچ سالوں میں دوالیہ ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سعودیہ سے لاکھوں نوکری پیشہ افراد سعودیہ عرب سے نکلنے پر مجبور ہوگئے اور سیکڑوں کارخانے اور کمپنیاں پلک جھپکتے ہی رُک گئیں۔

یہ واقعہ ہر صنعت کے ساتھ پیش آسکتا ہے۔ لیکن وہ لوگ سیکڑوں گنا زیادہ خطرے میں ہیں جن کا واحد ذریعۂ معاش نوکری ہے۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ نوکری کوئی بُری چیز ہوتی ہے۔ لیکن بُری چیز یہ ہوتی ہے کہ آپ نوکری پر ہی اپنا سارا دار و مدار رکھ کر بیٹھ جائیں۔ آمدنی کے ایک سے زیادہ ذرائع رکھنا نہ صرف یہ کہ ہر شخص کا حق ہے، بلکہ ضرورت بھی ہے۔ اور اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو آپ سوشل سروائول آف دی فٹسٹ اور بقا کی اس جہد میں بہت پیچھے دھکیل دیے جائیں گے۔

 

حصہ
مزمل شیخ بسمل پیشے کے اعتبار سے طبیب ہیں، ادب سے جذباتی وابستگی ہے، فسلفے کا شغف بھی رکھتے ہیں۔ ان دنوں آن لائن کاروبار کے گر سکھا رہے ہیں۔اس ویب سائٹ پر ان کی سرگرمیاں دیکھی جا سکتی ہیں http://urdu.earnwriting.com

جواب چھوڑ دیں