کچے ذہنوں کی پکی محبت

ان دنوں سوشل میڈیا پر  کراچی کے نجی اسکول کی  متوقع  منعقد ہونے والی تقریب  میں  جس گانے،  نہ جنت نہ دورخ نہ دین ، پر کچے ذہن کے طلبہ و طالبات  نے پرفارم کرنا تھا  ،کا خوب چرچا ہو رہا ہے ،دائیں بازو سے تعلق رکھنے والنے انگریزی اخبار کے  صحافی انصار عباسی نے ٹوئیٹ کیا تو   نام نہاد لبرلز ان پر لٹھ لیکر چڑھ دوڑے،جن میں  آسکر ایوارڈ یافتہ مائی  شرمین عبید چنائے بھی سرفہرست تھیں ۔

ایک عمل پر ردعمل  کے نتیجے میں اسکول نے پروگرام   کینسل تو کردیا لیکن کرائے کے صحافیوں، اینکروں اور دانشوروں کو پاکستان اور اسلام  کے خلاف بولنے کا موقعہ مل گیا  کہ یہی وہ مائنڈ سیٹ سے جس کی وجہ سے اسکولوں پر حملے ہوتے ہیں  ۔کہا جاتا ہے کہ بچوں نے اگر “نہ جنت نہ دورخ نہ دین ” کو تخیلاتی طور پر پڑھ لیا تو کونسی قیامت آجائے گی دنیا میں ہر جگہ یہ گانا گایا جاتا ہے۔

تو دیکھیں جناب بات بڑی سادہ سی  ہے بچپن کے کچے ذہن کی محبت آسانی سے جان نہیں چھوڑتی ہے آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کچے ذہن کچی عمر کے بچوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا رہے ہیں کہ جنت ،دوزخ اور مذہب  کا کوئی تصور ہی نہیں ہے یہ مولویوں کی پرانی باتیں جانے  دو تو ظاہر ہے  اس کچی عمر میں اگر یہ پکی محبت جوانی تک پختہ ہوگئی تو  خدا بے زار لادین جنت اور دوزخ کے تصور سے عاری نوجوان نسل ہی تیار ہوگی جو پاکستان کے اسلامی تصور کو لبرل ازم کے تصور میں بدلنا ہی اولین ترجیح سمجھے گی۔

ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ شاعری تو شاعری ہوتی ہے وہ جمالیاتی اور تخیلاتی حسن کی بنیاد پر کی جاتی ہے اس  طرح کا اعتراض کرنا اچھی روایت نہیں ہے،مدارس میں بھی تو بچے “سبعہ معلقات، حماسہ،دیوان متنبی “جیسی شاعری کی شاہکار کتب میں بھی ایسی جمالیاتی اور تخیلاتی شاعری موجود ہے وغیرہ وغیرہ تو جناب مدارس میں یہ کتابیں کچی عمر میں نہیں پڑھائی جاتی ہیں اور پڑھانے والے شیوخ الاکرام قرآن و حدیث پر عبور رکھنے والے علمائے کرام ہوتے ہیں  نہ کہ لنڈے کے غیرملکی  این جی اوز کے فنڈز پر پلنے والے دانشور جو  لبرل ازم کی آڑ میں اسلام دشمنی کررہے ہیں۔

 

ایک سوال یہ بھی کہ  آخر ایسی کیا ضرورت پیش آگئی ہے کہ “نہ جنت نہ دورخ نہ دین ” جیسے گانے ہی اسکولوں  مین گائے جائیں جن کا ہمارے مذہب اور روایات سے  دور کا واسطہ نہیں ہے۔کیا ہمارے پاس اس کے متبادل کے طور پر کچھ نہیں ہے؟علامہ اقبال کی شاعری میں جمالیاتی اور تخیلاتی حسن کی کمی ہے؟یا آپ کے انگلش میڈیم  اسکول کا کوئی  غیر ملکی ایجنڈا ہے جس کی آ پ تکمیل کررہے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ آپ کو شاعری کی جمالیاتی اور تخیلاتی حسن سے کوئی واسطہ نہیں ہے آپ کا ایجندا کوئی اور ہے۔

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

 

حصہ
mm
عبدالرشید دل تحقیق کار، مترجم اور سوشل میڈیا ایکسپرٹ ہیں۔ آج کل تدریس کےشعبہ سے منسلک ہونےکےساتھ ساتھ پاکستان جرنل آف نیورولوجکل سائنسز کے مئنجنگ ایڈیٹر بھی ہیں

جواب چھوڑ دیں