اردو ادب کی تاریخ

اردو زبان کی ابتداء

زبان اردو کی ابتداءو آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں یہ آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ ایک انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداءکی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی ۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا ءکا سراغ قدیم آریائو ں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔ بہر طور اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداءمسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔
دکن میں اردو:۔
نصیر الدین ہاشمی اردو زبان کا سراغ دکن میں لگاتے ہیں۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ طلوع اسلام سے بہت پہلے عرب ہندوستان میں مالا بار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آتے تھے۔ تجارت کے ضمن میں ان کے تعلقات مقامی لوگوں سے یقینا ہوتے تھے روزمرہ کی گفتگو اور لین دین کے معاملات میں یقیناانہیں زبان کا مسئلہ درپیش آتا ہوگا۔ اسی میل میلاپ اور اختلاط و ارتباط کی بنیاد پر نصیر الدین ہاشمی نے یہ نظریہ ترتیب دیا کہ اس قدیم زمانے میں جو زبان عربوں اور دکن کے مقامی لوگوں کے مابین مشترک و سیلہ اظہار قرار پائی وہ اردو کی ابتدائی صورت ہے۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں یہ نظریہ قابل قبول نہیں ۔ڈاکٹر غلام حسین اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

” عربی ایک سامی النسل زبان ہے جب کہ اردو کا تعلق آریائی خاندان سے ہے۔ اسلیے دکن میں اردو کی ابتداءکا سوال خارج از بحث ہو جاتا ہے۔ دکن میں ارد وشمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر کے ساتھ آئی اور یہاں کے مسلمان سلاطینکی سرپرستی میں اس میں شعر و ادب تخلیق ہوا۔ بہر کیف اس کا تعلق اردو کےارتقاءسے ہے۔ ابتداءسے نہیں۔“

اسی طرح دیکھا جائے تو جنوبی ہند (دکن ) کے مقامی لوگوں کے ساتھ عربوں کے تعلقات بالکل ابتدائی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ عرب تاجروں نے کبھی یہاں مستقل طور پر قیام نہیں کیا یہ لوگ بغرض تجارت آتے ، یہاں سے کچھ سامان خریدتے اور واپس چلے جاتے ۔ طلو ع اسلام کے ساتھ یہ عرب تاجر ، مال تجارت کی فروخت اور اشیائے ضرورت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام بھی کرنے لگے۔ اس سے تعلقات کی گہرائی تو یقینا پیدا ہوئی مگر تعلقات استواری اور مضبوطی کے اس مقام تک نہ پہنچ سکے جہاں ایک دوسرے کا وجود نا گزیر ہو کر یگانگت کے مضبوط رشتوں کا باعث بنتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں وہ نزدیکی اور قرب پیدا نہ ہوسکاجہاں زبان میں اجنبیت کم ہو کر ایک دوسرے میں مدغم ہو جانے کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ عربوں کے یہ تجارتی و مقامی تعلقات لسانی سطح پر کسی بڑے انقلاب کی بنیاد نہ بن سکے البتہ فکری سطح پر ان کے اثرات کے نتائج سے انکار نہیں۔
سندھ میں اردو:۔
یہ نظریہ سید سلیمان ندوی کا ہے جس کے تحت ان کا خیال ہے کہ مسلمان فاتحین جب سندھ پر حملہ آور ہوئے اور یہاں کچھ عرصے تک ان کی باقاعدہ حکومت بھی رہی اس دور میں مقامی لوگوں سے اختلاط و ارتباط کے نتیجے میں جوزبان وجود پذیر ہوئی وہ اردو کی ابتدائی شکل تھی۔ ان کے خیال میں :

” مسلمان سب سے پہلے سند ھ میں پہنچے ہیں اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ جس کوہم آج اردو کہتے ہیں۔ اس کا ہیولیٰ اسی وادی سندھ میں تیار ہو ا ہوگا۔“

اس میں شک نہیں کہ سندھ میں مسلمانوں کی تہذیب و معاشرت اور تمدن و کلچر کا اثر مستقل اثرات کا حامل ہے۔ مقامی لوگوں کی زبان، لباس اور رہن سہن میں دیرپا اور واضح تغیرات سامنے آئے ہیں بلکہ عربی زبان و تہذیب کے اثرات سندھ میں آج تک دیکھے اور محسوس کیے جاسکتے ہیں ۔ آج سندھی زبان میں عربی کے الفاظ کی تعداد پاکستان و ہند کی دوسری تمام زبانوں کی نسبت زیادہ ہے اس کا رسم الخط بھی عربی سے بلاو اسطہ طور پر متاثر ہے۔ عربی اثرات کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بعض مورخین کے نزدیک دوسری زبانوں میں جہاں دیسی زبانوں کے الفاظ مستعمل ہیں وہاں سندھی میں عربی الفاظ آتے ہیں مثال کے طو ر پر سندھی میں پہاڑ کو ”جبل“ اور پیاز کو ”بصل “ کہنا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ اثرات زبان میں الفاظ کے دخول سے آگے نہ بڑھ سکے ۔ اس لیے کوئی مشترک زبان پیدا نہ ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ سید سلیمان ندوی اپنے اس دعوےٰ کا کوئی معقول ثبوت نہیں دے سکے۔بقول ڈاکٹر غلام حسین :

”اس بارے میں قطعیت سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ابتدائی فاتحین عرب تھے جن کےخاندان یہاں آباد ہو گئے۔ نویں صدی میں جب ایران میں صفاریوں کا اقتدار ہواتو ایرانی اثرات سندھ اور ملتان پر ہوئے ۔ اس عرصہ میں کچھ عربی اور فارسیالفاظ کا انجذاب مقامی زبان میں ضرور ہوا ہوگا اس سے کسی نئی زبان کیابتداءکا قیاس شاید درست نہ ہوگا۔“

اس دور کے بعض سیاحوں نے یہاں عربی ، فارسی اور سندھی کے رواج کا ذکر ضرور کیا ہے مگر ان بیانات سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ یہاں کسی نئی مخلوط زبان کا وجود بھی تھا۔ البتہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ سندھی اور ملتا نی میں عربی اور فارسی کی آمیزش ہوئی ہوگئی۔ اس آمیز ش کا ہیولیٰ قیاس کرنا کہاں تک مناسب ہے۔ خاطر خواہ مواد کی عدم موجودگی میں اس کا فیصلہ کرنا دشوار ہے۔
پنجاب میں اردو:۔
حافظ محمود شیرانی نے اپنے گہرے لسانی مطالعے اور ٹھوس تحقیقی بنیادوں پر یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ اردو کی ابتداءپنجاب میں ہوئی۔ ان کے خیال کے مطابق اردو کی ابتداءاس زمانے میں ہوئی جب سلطان محمو د غزنوی اور شہاب الدین غوری ہندوستان پر باربار حملے کر رہے تھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں فارسی بولنے والے مسلمانوں کی مستقل حکومت پنجاب میں قائم ہوئی اور دہلی کی حکومت کے قیا م سے تقریباً دو سو سال تک یہ فاتحین یہاں قیام پذیر رہے۔ اس طویل عرصے میں زبان کا بنیادی ڈھانچہ صورت پذیر ہوا اس نظریے کی صداقت کے ثبوت میں شیرانی صاحب نے اس علاقے کے بہت سے شعراءکا کلام پیش کیا ہے ۔ جس میں پنجابی ،فارسی اور مقامی بولیوں کے اثرات سے ایک نئی زبان کی ابتدائی صورت نظرآتی ہے۔ ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار اس سلسلہ میں لکھتے ہیں :

” سلطان محمود غزنوی کی فتوحا ت کے ساتھ ساتھ برصغیر کی تاریخ کا ایک نیادور شروع ہوا۔ فتوحات کا یہ سلسلہ 1000ءسے 1026ک جاری رہا اور پنجاب و سندھکے علاوہ قنوج ، گجرات (سومنات) متھرا اور کالنجر تک فاتحین کے قدم پہنچےلیکن محمود غزنوی نے ان سب مفتوحہ علاقوں کو اپنی سلطنت میں شامل نہ کیاالبتہ 1025ءمیں لاہور میں اپنا نائب مقرر کرکے پنجاب کو اپنی قلم رو میںشامل کر لیا۔ نئے فاتحین میں ترک اور افغان شامل تھے۔ غزنوی عہد میں مسلمانکثیر تعداد میں پنجاب میں آباد ہوئے ، علماءاور صوفیا نے یہاں آکر رشد وہدایت کے مراکز قائم کیے اور تبلیغ دین کا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میںمقامی باشندے گروہ درگروہ اسلام قبول کرنے لگے اس سماجی انقلاب کا اثر یہاںکی زبان پر پڑا ۔ کیونکہ فاتحین نے پنجاب میں آباد ہو کر یہاںکی زبان کوبول چال کے لیے اختیار کیا۔ اس طرح غزنوی دور میں مسلمانوں کی اپنی زبان ،عربی ، فارسی اور ترکی کے ساتھ ایک ہندوی زبان کے خط و خال نمایا ں ہوئے۔“

مسلمان تقریباً پونے دو سو سال تک پنجاب ، جس میں موجودہ سرحدی صوبہ اور سندھ شامل تھے حکمران رہے۔ 1193ءمیں قطب الدین ایبک کے لشکروں کے ساتھ مسلمانوں نے دہلی کی طرف پیش قدمی کی اور چند سالوں کے بعد ہی سارے شمالی ہندوستان پر مسلمان قابض ہوگئے۔ اب لاہور کی بجائے دہلی کو دارالخلافہ کی حیثیت حاصل ہو گئی تو لازماً مسلمانوں کے ساتھ یہ زبان جو اس وقت تک بول چال کی زبان کا درجہ حاصل کر چکی تھی، ان کے ساتھ ہی دہلی کی طر ف سفر کر گئی ۔
تاریخی اور سیاسی واقعات و شواہد کے علاوہ پرفیسر محمود خان شیرانی ، اردو اور پنجابی کی لسانی شہادتوں اور مماثلتوں سے دونوں زبانوں کے قریبی روابط و تعلق کو واضح کرکے اپنے اس نظرے کی صداقت پر زور دیتے ہیں کہ اردو کا آغاز پنجاب میں ہوا۔ فرماتے ہیں:۔

” اردو اپنی صرف و نحو میں پنجابی و ملتانی کے بہت قریب ہے۔ دونوں میںاسماءو افعال کے خاتمے میں الف آتا ہے اور دونوں میں جمع کا طریقہ مشترک ہےیہاں تک کہ دونوں میں جمع کے جملوں میں نہ صرف جملوں کے اہم اجزاءبلکہ انکے توابعات و ملحقات پر بھی ایک باقاعدہ جاری ہے۔ دنوں زبانیں تذکیر وتانیث کے قواعد ، افعال مرکبہ و توبع میں متحد ہیں پنجابی اور اردو میںساٹھ فی صدی سے زیادہ الفاظ مشترک ہیں۔“

مختصراً پروفیسر شیرانی کی مہیا کردہ مشابہتوں اور مماثلتوں پر نظر ڈالیں تو دونوں زبانوں کے لسانی رشتوں کی وضاحت ہو جاتی ہے اور یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اردو اپنی ساخت اور صرفی و نحوی خصوصیات کی بناءپر پنجابی زبان سے بہت زیادہ قریب ہے اور اس سے بھی پروفیسر موصوف کے استدلال کو مزید تقویت پہنچتی ہے۔
پروفیسر سینٹی کمار چیٹر جی نے بھی پنجاب میں مسلمان فاتحین کے معاشرتی اور نسلی اختلاط کا ذکر کیا ہے اور ڈاکٹر زور کے نقطہ نظر کی تائید کی ہے ۔ ان کے خیال میں قدرتی طور پر مسلمانوں نے جو زبان ابتداً اختیار کی وہ وہی ہوگی جو اس وقت پنجاب میں بولی جاتی تھی وہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں پنجابی زبان خاص طور پر مشرقی پنجاب اور یو ، پی کے مغربی اضلاع کی بولیوں میں کچھ زیادہ اختلاف نہیں اور یہ فرق آٹھ، نو سال پہلے تو اور بھی زیادہ کم ہوگا۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ وسطی و مشرقی پنجاب اور مغربی یوپی میں اس وقت قریباً ملتی جلتی بولی رائج ہو۔ مزید براں پروفیسر موصوف حافظ شیرانی کی اس رائے سے بھی متفق دکھائی دیتے ہیں کہ پنجاب کے لسانی اثرات کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔
حافظ محمود شیرانی کی تالیف”پنجاب میں اردو“ کی اشاعت کے ساتھ ہی مولانا محمد حسین آزاد کے نظریے کی تردید ہو گئی جس میں وہ زبان کی ابتداءکے بارے میں اردو کا رشتہ برج بھاشا سے جوڑتے ہیں۔ پنجاب میں اردو کا نظریہ خاصہ مقبول رہا مگر پنڈت برج موہن و تاتریہ کیفی کی تالیف ”کیفیہ“ کے منظر عام پر آنے سے یہ نظریہ ذرا مشکوک سا ہو گیا ۔ مگر خود پنڈت موصوف اردو کی ابتداءکے بارے میں کوئی قطعی اور حتمی نظریہ نہ دے سکے۔ یوں پروفیسر اخترشیرانی کے نظریے کی اہمیت زیادہ کم نہ ہوئی۔
دہلی میں اردو:۔
اس نظریے کے حامل محققین اگرچہ لسانیات کے اصولوں سے باخبر ہیں مگر اردو کی پیدائش کے بارے میں پنجاب کو نظر انداز کرکے دہلی اور اس کے نواح کو مرکزی حیثیت دیتے ہیں ۔ لیکن دہلی اور اس کے نواح کی مرکزیت اردو زبان کی نشوونما اور ارتقاءمیں تو مانی جا سکتی ہے ابتداءاور آغاز میں نہیں۔ البتہ ان علاقوں کو اردو کے ارتقاءمیں یقینا نمایاں اہمیت حاصل ہے ۔ دہلی اور اس کے نواح کو اردو کا مولد و مسکن قرار دینے والوں میں ڈاکٹر مسعود حسین اور ڈاکٹر شوکت سبزواری نمایاں ہیں۔وہ اس بارے میں لکھتے ہیں کہ :

” یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ارد و کی ابتداءکا مسلمانوں سے یا سرزمین ہندمیں ان کے سیاسی اقتدار کے قیام اور استحکام سے کیا تعلق ہے۔ اردو میرٹھاور دہلی کی زبان ہے اس کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہمیں اچھی طرح معلومہے کہ اردو اپنے ہار سنگھار کے ساتھ دہلی اور یوپی کے مغربی اضلاع میںبولی جاتی ہے لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اس زبان کاآغاز انہی اضلاع میںہوا یا کسی اور مقام میں جہاں سے اسے دہلی اور یوپی کے مغربی اضلاع میںلایا گیا۔“

ان نظریات کے علاوہ میر امن ، سرسید اور محمد حسین آزاد نے بھی کچھ نظریات اپنی تصانیف میں پیش کیے لیکن یہ نظریات متفقہ طور پر حقیقت سے دور ہیں اور جن کے پیش کنندگان فقدان تحقیق کا شکار ہیں۔
مجموعی جائزہ:۔
اردو کی ابتداءکے بارے پروفیسر محمود شیرانی کا یہ استدال بڑا وزن رکھتا ہے کہ کہ غزنوی دور میں جو ایک سو ستر سال تک حاوی ہے ایسی بین الاقوامی زبان ظہور پذیر ہو سکتی ہے۔ اردو چونکہ پنجاب میں بنی اس لیے ضروری ہے کہ وہ یا تو موجودہ پنجابی کے مماثل ہو یا اس کے قریبی رشتہ دار ہو۔ بہرحال قطب الدین ایبک کے فوجی اور دیگر متوسلین پنجاب سے کوئی ایسی زبان ہمراہ لے کر روانہ ہوئے جس میں خود مسلمان قومیں ایک دوسرے سے تکلم کر سکیں اور ساتھ ہی ہندو اقوام بھی اس کو سمجھ سکیں اور جس کو قیام پنجاب کے زمانے میں وہ بولتے رہے ہیں۔یوں محققین کی ان آراءکے بعد یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ قدیم اردو کا آغاز جدید ہند آریائی زبانوں کے طلوع کے ساتھ ٠٠٠١ءکے لگ بھک اس زمانے میں ہو گیا جب مسلم فاتحین مغربی ہند ( موجودہ مغربی پاکستان) کے علاقوں میں آباد ہوئے اور یہاں اسلامی اثرات بڑی سرعت کے ساتھ پھیلنے لگے۔

اردو ادب کا دکنی دور

یوں تو مسلمانوں نے دکن پر کئی حملے کیے لیکن علائوالدین خلجی کے حملے نے یہاں کی زبان اور تہذیب و تمدن اور کلچر کو کافی حد تک متاثر کیا۔ مرکزسے دور ہونے کی وجہ سے علائو الدین خلجی نے یہاں ترک سرداروں کو حکمران بنا دیا۔ بعد میں محمد تغلق نے دہلی کی بجائے دیو گری کو دارالسلطنت قرار دیے کر ساری آبادی کووہاں جانے کا حکم دیا۔ جس کی وجہ سے بہت سے مسلمان گھرانے وہاں آباد ہوئے۔ محمد تغلق کی سلطنت کمزور ہوئی تو دکن میں آزاد بہمنی سلطنت قائم ہوئی اور دکن، شمالی ہندوستان سے کٹ کر رہ گیا۔ بعد میں جب بہمنی سلطنت کمزور ہوئی تو کئی آزاد ریاستیں وجود میں آگئیں۔ ان میں بیجا پور کی عادل شاہی حکومت اور گولکنڈ ہ کی قطب شاہی حکومت شامل تھی۔ ان خود مختار ریاستوں نے اردو زبان و ادب کے ارتقاءمیں اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے علم و فضل اورشعراءو ادبا دکن پہنچے۔ آیئے اب بیچاپور کی عادل شاہی سلطنت کے تحت اردو کے ارتقا ءکا جائزہ لیں۔
بیجا پور کی عادل شاہی حکومت:۔
عادل شاہی حکومت کی بنیاد 895ءہجری میں پڑی۔ یہاں کا پہلا حکمران یوسف عادل شاہ تھا۔ بہمنی ریاست کے زوال کے بعد یوسف شاہ نے اپنی آزاد حکومت قائم کی۔ یہ حکومت دو سو سال تک قائم رہی اور نو بادشاہ یکے بعد دیگرے حکومت کرتے رہے۔ ابتدائی صدی میں دکنی زبان کی ترقی کے لیے کچھ خاص کام نہیں ہوا اور ایرانی اثرات ، شیعہ مذہب اور فارسی زبان دکنی زبان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ بنے ۔ لیکن اس کے برعکس دور عادل شاہی کی شاہی سرپرستی دوسری صدی میں اردو و ادب کی ترقی میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ابراہیم عادل شاہ ثانی اور ان کے جانشین محمد عادل شاہ نے اس سلسلے میں دکنی زبان کی جانب خصوصی توجہ دی۔ محمد عادل شاہ کے جانشین علی عادل شاہ ثانی نے دکنی کو اپنی زبان قرار دیا۔ چنانچہ اس صدی میں شاہی سرپرستی کی وجہ سے ادب میں درباری رنگ پیدا ہوا۔ اصناف سخن کی باقاعدہ تقسیم ہوئی۔ قصیدے اور غزلیں کہی گئیں اور شاعری کا ایک اعلیٰ معیار قائم ہوا۔اس کے علاو ہ صوفیا نے بھی یہاںکی زبان پر گہرے اثرات چھوڑے۔
عادل شاہی دور میں اردو کے فروغ و ترویج کے مختصر جائزے کے بعد آئیے اب اس دور کے شاعروں کا مختصر تذکرہ کریں تاکہ زبان و ادب کے ارتقاءکا اندازہ ہو سکے۔

