ہنسنا بھی ضروری ہے

آج کے حالات نے حضرت انسان کی مسکراہٹ پر نہ صرف یہ کہ شبِ خون مارا ہے ، ہر شخص اُداس اور پریشان ہے،بعض اوقات ان باتوں پر تشویش ہوتی ہے جن پر نہیں ہونی چاہیے، مثال کے طور پر وقتِ مقررہ پر بجلی نہیں گئی، مسجد سے جوتا چوری نہیں ہوا، رکشے والے نے کرایہ کم لیا، وغیرہ وغیرہ۔

اسی طرح کی بے شمار باتیں ہیں۔ اس کے علاوہ حرماں نصیبی کے قصّے الگ، واقعاتِ زمانہ اور ذاتی غموں نے ہر شخص کو گیلی لکڑی کی طرح سُلگنے پر مجبور کردیا ہے، لیکن انھی لوگوں میں ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو اپنی تقریر و تحریر سے روتے ہوؤں کو ہنسا دیتے ہیں، ہنسانے کے بہت سے طریقے ہیں، انھی طریقوں میں ایک طریقہ مزاحیہ تحریریں ہیں، ان تحریروں کا وجود اسی وقت سے ہوا ہے جب سے شعر و سخن وجود میں آیا۔

مغربی مفکرین نے مختلف طرز فکر سے ہنسی یعنی مزاح کی تعریف کی ہے، یورپ میں سب سے پہلے افلاطون نے ہنسی کی تعریف کرنے کی کوشش کی، اس کے خیال میں ’’طربیے میں روح، غم اور مسرّت کے ملے جلے جذبات سے دوچار ہوتی ہے۔‘‘ افلاطون کے بعد ارسطو کی بھی کچھ ایسی قسم کی رائے تھی۔ سترہویں صدی کے مشہور فلسفی ہابز کے خیال کے مطابق ’’ہنسی اس جذبۂ افتخار یا احساسِ برتری کے سوا کچھ نہیں جو دوسروں کی کمزوریوں یا اپنی کوتاہیوں کے احساس کے تقابل وجود میں آتا ہے، مغربی مفکرین ’’کانٹ ، شوپن ہار، برگساں کے ہنسی کے حوالے سے مختلف نظریات ہیں۔

مشرقی حکماء نے ہنسی کی تعریف علیحدہ علیحدہ مضمون میں کی ہے، علی بن ربان ابطری ہنسی کی توضیح اس طرح کرتے ہیں کہ ’’ ہنسی طبعی خون میں جوش وہیجان پیدا ہونے سے آتی ہے، کوئی چیز اپنی طرف مائل کرکے حیران اور متاثر کرے اور اگر قوتِ فکر سے کام نہ لیا جائے تو ہنسی غالب آجائے گی۔ کچھ فلاسفر ہنسی کا سبب خارج میں تلاش کرتے ہیں، کچھ ہنسی کو داخلی اور نفسیاتی توضیح کرتے ہیں۔

مزاح کے حوالے سے ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں کہ مزاح کے اندر تدریجی ارتقاء کو اس طوفانی ندی سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے جو پتھروں اور چٹانوں سے سر پٹختی، شور مچاتی، جھاگ اُڑاتی، آخرش ایک وسیع کشادہ اور پُرسکون دریا کی صورت اختیار کرے اور پھر سمندر میں مل کر ابدیت اختیار کرلے۔شاعری کے اعتبار سے دیکھیں تو جعفر زٹلی اُردو کا پہلا ظریف شاعر ہے اور اُردو کا پہلا ہزل گو بھی جعفر زٹلی ہے۔ ان کے بعد، سودا اور سودا کے ساتھ (میر تقی میر کا تذکرہ بھی لازم وملزوم ہوتا ہے) انشاء اور مصحفی اور نظیر اکبر آبادی کی طنزیہ  و مزاحیہ شاعری بھی سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مزاحیہ شاعری میں غالب کا نام بھی نمایاں ہے، اُردو کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے حوالے سے غالب کے نام کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ فرماتے ہیں:

وفا کیسی کہاں کا عشق‘ جب سَر پھوڑنا ٹھہرا

تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو

……

دونوں جہاں دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا

یاں آ پڑی یہ شرم کے تکرار کیا کریں

……

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق

آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا

……

ملنا ترا گر نہیں آساں تو سہل ہے

دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں

……

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

اقبال کی طنزیہ شاعری میں ظرافت و سنجیدگی کا خوبصورت امتزاج نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ اشعار:۔

ہم تو سمجھے تھے لائے گی فراغت تعلیم

کیا خبر تھی چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نما

لے کے آئی ہے مگر تیشۂ فرہاد بھی ساتھ

یہ بیان عصرِ حاضر کے بنے ہیں مدرسے میں

نہ ادائے کافرانہ نہ تراشِ آزرانہ

جعفر زٹلی سے لے کر موجودہ دور تک طنز و مزاح کا جائزہ لیا جائے تو ایک واضح ارتقاء کا احساس ہوتا ہے، ہجو اور ہزل سے نکل کر طنز میں مہذب انداز نے جگہ بنالی ہے۔ اُس دور میں شاد عارفی اور راجہ مہدی علی خان کی نظمیں قابلِ ذکر ہیں۔ راجہ مہدی خان کی ایک نظم چور کی دعا کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیے: کس قدر خوبصورت انداز میں طنز کیا گیا ہے۔

اے خالقِ ارض و سماء وقتِ دعا ہے

بندے پہ تیرے آج عجب وقت پڑا ہے

پہلے بھی ہر آفت سے مجھے تُو نے بچایا

دائم رہا مجھ پر ترے الطاف کا سایہ

جب نام تیرا لے کے کوئی نقب لگائی

ہر کام کی تدبیر مجھے تُو نے سجھائی

سچ تو یہ کتّوں کو سُلا رکھتا ہے تُو ہی

مرے لیے دروازہ کھلا رکھتا ہے تُو ہی

انصاف کے پنجے سے مجھے تُو نے چھڑایا

اور دامِ حوالات میں اوروں کو پھنسایا

شفیق الرحمٰن، مشتاق یوسفی، ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی سے لے کر انور احمد علوی تک اور مرزا عاصی اختر، مرزا عابد عباس، ابوالفرح ہمایوں،  عزیز جبران انصاری اور بہت سارے مزاح نگاروں نے نثر و نظم میں طنز و مزاح کی پھلجھڑیاں چھوڑی ہیں، لوگ اس آتش بازی سے محظوظ ہوئے ہیں، دل کھول کر اتنا ہنسے ہیں کہ آنکھوں سے پانی جاری ہوگیا، اگر اس پانی کو جمع کرلیا جاتا تو ایک ندی ضرور بن جاتی، روتے ہوؤں پر اس پانی کے چھینٹے مارنا بے حد مفید ثابت ہوتا۔

حال ہی میں ’’بزمِ مزاح‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب شایع ہوئی ہے، ترتیب و تدوین انور احمد علوی کی ہے، انور احمد علوی سہ ماہی مزاح پلس نکالتے ہیں، خود بہت اچھے مزاح نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ’’بزمِ مزاح‘‘ میں 21 مزاح نگاروں کے مضامین شامل ہیں۔ ایک مضمون  اس طرح یوں ہوا کہ ہم اُنگلی کٹا کر شہیدوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ ’’تعزیت کا جوڑا، راقم الحروف کا بھی شامل ہے۔ اس کتاب میں قابلِ قدر مصنفین کی تحریریں شامل ہیں، کئی مضامین پڑھنے کے بعد جو ہمیں سب سے زیادہ مضمون پسند آیا وہ تھا مصنفہ رفعت ہمایوں کا ’’ساڈا سارا کھرچہ تہاڈے ہی نال ہے‘‘  نمونے کے طور پر چند سطور۔