اشرف بیابانی :۔
شاہ اشرف کے آبائو اجداد کا تعلق سندھ سے تھا۔ آپ جنگلوں ، بیابانوں میں رہنے کی وجہ سے بیابانی مشہور ہوئے۔ ان کی تصانیف میں مثنوی ”نوسر ہار“ نمایان حیثیت کی حامل ہے۔ جس میں واقعات کربلا کا ذکر ہے۔ ساتھ ہی امام حسین کی شہادت کے واقعات کو بڑے موثر اوردرناک انداز میں بیان کیا ہے۔اس مثنوی کے علاوہ ”لازم المبتدی“، ”واحد باری“ دو منظوم فقہی مسائل کے رسالے ہیں۔ ایک اور تصنف ”قصہ آخرالزمان “ کا ذکر بھی آتا ہے۔
شاہ میراں جی شمس العشاق:۔
شاہ میراں جی بڑے عالم فاضل آدمی تھے ۔بقول ڈاکٹر نذیر احمد انہوں نے بیجاپورمیں ایسے خاندان کی بنیاد ڈالی جس میں ان کے جانشین یکے بعد دیگرے کئی پشت تک صاحب علم اور صاحبِ ذوق ہوتے رہے۔ ان کے دو فرزندوں کے نام ملتے ہیں ایک برہان الدین جانم اور دوسرے خواجہ عطا اللہ ۔ شاہ میراں جی کو جو تصانیف ہم تک پہنچی ہیں ان میں ”خوش نامہ “ ”خوش نغز“ ،”شہادت الحقیقت“ اور ”مغزمرغوب“ نظم میں ہیں اور ”مرغوب القلوب“ نثر میں۔ ان کا موضوع تصوف ہے ۔ یہ تصانیف مریدوں اور عام طالبوں کے لیے بطور ہدایت لکھی گئی ہیں۔
شاہ برہان الدین جانم:۔
برہان الدین جانم شاہ میراں جی شمس العشاق کے بیٹے اور خلیفہ تھے۔ انہوں نے نثر اور نظم دونوں میں عارفہ خیالات اور تصوف کے مسائل پیش کیے ہیں۔ چنانچہ یہ رسالے ادبی نقطۂ نظر سے زیادہ لسانی اعتبار سے اہمیت رکھتے ہیں اور ان سے اردو زبان کے ارتقاءکو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔”ارشاد نامہ“ ان کی خاصی طویل نظم ہے جس میں تصوف کے اہم مسائل طالب اور مرشد کے مابین سوال و جواب کی شکل میں بیان کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ”حجتہ البقائ“ ،”وصیت الہادی“ ”سک سہیلا“ اور کئی دوہے اور خیال بھی ان سے منسوب ہیں۔
ابراہیم عادل شاہ:۔
ابراہیم عادل شاہ اس دور کاچھٹا حکمران تھا اسے فنون لطیفہ سے بڑی دلچسپی تھی چنانچہ اس کے عہد میں بیجا پور علم و اد ب کا مرکز بن گیا۔ بادشاہ کو شعر وسخن سے گہرا لگائو تھا وہ خود بھی شعر موزوں کہا کرتا تھا۔ تاریخ سے بھی دلچسپی تھی اور خوش نویسی میں بھی طاق تھے۔ ابراہیم کو موسیقی سے گہرا شغف تھاجس کا واضح ثبوت اس کی کتاب”نورس “ ہے۔ جس میںابراہیم نے مختلف راگ راگنیوں کے تحت اپنے نظم کیے ہوئے گیت پیش کیے ہیں۔
عبدل:۔
عبدل ابراہیم عادل شاہ کے دور کا مشہور شاعر تھا۔ ان کے حالات زندگی نہیں ملتے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا نام عبدالقادر یا عبدالمغنی تھا۔عبدل کی صرف ایک مثنوی ”ابراہیم نامہ “ ملتی ہے۔ ”ابراہیم نامہ“ کے سات سو سے زیادہ شعر ہیں۔ اس مثنوی میں عادل شاہ کی زندگی کے حالات قلم بند ہیں۔ اگرچہ یہ ابراہیم عادل شاہ کی مکمل سوانح عمری نہیں مگر اس میں اس کی زندگی کے اہم واقعات آگئے ہیں۔عبدل کی اس مثنوی میں اس عہد کی جیتی جاگتی تصویریں ملتی ہیں۔ اس مثنوی کے ذریعے اس دور کے رسم و رواج ،آدابِ دربار و محفل ، عمارات و زیورات، سیر و شکار وغیرہ موضوعات پر قابل قدر معلومات پیش کی گئی ہیں۔
صنعتی بیجاپوری:۔
صنعتی کا نام محمد ابراہیم تھا۔ صنعتی کی دو مثنویاں ملتی ہیں۔ ”قصہ تمیم انصاری“ اور مثنوی ”گلدستہ“ ۔ ”قصہ تمیم انصاری “ ایک صاحب حضرت تمیم انصاری سے متعلق ہے ۔ جو اپنے گھر سے غائب ہو گئے اور طلسمات میں پھنس گئے اور کئی سال تک مصیبتیں جھیلتے رہے۔
ادبی نقطۂ نظر سے صنعتی کی مثنویوں میں سادگی اور شگفتگی کے ساتھ ساتھ دوسری خوبیاں بھی ہیں۔ مثنوی ”گلدستہ “ عشقیہ داستان ہے۔
ملک خوشنود:۔
ملک خوشنود گولکنڈہ کی قطب شاہی سلطنت کا غلام تھا جب سلطان کی پھوپھی خدیجہ سلطان کی شادی محمد عادل شاہ سے ہوئی تو ملک خوشنود بھی خدیجہ سلطان کے سامان کی حفاظت کے لیے روانہ کیا گیا۔ راستے میں اس نے اس عمدگی سے کام کیا کہ خدیجہ سلطان نے اسے ایک اعلیٰ عہدے پر مامور کیا۔ ملک خوشنود نے متعدد غزلیں اور قصیدے لکھے ہیں۔ اور امیر خسرو کی فارسی مثنویوں کا اردو ترجمہ بھی کیا جن میں ”یوسف زلیخا“،”بازار حسن “ اور ”ہشت بہشت “شامل ہیں۔
کمال خان رُستمی :۔
رستمی قادر الکلام شاعر تھے ۔اس نے غزلوں اور قصیدوں کے علاوہ ایک ضخیم مثنوی ”خاور نامہ “ بھی لکھی۔ رستمی نے یہ مثنوی خدیجہ سلطان شہربانو یعنی ملکہ عادل شاہ کی فرمائش پر لکھی تھی۔ یہ مثنوی اصل میں حسام کی فارسی مثنوی خاو ر نامہ کا ترجمہ ہے ۔اس مثنوی میں ایک فرضی داستان نظم کی گئی ہے جس کے ہیرو حضرت علی ہیں جو کئی ملکوں کے بادشاہوں سے جنگ کرتے اور جنوں پریوں سے مقابلہ کرتے ہیں ان کا مقصد تبلیغ اسلام ہے۔ یہ مثنوی کئی اعتبار سے اہم ہے مثلاً یہ اردو کی پہلی ضخیم رزمیہ مثنوی ہے۔ ضخیم ہونے کے باوجود اس میں تسلسل نہیں ٹوٹتے پاتا۔اس کے علاوہ مختلف مواقع پر عادل شاہی عہد کی تہذیب و معاشرت کے مرقعے پیش کیے ہیں۔ اسلوب بیان بھی سادہ اور سلیس ہے۔ یہ مثنوی چوبیس ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ جسے رستمی نے ڈھائی سال کی قلیل مدت میں مکمل کیا ہے۔
حسن شوقی:۔
شیخ حسن نام اور شوقی تخلص تھا۔ ان کے حالات زندگی کے متعلق ہم لا علم ہیں۔ شوقی کی دو مثنویاں ملتی ہیں۔ ”فتح نامہ نظام شاہ “اور ”میزبانی نامہ “۔
”فتح نامہ نظام شاہ “ میں جنگ تلی کوٹہ کا حال بیان کیا ہے۔ جس میں قطب شاہی، عادل شاہی اور نظام شاہی حکومتوں نے مل کر بیجا نگر کے راجہ سے مقابلہ کیا اور اس کا خاتمہ کرکے علاقہ آپس میں تقسیم کر لیا۔ مثنوی میں اس دور کے تمدن ہندوئوں مسلمانوں کے آپس میں تعلقات سبھی چیزیں واضح ہو جاتی ہیں۔ دوسری مثنوی ”میزبانی نامہ “میں شوقی نے سلطان کی شہر گشت اور وزیراعظم مصطفےٰ خان کی بیٹی کی شادی اور اس کی مہان نوازی کا کاتفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ شوقی غزل گو بھی تھے۔
علی عادل شاہ ثانی شاہی:۔
محمد عادل شاہ کے بیٹے تھے۔ ان کی پرورش خدیجہ سلطان شہر بانو کی نگرانی میں ہوئی جو خود علم و ادب کی پرستار اور شعراءکی قدر دان تھی۔ ملک خوشنود اور رستمی کی صحبت نے بچپن میں ہی اس کے ذوق سخن کو نکھارا۔ باپ کے انتقال پر 1067ھ میں تخت نشین ہوا۔
شاہی نے تقریباًً تمام اصناف میں طبع آزمائی کی ۔ اردو کے علاوہ ہندی فارسی میں شعر کہتا تھا۔کلیاتِ شاہی میں قصیدے ، مثنویاں ، غزلیں ، مخمس، مثمن ،رباعیات اور گیت دوہے موجود ہیں۔ شاہی کی غزلوں کا اظہا ر و اسلوب لب و لہجے میں ندرت اور بانکپن پایا جاتا ہے ۔ اس نے تشبیہوں کو مقامی رنگ دیا اور ہندوستانی روایات اور ہندو دیومالا کو بڑی چابک دستی سے غزل میں کھپایا ہے۔ اس سے اسکے گہرے مشاہدے وسیع مطالعے اور شاعرانہ باریک بینی اور بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔
ملک الشعراءنصرتی :۔
محمد نصرت نام اور نصرتی تخلص کرتے تھے۔ نصرتی نے بیجا پور کے تین بادشاہوں کا زمانہ دیکھا ۔ علی عادل شاہ کے زمانے میں وہ شہید ہوئے ۔ اب تک ان کی چار کتب کا پتہ چلا ہے۔ یعنی ”گلشن عشق“ ”علی نامہ “ ”تاریخ اسکندری“ اورکلیات نصرتی ۔
گلشن عشق ایک عشقیہ مثنوی ہے جس میں کنور منوہر اور مدماتی کا قصہ نظم کیا گیا ہے۔ ”علی نامہ “ علی عادل شاہ کی سوانح عمری ہے جس میں نصرتی کے قصائد بھی شامل ہیں۔نصرتی کی دونوں مثنویاں اس کے کمال فن اور قدرت کلام کی بہترین شہادتیں ہیں۔نصرتی کی تیسری مثنوی ”سکندر نامہ“ ہے ۔ اس میں سکندر عادل شاہ کی وفات پر شیوا جی اور عادل شاہی فوجوں کے درمیان لڑائی ہوئی اس کا ذکر ہے۔ لیکن اس میں ”علی نامہ “ اور ”گلشن عشق“ جیسا زور بیان اور شگفتگی نہیں ۔ نصرتی صرف مثنوی نگار نہیں تھا بلکہ ایک با کمال غزل گو بھی تھا۔اگرچہ اس کی غزل بہت کم تعداد میں میسر ہے تاہم اس کی غزل میں بے ساختگی ، سلاست اور روانی محسوس ہوتی ہے۔
سید میراں ہاشمی :۔
ہاشمی کا نام سید میراں تھا۔ وہ علی عادل شاہ ثانی کے عہد کا شاعر تھا۔ ہاشمی مادر زاد اندھا تھا۔ بادشاہ کے دربار میں اسے خاصی مقبولیت حاصل تھی۔ ہاشمی نے ایک دیوان اور مثنوی ”یوسف زلیخا“ چھوڑے ۔ اس کے دیوان کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہاشمی کو دکن کی عورتوں کی زبان پر عبور حاصل ہے۔ اس کے دیوان میں ریختی کے انداز کی غزلیں بھی موجود ہیں۔ اس یے کچھ لوگ اسے ریختی کا موجد قرار دیتے ہیں۔
سن آوے تو پردے سے نکل کر بہار بیٹھوں گی
بہانہ کرکے موتیاں کا پروتی ہار بیٹھوں گی
اگر مجموعی طو پر دیکھا جائے تو عادل شاہی دور میں نثری تصانیف کے علاوہ شاعری نے بہت ترقی کی۔ اس دور کے شعراءنے ہر صنف سخن مثلاً مثنوی ، قصیدہ ، مرثیہ ، غزل ، رباعی، گیت اور دوہے سب میں طبع آزمائی کی۔اس دور میں پہلی بار عشقیہ اور رزمیہ مثنویاں لکھی گئیں۔ مثنوی کے علاوہ قصیدہ نگاری کا آغاز ہوااور غزل کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس دور کی غزل میں عورت کی طرف سے اظہارِ عشق پر زور ہے۔ عشق کا تصور بھی جسم کو چھونے ، لطف اندوز ہونے اور رنگ رلیاں منانے کی سطح پر ہے۔ اسی دور میں ریختی کا پہلا دیوان مرتب ہوا۔ غرضیکہ اس دور میں شاعری کی تمام اصناف سخن کو نمائندگی ملی۔ زبان کو بھی ترقی نصیب ہوئی ۔ جہاں تک نثری ادب کا تعلق ہے اس کا موضوع زیادہ تر مسائل تصوف تک محدود ہے۔
قطب شاہی دور
قطب شاہی سلطنت کا بانی سلطان قلی شاہ تھا۔ سلطان قلی شاہ بھی عادل شاہی سلطنت کے بانی یوسف خان عادل کی طرح ایران سے جان بچا کر دکن آیا اور اپنی اعلیٰ صلاحیتوں ، قابلیت ، وفاداری اور سخت کوشی کی بنا پر ترقی کی منزلیں طے کیں اور صوبہ تلنگانہ کا صوبہ دار بن گیا۔ بہمنی سلطنت کے زوال کے بعد اپنی خود مختیاری کا علان کیا اور دکن میں ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جو کم و بیش ایک سو اسی برس تک قائم رہی ۔
قطب شاہی سلاطین علم و ادب سے خاص لگائو رکھتے تھے اور اہل ہنر کی قدردانی کرتے تھے۔ چنانچہ ان کی سرپرستی میں مختلف علوم و فنون نے ترقی کی۔قطب شاہی دور کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
١) ابتدائی کوشش جو 1508ءسے 1580 تک ہوئیں
٢) عروج کا زمانہ جو 1580ءسے 1676ءتک جاری رہا۔
٣) دور انتشار جو 1676ءسے شروع ہو کر 1687ءپرختم ہوا۔
تیسرا دور چونکہ حکومت کمزور ہونے کی وجہ سے انتشار کا دور ہے اس لیے اس دور میں علم وادب کے حوالے زیادہ قابلِ ذکر کام نہیں ہوا۔ آئیے ابتدائی دو ادوار کا جائزہ لیتے ہیں۔
پہلا دور:۔
گولکنڈہ کے ابتدائی دور کے چار بادشاہ ، سلطان قلی، جمشید قلی، سبحان قلی اور ابراہیم قلی اپنی سلطنت کے استحکام میں مصروف رہے اور انتظام کی طرف زیادہ توجہ کی لیکن یہ بادشاہ بھی صاحب ذوق تھے۔ اس طرح ابراہیم کی کوششوں سے ہی گولگنڈہ میں علمی و ادبی فضا ءپیدا ہوئی اور عوام اردو زبان میں دلچسپی لینے لگے۔اس دور میں فارسی شعراءکو فروغ حاصل ہوا لیکن ابراہیم کے عہد میں اردو شعراءمیں ملا خیالی، ملا فیروز اور سید محمود کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
دوسرا دور :۔
قطب شاہی سلطنت کا یہ دور صحیح معنوں میں علم و ادب کی ترقی اور عروج کادور ہے۔ کیونکہ ابراہیم قطب شاہ نے جس طرح اہل علم و فضل کی قدردانی کی تھی اس کی وجہ سے دور دور سے اہل علم و فضل آکر دکن میں جمع ہو چکے تھے۔ ابراہیم قطب شاہ کی وفات پر گولکنڈہ کو محمد قلی قطب شاہ جیسا حکمران نصیب ہوا۔ محمد قلی قطب شاہ کا دور کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے ۔اس کا دور پرامن دور تھا۔ایسے پرامن اور خوشحال زمانے میں جب بادشاہ خود شعر و شاعری کا دلدادہ ہو اور اس کے دربار میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیرا موجود ہو تو طاہر ہے کہ دوسرے میدانوں کی طرح علم و ادب کے میدان میں بھی زبردست ترقی ہوئی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں ہمیں ملا وجہی ، غواصی، احمد، ابن نشاطی وغیر ہ جیسے بلند پایہ شاعروں اورادیبوں کے نام نظر آتے ہیں۔ ذیل میں ہم اس دور کے مشہور شعراءاو رادبا کا تفصیل کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔
قلی قطب شاہ:۔
قلی قطب شاہ گولکنڈ ہ کے پانچویں فرما رواں تھے۔ محمد قلی قطب شاہ اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر ہے۔ بقول ڈاکٹر محی الدین قادری ، وہ اردو زبان وادب کا محسن اعظم ہے۔ انتظام سلطنت کے بعد اسے اگر کسی چیز سے دلچسپی تھی تو اردوسخن ہی تھا۔ اس نے ابتدائی ایام میں اردو کی سرپرستی کی اور اسے اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کا وسیلہ بنا کر ایک نئی توانائی بخشی ۔
قلی قطب شاہ نے ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی لیکن اس کی غزلیں خاص طور سے قابلِ توجہ ہیں۔ ان غزلوں میں ہندی اثرات ہونے کی وجہ سے اظہار محبت عورت کی طرف سے ہے۔ اس کی غزل میں سوز و گداز بھی ہے اور جذبات کی بے ساختگی بھی ملتی ہے۔ اس نے غزل کے موضوعات میں اضافہ کیا اور اسے محض غم ِ جاناں تک محدود نہیں رکھا۔
تیری الفت کا میں سرمست ہور متوال ہوں پیارے
نہیں ہوتا بجز اس کے کسی مئے کا اثر مجھ کو
محمد قلی قطب شاہ کے دیوان میں بڑا تنوع اور رنگا رنگی ہے۔ اس نے مختلف موضوعات پر نظمیں لکھیں۔ اس کے دیوان میں نیچر ل شاعری کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے ہاں ہلا ل عید، ترکاری ، پھل ، پھول ، سالگرہ ، رسم جلوہ، دیگر روسومات شادی بیاہ ، شب معراج ، عید رمضان ، عیدالضحیٰ، وغیرہ پر بھی نظمیں ملتی ہیں۔ جو کہ اس وقت کے دکن کی مکمل تصویر کشی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
ملا وجہی:۔
محمد قلی قطب کے ہم عصر شعراءمیں ملا وجہی سب سے بڑا شاعر ہے۔ وجہی کا سب سے بڑا کارنامہ اردو پہلی نثری کتاب ”سب رس “ ہے۔ جو کہ فتاحی نیشاپوری کی کہانی ”حسن و دل “ کا اردو ترجمہ ہے۔”سب رس “ کئی حوالوں سے بہت اہم کتاب ہے۔ اس کی عبارت مسجع و مقفٰی ہے ۔ لیکن اردو انشائیہ نگاری کے ابتدائی خطوط ہمیں ملا وجہی کے ہاں ہمیں اس کتاب میں نظر آتے ہیں۔
وجہی نے 1400ءمیں ایک مثنوی ”قطب مشتری “ کے نام سے لکھی اس میں اُس نے بھاگ متی کے ساتھ بادشاہ کے عشق کی داستان بیان کی ہے۔ مگر صاف صاف نام لکھنے کی بجائے بھاگ متی کی جگہ مشتری لکھااور اسے بنگال کی شہزادی بتایا ہے۔ قطب مشتری وجہی کے شاعرانہ کمال کااعلیٰ نمونہ ہے اس میں زبان کی برجستگی اور صفائی کے علاوہ مرقع نگاری کے عمدہ نمونے بھی ملتے ہیں ۔ جن سے اس دور کی مجلسی اور تہذیبی زندگی پر روشنی پڑتی ہے۔
سلطان محمد قلی شاہ:۔
سلطان محمد ”قلی قطب شاہ “ کا بھتیجا اور داماد تھا جو اس کی وفات کے بعد تخت نشین ہوا۔ وہ خود شاعر تھا لیکن نغمہ اور عشقیہ شاعری سے پرہیز کرتا تھا۔ اس نے اردو فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہے۔ اسے علم وفضل او ر تاریخ سے گہرا لگائو تھا۔ اس کی شاعری پربھی تصوف،مذہب اور فلسفہ کا اثر نمایاں ہے۔ وہ ظل اللہ تخلص کرتا تھا۔ مگر اس کا دیوان نایاب ہے۔
ملک الشعراءغواصی:۔
غواضی کو گولکنڈہ کا ملک شعراءسمجھا جاتا ہے ۔ محمد قلی قطب شاہ کے عہد میں وجہی کو غواضی کے شاعرانہ کمال نے حسد میں مبتلا رکھا ۔ اور اسے دربار سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ جس کے وجہ سے قلی قطب شاہ کے دربار میں غواضی کو اپنے کمال کی داد نہ مل سکی ۔مگر عبداللہ قطب شاہ کے تخت نشین ہوتے ہیں غواضی نے اپنی مثنوی ” سیف الملوک و بدیع الجمال “ میں معمولی رد بدل کرکے اسے سلطان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ چنانچہ غواصی کو ملک الشعراءبنا دیا گیا۔ غواصی کی دوسری مثنوی ”طوطی نامہ “ پہلی مثنوی سے زیادہ ضخیم اور دلچسپ ہے۔ یہ دراصل فارسی کے ”طوطی نامہ “ کا ترجمہ ہے۔ ”طوطی نامہ “ کی زبان اس کی پہلی مثنوی سے زیادہ سلیس اور دلکش ہے مگر شاعرانہ خصوصیات اور نزاکتیں پہلی مثنوی میں زیادہ ہیں۔ ا سکے علاوہ غواصی کی ایک اور مثنوی ”مینا ستونتی “ کچھ عرصہ قبل دریافت ہوئی ہے۔ مثنوی کے علاوہ اس کے کلام میں غزل ، قصیدہ اور مرثیہ بھی ملتے ہیں۔
سلطان عبداللہ قطب شاہ:۔
عبداللہ قطب شاہ گولکنڈہ کا ساتواں حکمران تھا۔ اس کی عادات و خصائل اپنے نانا قطب شاہ سے بہت ملتی جلتی تھیں۔ چنانچہ اس کے عہد میں وہ تمام رنگ رلیاں اور تقاریب پھر سے جاریہوگئیں جو سلطان محمد کے عہد میں منسوخ تھیں۔ سلطا ن کو شعر و سخن سے بہت زیادہ لگائو تھا۔ اُسی نے فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں شعر کہے۔ اُس نے موسیقی کے متعلق بھی ایک کتاب لکھی۔ سلطان نے حافظ کی غزلوں کے ترجمے بھی کیے۔ عبداللہ قطب شاہ جمالیاتی اعتبار سے محمد قلی قطب شاہ کی روایت کے شاعر ہیں۔ اس کے ہاں متعلقات حسن کا ذکر کثرت سے ہے۔ اس کے اشعار میں مغل دور کے جمالیاتی طرز احساس کی جھلکیاں نظرآتی ہیں۔
ابن نشاطی:۔
شعرائے گولکنڈہ میں ابن نشاطی ایک عظیم فنکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی زندگی کے حالات معلوم نہیں۔ ”پھول بن “ ان کی لافانی مثنوی ہے۔ جس سے اس کے بارے میں کچھ کچھ اشارے ملتے ہیں۔ نشاطی نہ صرف شاعر تھا بلکہ انشاءپرداز بھی ۔ وہ درباری شاعر کی بجائے ایک عوامی فنکار تھا جو دربار سے زیادہ عوام میں مقبول تھا۔ زبان کی سادگی اور سلاست کے اعتبار سے مثنوی ” پھول بن“شاعری کا اچھا نمونہ کہی جا سکتی ہے۔
طبعی :۔
ڈاکٹر زور کے نزدیک طبعی ، ابن نشاطی کے بعد حیدر آباد کا سب سے بڑا استاد سخن گزرا ہے۔ ابن نشاطی کی طرح وہ بھی آزاد منش تھا۔ اس نے بھی دربار سے کوئی تعلق نہ رکھا۔ طبعی نے ١٧٠١ءمیں مثنوی ”بہر و گل اندام “ لکھی ۔ جودکنی اردو کے بہترین کارناموں میں سے ہے۔ زبان کی سلاست اور شستگی قابل ِ داد ہے۔اس کی یہ مثنوی نہ صرف زبان کے اعتار سے بلکہ ادبی اعتبار سے فن کے اعلیٰ نمونوں میں شمار ہوتی ہے۔ طبعی نے شاعرانہ تشبیہات و استعارات میں مقامی اور فارسی دونوں روایتوں کو ملا دیا ہے۔
مجموعی طور سے دیکھا جائے تو اس عہد میں اردو زبان و ادب کو بہت زیادہ فروغ حاصل ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ جہاںقطب شاہی حکمران اہل علم و ہنر کی سرپرستی کرتے تھے وہاں ان میں سے اکثر و بیشتر شعر و شاعری کے رسیا تھے۔ ان کے دور میں قصیدہ ، مثنوی ، غزل کے میدان میں کافی کام ہوا ۔ زبان کی ابتدائی صورت ہونے کے باوجود بہترین تخلیقات منظر عام پر آئیں۔
ولی دکنی :۔
ولی کے خاندان ،مقام پیدائش اورتاریخ وفات سبھی کے متعلق وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ بعض محققین کے خیال میں احمد نگر میں پیدا ہوئے۔ لیکن میر تقی میر کے نکات الشعراءکے حوالے سے جائے پیدائش اورنگ آباد اور سنہ ولادت 1668ءتسلیم کیا جاتا ہے۔ نام بھی نزاعی ہے لیکن ڈاکٹر جمیل جالبی ، ولی محمد کو اصل نام تسلیم کرتے ہیں۔
ولی کو بلاشبہ جنوبی ہند ہی نہیں بلکہ اردو کے عظیم شعراءمیں شما ر کیا جا سکتا ہے بلکہ عابد علی عابد نے تو ٹی ایس ایلیٹ کے معیار کے مطابق صرف ولی کو اردو شاعری میں ”کلاسیک “ کی مثال تسلیم کیاہے۔دکنی شعرا ءنے غزل کے ڈھانچے کو تو اپنایا لیکن اس کے مزاج سے پوری طرح شیر و شکر نہ ہو سکے۔ چنانچہ ان کی غزل پر ہندی شاعری کے اثرات نمایاں ہیں۔ لیکن ولی نے لسانی اجتہاد سے کام لیتے ہوئے فارسی شاعری کا بغور مطالعہ کیا۔ غزل کے مزاج کو سمجھا اور فارسی غزل سے استفادہ کرتے ہوئے اردو غزل کومستحکم بنیادوں پر استوار کیا۔ ولی نے نہ صرف مضامین کو وسعت دی بلکہ لسانی اعتبار سے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔
ولی کی شاعری میں زندگی سے بھر پور لب و لہجہ ملتا ہے جو ہمیںزندگی کی زرخیزی کااحساس دلاتا ہے۔ اس کا تصور حسن نشاطیہ لے سے بھرپور ہے۔ لیکن یہ نشاطیہ انداز کبھی حد سے متجاوز نہیں ہوتا۔ولی کی شاعری میں فطرت کا تمام حسن سمٹ کرآگیا ہے۔
نہ جائوں صحنِ گلشن میں خوش آتا نہیں مجھ کو
بغیر از ماہ رو ہرگز تماشا ماہتابی کا
صنم مجھ دیدہ و دل میں گزر کر
ہوا ہے باغ ہے آب رواں ہے
ولی کا تصور عشق پاکیزہ ہے عشق کو وہ ہادی و رہبر تصور رکرتے ہیں۔ اور محبوب کے حسن و جمال کی تعریف و توصیف کرتے وقت سراپا نگاری میں دلچسپی لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صوفیانہ تصورات بھی ان کی شاعری میں ملتے ہیں۔
حسن تھا عالم تجرید میں سب سوں آزاد
طالب عشق ہوا صورت انسان میں آ
اس بات میں کوئی شک نہیںکہ شمالی ہند میں اردو شاعری کا باقاعدہ آغاز ولی کے دیوان کی بدولت ہوا۔ ان کا اثر معاصرین اور مقلدین پر موقوف نہیں بلکہ ان کے اثرات آج تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ایہام گوئی کی تحریک

ایہام سے مراد یہ ہے کہ شاعر پورے شعر یا اس کے جزو سے دو معنی پیداکرتا ہے۔ یعنی شعر میں ایسے ذو معنی لفظ کا استعمال جس کے دو معنی ہوں ۔ ایک قریب کے دوسرے بعید کے اور شاعر کی مراد معنی بعید سے ہوایہام کہلاتا ہے۔بعض ناقدین نے ایہام کا رشتہ سنسکرت کے سلیش سے بھی جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ درست نہیں کیونکہ سلیش میں ایک ایک شعر کے تین تین چار چا ر معنی ہوتے ہیں جب کہ ایہام میں ایسا نہیں ہوتا۔
اردو شاعری میں ایہام گوئی
ولی دکنی کا دیوان 1720ءمیں دہلی پہنچا تو دیوان کو اردو میں دیکھ کر یہاں کے شعراءکے دلوں میں جذبہ اور ولولہ پیدا ہوا اور پھر ہر طرف اردو شاعری اور مشاعروں کی دھوم مچ گئی۔ لیکن عجیب اتفاق ہے کہ ولی کے تتبع میں شمالی ہند میں جو شاعری شروع ہوئی اس میں سب سے نمایاں عنصر ”ایہام گوئی“ تھا۔ اس لیے اس دور کے شعراءایہام گو کہلائے۔ اس دور کی شاعری میں ایہام کو اس قدر فروغ کیوں حاصل ہوا۔ آئیے ان اسباب کا جائزہ لیتے ہیں۔
اسباب
ایہام گوئی کے بارے میں رام بابو سکسینہ اور محمد حسین آزاد دونوں کا خیال ہے کہ اردو کی ابتدائی شاعری میں ایہام گوئی کے رجحان کا ایک اہم سبب ہندی دوہوں کا اثر ہے۔ ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی کے نزدیک اس زمانے میں فارسی شعراءکا دربار اور شعر و ادب کی محفلوں میں بہت اثر تھا۔ یوں بھی ادب میں دہلی والے فارسی روایات برتتے تھے۔ اس لیے یہ بہت ممکن ہے کہ متاخرین شعرائے فارسی کے واسطے یہ چیز عام ہوئی ہو۔ اس سے واضح ہوا کہ ایک سبب ایہام گوئی کا ہندی دوہے ہیں اور دوسرا سبب متاخرینشعرائے فارسی سے متاثر ہو کر اس دور کے شعراءنے اپنی شاعری کی بنیاد ایہام پر رکھی۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کے نزدیک ہر بڑے شاعر کی طرح دیوان ولی میں بھی بہت رنگ موجود تھے۔ خود ولی کے کلام میں ایہام گوئی کا رنگ موجود ہے۔ اگرچہ ولی کے ہاں یہ رنگ سخن بہت نمایاں نہیں لیکن ہر شاعر نے اپنی پسند کے مطابق ولی کی شاعری سے اپنا محبوب رنگ چنا۔ آبرو ، مضمون ، ناجی اورحاتم ولی کے ایہام کے رنگ کو چنا۔ یوں ہم یہ کہہ سکتے ہیں ایہام کی ایک بڑی وجہ ولی کے کلام میں موجود ایہام گوئی کا رنگ بھی تھا۔

ان تین اسباب کے علاوہ ایہام گوئی کے رجحان کا ایک اور اہم سبب محمد شاہی عہد کے درباری اور مجلسی زندگی تھی۔ یہ دور بر صغیر کا نہایت بحرانی دور رہا۔ محمد شاہ گو بادشاہ تو بن گیا تھا لیکن اس میں وہ صلاحیتیں موجود نہ تھیں جو گرتی ہوئی حکومت کو سنبھال سکتیں۔ یوں اس نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے عیش و عشرت اور رقص و سرور کاسہارا لیا۔یوں طوائفوں اوربھانڈوں کی محفلیں جمنے لگیں۔ اس قسم کی مجلسی فضا میں جہاں حسن و عشق کاتصور انفرادی کے بجائے اجتماعی جذبے کی صورت اختیار کر لے تو پھر اس کے اظہار کے لیے ایسے پیرائے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں ایہام ، رعایت لفظی ، ذومعنی اور پہلو دار معنی ، ضلع جگت ، چٹکلے اور پھبتیاں وغیرہ ایسی محفلوں میں سب کو مزا دینے لگیں۔ یوں اس دور کے تہذیبی موسم اور معاشرتی زمین ایہام گوئی کے پھلنے پھولنے کے لیے نہایت مناسب تھی۔
مختصرا ان اسباب کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ ہندی دوہوں کا اثر ،فارسی کے شعرائے متاخرین کی روایت دیوان ولی میں ایہام گوئی کے رنگ کی موجود گی اور محمد شاہی عہد کی مجلسی اور تہذیبی زندگی ایہام گوئی کے رجحانات کے عام کرنے میں معاون و مدگار ثابت ہوئی۔
ایہام گو شعراء
ایہام گو ئی کے سلسلے میں آبرو ، ناجی ، مضمون ،یکرنگ ، فائز اور حاتم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
آبرو
شاہ مبارک آبرو گوالیار کے مضافات میں 1095ھ کوپیدا ہوئے۔ عالم شباب میں دلی آئے۔ شاہی ملازمت سے وابستہ رہے مگر عہد محمد شاہی میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر قلندری اور درویشی اختیار کر لی۔ان کی ابتدائی شاعری محمد شاہی دور کی آئینہ دار ہے۔ چونکہ مزاجاً وہ حسن پرست تھے۔ لہٰذا خوبصورت چیزوں سے انہیں دلچسپی تھی۔ ایہام گوئی کے باوجود ان کی شاعری میں خلوص ، سچائی اور سادگی سے اظہار جذبات کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ فارسی شاعر ی کے اثرات بھی نمایاں محسوس ہوتے ہیں ، ساتھ ہی ساتھ ہندی کے اثرات بھی دکھائی دیتے ہیں ان کا نمونہ کلام ملاحظہ ہو۔

قول آبرو کا تھا کہ نہ جائوں گا اس گلی
ہو کر کے بے قرار دیکھو آج پھر گیا
بوسہ لبوں کا دینے کہا کہہ کے پھر گیا

پیلا بھرا شراب کا افسوس گر گیا!

شاکر ناجی
محمد شاکر نام ناجی تخلص کرتے تھے۔ دہلی کے رہنے والے سپاہی پیشہ تھے۔ طبیعت میں سنجیدگی اور مزاح کا خوبصورت امتزاج تھا۔ دوسروں کو خوب ہنساتے مگر مطلق نہ ہنستے تھے۔ کبھی کبھار مسکراتے تھے۔ ان کا دیوان ناپید ہے آبرو کے ہمعصر تھے۔ ایہام گوئی میں نمایاں ہوئے ۔

ترے رخسار کے پرتو سے اے شوخ
پری خانہ ہوا گھر آرسی کا
خط کی خبریں عبث اڑائی ہیں
باتیاں اس کی سب ہوائی ہیں

شرف الدین مضمون
اکبر آباد کے قریب ایک قصبے میں پیدا ہوئے ابتدائے جوانی میں دہلی آئے ۔ ابتداءمیں سپاہ گری کے پیشے کواختیار کیا لیکن بعد میں دینوی علائق سے آزاد ہو کر درویشی اختیار کر لی۔ ماحوال اور زمانے کی عام روش کے مطابق ایہام گوئی میں بھی دلچسپی لیتے تھے میر تقی میر کے خیال میں ان کے اشعار کی تعداد دوسو بنتی ہے۔ نمونہ کلام یہ ہے:

ہم نے کیا کیا نہ ترے ہجر میں محبوب کیا
صبر ایوب کیا گریہ یعقوب کیا
کوئی اس جنس کا دہلی میں خریدار نہیں
دل تو حاضر ہے ولیکن کہیں دلدار نہیں

مصطفیٰ خان یک رنگ
دہلی کے رہنے والے تھے۔ بڑے ہنس مکھ ، زندہ دل ، رنگین مزاج اور خوش مزاج تھے۔ شاعری کی اصلاح خان آرزو اور مرزا مظہر جان جاناں سے لیتے تھے۔ صاحبِ دیوان شاعر تھے۔ پانچ سو کے قریب اشعار کی تعداد بتائی جاتی ہے۔ رواج عام کے مطابق ایہام گوئی کرتے تھے مگر اس کے باجود سادگی اور جذبات نگاری کا وصف ان کے ہاں ملتا ہے۔

ہاتھ اُٹھا جور جفا سے تیرا
یہی گویا سلام ہے تیرا
پارسائی اور جوانی کیونکر ہو
اک جاگہ آگ اور پانی کیونکر ہو

شاہ حاتم
شیخ فتح الدین کے بیٹے تھے۔ دہلی میں پیدا ہوئے۔ سپاہی پیشہ اور شاہ محمد امین کے مرید تھے۔ کچھ عرصہ الہ آباد کے صوبے دار نواب امیر خاں کی رفاقت میں رہے۔ اس کے بعد ہدایت علی خاں ، مراد علی خاں ، فاخر علی خاں ، جیسے امرا کبھی ان کی مدد کرتے رہے۔ آخر عمر میں گوشہ نشینی اختیار کر لی۔
فارسی اور اردو میں شعر کہتے تھے۔ فارسی میں مرزا صائب اور ریختے میں ولی دکنی کو استاد مانتے تھے۔ رفتہ رفتہ ریختے میں وہ خود استاد ہوگئے۔ سودا انھی کے شاگرد تھے۔ اصلاح زبان کا کام سب سے پہلے انھی نے شروع کیا۔ بہت سے نامانوس الفاظ ترک کرکے فصیح الفاظ داخل کیے۔ دہلی میں وفات پائی اور دلی دروازے کے باہر دفن ہوئے۔ تصانیف میں ایک دیوان فارسی ہے۔ اردو میں ایک ضخیم دیوان جمع کر لیا تھا آخر عمر میں اس سے ایک چھوٹا دیوان تصنیف کیا اور دیوان زادہ اس کا نام رکھا۔ حقے پر ایک مثنوی محمد شاہ بادشاہ کی فرمائش پر لکھی۔ ایک دیوان قدیم رنگ میں تھا جو نادر شاہ کی تاخت و تاراج میں ضائع ہوگیا۔

اے قدرداں کمال حاتم دیکھ
عاشق و شاعر و سپاہی ہے
کئی دیوان کہہ چکا حاتم
اب تلک پر زباں نہیں درست

اردو شاعری پر اثرات
ایہام گوئی کی بدولت شاعری پر مثبت اور منفی دونوں قسم کے اثرات پڑے۔ ایہام گویوں کی کوشش سے سینکڑوں ہندی اورمقامی الفاظ اس طور سے استعمال ہوئے کہ اردو زبان کا جزو بن گئے۔ نہ صرف الفاظ بلکہ ہندی شاعری کے مضامین ، خیالات اور اس کے امکانات بھی اردو شاعر ی کے تصرف میں آگئے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ ایہام گوئی کے رجحان سے جہاں اردد زبان پر مثبت اثرات مرتب ہوئے اس کے کچھ منفی اثرات بھی ظاہر ہوئے۔
جب ایک مخصوص فضا میں ایہام کا رواج ہوا جہاں الفاظ کی بازیگری کو استادی سمجھا جانے لگا تو شاعری صرف الفاظ کے گورکھ دھندے تک محدود ہو کر رہ گئی۔ لفظ تازہ کی تلاش میں متبذل اور بازاری مضامین بھی شاعری میں گھس آئے۔ نیز جب شاعر لفظوں کو ایہام کی گرفت میں لانے کی کوشش میں مصروف رہے تو پھر شاعری جذبہ و احساس سے کٹ کر پھیکی اور بے مزہ ہو جاتی ہے اور یہی حال اس دور میں شاعری کا ہوا۔
ایہام گوئی کے خلاف ردِعمل
ایہام گو شعراءکے بعد جو نیا دور شروع ہوااس میں مظہر ، یقین ، سودا ،میر تقی میر، خواجہ میر درد،وغیرہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ان لوگوں نے ایہام کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ چنانچہ اس دور میں ان لوگوں نے ایہام گوئی کی بندشوں کو شدت سے محسوس کیا ان کے سبب خیالات کے اظہار میں رکاوٹ آجاتی تھی۔ یوں ایہام گوئی میں زیادہ شعر کہنا مشکل تھا۔ لیکن ایہام گوئی ترک کرنے کے بعد شعراءکے دیوان خاصے ضخیم ہونے لگے۔ شعراءکی تعداد میں بھی بہت اضافہ ہوا۔ اس نئے دور میں ایہام گوئی کے خلاف اس قدر احتجاج کیا گیا کہ شاہ حاتم جو ایہام گو شاعر تھے انہوں نے اس روش کو ترک کر دیا اور اپنے دیوان سے ایہام کے شعر نکال دیئے۔

دبستان دہلی

اورنگزیب کی وفات کے بعد اُس کا بیٹا معظم تخت نشین ہوا لیکن اس کے بعد معظم کے بیٹے معز الدین نے اپنے بھائی کو شکست دے کر حکومت بنائی۔ معز الدین کے بھتیجے ”فرخ سیر “ نے سید بردران کی مدد سے حکومت حاصل کی لیکن سید بردران نے فرخ سیر کو بھی ٹھکانے لگا دیا۔ اس طرح 1707ءسے لے کر 1819ءتک دہلی کی تخت پر کئی بادشاہ تبدیل ہوئے۔ محمد شاہ رنگیلا عیاشی کے دور میں نادرشاہ درانی نے دہلی پر حملہ کردیا اور دہلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ پھر احمد شاہ ابدالی کے حملے نے مزید کسر بھی پوری کر دی ۔ دوسری طرف مرہٹے ، جاٹ اور روہیلے آئے دن دہلی پر حملہ آور ہوتے اور قتل عام کرتے اس دور میں کئی بادشاہ بدلے اور مغل سلطنت محدود ہوتے ہوتے صرف دہلی تک محدود ہو کر رہ گئی ۔اور آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کو انگریزوں نے معزول کر کے رنگوں بھیج دیا۔ یہ تھی دہلی کی مختصر تاریخ جس میں ہماری اردو شاعری پروان چڑھی ۔ یہ ایک ایسا پرآشوب دور تھا جس میں ہر طرف بدنظمی ، انتشاراور پستی کا دور دورہ تھا۔ ملک میں ہر طرف بے چینی تھی۔ اس حالت کی وجہ سے جس قسم کی شاعری پروان چڑھی ۔ دبستان دہلی کے چند شعراء کا ذکر درج زیل ہے۔
شعراء
میر تقی میر:۔
میرتقی میر کی شاعری کا اہم بنیادی عصنر غم سب سے نمایاں ہے۔ خود میر نے اپنی شاعر کے بارے میں کہا ہے

مجھ کو شاعر نہ کہو میر کے صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا

میر کا غم آفاقی نوعیت کا ہے جس میں غم عشق سے لے کر غم دنیا کا احوال موجود ہے۔ انہوں نے جو کچھ محسوس کیا بڑی صداقت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ ان کی شاعری اپنے تجربات اور احساسات کاصحیح اور سچا اظہار ہے۔ان کے اشعار جو بھی پڑھتا ہے اس کے دل میں اتر جاتے ہیں۔

ابتداءہی میں مر گئے سب یار

عشق کی کون انتہا لایا

میر کی شاعری ہندی اور ایرانی تہذیب کی آمیزش کی بہترین مثال ہے۔ ان کے ہاں فارسی تراکیب کے ساتھ ساتھ ہندی کا ترنم اور موسیقیت بھی ملتی ہے۔

اب تو جاتے ہیں بتکدے سے میر

عشق کی کون انتہا لایا

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

میرزا محمد رفیع سودا:۔
سودا ، میر کے ہمعصر تھے ۔ ان کا شمار اردو زبان کے اہم شعراءمیں ہوتا ہے۔انہوں غزل، قصیدہ ، مثنوی ، مخمس ، ہجو ، رعبایاں ، قطے، ترجیع بند ، واسوخت ، سلام ، مرثیے غرضیکہ ہرصنف سخن میں طبع آزمائی کی۔لیکن ان کی شہرت بحیثیت قصیدہ گو اور ہجو گو کے زیادہ ہے۔ ان کی غزلوں کی تعداد نسبتاً کم ہے لیکن غزل میں ان کے مقام اور مرتبہ سے انکا ر نہیں کیا جاسکتا۔بقول خلیق انجم :

” سودا کے ہاں زور بیان ، معنی آفرینی ،خیال بندی ،پرواز تخیل ، جدت بیان ، قدرتِ اظہار ، نشاط انگیزی اور جو جوش و خروش ملتا ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔“

لیکن یہ بات یاد رہے کہ سودا کی غزلوں میں خلوص اور جذبات کی سادگی ، بے ساختگی اور درد و سوز بھی ہے۔ جو میر کی غزل کا طرہ امتیاز ہے۔

جس روز کسی اور پہ بیداد کرو گے

یہ یاد رہے ہم کو بہت یاد کرو گے

کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سودا

ساغر کو میرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں

سودا جو تیرا حا ل ہے اتنا تو نہیں وہ

کیا جانیے تو اسے کس حال میں دیکھا

خواجہ میر درد:۔
میردرد ایک مشہور خاندان کے چشم وچراغ تھے اور ایک صوفی باپ کے بیٹے تھے۔ انہوں نے تصوف کو صرف روایت سے مجبور ہو کر نہیں اپنایا بلکہ وہ خود ایک باعمل صوفی تھے۔ ان کے مزاج میں اعتدال ، توازن،حلم ، تحمل اور بردبادی کی صفات موجود تھیں۔ اس لیے جہاں جاتے عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ قناعت اور خوداری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ان کی انہی صفات کا عکس ان کی شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔ بقول عظمت اللہ :