ہمارے موصوف بے انتہا سادگی پسند ہیں، ہمیشہ سفید کُرتا، پاجامہ، ہوائی چپل اور دوسروں کی بیویاں پسند کرتے ہیں، مگر اس دن وہ اپنے روایتی لباس یعنی لُنگی اور بنیان میں ملبوس تھے، بنیان بھی ایسی جھرجھری کہ آپ دور ہی سے موصوف کی پسلیاں گن سکتے تھے، ادھر ہمارا حُلیہ کہ آخر موصوف کو ہم میں نظر کیا آیا، کپڑوں کے سائز کی ہم نے کبھی پرواہ نہیں کی، بس اتنا لمبا چوڑا ہو، جس میں ہم آسانی سے گھس جائیں، ایک تو ویسے بھی ہماری شکل بنگالی نوکرانیوں جیسی ہے، اس پر سے کام، لوگ ہمیں نوکرانی سمجھتے ہیں، آپ کی بیوی نہیں۔موصوف ہنس پڑے، مگر ہمارا غصہ دور نہیں ہوا۔ اس رسالے میں جناب کلیم چغتائی کی دو غزلیں بھی شامل ہیں، ایک غزل کے چند اشعار:۔

افسر سرکار ہونا چاہیے

ٹھاٹ سے دفتر میں سونا چاہیے

دل مرا فی الفور واپس کیجیے

آپ کو شاید کھلونا چاہیے

آپ کا مضمون فکاہی  ہے مگر

اس کے ہر فقرے پہ رونا چاہیے

بزمِ مزاح دلشاد انجم، شجاع الدین غوری، غفور اسد ، مرزا عاصی اختر، مرزا عابد عباس اور دوسرے قلمکاروں کی تحریروں سے مرصع ہے۔ مرزا عابد عباس کی غزل کے کچھ اشعار:۔

موبائل کے طلسم سے دوچار ہوگئے

اس کی جفاؤں کے بھی پرستار ہوگئے

سمجھے تھے دس ہزار میں عزت خرید لی

مقروض ہوکے اور بھی ہم خوار ہوگئے

مرزا عابد عباس کی حال ہی میں طنزیہ و مزاحیہ مضامین و خاکوں پر مشتمل کتاب شایع ہوئی ہے، عنوان ہے ’’شریرِ خامہ‘‘ اسی کتاب سے ایک پیرا گراف نذرِ قارئین: ’’بچو! تمہیں تو معلوم ہوگا کہ کھیل کے سامان کی سب سے بڑی صنعت سیالکوٹ میں ہے، لیکن اس شہر کی وجۂ شہرت اقبال کی جائے پیدائش ہونا چاہیے، علامہ اقبال نے شاعری میں جو صنعتیں استعمال کی ہیں وہ کسی صنعت کار کی بھی سمجھ میں نہیں آسکتیں، تم کیا سمجھوگے۔بچو! علامہ اقبال نے فرمایا تھا: ’’خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر‘‘ لیکن آج کل تو بھائی لوگوں نے ’’خودی‘‘ کو اچھے داموں فروخت کرکے گلشنِ اقبال میں شاندار کوٹھیاں تعمیر کروالی ہیں، ضمیر جعفری نے فرمایا تھا:

کبھی اک سال میں ہم مجلس اقبال کرتے ہیں

پھر اس کے بعد جو کرتے ہیں قوال کرتے ہیں

’’ماں کا دعا ساس کا بد دعا‘‘ غفور اسد کی تحریر بھی صرف یہی نہیں کہ مسکرانے پر مجبور کرتی ہے بلکہ بے ساختہ قہقہہ بھی ٹھنڈے پانی کی طرح اُبل پڑتا ہے۔

’’یکایک اس نے ٹیکسی روک دی اور حیرت سے ہماری طرف دیکھتے ہوئے بولا: ’’آپ تو مسلمان لگتا ہے صیب!‘‘

ہاں، ہاں ہم جلدی سے بولے، ٹی وی چینل پر کام ضرور کرتے ہیں، چہرے پر داڑھی نہیں ہے، جھوٹ بھی خوب بولتے ہیں، مگر ہیں مسلمان۔ سچ مچ آپ مسلمان ہو؟ ہاں بھائی! خیر سگالی کے طور پر انڈین فلمیں دیکھتے ہیں، جس کی وجہ سے آنکھ دیر سے کھلتی ہے اور صبح کی نماز رہ جاتی ہے، باقی نمازیں کام کی زیادتی کی وجہ سے چھوٹ جاتی ہیں، لیکن بھائی! عید کی نماز پابندی سے پڑھتے ہیں اور آج کا مسلمان ایسا ہی ہے

 

حصہ

جواب چھوڑ دیں