”خواجہ میر درد اردو ادبیات میں صوفیانہ شاعری کے باوا آدم تھے“

جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا

تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پاسکے

میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے

اس ہستی  خراب سے کیا کام تھا ہمیں

اے نشہ ظہور یہ تری ترنگ تھی

ابراہیم ذوق:۔
ذوق کو بعض نقادوں نے سودا کے مشابہ قرار دیا ہے ایک تو اس لیے ہجوگوئی کے باوجود دونوں کا کوئی مخصوص طرز احساس نہیں اور دوسرے قصیدہ کو بھی پایہ کمال تک پہنچایا۔ ان کی غزل میں جذبے کافقدان نظر آتا ہے اس لیے کہ انہوں نے محض الفاظ کے ذریعے شاعری کی۔انہوں نے فکر اور جذبہ کی کمی کو محاورات کے ذریعے پوری کرنے کی کوشش کی۔ بعض اشعار دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ صرف محاورہ بندی کے لیے لکھے گئے ہیں۔ ان کی شاعری میں حسن و عشق کی واردات بھی ہیں اور تصوف اور اخلاقی پند بھی لیکن یہ سب روایتی محسوس ہوتے ہیں۔

وقت پیری شباب کی باتیں

ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں

لائی حیا ت آئے قضا لے چلی چلے

اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے

مرزا اسد اللہ خان غالب:۔
غالب کی شاعری ہر دور میں نہ صرف زندہ رہی بلکہ جدید بھی رہی۔ ان کے ہاں ہمیں جنس کا ایک صحت مندانہ رویہ ملتا ہے۔انھیں مسلسل پریشانیوں اور محرومیوں نے نہ صرف زندگی سے پیار کرنا سکھایا۔ انہوں نے غم کو ایک حقیقت کے روپ میں قبول کیا۔ان کے نزدیک غم کے وجود کو تسلیم کر لینے کے بعد اس کی تلخی اور چبھن میں کافی کمی ہو جاتی ہے۔

نغمہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے

بے صدا ہو جائے گا یہ ساز ہستی ایک دن

غالب کی شاعری اس کے فلسفیانہ اور جدید ذہن کی غمازی کرتا ہے۔ جو کہ نئی تہذیب اور پرانی تہذیب کی آویزش اور کشمکش سے وجود میں آئی ہے۔

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے  یہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

ہیں آج کیوں زلیل کہ کل تک نہ پسند

گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں

مومن خان مومن:۔
مومن تمام عمر غزل کے پابند رہے اور غزل میںکم سے کم الفاظ میں بڑے سے بڑے خیال ابلاغ اور شدید سے شدیدجذبہ کی عکاسی کی کوشش کی ۔ ا سی لیے جذبہ عشق سے وابستہ تہ در تہ کیفیات کے اظہار میں کمال پیدا کیا۔چنانچہ انہوں نے دہلی کی خالص اردو میں صاف ستھری غزل تخلیق کی۔ لکھنوی شعراءکے برعکس انہوں نے جنس نگاری کو فحش اور ابتذال سے بچا کر صحت مند حدو د میں رہنے دیا۔ان کی معاملہ بندی لکھنوی شعراءسے یکسر مختلف نظر آتی ہے۔ ان کے ہاں ایک جدید تصور عشق ملتا ہے۔ مومن کاعاشق واضح طور پر ہرجائی ہے۔

ہم بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کے

تم نے اچھا کیا نباہ نہ کی

نقادوں نے ان کی شاعری کی اہم خصوصیت نکتہ آفرینی کو بھی قرار دیا ہے۔

تانہ خلل پڑے کہیں آپ کے خواب ناز میں

ہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں

عمر تو ساری کٹی عشقِ بتاں میں مومن

آخری عمر میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

سیاسی اور معاشرتی حالات کی بدولت دبستان ِ دلی میں جس رنگ شاعری کا رواج ہوا اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔
خصوصیات
زبان میں فارسیت:۔
دبستا ن دہلی کے شعراءکے ہاں فارسیت کا بہت غلبہ تھا کیونکہ شعرائے دہلی فارسی کی شعری روایت سے متاثر تھے اور ان پر فارسی شعراءکا گہرا اثر تھا۔ ایران سے جو شعراءآتے تھے ان میں سے اکثر یہاں ہی رہ جاتے تھے۔ چنانچہ ، خسرو ، حسن ، عرفی ،نظیری ، طالب ، صائب اور بیدل وغیرہ مختلف ادوار میں یہاں رہے۔ اس کے علاوہ یہاں فارسی شعراءکی زبا ن تھی ۔ نیز یہاں کے شعرا ءاردو اور فارسی زبانوں میں دسترس رکھتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ فارسی اسالیب و موضوعات وغیر ہ دہلی کے دبستان شاعری میں شامل ہو گئے۔ اس طرح بہت سے شعراء نے فارسی شعراءسعدی ، وحافظ کا ترجمہ کیا۔ اور خزانہ اردو کو مالا مال کیا۔ اس طرح دبستان دہلی کی شاعری میں فارسیت کا غلبہ ہے۔
جذبات عشق کا اظہار:۔
دبستان دہلی کے شعراءکے ہاں جذبات و احساسات کے اظہار پر زیادہ زور ہے۔ دبستان دہلی کے شعراءنے عشق کے جذبے کو اولیت دی ۔ بقول ڈاکٹر نور الحسن شعرائے دہلی کو اس بات کی پروا نہیں تھی کہ ان کا اسلوب بیان اور طرز ادا خوب تر ہو بلکہ ان کی کوشش تھی کہ شاعری میں جذبات و احساس کا اظہار ہو جائے ۔ اس لئے بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا شاعر کو عشق سے عشق ہو گیا ہے۔ دہلی کے کچھ شعراءعشق مجازی سے گزر کر عشق حقیقی سے سرشار ہوئے ۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے لو لگائی اور فیضان عشق کی بدولت ان میں ایسی بصیرت پیدا ہوئی کہ وہ تمام بنی نوع انسان سے محبت کرنے لگے ۔ جبکہ کچھ لوگ عشق مجازی کی منزل پر رک گئے۔ چنانچہ ان کی شاعر ی میں محبت کا سوز اور تڑ پ موجود ہے۔ جبکہ کچھ لوگ نفس پر قابو نہ پا سکے اور وہ ابولہوسی میں مبتلا ہو کر رہ گئے۔ چنانچہ دہلی میں عشق کے یہ تینوں مدارج موجود ہیں۔مثلاً درد جیسے شاعروں نے صوفی شاعری کی اور عشق حقیقی کو اپنی شاعر ی کا موضوع بنایا ۔

قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے

اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے

جب وہ جمال دلفروز صورت مہر نیم روز

آپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں

عشق مجازی:۔
عشق کا دوسرا انداز جو دہلی میں بہت مقبول ہوا اس میں عشق حقیقی کے ساتھ ساتھ عشق مجازی کے جذبات بھی شامل ہوگئے ۔ یہ رنگ میرتقی میر نے بہت خوبی سے نبھایا ۔ ان کے جذبہ عشق میں وہ خلوص اور گہرائی تھی جس نے ان کی شاعری کوحیات جاوداں عطا کی۔ عشق کا یہ تیکھا انداز دبستان دہلی سے مخصوص ہے۔ عشق مجازی کے چند اشعار ملاحظہ ہوں ۔ جن میں دہلی کے تمام شعراءنے بڑی خوبصورتی سے ان جذبات کو شاعری کا روپ دیا ہے۔

پاس ناموس عشق تھا ورنہ

کتنے آنسو پلک تک آئے تھے

جس روز کسی اور پہ بیداد کرو گے

یہ یاد رہے ہم کو بہت یاد کرو گے

لوگ کہتے ہیں عاشقی جس کو

میں جو دیکھا بڑی مصیبت ہے

پھر کے جو وہ شوخ نظر کر گیا

تیرے کچھ دل میں گزر کر گیا

حزن و یاس :۔
دبستان دہلی کی شاعری کی ایک اور نمایاں خصوصیت رنج و الم اور حزن و یاس کا بیان ہے۔ دبستان دہلی کی شاعری کا اگر بحیثیت مجموعی جائزہ لیا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ دبستان دہلی کی شاعری میں یاس و ناامیدی کے جذبات بکثرت موجود ہیں۔ شاعرخواہ کسی موضوع پر بات کرے رنج و الم کا ذکرضرور آجاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس سارے دور میں کسی کو اطمینان و سکون نصیب نہ تھا۔ زندگی ایک خواب پریشاں بن کر رہ گئی تھی۔ ہر طرف نفسانفسی کا عالم تھا۔ کسی شے کو ثبات نہ تھا۔ ان حالات کا شاعری پر بھی گہرا عکس نظرآتا ہے۔ خارج میں تباہی و بربادی پھیلی ہوئی تھی اور تباہی و بربادی کے تاریک سائے شاعری میں بھی راہ پاتے ہیں۔ چنانچہ فنا کا احساس بہت تیز ہے۔ اس کے ساتھ اجڑے ہوئے شہر ، لٹے ہوئے نگر اور ویران گزر گاہیں جا بجا موجود ہیں۔ خصوصاً میر و سودا کے دور میں زندگی کی ناپائیداری کا احساس بہت شدت سے اظہار کی راہ پاتا ہے۔ چنانچہ حزن و یاس کے چند شعر ملاحظہ ہوں:

کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات

کلی نے یہ سن کر تبسم کیا

دل کی ویرانی کا کیا مذکور

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

اس گلشن ہستی میں عجب دید ہے لیکن

جب آنکھ گل کی کھلی تو موسم تھا خزاں کا

دل گنوانا تھا اس طرح قائم

کیا کیا تو نے ہائے خانہ خراب

منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید

ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے

اس حزن و یاس کی فضاءکے بارے میں نیاز فتح پوری لکھتے ہیں کہ

” ظاہر ہے دہلی کی شاعری یک سر جذبات کی زبان و گفتگو ہے اور جذبات بھی وہی ہیں جن کا تعلق زیادہ تر حرماں و مہجوری و ناکامی سے ہے۔“

تصوف:۔
واردات قلبی کے اظہار کے بعد دبستان دہلی کے شعراءکا دوسرا محبوب ترین موضوع تصوف ہے۔ چونکہ ابتداءمیں اردو شاعری پر فارسی شاعری کی شعری روایت کا بہت زیادہ غلبہ رہا ہے جس کی وجہ سے اردو شعراءنے غیرشعوری طور پر فارسی شاعری کے اسالیب، سانچے ، اور موضوعات قبول کر لئے۔ دوسری طرف اس موضوع کو اس لئے بھی مقبولیت ملی کہ کہ تصوف میں بھی قناعت ، صبر و توکل اور نفی ذات کے نظریات نے زیادہ زور پکڑا کیونکہ اس زمانے کے حالات ہی ایسے تھے جن کی بناءپر لوگ ترک دنیا کی طرف مائل ہو رہتے تھے ۔ اس زمانے میں یہ خیال عام تھا کہ تصوف برائے شعر گفتن خوب است

ان میں کچھ تو صوفی شعراءتھے لیکن زیادہ تر شعراءنے محض رسمی طور پر تصوف کے مضامین کو نظم کیا۔ چنانچہ ذوق اور غالب کے زمانے تک تقریباً ہر شاعر کے کلام میں تصوف کے مضامین نظرآتے ہیں۔
تصوف کی مقبولیت کا دوسرا سبب یہ تصورات و اقدار تھے جو ہندوستان کی فضاءمیں رچے بسے ہوئے تھے ۔ جن کی بدولت انہوں نے تصوف کو موضوع بنایا۔

مسافر اٹھ تجھے چلنا ہے جانب منزل

بجے ہیں کوچ کا ہر دم نقارہ

غافل قدم کو اپنے رکھیو سنبھال کر یاں

ہر سنگ راہ گزر کا دکاں شیشہ گرکا ہے

ہے جلوہ گاہ تیرا، کیا غیب کیا شہادت

یاں بھی شہود تیرا ، واں بھی شہود تیرا

اس ہستی خراب سے کیا کام تھا ہمیں

اے نشہ ظہور یہ تیری ترنگ تھی

سرسر ی تم جہاں سے گزرے

ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا

اس قدر سادہ و پرکار کہیں دیکھا ہے

بے خود اتنا نمودار کہیں دیکھا ہے

اسے کو ن دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا

جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا

راز پوشیدہ پوچھے کس سے

بے خبر ہے، جو باخبر ہے

رمزیت اور اشاریت:۔
تصوف کی بدولت اردو شاعری میں بڑی وسعت پیدا ہوئی چنانچہ بقول ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی ،

” دہلی میں تصوف کی تعلیم اور درویشی کی روایت نے خیالات میں بلندی اور گہرائی پیدا کی اور اسلوب میں متانت و سنجیدگی کو برقرار رکھا۔ تصوف کے روایات نے شاعری کو ایک اخلاقی لب و لہجہ دیا اور ابتذال سے دور رکھا۔ “

مسائل تصوف نے اردو غزل کو رمز و کنایہ کی زبان دی، پیر مغاں ، گل ، بلبل ، چمن ، شمع ، پروانہ ، میکدہ ، اسی طرح کی اور بہت سی علامتیں تصوف کے راستے اردو شاعری میں داخل ہوئیں ۔ تصوف نے اردو شاعری کو فکری پہلو بھی دیا اور استغنا کا درس دے کر دربارداری سے الگ رکھا۔
مزاجوں میں خوداری اور بے نیازی پیدا کی ۔ تصوف کی بدولت اردو شاعری میں جو رمزیت اور اشاریت آئی اس سے شعراءنے بہت فائدہ اٹھایا اور چند لفظوں میں معنی کی دنیائیں آباد کیں۔ ذیل کے اشعار دیکھئے کہ پردوں  میں کتنے جہاں آباد دکھائی دیتے ہیں۔

ساقی ہے اک تبسم گل ، فرصت بہار

ظالم بھرے ہے جام تو جلدی سے بھر کہیں

دام ہر موج میں ہے حلقہ صد کام نہنگ

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے کو گہر ہونے تک

وہ بادہ و شبانہ کی سرمستیاں کہاں

اٹھیے بس اب کہ لذت خواب سحر گئی

داخلیت:۔
دبستان دہلی کی شاعری کا ایک اور نمایاں پہلو داخلیت ہے۔ داخلیت سے مراد یہ ہے کہ شاعر باہر کی دنیا سے غرض نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنے دل کی واردات کا اظہار کرتا ہے۔ اگر باہر کی دنیا کے متعلق کچھ کہتا ہے تو اُسے بھی شدید داخلیت میں ڈبو کر پیش کرتا ہے۔ یہ داخلیت دہلی کے ہر شاعر کے یہاں ملتی ہے۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لیں کہ شعرائے دہلی کے ہاں خارجیت بالکل نہیں ہے۔ خارجیت بھی ہے۔ لیکن داخلیت میں واردات قلبی یعنی عشق و محبت کے مضامین اور ان مصائب کا بیان شعرائے دہلی نے نہایت خوش اسلوبی سے کیاہے۔

پاس ناموس عشق تھا ورنہ

کتنے آنسو پلک تک آئے تھے

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مرچلے

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا

درد کی دوا پائی درد لا دوا پایا

واقعیت و صداقت:۔
دبستان دہلی کی ایک خصوصیت واقعیت و صداقت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان شعراءکے ہاں مبالغہ وغیرہ کم ہے۔ ان شعراءنے مبالغہ سے زیادہ کام نہیں لیا اگرچہ مبالغہ کا استعمال شاعری میں برا نہیں ہے لیکن جس بھی کسی چیز کا استعمال حد سے تجاوز کر جائے تو پھر اُسے مناسب و موزوں نہیں سمجھا جاتا ۔ اسی طرح حد سے زیادہ مبالغہ شاعری کو مضحکہ خیز بنا دیتا ہے۔ شعراءدہلی کے ہاں اعتدال پایا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ صداقت کے اظہار کے لئے پر تکلف زبان کو بھی موزوں سمجھا جاتا ہے۔

ہر گھڑی کان میں و ہ کہتا ہے

کوئی اس بات سے آگاہ نہ ہو

سخت کافر تھا جس نے پہلے میر

مذہب عشق اختیار کیا

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا

لڑتےہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے

تم میر ے پاس ہوتے گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

سادگی:۔
شعرائے دہلی کے ہاں زبان میں بھی سادگی ، صفائی اور شستگی پائی جاتی ہے۔ شعرائے دہلی نے جس طرح مضامین میں واقعیت و صداقت کو مدنظر رکھا ہے۔ اسی طرح زبان بھی سادہ اور عام فہم استعمال کی ہے۔ اگرچہ ان شعراءنے صنعتوں کا استعمال کیا ہے لیکن وہ صنعت برائے صنعت کے لئے نہیں ہے۔ اس کے بجائے ان شعراءنے معنوی حسن کی طرف زیادہ توجہ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں تشبیہ اور استعارے کا استعمال حد سے آگے نہیں بڑھتا۔

میراُن نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی ہے

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے

آن میں کچھ ہے آن میں کچھ

اختصار:۔
شعرائے دہلی کے کلام میں جہاں زبان میں سلاست و روانی کا عنصر نمایاں ہے وہاں اختصار بھی ہے۔ اس دور میں دوسری اصناف کے مقابلے میں غزل سب سے زیادہ نمایاں رہی ہے۔ اور غزل کی شاعری اختصار کی متقاضی ہوتی ہے۔ اس میں نظم کی طرح تفصیل نہیں ہوتی بلکہ بات اشاروں کنایوں میں کی جاتی ہے۔ اس لئے ان شعراءکے ہاں اختصار ملتا ہے۔ نیز غزل کا مخصوص ایمائی رنگ بھی موجود ہے۔ یہاں کے شعراءاپنے دلی جذبات و احساسات کو جو ں کا توں بڑی فنکاری سے پردے ہی پردے میں پیش کر دیتے ہیں۔ اسی با ت کا ذکر کرتے ہوئے محمد حسن آزاد لکھتے ہیں کہ :

ان بزرگوں کے کلام میں تکلف نہیں جو کچھ سامنے آنکھوں کے دیکھتے ہیں اور اس سے خیالات دل پر گزرتے ہیں وہی زبان سے کہہ دیتے ہیں۔ اس واسطے اشعار صاف اور بے تکلف ہیں۔

ہم نشیں ذکر یار کر کچھ آج

اس حکایت سے جی بہلتا ہے

شائد اسی کا نام محبت ہے شیفتہ

اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی

دل مجھے اس گلی میں لے جا کر

اور بھی خاک میں ملا لایا

بے وفائی پہ اس کی دل مت جا

ایسی باتیں ہزار ہوتی ہیں

تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانا کر لے

ہم تو کل خواب ِ عد م میں شب ہجراں ہوں گے

ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے

بے نیازی تیری عادت ہی سہی

مجموعی جائزہ:۔
دہلویت کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی لکھے ہیں کہ

” دہلویت کا ایک خاص افتاد ذہنی یا مزاج شعری کا نام نہیں ہے جس کا اظہار مخصوص تمدن و شہری اثرات کی وجہ سے ہوا۔ دہلی کا شاعر غم ِ روزگار کا ستایا ہوا غم عشق کا مارا ہواہے۔ اسی لئے اس کے کلام میں دونوں کی کسک اور کھٹک پائی جاتی ہے۔ سیاسی حالات نے اسے قنوطی بنایا، تصوف نے اس میں روحانیت پیدا کی اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اخلاقی نصب العین اور تصور عطا کیا ۔ اسی نے اس کی آنکھیں اندر کی طرف کھولیں۔“

دبستانِ لکھنو

لکھنویت سے مراد شعرو ادب میں وہ رنگ ہے جو لکھنو کے شعرائے متقدمین نے اختیار کیا۔ اور اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ رنگ قدیم اردو شاعری اور دہلوی شاعری سے مختلف ہے۔ جب لکھنو مرجع اہل دانش و حکمت بنا تو اس سے پہلے علم وادب کے دو بڑے مرکز شہرت حاصل کر چکے تھے۔ اور وہ دکن اور دہلی تھے۔ لیکن جب دہلی کا سہاگ لٹا ۔ دہلی میں قتل و غارت گری کا بازار گر م ہوا تو دہلی کے اہل علم فضل نے دہلی کی گلیوں کو چھوڑنا شروع کیا جس کی وجہ سے فیض آباد اور لکھنو میں علم و ادب کی محفلوں نے فروغ پایا۔

پس منظر:۔
سال1707  اورنگزیب عالمگیر کی موت کے بعد مغل سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ اُن کے جانشین اپنے تخت کے لئے خود لڑنے لگے ۔ ان نااہل حکمرانوں کی وجہ سے مرکز مزید کمزور ہوا۔ اور باقی کسر مرہٹوں ، جاٹوں اور نادرشاہ افشار اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے پوری کر دی۔
سال1722ءمیں بادشاہ دہلی نے سعادت علی خان کو اودھ کا صوبیدار مقر ر کیا ۔ مرکز کی کمزوری سے فائد ہ اٹھاتے ہوئے جلد ہی سعادت علی خان نے خود مختاری حاصل کر لی۔ اور اودھ کی خوشحالی کے لئے بھر پور جدوجہد کی جس کی بنا پر اودھ میں مال و دولت کی فروانی ہوئی ۔
صفدر جنگ اور شجاع الدولہ نے اودھ کی آمدنی میں مزید اضافہ کیا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کوششیں کیں ۔ آصف الدولہ نے مزید اس کام کو آگے بڑھایا۔ لیکن دوسری طرف دہلی میں حالات مزید خراب ہوتے گئے۔ امن و سکون ختم ہو گیا۔ تو وہاں کے ادباءو شعراءنے دہلی چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اور بہت سے شاعر لکھنو میں جا کر آبا د ہوئے۔ جن میں میرتقی میر بھی شامل تھے۔
دولت کی فروانی ، امن و امان اور سلطنت کے استحکام کی وجہ سے اودھ کے حکمران عیش و نشاط اور رنگ رلیوں کے دلدادہ ہوگئے ۔ شجاع الدولہ کو عورتوں سے خصوصی رغبت تھی جس کی بناءپر اس نے محل میں بے شمار عورتوں کو داخل کیا۔ حکمرانوں کی پیروی امراءنے بھی کی اور وہ بھی اسی رنگ میں رنگتے گئے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بازاری عورتیں ہر گلی کوچے میں پھیل گئیں۔ غازی الدین حیدر اور نصیر اور نصیر الدین حیدر نے آبائو اجداد کی پیروی جاری رکھی اور واجد علی شاہ نے تو اس میدان میں سب کو مات دے دی۔
سلاطین کی عیش پسندی اور پست مذاقی نے طوائف کو معاشرے کا اہم جز بنا دیا۔ طوائفوں کے کوٹھے تہذیب و معاشرت کے نمونے قرار پائے جہاں بچوں کو شائستگی اور آداب محفل سکھانے کے لئے بھیجا جانے لگا۔

شعرو ادب پر اثرات:۔
عیش و نشاط ، امن و امان اور شان و شوکت کے اس ماحول میں فنون نے بہت ترقی کی۔ راگ رنگ اور رقص و سرور کے علاوہ شعر و شاعری کو بھی بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ دہلی کی بدامنی اور انتشار پر اہل علم و فن اودھ اورخاص کر لکھنو میں اکھٹا ہونا شروع ہوگئے۔ یوں شاعری کا مرکز دہلی کے بجائے لکھنو میں قائم ہوا۔ دربار کی سرپرستی نے شاعری کا ایک عام ماحول پیدا کر دیا۔ جس کی وجہ سے شعر و شاعری کا چرچا اتنا پھیلا کہ جابجا مشاعرے ہونے لگے ۔ امرا ءروساءاور عوام سب مشاعروں کے دیوانے تھے۔ابتداءمیں شعرائے دہلی کے اثر کی وجہ سے زبان کا اثر نمایاں رہا لیکن، آہستہ آہستہ اس میں کمی آنے لگی ۔ مصحفی اور انشاءکے عہد تک تو دہلی کی داخلیت اور جذبات نگاری اور لکھنو کی خارجیت اور رعایت لفظی ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ لکھنو کی اپنی خاص زبان اور لب و لہجہ بھی نمایاں ہوتا گیا۔ اور یوں ایک نئے دبستان کی بنیاد پڑی جس نے اردو ادب کی تاریخ میں دبستان لکھنو کے نام سے ایک مستقل باب کی حیثیت اختیار کر لی۔
نمائندہ شعراء :۔
شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی:۔
(1751ء۔۔۔۔1825ء)
مصحفی دہلی سے ہجرت کرکے لکھنو آئے۔ ان کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا شعری مزاج دہلی میں صورت پذیر ہوا لیکن لکھنوکے ماحول ، دربارداری کے تقاضوں اور سب سے بڑھ کر انشائ سے مقابلوں نے انہیں لکھنوی طرز اپنانے پرمجبور کیا۔ ان کا منتخب کلام کسی بھی بڑے شاعر سے کم نہیں۔ اگر جذبات کی ترجمانی میں میر تک پہنچ جاتے ہیں تو جرات اور انشائ کے مخصوص میدان میں بھی پیچھے نہیں رہتے۔ یوں دہلویت اور لکھنویت کے امتزاج نے شاعری میں شیرینی ، نمکینی پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف جنسیت کا صحت مندانہ شعور ہے تو دوسری طرف تصوف اور اخلاقی مضامین بھی مل جاتے ہیں۔

جمنا میں کل نہا کر جب اس نے بال باندھے

ہم نے بھی اپنے جی میں کیا کیا خیال باندھے

وہ جو ملتا نہیں ہم اس کی گلی میں دل کو

در و دیوار سے بہلا کے چلے آتے ہیں

تیرے کوچے میں اس بہانے ہمیں دن سے رات کرنا

کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا

سید انشاءاللہ خان انشاء:۔
(1756ء۔۔۔۔1817ء)
انشاءکے والدین دہلی سے مرشد آباد گئے جہاں انشاءکی ولاد ت ہوئی۔انشاءکی ذہانت اور جدت پسندی انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں کرتی بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل ، ریختی ، قصیدہ ، اردو میں بے نقط دیوان ”رانی کیتکی کی کہانی“ جس میں عربی ، فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔یہی نہیں انشاءپہلے ہندوستانی ہیں جنہوں نے ”دریائے لطافت“ کے نام سے زبان و بیان کے قواعد پر روشنی ڈالی۔

انشاءنے غزل میں الفاظ کے متنوع استعمال سے تازگی پیدا کرنے کی کوشش کی اور اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔ تاہم بعض اوقات محض قافیہ پیمائی اور ابتذال کا احساس ہوتا ہے۔ انشاءکی غزل کا عاشق لکھنوی تمدن کا نمائندہ وہ بانکاہے جس نے بعد ازاں روایتی حیثیت اختیار کر لی۔انہوں نے غزل میں مزاح کی ایک نئی بنیاد ڈالی۔ زبان میں دہلی کی گھلاوٹ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

گر نازنیں کہے کا برا مانتے ہیں آپ

میری طرف دیکھئے میں نازنیں سہی

لے کے اوڑھوں بچھائوں یا لپیٹوں کیا کروں

روکھی پھیکی سوکھی ساکھی مہربانی آپ کی

شیخ قلندر بخش جرات:۔
(1749ء۔۔۔۔1810ء)
جرات دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری کا مخصوص رنگ معاملہ بندی ہے۔ جو دبستان دہلی کی اہم ترین خصوصیت ہے۔ روایت ہے کہ شریف زادیوں سے آزادنہ میل ملاپ اور زنان خانوں میں بے جھجک جانے کے لیے خود کواندھا مشہور کردیا۔ بہر حال نابینا ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔

ان کے ہاں محبوب کی جوتصویر ابھرتی ہے وہ جیتی جاگتی اور ایسی چلبلی عورت کی تصویر ہے جوجنسیت کے بوجھ سے جلد جھک جاتی ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جرات کی غزل کی عورت خود لکھنو ہی کی عورت ہے۔ زبان میں سادگی ہے اس لیے جنس کا بیان واضح اور دو ٹوک قسم کا ہے۔ شاید اسی لیے حسن عسکری انہیں مزے دار شاعر سمجھتے ہیں۔

کل وقت راز اپنے سے کہتا تھا وہ یہ بات

جرات کے جو گھر رات کو مہمان گئے ہم

کیا جانیے کم بخت نے کیا مجھ پہ کیا سحر

جو بات نہ تھی ماننے کی مان گئے ہم

حیدر علی آتش:۔
(1778ء۔۔۔۔1846ء)
آتش فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ آتش نے نہایت سادہ زندگی بسر کی ۔ طبیعت میں قناعت اوراستغناہ کا مادہ تھا ۔ انہوں نے کسی دربارسے تعلق پیدا نہ کیااور نہ ہی کسی کی مدح میں کوئی قصیدہ کہا۔

آتش کی شاعری لکھنو ¿ میں پروان چڑھی مگر ایک دہلوی استاد مصحفی کے زیر سایہ ، اس لیے دہلی اور لکھنو نے دبستانوں کی خصوصیت کا امتزاج پیدا ہو گیا۔ آتش ناسخ کے مدمقابل تھے۔ناقدین نے ناسخ پر ان کو فوقیت دیتے ہوئے ۔ لکھنو دبستان کا نمائند ہ شاعر قرار دیا ہے۔ان کے اکثر اشعار میں روانی  موسیقیت کی حد تک پہنچ گئی ہے۔ محاوارت ایسے برمحل استعمال ہوتے ہیں کہ شاعری مرصع سازی معلوم ہوتی ہے۔ آتش کا بھی نظریہ تھا۔

بندشِ الفاظ جڑنے میں نگوں سے کم نہیں

شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا

آتش کے کلام کی اہم خصوصیات میں نشاطیہ انداز ،صفائی اور محاورات کا بہترین استعمال ہے۔ کہیں کہیں ان کے کلام میں تصوف کی چاشنی بھی پائی جاتی ہے۔انہوں نے روایتی شاعری سے ہٹ کر کیفیت و مردانگی و خوداری کے جذبات کو قلم بند کیا۔

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

صوفیوں کو وجد میں لاتا ہے نغمہ ساز کا

شبہ ہو جاتا ہے پردے سے تیری آواز کا

سفر ہے شرط مسافر نواز بہترے

ہزار ہا شجرِ سایہ دار رہ میں ہیں

شیخ امام بخش ناسخ:۔
(1772ء۔۔۔۔1838ء)
ناسخ کی شاعری میں نہ تو جذبات و احساسات ہیں اور نہ ہی ان کی پیدا کر دہ سادگی ملتی ہے۔ انہوںنے مشکل زمینوں ، انمل قوافی اور طویل ردیفوں کے بل پر شاعری ہی نہ کی بلکہ استادی بھی تسلیم کرائی۔آج ان کی اہمیت زبان کی صفائی پیدا کرنے اور متروکات کی باقاعدہ مہم چلانے کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے زبان و بیان کے قوانین کی خود پیروی ہی نہ کی بلکہ اپنے شاگردوں سے ان کی پابندی کرائی۔

یوں اردو غزل کی زبان کو جھاڑ جھنکار سے پاک صاف کرنے والوں میں انہیں مستقل اہمیت حاصل ہے۔لیکن صرف الفاظ کی بازیگری شاعری نہیں ہوتی۔ ان کے ہاںجذبے کا فقدان ہے ۔مولوی عبدالحق ان کے کلام کے بارے میں لکھتے ہیں:

” ناسخ بلاشبہ ایک اچھے اور پاکیزہ طرز کاناسخ اور ایک بھونڈے طرز کے موجد ہیں۔ ان کے کلام میں نہ نمکینی ہے نہ شیرینی۔“

ہو گئے دفن ہزاروں ہی گل اندام اس میں

اس لیے خاک سے ہوتے ہیں گلستان پیدا

رشک سے نام نہیں لیتے کہ سن لے کوئی

دل ہی دل میں ہم اسے یاد کیا کرتے ہیں

خصوصیات:۔
اکثر و بیشتر نقادوں نے دبستان لکھنوکی شاعری کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دلی کے مقابلے میں لکھنو کی شاعر ی میںخارجیت کا عنصر نمایاں ہے۔ واردات قلبی اور جذبات و احساسات کی ترجمانی اور بیان کے بجائے شعرائے لکھنوکا زیادہ زور محبوب کے لوازم ظاہری اور متعلقات خارجی کے بیان پر ہے۔ دوسری بات یہ کہ لکھنوی شاعری کا دوسرا اہم عنصر نسائیت ہے۔ اس کے علاوہ معاملہ بندی، رعائیت لفظی ، صنعت گری اور تکلفات پر زیادہ زور ہے ذیل میں ہم اس کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔
خارجیت اور بیروں بینی:۔
دلی کی شاعری کے مقابلے میں لکھنو کی شاعری فکر اور فلسفے سے بالکل خالی ہے۔ نتیجتاً اس میں گہرائی مفقود ہے۔ اور ظاہرداری پر زور ہے۔ دروں بینی موجود نہیں۔ سوز و گداز کی شدید کمی ہے۔ خارجیت اور بیروں بینی کے مختلف مظاہر البتہ نمایاں ہیں لکھنو کی شاعری میں واردات قلبی کے بجائے سراپا نگاری پر زور ہے۔ ان کی شعری خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے سید وقار عظیم لکھتے ہیں،

” لکھنویت تکلف اور تصنع کا دوسرا نام ہے۔ جہاں شاعر محسوسات اور واردات کی سچی دنیا کو چھوڑ کر خیال کی بنی ہوئی رنگین فکر کی پیدا کی ہوئی پر پیج راہوں پر چل کر خوش ہوتا ہے۔ اس کاسبب یہ بتایا گیا ہے۔ کہ لکھنو کی ساریزندگی میں ظاہر پر اس قدر زور تھا کہ شعراءکو دروں بینی کی مہلت ہی نہیں ملی۔ ان کی نظروں کے سامنے اتنے مناظر تھے کہ ان کے دیکھنے سے انہیں فرصت ہی نہیں ملی تھی۔

ایسے میں دل کی کھڑی کھول کرمیر کی طرح اپنی ذات کے اندر کون جھانکتا۔ جب انھوں عیش و عشرت اور آرائش و زیبائش کی محفلوں سے فرصت نہیں تھی

دیکھی شب وصل ناف اُس کی

روشن ہوئی چشم آرز و کی

کتنا شفاف ہے تمہارا پیٹ

صاف آئینہ سا ہے سارا پیٹ

بوسہ لیتی ہے تیرے پالے کی مچھلی اے صنم
ہے ہمارے دل میں عالم ماہی بے آب کا

روشن یہ ہے کہ سبز کنول میں ہے سبز شمع

دھانی لباس پہنے جو وہ سبز رنگ ہے

مضمون آفرینی:۔
دبستان لکھنو کی شاعری کی دوسری نمایاں خصوصیت مضمون آفرینی ہے۔ مضمون آفرینی کا مطلب یہ ہے کہ شاعر روایتی مضامین میں سے نئے مبالغہ آمیز اور عجیب و غریب پہلو تلا ش کر لیتا ہے۔ ایسے مضامین کی بنیاد جذبے کے بجائے تخیل یا واہمے پر ہوتی ہے۔ شعراءلکھنو نے اس میدا ن میں بھی اپنی مہارت اور کمال دکھانے کا بھر پور مظاہر ہ کیا ہے۔ اس کی چند مثالیں مندرجہ زیل ہیں۔

گلبرگ تر سمجھ کے لگا بیٹھی ایک چونچ

بلبل ہمارے زخم جگر کے کھرنڈ پر

چشم بدور آج آتے ہیں نظر کیا گال صاف

سبزہ خط کیا غزال چشم کا چارہ ہوا

اس نے پونچھا پسینہ روئے عالمتاب کا

بن گیا رومال کونہ چادر مہتاب کا

معاملہ بندی:۔
سراپا نگاری اور مضمون آفرینی کے علاوہ دبستان لکھنو کی شاعری کی ایک اور خصوصیت جس کی نشان دہی نقادوں نے کی ہے وہ معاملہ بندی ہے۔ چونکہ دلی کی تباہی کے وقت لکھنو پر امن تھا۔ دولت کی ریل پیل تھی۔ لوگ خوشحال اور فارغ البال تھے۔ بادشاہ وقت امراء، وزراءاور عوام الناس تک سب عیش و عشرت میں مبتلا تھے۔ خصوصاً طوائف کو اس ماحول میں بڑی اہمیت حاصل تھی۔ چنانچہ ماحول کے اثرات شاعری پر بھی پڑے جس کی وجہ سے بقول ڈاکٹر ابوللیث صدیقی جذبات کی پاکیزگی اور بیان کی متانت جو دہلوی شاعری کا امتیازی نشان تھی یہاں عنقا ہوگئی۔ اس کی جگہ ایک نئے فن نے لے لی جس کا نام معاملہ بندی ہے۔ جس میں عاشق اور معشوق کے درمیان پیش آنے والے واقعات پردہ دروں، کو کھول کر بیان کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ایسے اشعار خال خال دہلوی شعراءکے ہاں بھی موجود ہیں اور یہ بات بھی درست ہے کہ اس فن میں جرات پیش پیش تھے جو دلی سے آئے تھے۔ لیکن لکھنو کا ماحول ان کو بہت راس آیا۔ چنانچہ ان کے ساتھ لکھنو کے دیگر شعراءنے جی بھر کر اپنے پست جذبات کو نظم کیا۔ ان کی گل افشانی کے چند نمونے ملاحظہ ہوں،

کھولیے شوق سے بند انگیا کے

لیٹ کر ساتھ نہ شرمائیے آپ

کل وقت راز اپنے سے کہتا تھا وہ یہ بات

جرات کے یہاں رات جو مہمان گئے ہم

کیاجانیے کمبخت نے کیا ہم پہ کیا سحر

جو با ت نہ تھی ماننے کی مان گئے ہم

کچھ اشارہ جوکیا ہم نے ملاقات کے وقت

ٹال کر کہنے لگا دن ہے ابھی رات کے وقت

منہ گال پہ رکھنے سے خفا ہوتے ہو ناحق

مس کرنے سے قراں کی فضیلت نہیں جاتی

تلخ بادام کا منہ میں میرے آتا ہے مزہ
چشم کا بوسہ جو وہ ہو کے خفا دیتا ہے

رعایت لفظی:۔
دبستان لکھنو کی ایک اور خصوصیت رعایت لفظی بتائی جاتی ہے اس پہلو کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا لکھتے ہیں۔

” لکھنو کا معاشرہ خوش مزاج، مجلس آراءاور فارغ البال لوگوں کا معاشرہ تھا۔ مجلس زندگی کی جان لفظی رعایتیں ہوتی ہیں۔ مجلوں میں مقبول وہی لوگ ہوتے ہیں جنہیں زبان پر پوری قدرت ہو اور لفظ کا لفظ سے تعلق ، اور لفظ کا معنیسے رشتہ پوری طرح سمجھتے ہوں ۔ لفظی رعایتیں محفل میں تفریح کا ذریعہ ہوتی ہیں، اور طنز کو گوارا بناتی ہیں۔

لکھنو میں لفظی رعایتوں کا از حد شوق تھا۔ خواص و عوام دونوں اس کے بہت شائق تھے ۔ روساءاور امراءتک بندیاں کرنے والوں کو باقاعدہ ملازم رکھا کرتے تھے۔ ان ہی اسباب کی بناءپر لکھنوی شاعری میں رعایت لفظی کی بہتات ہے اور لفظی رعایتیں اکثر مفہو م پر غالب آجاتی ہیں۔ بلکہ بعض اوقات محض لفظی رعایت کو منظوم کرنے کے لئے شعر کہا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر

ہندو پسر کے عشق کا کشتہ ہوں باغباں

لالہ کا پھول رکھنا امانت کی گور پر

غسل کرلے یہیں دریا میں نہانے کو نہ جا

مچھلیاں لپٹیں گی اے یار تیر ے بازوسے

وصل کی شب پلنگ کے اوپر

مثل چیتے کے وہ مچلتے ہیں

قبر کے اوپر لگایا نیم کا اس نے درخت

بعد مرنے کے میری توقیر آدھی رہ گئی

طویل غزلیں:۔
لکھنوی شاعری کی ایک اور نمایاں بات طویل غزلیں ہیں۔ اگرچہ اس میں شبہ نہیں کہ ابتداءجرات مصحفی نے کی جو دلی دبستا ن سے تعلق رکھتے تھے۔ جو دلی کی تباہی کے بعد لکھنو جا بسے تھے۔ لیکن لکھنوی شعراءنے اس کو زیادہ پھیلایا اور بڑھایا اور اکثر لکھنوی شعراءکے ہاں طویل غزلیں بلکہ دو غزلہ ، اور سہ غزلہ کے نمونے ملتے ہیں۔اس کا سبب یہ بتایا جاتا ہے۔ کہ لکھنو کے اس دور میں پرگوئی اور بدیہہ گوئی کو فن قرار دے دیا گیا تھا۔ نیز لوگ قافیہ پیمائی کو عیب نہیں سمجھتے تھے۔ اس لئے طویل غزلیںبھی لکھی جانے لگیں چنانچہ ٥٢۔٠٣١ اشعار پر مشتمل غزلیں تو اکثر ملتی ہیں۔ بلکہ بقول ڈاکٹر خواجہ زکریا بعض اوقات اس سے بھی زیادہ طویل غزلیں بھی لکھی جاتی تھیں۔
قافیہ پیمائی:۔
طویل غزل سے غزل کو فائدے کے بجائے یہ نقصان ہوا کہ بھرتی کے اشعار غزل میں کثرت سے شامل ہونے لگے۔ شعراءنے زور کلام دکھانے کے لئے لمبی ردیفیں اختیار کرنی شروع کر دیں جس سے اردو غزل میں غیر مستعمل قافیوں اور بے میل ردیفوں کا رواج شروع ہوا۔ معمولی قافیوں اور ردیفوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جا نے لگا ۔ اس نے قافیہ پیمائی کا رواج شروع ہوا۔ ذیل میں بے میل ردیفوں سے قافیوں کی چند مثالیں درج ہیں۔

انتہائی لاغری سے جب نظرآیا نہ میں

ہنس کر کہنے لگے بستر کو جھاڑا چاہیے

فوج لڑکوں کی جڑے کےوں نہ تڑا تڑ پتھر

ایسے خبطی کو جو کھائے ہے کڑا کڑ پتھر

لگی غلیل سے ابرو کی ، دل کے داغ کو چوٹ

پر ایسے ہی کہ لگے تڑ سے جیسے زا غ کو چوٹ

بات طویل غزلوں اور ، بے میل ردیفوں اور قافیوں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ شعراءلکھنو نے اپنی قادر الکلامی اور استادی کا ثبوت دینے کے لئے سنگلاخ زمینوں میں بھی طبع آزمائی کی۔
پیچ دار تشبیہ اور استعارے کا استعمال:۔
اگرچہ تشبیہ اور استعارے کا استعمال ہر شاعر کرتا ہے لیکن یہ چیز اس وقت اچھی معلوم ہوتی ہے جب حد اعتدال کے اندر ہو۔ شعراءدلی کے ہاں بھی اس کا استعمال ہوا لیکن لکھنو  والوں نے اپنی رنگین مزاجی کی بدولت تشبیہوں کا خوب استعمال کیا اور اور ان میں بہت اضافہ کیا۔ محسن کاکوروی ، میرانیس ، نسیم ، دبیر ، نے پرکیف ، عالمانہ اور خوبصورت تشبیہیں برتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ کئی شعراءصرف تشبیہ برائے تشبیہ بھی لے آئے ہیں جس سے کلام بے لطف اور بے مزہ ہو جاتا ہے۔

سبزہ ہے کنارے آب جو پر

یاخضر ہے مستعد وضو پر

محو تکبر فاختہ ہے

قد و قامت سر و دلربا ہے

کیاری ہر ایک اعتکاف میں ہے

اور آب رواں طواف میں ہے

ساقی کی مست آنکھ پہ دل ٹوٹ جاتے ہیں

شیشے جھکے ہوئے ہیں پیالوں کے سامنے

آگیا وہ شجر حسن نظر جب ہم کو

بوسے لے کے لب شریں کے چھوراے توڑے

مستی میں زلف یارکی جب لہر اگی

بوتل کا منہ ہمیں دہن مار ہوگیا

نسائیت:۔
ڈاکٹر ابوللیث صدیقی نے لکھنوی دبستان کی شاعری کاایک اہم عنصر نسائیت بتایا ہے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ہر زمامے ہر قصہ اور ہر زبان میں عورت شاعری کا بڑا اہم موضوع رہا ہے۔ لیکن لکھنو کی سوسائٹی میں عورت کو اہم مقام حاصل ہو گیا تھا۔ اس نے ادب پر بھی گہرا اثرا ڈالا۔ اگر یہ عورتیں پاک دامن اور عفت ماب ہوتیں تو سوسائٹی اور ادب دنوں پر ان کا صحت مند اثر پڑتا لیکن یہ عورتیں بازاری تھیں ۔ جو صرف نفس حیوانی کو مسسل کرتی تھیں ۔ جبکہ دوسری طرف عیش و عشرت اور فراغت نے مردوں کو مردانہ خصائل سے محروم کرکے ان کے مردانہ جذبات و خیالات کو کمزور کر دیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مردوں کے جذبات خیالات اور زبان پر نسائیت غالب آگئی ۔ چنانچہ ریختہ کے جواب میں ریختی تصنیف ہوئی۔ اس کا سہرا عام طور پر سعادت یا ر خان رنگین کے سر باندھا جاتا ہے۔ رنگین کے بعد انشاءاور دوسرے شعراءنے بھی اسے پروان چڑھایا ۔ ان شعراءکے ہاں ریختی کے جو نمونے ملتے ہیں ان میں عورتوں کے فاحشانہ جذبات کو ان کے خاص محاوروں میں جس طرح ان لوگوں نے نظم کیا ہے وہ لکھنو کی شاعری اور سوسائٹی کے دامن پر نہ مٹنے والا داغ بن کر رہ گیا ہے۔
سوز و گداز:۔
اس ساری بحث سے ہر گز یہ مقصود نہیں کہ لکھنوی شعراءکے ہاں اعلی درجے کی ایسی شاعری موجود نہیں جو ان کے سوز و گداز جذبات اور احساسات اور واردات قلبیہ کی ترجمان ہو ۔ تمام نقادوں نے اس بات کی تائید کی ہے بلکہ عذلیب شادنی جنہوں نے لکھنوی شاعری کے خراب پہلوئوں کو تفصیل کے ساتھ نمایاںکرکے پیش کیا ہے وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ شعرائے لکھنوکے ہاں ایسے اشعار کی کمی نہیں جو پڑھنے والے کے دل پر گہرااثر چھوڑتے ہیں۔ ایسے نمونے ناسخ اور آتش کے علاوہ امانت اور رند وغیرہ کے ہاں سب سے زیادہ ملتے ہیں۔ یہاں اس بات کے ثبوت میں مختلف شعراءکا کلام سے کچھ مثالیں

رشک سے نام نہیں لیتے کہ سن لے نہ کوئی

دل ہی دل میں اسے ہم یاد کیا کرتے ہیں

تاب سننے کی نہیں بہر خدا خاموش ہو

ٹکڑے ہوتا ہے جگر ناسخ تیری فریاد سے

آئے بھی لو گ بیٹھے بھی اٹھ بھی کھڑ ے ہوئے

میں جاءہی ڈھونڈتا تیری محفل میں رہ گیا

کسی نے مول نے پوچھا دل شکستہ کا

کوئی خرید کے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا

بتوں کے عشق میں کیا جی کو اضطراب دیا

یہ دل دیا کہ خدا نے مجھے عذاب دیا

دل نے شب فرقت میں کیا ساتھ دیا میرا

مونس اسے کہتے ہیں غم خوار اسے کہتے

آعندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں

تو ہائے گل پکار میں چلائوں ہائے دل

ہم اسیروں کو قفس میں بھی ذرا چین نہیں

روز دھڑکا ہے کہ اب کون رہا ہوتا ہے

حرم کو اس لئے اٹھ کر نہ بتکدے سے گئے

خدا کہے گا کہ جور بتاں اٹھا نہ سکا

مجموعی جائزہ:۔
اردو ادب میں دونوں دبستانوں کی اپنے حوالے سے ایک خاص اہمیت ہے۔ دبستان لکھنو نے موضوعات کے بجائے زبان کے حوالے سے اردو ادب کی بہت خدمت کی اور ناسخ کی اصلاح زبان کی تحریک نے اردو زبان کو قواعد و ضوابط کے حوالے سے بہت زیادہ ترقی دی ۔ جبکہ دبستان ِ لکھنو کا اثر دہلی کے آخری دور کے شعراءغالب ، مومن ، ذوق پر بھی نمایاں ہے۔

فورٹ ولیم کالج

فورٹ ولیم کالج کا قیام اردو ادب کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ہے۔ اردو نثر کی تاریخ میں خصوصاً یہ کالج سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ کالج انگریزوں کی سیاسی مصلحتوں کے تحت عمل میں آیا تھا ۔ تاہم اس کالج نے اردو زبان کے نثری ادب کی ترقی کے لئے نئی راہیں کھول دیں تھیں۔ سر زمین پاک و ہند میں فورٹ ولیم کالج مغربی طرز کا پہلا تعلیمی ادارہ تھا جو لارڈ ولزلی کے حکم پر 1800ءمیں قائم کیا گیاتھا۔
اس کالج کا پس منظر یہ ہے 1798 میں جب لارڈ ولزلی ہندوستان کا گورنر جنرل بن کر آیا تو یہاں کے نظم و نسق کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ انگلستان سے جو نئے ملازمین کمپنی کے مختلف شعبوں میں کا م کرنے یہاں آتے ہیں وہ کسی منظم اور باقاعدہ تربیت کے بغیر اچھے کارکن نہیں بن سکتے ۔ لارڈ ولزلی کے نزدیک ان ملازمین کی تربیت کے دو پہلو تھے ایک ان نوجوان ملازمین کی علمی قابلیت میں اضافہ کرنا اور دوسرا ان کو ہندوستانیوں کے مزاج اور ان کی زندگی کے مختلف شعبوں ان کی زبان اور اطوار طریقوں سے واقفیت دلانا ۔
پہلے زبان سیکھنے کے لئے افسروں کو اناونس دیا جاتا تھا لیکن اُس سے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے تھے۔ اس لئے جب لارڈ ولزلی گورنر جنرل بن کر آئے تو اُنھوں نے یہ ضروری سمجھا کہ انگریزوں کو اگر یہاں حکومت کرنی ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ کمپنی کے ملازمین کا مقامی زبانوں اور ماحول سے آگاہی کے لئے تعلیم و تربیت کا باقاعدہ انتظام کیاجائے۔ ان وجوہات کی بناءپر ولزلی نے کمپنی کے سامنے ایک کالج کی تجویز پیش کی ۔ کمپنی کے کئی عہداروں اور پادرویوں نے اس کی حمایت کی۔
اور اس طرح جان گلکرسٹ جو کہ ہندوستانی زبان پر دسترس رکھتے تھے۔ کمپنی کے ملازمین کو روزانہ درس دینے کے لئے تیار ہو گئے۔اور لارڈ ولزلی نے یہ حکم جاری کیا کہ آئندہ کسی سول انگریز ملازم کو اس وقت تک بنگال ، اڑیسہ اور بنارس میں اہم عہدوں پر مقرر نہیں کیا جائے گا جب تک وہ قوانین و ضوابط کا اور مقامی زبان کا امتحان نہ پاس کر لے۔ اس فیصلے کے بعد گلکرسٹ کی سربراہی میں ایک جنوری 1799 میں ایک مدرسہOriental Seminaryقائم کیا گیا۔ جو بعد میں فورٹ ولیم کالج کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ کچھ مسائل کی وجہ سے اس مدرسے سے بھی نتائج برآمد نہ ہوئے جن کی توقع تھی ۔ جس کے بعد لارڈ ولزلی نے کالج کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا۔

کالج کا قیام:۔

لارڈ ولزلی نے کمپنی کے اعلیٰ حکام سے منظوری حاصل کرکے 10 جولائی 1800 میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے قیام کا اعلان کیا۔ لیکن اس شر ط کے ساتھ کہ کالج کا یوم تاسیس 4 مئی 1800 تصور کیا جائے کیونکہ یہ دن سلطان ٹیپو شہید کے دارالحکومت سرنگا پٹم کے سقوط کی پہلی سالگرہ کا دن تھا۔ جب کہ کالج میں باقاعدہ درس و تدریس کا سلسلہ 23 نومبر 1800 ءکو یعنی کالج کے قیام کے اعلان کے کوئی چھ ماہ بعد شروع ہوا۔کالج کے قواعد و ضوابط بنائے گئے ۔ اس کے علاوہ گورنر کو کالج کا سرپرست قرار دیا گیا۔ کالج کا سب سے بڑا افسر پروسٹ کہلاتا تھا۔ پروسٹ کا برطانوی کلیسا کا پادری ہونا لازمی قرار دیا گیا۔

نصاب تعلیم:۔

فورٹ ولیم کالج کے ریگلولیشن کے تحت کالج میں عربی، فارسی ہندوستانی ، سنسکرت ، مرہٹی اور کٹری زبانوں کے شعبے قائم کئے گئے۔ اس کے علاوہ اسلامی فقہ ، ہندو دھرم ، اخلاقیات ، اصول قانون ، برطانوی قانون، معاشیات، جغرافیہ ، ریاضی ، یورپ کی جدید زبانیں ، انگریزی ادبیات ، جدید و قدیم تاریخ ہندوستان دکن کی قدیم تاریخ ۔ طبیعات ، کیمسٹری اور علوم نجوم وغیر ہ کی تعلیم کا بندوبست کیا گیا تھا۔

کالج میں مشرقی زبانوں کی تعلیم پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا تھا ۔اس لئے السنہ شرقیہ کے شعبوں میں انگریز پادریوں کے علاوہ پروفیسروں کی مدد کے لئے شعبے میں منشی اور پنڈت بھی مقرر کئے گئے تھے۔ ہندوستانی زبان کے شعبے میں پہلے بارہ منشی مقرر ہوئے جسے بعد میں پڑھا کر 25 کر دیا گیا۔

فورٹ ولیم کالج کے مصنفین:۔

فورٹ ولیم کالج صرف ایک تعلیمی ادارہ نہ تھا بلکہ یہ کالج اس زمانے میں تصنیف و تالیف کا بھی بڑا مرکز تھا۔ اس کالج کے اساتذہ اور منشی صاحبان طلباءکو پڑھانے کے علاوہ کتابیں بھی لکھتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ اس کالج میں لغت ، تاریخ، اخلاقی ، مذہبی ، اور قصوں کہانیوں کی کتابیں بڑی تعدا د میں لکھی گئیں۔ مصنفین کی حوصلہ افزائی کے لئے منظور شدہ کتابوں پر انعام بھی دیا جاتا تھا۔ کالج کےقیام کے ابتدائی چار سالوں میں 23 کتابیں لکھی گئیں ۔ ذیل میں بعض مشہور اہم مصنفین اور ان کی تصانیف کا ذکر اختصار کے ساتھ در ج ہے۔

گلکرسٹ یا گلکرائسٹ:۔

فورٹ ولیم کالج کے شعبہ ہندوستانی کے مصنفین میں سے سر فہر ست گلکرسٹ کا نام ہے۔ وہ بطور ڈاکٹر ہندوستان آئے ۔اور یہاں کی زبان سیکھی کیوں کے اس کے بغیر وہ یہاں اپنے پیشے کو بخوبی سرانجام نہیں دے سکتے تھے۔ بعد میں فورٹ ولیم کالج کے آغاز کا سبب بنے ۔جان گلکرسٹ نے چار سال تک اس کالج میں خدمات سرانجام دیں اور 1704 میں وہ پنشن لے کر انگلستان چلے گئے۔ جہاں اورینٹل انسٹی ٹیوٹ میں اردو کے پروفیسر مقر ہوئے۔ چار سالہ قیام میں انھوں نے مندرجہ زیل کتابیں لکھیں۔

”انگریزی ہندوستانی لغت“ اُن کی پہلی تصنیف ہے اس لغت میں انگریزی الفاظ کے معانی اردو رسم الخط میں شامل کئے گئے ہیں۔ اور اس میں اس طرح کے اشاروں کا اضافہ کیا گیا ہے جن سے پڑھنے والوں کو الفاظ کے تلفظ میں زیادہ سے زیادہ سہولت ہو۔ لغت میں معنی سمجھانے کے لئے اردو ہندی اشعار رومن میں درج کئے گئے ہیں۔

”ہندوستانی زبان کے قواعد “ ان کی دوسری تصنیف ہے ۔ یہ اردو کی صرف نحو کی بہترین کتاب ہے۔ بہادر علی حسینی نے رسالہ گلکرسٹ کے نام سے اس کتا ب کا خلاصہ مرتب کیا۔

”بیاض ہندی“ میں فورٹ ولیم کالج کے مصنفین و مو لفین کے کلام نثر کا انتخاب شامل ہے۔

”مشرقی قصے“ میں حکایتوں اور کہانیوں کا ترجمہ شامل ہے جو حکایات لقمان اور انگریزی ، فارسی ، برج بھاشا اور سنسکرت کے واسطے مترجم تک پہنچی ہیں۔ ان کے علاوہ گلکرسٹ کی تصانیف میں مشرقی زبان دان ، فارسی افعال کا نظریہ جدید ، رہنمائے اردو، اتالیق ہندی، عملی خاکے، ہندی عربی آئینہ ، ہندو ی داستان گو اور ہندوستانی بول چال وغیر شامل ہیں

میرا من دہلوی:۔

فورٹ ولیم کالج کے مصنفین میں سے جس قدر شہرت میرامن کو نصیب ہوئی وہ کسی دوسرے مصنف کو نصیب نہیں ہوئی ۔ میرامن کا اصل نام میرامان اور تخلص لطف تھا۔ لیکن میر امان کی جگہ میرامن کے نام سے مشہور ہوئے۔ میرامن کے بزرگ ہمایون بادشاہ کے عہد سے ہر بادشاہ کے عہدمیں خدمات سرانجام دیتے چلے آئے تھے۔ ان خدمات کے صلے میں انھیں جاگیر و منصب وغیر ہ عطا ہوئے ۔ اس طرح میرامن کے بزرگ خوشحال زندگی بسر کرتے رہے۔ لیکن جب دہلی پر تباہی و بربادی آئی، تو میرامن بھی تلاش معاش کے لئے دہلی چھوڑ کر نکلے اور آخر کار بہادر علی حسینی نے وساطت سے میرامن نے گلکرسٹ تک رسائی حاصل کی۔

میرا من نے فورٹ ولیم کی ملازمت کے دوران دو کتابیں تحریریں کیں۔ باغ و بہار اور گنج خوبی جس میں سب سے زیادہ شہرت باغ و بہار کو ملی

”باغ و بہار“ دراصل محمد عطا حسین تحسین کی فارسی کتاب ”نو طرز مرصع کا اردو ترجمہ ہے۔ باغ و بہار کو بے انتہاءشہر ت حاصل ہوئی ۔ اور آج کل کم و بیش ایک سو نو سال گزرنے کے باوجود اس کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی ۔ اس کی مقبولیت کی کئی وجوہات ہیں جس میں سب سے بڑی وجہ اس کی زبا ن ہے ۔ مولوی عبدالحق باغ و بہار کی زبا ن کو اپنے وقت کی نہایت فصیح اور سلیس زبان قرار دیا ہے۔ اور ہر نقاد نے اس کی تعریف کی ہے۔ اس کتاب کی دوسری بڑی خوبی اپنے عہد اور زمانے کی تہذیب کی بھر پور عکاسی کرتی ہے۔ باغ و بہار میں جابجااپنے عہد کے جیتے جاگتے مرقعے نظر آتے ہیں۔

سید حیدر بخش حیدری:۔

فورٹ ولیم کالج کے مصنفین میں سے میرامن کے بعد جس مصنف کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی ۔ وہ سید حیدر بخش حیدری ہیں۔ حیدری دہلی کے رہنے والے تھے۔ دہلی کر بربادی کے زمانے میں حیدری کے والد دہلی سے بنارس چلے گئے۔ فورٹ ولیم کالج کے لئے ہندوستانی منشیوں کا سن کر حیدری ملازمت کے لئے کلکتہ گئے۔ڈاکٹر گلکرسٹ تک رسائی کے لئے ایک ”قصہ مہر و ماہ“ بھی ساتھ لکھ کر گئے۔ گلکرسٹ نے کہانی کو پسند کیا اور اُن کو کالج میں بطور منشی مقر ر کیا۔ وہ بارہ برس تک کالج سے منسلک رہے۔

فورٹ ولیم کالج کے تمام مصنفین میں سے سب سے زیاد ہ کتابیں لکھنے والے سید حیدر بخش حیدری ہیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد دس کے قریب ہے جن میں

١)قصہ مہر و ماہ ٢)قصہ لیلیٰ مجنوں ٣) ہفت پیکر ٤) تاریخ نادری ٥) گلزار دانش ٦)گلدستہ حیدری ٧)گلشن ہند ٨) توتا کہانی ٩)آرائش محفل

لیکن حیدری کی شہرت کا سبب اُن کی دو کتابیں ”توتا کہانی“، ” آرائش محفل ہیں۔ یہ دونوں کتابیں داستان کی کتابیں ہیں جو کہ جان گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی گئیں

”طوطا کہانی “جس طرح کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب مختلف کہانیوں کا ایک مجموعہ ہے جس کی سب کہانیاں ایک طوطے کی زبانی بیان کی گئی ہیں۔ اس کتاب میں 53 کہانیاں ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک عورت اپنے شوہر کی عدم موجودگی میں اپنے محبوب سے ملنے جانا چاہتی ہے۔ طوطا ہر روز اس کو ایک کہانی سنانا شروع کر دیتا ہے اور ہر روز باتوں باتو ں میں صبح کر دیتا ہے۔ اور وہ اپنے محبوب سے ملنے نہیں جا سکتی حتی کہ اس دوران اس کا شوہر آجاتا ہے۔ جہاں تک کتاب کے اسلوب کا تعلق ہے تو سادگی کے ساتھ ساتھ حیدری نے عبارت کو رنگین بنانے کے لئے قافیہ پیمائی سے بھی کام لیا ہے۔ اس کے علاو ہ موقع اور محل کے مطابق اشعار کا بھی استعمال کیا ہے۔ توتا کہانی کی داستانوں میں جابجا مسلمانوں کی معاشرت اور ان کے رہنے سہنے کی بھی جھلک پیش کی ہے۔

حیدری کی دوسری کتاب ”آرائش محفل“ ہے جو اپنی داستانوی خصوصیات کی بنا پر توتا کہانی سے زیادہ مقبول ہوئی۔ اس کتا ب میں حیدری نے حاتم کے سات مہموں کو قصے کے انداز میں بیان کیا ہے۔ اور اسے فارسی سے ترجمہ کیا۔ لیکن اپنی طبیعت کے مطابق اس میں اضافے بھی کئے ہیں۔ جہاں تک اس کے اسلوب کا تعلق ہے تو زبان میں متانت اور سنجیدگی کے ساتھ ساتھ سادگی اور بے تکلفی بھی پائی جاتی ہے۔ اس میں توتا کہانی کی طرح جان بوجھ کر محاورات کا استعمال نہیں کیاگیا۔ جبکہ داستان کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس میں وہ تمام لوازمات شامل ہیں جو کہ کسی داستان کا حصہ ہونے چاہیے اس لئے کتاب میں مافوق الفطرت عناصر کی فروانی ہے۔

میر شیر علی افسوس:۔

فورٹ ولیم کالج کے مشہور مصنفین میں میر شیر علی افسوس کا نام بھی شامل ہے۔ میر شیر علی افسوس کے آباو اجداد ایران سے آکر ہندوستان میں آباد ہوئے۔ افسوس دہلی میں پیدا ہوئے ۔ لیکن دہلی کی تباہی کے بعد افسوس لکھنو چلے گئے ۔ کرنل اسکاٹ کی بدولت فورٹ ولیم کالج کے منشیوں میں بھر تی ہوئے

فورٹ ولیم کالج کے زمانہ میں میر شیر علی افسوس نے دو کتابےں تصنیف کیں١) باغ اردو) آرائش محفل

”باغ اردو “سعدی کی گلستان کا ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں سادگی کی کمی ہے اس میں عربی اور فارسی الفاظ کا استعمال زیادہ ہے۔ افسوس نے فارسی کے محاورے اور اسلوب کا موزوں اردو بدل تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس لئے کتاب میں نہ سلاست پیداہوئی ہے اور نہ ہی روانی اور بے تکلفی۔

اُن کی دوسر ی کتاب ”آرائش محفل“ ہے۔ یہ کتاب سبحان رائے بٹالوی کی کتاب ”خلاصتہ التواریخ“ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ تاریخ کی کتاب ہونے کے باجود اپنے سادہ اور پروقار اسلوب کی بناءپر ہمارے دور کے ادب کی کتابوں میں شامل ہونے لگی ہے۔ عبار ت میں سلاست اورروانی اور بے تکلفی اس کتاب کا خاصہ ہے۔

میر بہادر علی حسینی:۔

میر بہادر علی حسینی فورٹ ولیم کالج کے میر منشی تھے۔ میرامن ان ہی کی وساطت سے فورٹ ولیم کالج میں بھرتی ہوئے تھے۔ ان کے حالات زندگی کے بارے میں بھی کچھ زیادہ علم نہیں۔ ان کے والد کا نام سید عبداللہ کاظم بتایا جاتا ہے۔ تذکرہ نگارلکھتے ہیں کہ حسینی شاعر بھی تھے اور نثر نگار بھی ۔ وہ کب فورٹ ولیم کالج میں بھرتی ہوئے اور کب تک منسلک رہے اس کے بارے میں معلومات موجود نہیں۔ انھوںنے فورٹ ولیم کالج کے زمانہ میں کئی کتابیں لکھیں جو کہ مندرجہ زیل ہے۔

”نثر بے نظیر “ میر حسن کی مشہور زمانہ مثنوی ”سحر البیان“ کی کہانی کو نثر میں بیان کیاہے۔ ترجمہ کرتے وقت حسینی نے وہی فضاءپیش کی ہے جو کہ سحرالبیان کا خاصہ ہے۔

”اخلاق ہندی“ حسینی نے جان گلکرسٹ کی فرمائش پر ”مفر ح القلوب “ کا سلیس اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ اور اس کانام اخلاق ہندی رکھا ہے۔

”تاریخ آسام“ بھی ترجمہ ہے یہ شہاب الدین طالش ابن ولی محمد کی فارسی تاریخ آسام کا اردو ترجمہ ہے۔

” رسالہ گلکرسٹ“ دراصل گلکرسٹ کی کتاب ”ہندوستانی زبان کے قواعد “ کا خلاصہ ہے۔

مظہر علی ولا:۔

مظہر علی ولا کا اصل نام مرزا لطف علی تھا لیکن عام طور پر مظہر علی خان کے نام سے مشہور ہیں۔ مظہر علی ولا کا تعلق بھی دہلی سے تھا۔ وہ دہلی میں پیدا ہوئے اور وہاں تربیت پائی ۔ مظہر علی ولانثر نگار اور شاعر تھے۔ اُن کو اردو ، سنسکرت اور فارسی پر مکمل دسترس حاصل تھی۔ قیام کالج کے دوران انھوں نے کئی کتابیں تصنیف کیں۔

”مادھونل کام کندلا“ عشق و محبت کا قصہ ہے جس میں مادونل نامی ایک برہمن اور ایک رقاصہ کندلا کی داستان محبت بیان کی گئی ۔ اس قصے کا اصل سنسکرت ہے برج بھاشا میں اس قصے کو موتی رام کوئی نے لکھا ہے۔ ولاِ نے گلکرسٹ کی فرمائش پر اسے قصے کوبرج بھاشا سے اردو میں ترجمہ کیا۔

”ترجمہ کریما“ ولا کی دوسری کتاب ہے۔ جو شیخ سعدی کے مشہور پند نامہ کا منظوم ترجمہ ہے۔

ہفت گلشن بھی ترجمہ ہے ۔والا نے گلکرسٹ کی فرمائش پر واسطی بلگرامی کی فارسی کتاب کو اردو میں ترجمہ کیا اس کتاب میں آداب معاشرت کے مختلف پہلوئوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہر بات کی وضاحت کے لئے موزوں حکایتیں بھی بیان کی گئی ہیں۔

”بیتال پچیسی “ولا کی مشہور کتاب ہے اس کتاب کے ترجمے میں ”للو لال“ بھی ان کے ساتھ شریک تھے۔ یہ پچیس کہانیاں ہیں جو برج بھاشا سے ترجمہ کی گئی ہیں۔ کتاب میں فارسی کے الفاظ بہت کم ہیں۔ زبان ہندی آمیز ہے۔اور سنسکرت کے الفاظ بکثرت ہیں جس کی وجہ سے عبارت سلیس و عا م فہم بھی نہیں

”اتالیق ہندی“ کی تالیف میں ولا کے علاوہ کالج کے کچھ دوسرے اہل قلم بھی شریک تھے۔ یہ کتاب اخلاقی اسباق اور کہانیوں کا مجموعہ ہے۔

مرزا کاظم علی جوان:۔

مرزا کاظم علی جوان جن کا وطن دلی تھا۔ دلی کی تباہی کے بعد پھرتے پھراتے لکھنو آئے ۔ لکھنو میں ان دنوں شعر و شاعر ی کی محفلیں گرم تھیں۔ بحیثیت شاعر انھوں نے بہت جلد مقبولیت حاصل کی ۔ فورٹ ولیم کالج میں کرنل اسکاٹ کی وساطت سے ملازم ہوئے۔ان کی تصانیف مندرجہ زیل ہیں

”شکنتلا“ ان کی مشہور کتاب ہے جو کالی داس کے مشہور ڈرامے شکنتلا کا ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں جوان نے ہندوستانی معاشرت کی کہانی میں عربی اور فارسی کے الفاظ بلاتکلف استعمال کئے ہیں۔ کتاب کی عبارت مجموعی طور پر روزمرہ اور محاورے کے مطابق ہے۔

”بارہ ماسہ“ میں جوان نے ہندئوں اور مسلمانوں کے تہواروں کا حال مثنوی کے پیرائے میں بیان کیا ہے۔

شیخ حفیظ الدین احمد:۔

ان کے خاندان کے بزرگ عرب سے ترک وطن کرکے ہندوستان آئے اور دکن کو اپنا وطن بنایا۔ انھوںنے فارسی اور عربی اپنے والد سے سیکھی جب فورٹ ولیم کالج قائم ہوا تو وہاں عربی اور فارسی کے استاد مقرر ہوئے ۔ شیخ حفیظ الدین نے فورٹ ولیم کالج میں درس و تدریس کے علاوہ تصنیف و تالیف کا کام بھی کیا۔ ان کی مشہورکتابوں میں ابولفضل کی کتاب’عیار دانش“ کا ترجمہ اردو ترجمہ ہے۔ انھوں نے اس کا نام خرد افروز رکھا۔ حفیظ کا ترجمہ اپنی سادگی ۔ صفائی اور شگفتگی کی بناپر بہت پسند کیا گیا ۔

خلیل خان اشک:۔

ان کے حالات زندگی معلوم نہیں۔ کالج کی ملازمت کے دوران اشک نے چار کتابیں تالیف کیں جن کے نام ہیں۔ داستان امیر حمزہ ۔ اکبر نامہ ، گلزار چین اور رسالہ کائنات لیکن ان کی مشہور کتاب داستان امیر حمزہ ہے۔اس کتاب میں اشک کی زبان بہت صاف اور سلیس ہے۔ جگہ جگہ پر مصنف نے قافیے سے کام لیا ہے۔ اور سیدھی سادی باتوں کو ادبی اور شاعرانہ انداز میں بیان کرکے اس کی دلکشی میں اضافہ کیا ہے۔ نیز قصے میں مقامی معاشرت کا رنگ بھی دکھایا گیا ہے۔ یہ کتاب اس قدر مشہور ہوئی کہ ہر فرد اس کے نام سے واقف ہے لیکن جس قدر کتاب کو شہرت حاصل ہوئی اس قدر مصنف گمنامی میں چلا گیا۔

نہال چند لاہوری:۔

نہال چند لاہوری کے اجداد کا تعلق دہلی سے تھا ۔ دلی کی تباہی کے بعد نہال چند لاہور چلے گئے اس لئے لاہوری کہلائے۔ کالج میں ایک کپتان کی وساطت سے ملاز م ہوئے ۔ نہال چند لاہور نے ”گل بکاولی“ کے قصے کو فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا اور اس کانام ”مذہب عشق “رکھا۔ مترجم نے اپنے ترجمے کو اصل سے قریب رکھتے ہوئے تکلفات سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ مترجم نے لفاظی کی جگہ سادگی اختیار کرکے قصے کودلچسپ اور عام فہم بنادیا ہے۔

بینی نارائن جہاں:۔

بینی نرائن کا وطن لاہور تھا ۔ لاہور میں پیدا ہوئے یہیں تعلیم حاصل کی ۔ گردش زمانہ کے ہاتھوں کلکتہ پہنچے ۔ انھوں نے کل دو کتابیں تصنیف کیں۔

”چار گلشن“ ایک عشقیہ داستان ہے جس میں شاہ کیواں اور فرخندہ کی محبت کا ذکر ہے۔ یہ کسی داستان کا ترجمہ نہیں بلکہ اُن کی اپنی طبع ذاد ہے۔

”دیوان جہاں“ اردو شعراءکا تذکرہے ۔ یہ تذکرہ بینی نرائن جہاں نے کپتان روبک کی فرمائش پر مرتب کیا۔

ان مصنفین کے علاوہ جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ کالج کے کچھ اور مصنفین بھی ہیں جن کے نام ذیل میں درج ہیں۔

مرزا جان طپش، میر عبداللہ مسکین، مرزا محمد فطرت، میر معین الدین فیض وغیر ہ

کالج کی خدمات:۔

اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ انگریزوں نے یہ کالج سیاسی مصلحتوں کے تحت قائم کیا تھا۔ تاکہ انگریز یہاں کی زبان سیکھ کر رسم و رواج سے واقف ہو کر اہل ہند پر مضبوطی سے حکومت کر سکیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ فورٹ ولیم کالج شمالی ہند کا وہ پہلا ادبی اور تعلیمی ادارہ ہے جہاں اجتماعی حیثیت سے ایک واضح مقصد اور منظم ضابطہ کے تحت ایسا کام ہوا جس سے اردو زبان و ادب کی بڑ ی خدمت ہوئی۔

اس کالج کے ماتحت جو علمی و ادبی تخلیقات ہوئیں جہاں وہ ایک طرف علمی و ادبی حیثیت سے بڑی اہمیت رکھتی ہیں تو دوسری طرف ان کی اہمیت و افادیت اس بناءپر بھی ہے کہ ان تخلیقات نے اردو زبان و ادب کے مستقبل کی تعمیر و تشکیل میں بڑا حصہ لیا۔خصوصاً ان تخلیقات نے اردو نثر اور روش کو ایک نئی راہ پر ڈالا۔

فورٹ ولیم کالج کے قیام سے قبل اردو زبان کا نثری ذخیرہ بہت محدودتھا۔ اردو نثر میں جو چند کتابیں لکھی گئی تھیں ان کی زبان مشکل ، ثقیل اوربوجھل تھی۔ رشتہ معنی کی تلاش جوئے شیر لانے سے کسی طرح کم نہ تھی۔ فارسی اثرات کے زیراثر اسلوب نگارش تکلف اور تصنع سے بھر پور تھا۔ ہر لکھنے والا اپنی قابلیت جتانے اور اپنے علم و فضل کے اظہار کے لئے موٹے موٹے اور مشکل الفاظ ڈھونڈ کر لاتا تھا۔ لیکن فورٹ کالج کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس نے اردو نثر کو اس پر تکلف انداز تحریر کے خارزار سے نکالنے کی کامیاب کوشش کی۔ سادگی ، روانی ، بول چال اور انداز ، معاشرے کی عکاسی وغیرہ اس کالج کے مصنفین کی تحریروں کا نمایاں وصف ہے۔

فورٹ ولیم کالج کی بدولت تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ ترجمے کی اہمیت بھی واضح ہوئی ۔ منظم طور پر ترجموں کی مساعی سے اردو نثر میں ترجموں کی روایت کا آغاز ہوا اور انیسویں اور بیسویں صدی میں اردو نثر میں ترجمہ کرنے کی جتنی تحریکیں شروع ہوئیں ان کے پس پردہ فورٹ ولیم کا اثر کار فرما رہا۔

فورٹ ولیم کالج کی بدولت تصنیف و تالیف کے کام میں موضوع کی افادیت اور اہمیت کے علاوہ اسلوب بیان کو بڑی اہمیت حاصل ہوئی ۔ یہ محسوس کیا گیا جس قدر موضوع اہمیت کا حامل ہے اسی قدر اسلوب بیان ، اسلوب بیان کی سادگی، سلاست اور زبان کا اردو روزمرہ کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ تاکہ قاری بات کو صحیح طور پر سمجھ سکے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مطالب کو سادہ ، آسان اور عام فہم زبان میں بیان کیاجائے ۔

فورٹ ولیم کالج کے مصنفین کی مساعی کی بدولت اردو زبان بھی ایک بلند سطح پر پہنچی ۔ فورٹ ولیم کالج کی اردو تصانیف سے قبل اردو زبان یا تو پر تکلف داستان سرائی تک محدود تھی یا پھر اسے مذہبی اور اخلاقی تبلیغ کی زبان تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن فورٹ ولیم کالج میں لکھی جانے والی کتابوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اردو زبان میں اتنی وسعت اور صلاحیت ہے کہ اس میں تاریخ ، جغرافیہ ، سائنس ، داستان ، تذکرے ، غرضیکہ ہر موضوع اور مضمون کو آسانی سے بیان کے جا سکتا ہے۔

انجمن پنجاب

سال1857کے ہنگامے کے بعد ملک میں ایک تعطل پیدا ہوگیا تھا ۔ اس تعطل کودور کرنے اور زندگی کو ازسر نو متحرک کرنے کے لیے حکومت کے ایماءپر مختلف صوبوں اور شہروں میں علمی و ادبی سوسائٹیاں قائم کی گئیں ہیں۔ سب سے پہلے بمبئی ، بنارس ،لکھنو ، شاہ جہاں پور ، بریلی اور کلکتہ میں ادبی انجمنیں قائم ہوئیں۔ ایسی ہی ایک انجمن لاہور میں قائم کی گئی جس کا پور ا نام ”انجمن اشاعت مطالب ِ مفیدہ پنجاب “ تھا جو بعد میں انجمن پنجاب کے نام سے مشہور ہوئی۔
انجمن کا قیام جنوری 1865ءمیں عمل میں لایا گیا۔ اس انجمن کے قیام میں ڈاکٹر لائٹر نے نمایاں خدمات انجام دیں ۔ لاہور میں جب گورنمنٹ کالج لاہور قائم ہواڈاکٹر لائٹر اس کالج کے پہلے پرنسپل مقرر ہوئے۔ ڈاکٹر لائٹر کو نہ صرف علوم مشرقی کے بقاءاور احیاءسے دلچسپی تھی بلکہ انہیں یہ بھی احساس تھا کہ لارڈ میکالے کی حکمت عملی کے مطابق انگریزی زبان کے ذریعے علوم سکھانے کا طریقہ عملی مشکلات سے دوچار تھا۔ ان باتوں کی بناءپر ڈاکٹر لائٹر نے اس خطے کی تعلیمی اور معاشرتی اصلاح کا فیصلہ کیا۔ اور انجمن اشاعت مطالب مفیدہ پنجاب کی داغ بیل ڈالی

مقاصد
انجمن کے مقاصد میں قدیم علوم کا احیاء، صنعت و تجارت کا فروغ ، دیسی زبان کے ذریعے علوم مفیدہ کی اشاعت، علمی ادبی اور معاشرتی و سیاسی مسائل پر بحث و نظر صوبے کے بارسوخ طبقات اور افسران حکومت کا رابطہ ، عوام اور انگریز حکومت کے درمیان موجود بدگمانی کو رفع کرنا شامل تھا۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے مختلف مقامات پر مدارس ، کتب خانے قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ رسائل جاری کئے گئے۔ سماجی اور تہذیبی ، اخلاقی ، انتظامی اور ادبی موضوعات پر تبادلہ خیال کے لیے جلسوں کا اہتمام کیا گیا۔

رکنیت:۔
انجمن پنجاب کے پہلے جسلے میں جن لوگوں نے شرکت کی تھی وہ سرکاری ملازم ، روسا ءاور جاگیردار وغیر ہ تھے۔ لیکن جلد ہی اس کی رکنیت عام لوگوں کے لیے بھی کھول دی گئی۔ اس انجمن کے اعزازی دائمی سرپرست پرنس آف ویلز تھے جب کہ سرپرست گورنر پنجاب تھے۔ اس انجمن کے اراکین کی تعداد 250 تھی ۔

انجمن کے جلسے:۔

انجمن کا اہم کام مختلف مضامین پر ہفتہ وار مباحثوں کا سلسلہ شروع کرنا تھا۔ چنانچہ جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو یہ اس قدر کامیاب ثابت ہوا کہ اس کی بازگشت سرکاری ایوان میں بھی سنی جانے لگی۔ اس انجمن کے جلسوں میں پڑھے گئے مضامین پر بحث و نظر کی عام اجازت تھی۔ جب کہ انجمن پنجاب کا جلسہ خاص بالعموم انتظامی نوعیت کا ہوتا تھا۔ اور اس میں صرف عہدہ دار شریک ہوتے تھے۔ لیکن جلسہ عام میں شریک ہونے اور دانشوروں کے مقالات سننے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ اس لیے انجمن پنجاب کی تحریک میں زیادہ اہمیت جلسہ عام کو حاصل تھی۔ اس انجمن کے ابتدائی جلسوں میں مولوی محمد حسین آزاد، پنڈت من پھول ، ڈاکٹر لائٹز ، بابو نوبین چندر رائے، بابو شاما چرن ، مولوی عزیز الدین اور پروفیسر عملدار حسین وغیرہ نے مضامین پڑھے ۔ ان میں سے بیشتر مضامین انجمن کے رسالے میں طبع ہوئے۔

محمد حسین آزادانجمن کے لیکچرار:۔
انجمن کے جلسوں میں جو دانشور مضامین پڑھتے تھے، ان میں سے سب سے زیادہ مضامین [[محمد حسین آزاد]] کے پسند کئے گئے ۔ اس لیے ڈاکٹر لائٹز نے انہیں انجمن کے خرچ پر مستقل طور پر لیکچرر مقرر کرنے کی تجویز منظور کروائی۔ جب محمد حسین آزاد کا تقرر اس عہدے پر کیا گیا ۔ تو آزاد نے موثر طور پر اپنے فرائض ادا کئے اور انجمن پنجاب کو ایک فعال تحریک بنا دیا۔ بحیثیت لیکچرار انجمن پنجاب میں محمد حسین آزاد کے ذمے یہ فرائض تھے کہ جو مضامین جلسوں میں پڑھے جانے والے پسند کئے جاتے تھے ان کو عوام میں مشہور کرنا، ہفتے میں دو تین لیکچر کمیٹی کے حسب منشاءپڑھنا، تحریری لیکچروں کو سلیس اور دلچسپ اردو میں پیش کرنا اور انجمن کے رسالے کی طباعت اور ترتیب مضامین وغیرہ کی درست شامل تھے۔
ان فرائض کی وجہ سے انجمن میں انھیں ایک کلیدی حیثیت حاصل ہوگئی ۔ لیکچروں کی ترتیب و تنظیم ، مجالس کا اتنظام ، مضامین کی قرات اور اشاعت غرضیکہ انجمن پنجاب کے تمام امور عملی انجام دہی ، آزاد کی ذمہ داری تھی۔ آزاد نے اس حیثیت سے اتنی عمدہ خدمات انجام دیں کہ محمد حسین آزاد ادبی پیش منظر پر نمایاں ہوگئے ۔ محمد حسین آزاد نے انجمن کے جلسوں میں ایک جدت یہ کی انہوں نے جلسے کے اختتام پر روایتی مشاعرے کا اضافہ کر دیا تھا۔ اس سے عوامی دلچسپی زیادہ بڑھ گئی تھی۔
انجمن کے مشاعرے:۔
انجمن پنجاب کی شہرت کا سب سے بڑا سبب انجمن کے مشاعرے تھے۔ انجمن پنجاب کے مشاعروں کا آغاز مئی 1874ءکو ہوا۔ کہا جاتا ہے۔ کہ مشاعروں کی بنیاد کرنل ہالرائیڈ ناظم تعلیمات پنجاب کی تحریک سے ہوئی۔ اس زمانے میں غزل کو زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ جبکہ غزل کے بارے میں آزاد کا خیال تھا کہ غزل کی طرز میں ایک خیال اول سے آخر تک اچھی طرح تضمین نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ محمد حسین آزاد نے انجمن پنجاب کے اجلاس منعقدہ 1876ءمیں ایک لیکچر بعنوان ”خیالات درباب نظم اور کلام کے موزوں کے۔“دیاتھا۔ اور اختتام پر اپنی مشہور نظم ”شب قدر“ پڑھ کر سنائی ۔ اس نظم سے مقصود یہ ظاہر کرنا تھا کہ اگر شاعر سلیقہ رکھتا ہو تو ہجر و صال ”عشق و عاشقی، شراب و ساقی اور بہار و خزاں کے علاوہ مناظر فطرت کو بھی شاعری کا موضوع بنایا جاسکتا ہے۔ آزاد کی تقریر اور ان کی نظم اس قدر دل پزیر تھی کہ جلسے کے اختیام پر محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر کرنل ہالرائیڈ نے اس کی بے حد تعریف کی اور فرمایا:
”اس وقت مولوی صاحب نے جو مضمون پڑھا اور رات کی حالت پر اشعار سنائے وہ بہت تعریف کے قابل ہیں۔ یہ نظم ایک عمدہ نظام کا طرز ہے جس کا رواج مطلوب ہے۔“
کرنل ہالرائیڈ کے آخری جملے سے بالمعموم یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ نظم جدید کی ترویج کرنل ہالرائیڈ کی ایما پر ہوئی۔

مشاعروں کا پس منظر:۔
مشاعروں کا سیاسی پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ ٧ اگست 1881ءکو وائسرائے ہند نے ملک کے مختلف صوبہ جات کے پاس ایک آرڈیننس بھیجا جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاری سکولوں میں مسلمانوں کی قدیم زبانوں اور نیز دیسی زبانوں کی تعلیم دی جائے۔ مسلمان اساتذہ مقرر کئے جائیں اور عربی فارسی کی تعلیم میں اضافہ کیا جائے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ وائسرے ہند کے اس حکم کی تعمیل میں پنجاب کے گورنر نے جب سرکاری سکولوں میں پڑھائی جانے والی اردو کتابوں کو دیکھا تو انہوں نے ان کتابوں میں نظموں کی کمی کو محسوس کیا۔ اس کمی کی بناءپر گورنر نے دیسی نظموں کی ترویج کی خواہش ظاہر کی۔ گورنر کی خواہش کوعملی جامہ پہنانے کے لیے پنجاب کے ناظم تعلیمات کرنل ہالرائیڈ نے اردو نظم کے سلسلے میں مشاعروں کی تحریک شروع کرنے کا ارارہ کیا اور اس ضمن میں انہوں نے محمد حسین آزاد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جو اس وقت ناظم تعلیمات پنجاب کے دفتر سے منسلک تھے ۔

جدت:۔
انجمن پنجا ب کے زیر اہتمام جو مشاعرے منعقد کئے جاتے تھے۔ ان میں ایک نئی جدت کی گئی تھی کہ ان مشاعروں کے لیے طرح مصرعہ نہیں دیا جاتا تھا بلکہ نظموں کے عنوان مقرر کئے جاتے تھے اور شعراءحضرات ان موضوعات پر طبع آزمائی کرتے اور ان موضوعات پر نظمیں لکھ کر لاتے اور مشاعرے میں سناتے۔

مشاعروں کی تفصیل:۔
انجمن پنجاب کے مشاعروں کا آغاز 1874ءمیں ہوا۔ پہلا مشاعرہ ٣ مئی 1874ءکو منعقد ہوا ۔ اس مشاعرے کے لیے کرنل ہالرائیڈ کی تجویز کے مطابق نظم کا موضوع ”برسات رکھا گیا۔ اس مشاعرے میں مولانا حالی نے پہلی بار شرکت کی اور اپنی مشہور نظم”برکھا رت“ سنائی تھی۔ محمد حسین آزاد نے بھی برسات کے موضوع پر نظم سنائی تھی۔ مولانا الطاف حسین حالی اور محمد حسین آزاد کے علاوہ اس پہلے مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعراءمیں الطاف علی ، ذوق کاکوروی وغیر ہ شامل تھے
اس مشاعرے کے انعقاد کے بعد انجمن پنجاب کے زیر اہتمام موضوعی مشاعروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ مشاعروں کا سلسلہ 30 مئی 1874ءسے شروع ہواور مارچ 1875ءتک جاری رہا۔ اس دوران کل دس مشاعرے ہوئے اور جن موضوعات پر مشاعروں مےں نظمیں پڑھ گئیں ان میں برسات ، زمستان، امید ، حب وطن ، امن ، انصاف، مروت ، قناعت ، تہذیب، اور اخلاق شامل تھے۔
ان مشاعروں میں شرکت کرنے والے شعراءکے ناموں پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ محمد حسین آزاد اور مولانا الطاف حسین حالی کے علاوہ کوئی دوسرا صف اول کا شاعر شریک نہیں ہوا۔ حالی بھی انجمن کے صرف چار مشاعروں میں شریک ہوسکے تھے۔ کیونکہ بعد میں وہ دہلی چلے گئے تھے۔ ان مشاعروں میں مولانا [[الطاف حسین حالی]] نے جو نظمیں پڑھی تھیں ان کے نام یہ ہیں۔ ”برکھا رت“، ”نشاط امید“ ”حب وطن“ اور ”مناظر رحم انصاف “۔
لاہور سے دلی چلے جانے کے باوجود مولانا الطاف حسین حالی نے نظمیں لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ چنانچہ انھوں نے جو نظمیں لکھیں ان میں مسدس حالی ، مناجات بیوہ ،چپ کی داد اور شکوہ ہند ، واعظ و شاعر وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
انجمن پنجاب کے مشاعروں میں محمد حسین آزاد نے جو نظمیں پڑھیں ان میں شب قدر، صبح امید، ابر کرم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ انجمن پنجاب کے مشاعروں کے ذریعہ نظموں کا ایک وافر ذخیرہ جمع ہوگیا۔ جس نے آنے والے دور میں نظم کی تحریک اور جدید شاعری کے رجحان کی رہنمائی کی۔

ادب پر اثرات:۔
انجمن پنجاب نے ادب پر جو گہر ے اثرا ت مرتب کئے ۔ ان کا مختصر ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ابتداءمیں ذکر ہو چکا ہے۔ کہ انجمن پنجاب کے قیام کا بنیادی مقصد قدیم مشرقی علوم کا احیا اور باشندگان ملک میں دیسی زبان کے ذریعے علوم مفیدہ کی اشاعت وغیرہ تھی ۔ اس کے لیے طریقہ کار یہ اپنایا گیا کہ انجمن کے جلسوں میں مضامین پڑھے جاتے تھے اور اس طریقہ کار کا بڑا فائدہ ہوا۔اور اردو ادب پر اس کے دوررس اثرات مرتب ہوئے۔

مجلسی تنقیدکی ابتدا:۔
انجمن کے جلسوں میں پڑھے گئے مضامین پر بحث و تنقید کی کھلی اجازت تھی۔ انجمن کے اس طریقہ کار کی وجہ سے شرکائے جلسہ کو بحث میں حصہ لینے علمی نقطہ پیداکرنے اور صحت مند تنقید کو برداشت کرنے کی تربیت ملی۔ ہندوستان میں مجلسی تنقیدکی اولین روایت کواسی انجمن نے فروغ دیا۔ علمی امور میں عالی ظرفی ، کشادہ نظری اور وسعت نظر کے جذبات کی ترویج کی گئی۔ چنانچہ بیسویں صدی میں جب حلقہ ارباب ذوق کی تحریک چلی تو اس میں بھی مجلسی تنقید کے اسی انداز کو اپنایا۔ جس قسم کے تنقید کی بنیاد انجمن پنجاب نے ڈالی تھی ، اسی کے نتیجے میں پھر حالی نے اردو تنقید کی پہلی باقاعدہ کتاب”مقدمہ شعر و شاعری“ لکھی۔
نیچرل شاعری کا آغاز:۔

انجمن پنجاب کے مشاعروں کی وجہ سے اردو میں نیچرل شاعری کا رواج ہوا۔ نیچرل شاعری سے مراد یہ ہے کہ ایسی شاعری جس میں مبالغہ نہ ہو، صاف اور سیدھی باتوں کو اس انداز سے بیان کیا گیا جائے کہ لوگ سن کر لطف اندوز ہوں۔ چنانچہ انجمن پنجاب کے مشاعروں میں محمد حسین آزاد اور مولانا حالی نے اپنی نظمیں پڑھ کر اردو میں نیچرل شاعری کی بنیاد ڈالی جس کا بعد میں اسماعیل میرٹھی نے تتبع کیا۔حالی کی نظم برکھا رت سے اس کی مثال ملاحظہ ہو۔

گرمی سے تڑپ رہے تھے جاندار
اور دھوپ میں تپ رہے تھے کہسار
تھی لوٹ سی پڑی چمن میں
اور آگ سی لگ رہی بن میں

بچوں کا ہواتھا حال بے حال
کملائے ہوئے تھے پھول سے گال

اردو شاعری میں انقلاب:۔
انجمن کے مشاعروں نے اردو شاعری میں ذہنی ، فکری اور تہذیبی انقلاب پیدا کیا۔ حب الوطنی ، انسان دوستی ، مروت ، محنت ، اخلاق اور معاشرت کے مختلف موضوعات کو ان مشاعروں کا موضوع بنایا گیا۔ چنانچہ ان مشاعروں نے فرضی ، خیالی اور رسمی عشقیہ شاعری کو بدل کر رکھ دیا ۔ مبالغہ آمیز خیالات کو چھوڑ کر ہر قسم کی فطری اور حقیقی جذبات کو سادگی اور صفائی سے پیش کرنے پر زور دیا جسے اس زمانے میں نیچر ل شاعری کا نام دیا گیا۔

مناظر قدرت:۔
مناظر قدرت کا نظموں میں بیان اگرچہ کوئی نئی چیز نہیں اور نہ ہی یہ انجمن پنجاب کے مشاعروں کی پیداوار ہے ۔ اس کے متعدد نمونے ہمیں نظیر اکبر آبادی کے ہاں ملتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انجمن پنجاب کے مشاعروں سے قبل مناظر قدرت نے کوئی مستقل حیثیت پیدا نہیں کی تھی۔ اور نظیر کے علاوہ کسی دوسرے شاعرے نے اس طرف توجہ نہیں کی تھی۔ لیکن اُس میں مناطر قدرت کے بیان نے ایک مستقل صورت اختیار کی اور س کا سنگ بنیاد سب سے پہلے انجمن پنجاب کے مشاعرہ میں مولانا حالی نے رکھا۔ مولانا حالی نے برکھا رت کے نام سے جو نظم لکھی اس میں برسات کے مختلف پہلوئوں کی تصویر کھینچ کر فطرت کی ترجمانی کی ۔ جبکہ آزاد نے ابر کرم میں قدرت کے مناظر کی عکاسی کی ۔بعد کے شعراءمیں اسماعیل میرٹھی ، شوق قدوائی، بے نظیر نے مناظر فطرت پر اچھی نظمیں لکھیں۔

برسات کا بج رہا ہے ڈنکا
اک شور ہے آسماں پہ برپا
پھولوں سے پٹے ہوئے ہیں کہسار
دولہا بنے ہوئے اشجار
چلنا وہ بادلوں کا زمیں چوم چوم کر
اور اٹھنا آسماں کی طرف جھوم جھوم کر
بجلی کو دیکھو آتی ہے کےا کوندتی ہوئی
سبز ے کو ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا روندتی ہوئی

حب وطن :۔
حب وطن کے جذبات قدیم شاعری میں محدود پیمانے پر ملتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ وطنی شاعری کی وسیع پیمانے پر بنیاد انجمن پنجاب کے مشاعروں کی مرہون منت ہے۔ اس عنوان پر مولانا حالی اور محمد حسین آزاد نے نظمیں لکھیں۔ ان بزرگوں کے بعد چکسبت ،علامہ اقبال اور سرور جہاں آبادی نے حب وطن کے جذبات کو بڑے موثر انداز میں بیا ن کیا ذیل میں حالی کی نظم حب وطن کے چند شعر ملاحظہ ہوں

تم ہر ایک حال میں ہو یوں تو عزیز
تھے وطن میں مگر اور ہی چیز
آن اک اک تمہاری بھاتی تھی
جو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھی
اے وطن ای میر بہشت بریں
کیاہوئے تیرے آسمان و زمین

اخلاقی شاعری:۔
اردو میں اخلاقی شاعری کا عنصر زمانہ قدیم سے چلا آرہاہے۔ لیکن حالی اور آزاد کے دور میں برصغیر کے حالات و واقعات نے بڑی تیزی کے ساتھ پلٹا کھایا ان بزرگوں نے قوم کو اخلاقی سبق سکھانے اور افراد قوم کو سعی کوشش ، صبر و استقلال اور محنت و مشقت سے کام لینے کی تلقین کرنی پڑی۔ چنانچہ محمد حسین آزاد ، مولانا حالی اور اسماعیل میرٹھی نے ان عنوانات پر بکثرت نظمیں لکھیں۔
حالی کے ادبی مزا ج میں تبدیلی:۔
انجمن پنجاب کے مشاعروں کے اثرات نے مولانا حالی کے مزج کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان مشاعروں کے آغاز سے قبل مولانا حالی عیسائی پادری عماد الدین کے ساتھ مناظروں میں الجھے ہوئے تھی۔ لیکن ان مشاعروں نے ان کا مزاج بدلا اور وہ شاعری کی طرف متوجہ ہوئے اور مدوجزر اسلام جیسی طویل نظم لکھ ڈالی
اس طرح مجموعی طور دیکھا جائے تو انجمن پنجاب نے اردو ادب میں جدید شاعری اور تنقید پر دور رس اثرات مرتب کئے اردو نظم کی موجودہ شکل اسی ادارے کی بدولت ہے۔ اور بعد میں آنے والے شعراءاسی روایت کو آگے لے کر چلے اور اُسے مزید آگے بڑھایا۔

علی گڑھ تحریک

سر سید احمد خان

برصغیر پاک و ہند میں 1857کی ناکام جنگ آزادی اور سکوت دہلی کے بعد مسلمانان برصغیر کی فلاح بہودکی ترقی کے لئے جو کوششیں کی گئیں ۔ عرف عام میں وہ ”علی گڑھ تحریک “ کے نام سے مشہور ہوئیں ۔ سرسید نے اس تحریک کا آغاز جنگ آزادی سے ایک طرح سے پہلے سے ہی کر دیا تھا۔ غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ لیکن جنگ آزادی نے سرسید کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کئے اور ان ہی واقعات نے علی گڑھ تحریک کو بارآور کرنے میں بڑی مدد دی۔ لیکن یہ پیش قدمی اضطراری نہ تھی بلکہ اس کے پس پشت بہت سے عوامل کارفرما تھے۔ مثلا راجہ رام موہن رائے کی تحریک نے بھی ان پر گہرا اثر چھوڑا۔
لیکن سب سے بڑا واقعہ سکوت دلی کا ہی ہے۔ اس واقعے نے ان کی فکر اور عملی زندگی میں ایک تلاطم برپا کر دیا۔ اگرچہ اس واقعے کا اولین نتیجہ یار دعمل تو مایوسی ، پژمردگی اور ناامیدی تھا تاہم اس واقعے نے ان کے اندر چھپے ہوئے مصلح کو بیدار کر دیا علی گڑھ تحریک کا وہ بیج جو زیر زمین پرورش پارہا تھا ۔ اب زمین سے باہر آنے کی کوشش کرنے لگا چنا نچہ اس واقعے سے متاثر ہو کر سرسید احمد خان نے قومی خدمت کو اپنا شعار بنا لیا۔
ابتداءمیں سرسیداحمد خان نے صرف ایسے منصوبوں کی تکمیل کی جو مسلمانوں کے لئے مذہبی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ اس وقت سر سید احمد خان قومی سطح پر سوچتے تھے۔ اور ہندوئوں کو کسی قسم کی گزند پہنچانے سے گریز کرتے تھے۔ لیکن ورینکلر یونیورسٹی کی تجویز پر ہندوئوں نے جس متعصبانہ رویے کا اظہار کیا، اس واقعے نے سرسید احمد خان کی فکری جہت کو تبدیل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد اب ان کے دل میں مسلمانوں کی الگ قومی حیثیت کا خیال جاگزیں ہو گیا تھااور وہ صرف مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود میں مصروف ہوگئے۔ اس مقصد کے لئے کالج کا قیام عمل میں لایا گیا رسالے نکالے گئے تاکہ مسلمانوں کے ترقی کے اس دھارے میں شامل کیا جائے۔
1869 ءمیں سرسید احمد خان کوانگلستان جانے کا موقع ملا اس یہاں پر وہ اس فیصلے پر پہنچے کہ ہندوستان میں بھی کیمرج کی طرز کا ایک تعلیمی ادارہ قائم کریں گے۔ وہاں کے اخبارات سپکٹیٹر ، اور گارڈین سے متاثر ہو کر ۔ سرسید نے تعلیمی درسگاہ کے علاوہ مسلمانوں کی تہذیبی زندگی میں انقلاب لانے کے لئے اسی قسم کااخبار ہندوستان سے نکالنے کا فیصلہ کیا ۔ اور ”رسالہ تہذیب الاخلاق“ کا اجراءاس ارادے کی تکمیل تھا۔ اس رسالے نے سرسید کے نظریات کی تبلیغ اور مقاصد کی تکمیل میں اعلیٰ خدمات سر انجام دیں
مقاصد
اس تحریک کے مقاصد کے بارے میں سب اہل الرائے حضرات متفق ہیں اور ان کی آراءمیں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا مثلاً احتشام حسین اس تحریک کے مقاصدکا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس تحریک کےکئی پہلوئوں میں نئے علوم کا حصول ، مذہب کی عقل سے تفہیم ، سماجی اصلاح اور زبان و ادب کی ترقی اور سربلندی شامل ہیں ۔ جبکہ رشید احمد صدیقی لکھتے ہیں کہ اس تحریک کے مقاصد میں مذہب ، اردو ہندو مسلم تعلقات ، انگریز اور انگریزی حکومت ،انگریزی زبان ، مغرب کا اثر اور تقاضے وغیرہ چند پہلو شامل ہیں ان آرا ءسے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تحریک کے مقاصد کے تین زاویے ہیں ۔

وجوہات

جہاں تک سیاسی زاویے کا تعلق ہے۔ تو اگر دیکھا جائے تو جنگ آزادی کے بعد چونکہ اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد مسلمان قوم جمود اور ضمحلال کا شکار ہو چکی تھی ۔ جبکہ ہندوئوں نے انگریزوں سے مفاہمت کی راہ اختیار کر لی اور حکومت میں اہم خدمت انجام دے رہے تھے اوران کے برعکس مسلمان قوم جو ایک صدی پہلے تک ساری حکومت کی اجارہ دار تھی اب حکومتی شعبوں میں اس کا تناسب کم ہوتے ہوتے ایک اور تیس کا رہ گیا۔علی گڑھ تحریک نے مسلمانوں کی اس پسماندگی کو سیاسی انداز میں دور کرنے کی کوشش کی ۔کالج اور تہذیب اخلاق نے مسلمانوں کی سیاسی اور تمدنی زندگی میں ایک انقلاب برپا کیا ۔ اور انھیں سیاسی طور پرایک علیحدہ قوم کا درجہ دیا۔

مذہبی حوالے سے سرسید احمد خان نے مذہب کا خول توڑنے کے بجائے فعال بنانے کی کوشش کی۔ ایک ایسے زمانے میں جب مذہب کے روایتی تصور نے ذہن کو زنگ آلود کر دیا تھا۔ سرسید احمد خان نے عقل سلیم کے ذریعے اسلام کی مدافعت کی اور ثابت کر دیا کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو نئے زمانے کے نئے تقاضوں کو نہ صرف قبول کرتا ہے بلکہ نئے حقائق کی عقلی توضیح کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

ادبی زاویہ

علی گڑھ تحریک کا تیسرا فعال زوایہ ادبی ہے اور اس کے تحت نہ صرف اردو زبان کو وسعت ملی بلکہ اردو ادب کے اسالیب ِ بیان اور روح معانی بھی متاثر ہوئے ۔ اور اس کے موضوعات کا دائرہ وسیع تر ہو گیا۔سرسید سے پہلے اردو ادبیات کا دائرہ تصوف ، تاریخ اور تذکرہ نگاری تک محدود تھا ۔ طبعی علوم ، ریاضیات اور فنون لطیفہ کی طرف توجہ بہت کم دی جاتی تھی۔ سرسید کااثر اسلوب بیان پر بھی ہوا اور موضوع پر بھی ۔ اگرچہ سرسید سے پہلے فورٹ ولیم کالج کی سلیس افسانوی نثر ، دہلی کی علمی نثر اور مرزا غالب کی نجی نثر جس میں ادبیت اعلی درجے کی ہے۔ نظر انداز نہیں کی جا سکتی ۔ لیکن ان سب کوششوں کا دائرہ بہت زیادہ وسیع نہیں تھا۔ سرسید احمد خان کی بدولت نثر میں موضوعات کا تنوع اور سادگی پید اہوئی ۔آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ سرسید تحریک نے اردو ادب کے کون کون سے شعبوں کو متاثر کیا۔

اردو نثر

چونکہ علی گڑھ تحریک نے قومی مقاصد کو پروان چڑھانے کا عہد کیا تھا اور ان کا روئے سخن خواص سے کہیں زیادہ عوام کی طرف تھا اس لئے صرف شاعری اس تحریک کی ضرورت کی کفیل نہیں ہو سکتی تھی۔ اس لئے علی گڑھ تحریک نے سستی جذباتیت کو فروغ دینے کے بجائے گہرے تعقل تدبر اور شعور کو پروان چڑھانے کا عہد کیا تھا اور صرف اردو نثر ان مقاصد میں زیادہ معاونت کر سکتی تھی۔ چنانچہ ادبی سطح پر علی گڑھ تحریک نے اردو نثر کا ایک باوقار ، سنجیدہ اور متوازن معیار قائم کیا اور اُسے شاعری کے مقفٰی اور مسجع اسلوب سے نجات دلا کر سادگی اور متانت کی کشادہ ڈگر پر ڈال دیا اور یوں ادب کی افادی اور مقصدی حیثیت اُبھر کر سامنے آئی۔

سوانح اور سیرت نگاری

علی گڑھ تحریک نے سائنسی نقطہ نظر اور اظہار کی صداقت کو اہمیت دی تھی اور اس کا سب سے زیادہ اثر سوانح اور سیرت نگاری کی صنف پر پڑا ۔ اٹھارویں صدی میں عیسائی مبلغین نے ہادی اسلام حضرت محمد اور دیگر نامور مسلمانوں کے غلط سوانحی کوائف شائع کرکے اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ عیسائی مبلغین کی ان کوششوں میں کبھی کبھی ہندو مورخ بھی شامل ہو جاتے تھے۔ علی گڑھ تحریک چونکہ مسلمانوں کی نشاة ثانیہ کو فروغ دے رہی تھی اس لئے اسلام اور بانی اسلام کے بارے میں پھیلائی گئی غلط فہمیوں کے ازالہ کی کوشش کی گئی۔ چنانچہ سرسید کی ”خطبات احمدیہ “ مولوی چراغ علی کے دورسالے ”بی بی حاجرہ“ ، اور ”ماریہ قبطیہ“ڈپٹی نذیر احمد کی ”امہات الا“ میں تاریخی صداقتوں کو پیش کیا گیا۔

لیکن اس دور کے سب سے بڑے سوانح نگار شبلی نعمانی اور الطاف حسین حالی تھے۔ مولانا شبلی نے نامور ان اسلام کوسوانح نگاری کا موضوع بنایا اور ان کی زندگی اور کارناموں کو تاریخ کے تناظر میں پیش کرکے عوام کو اسلام کی مثالی شخصیتوں سے روشناس کرایا جبکہ مولانا حالی نے اپنے عہد کی عظیم شخصیات کا سوانحی خاکہ مرتب کیا۔ چنانچہ ”یادگار غالب“ ”حیات جاوید“ اور ”حیات سعدی“ اس سلسلے کی کڑیا ں ہیں۔ اس عہد کے دیگر لوگ جنہوں نے سوانح عمریا ں لکھیں ان میں ڈپٹی نذیر احمد ، مولوی چراغ علی اور عبدالحلیم شرر شامل ہیں۔

تاریخ نگاری

سرسید احمد خان نئی تعلیم کے حامی اور جدیدیت کے علمبردار تھے انہوں نے حضور نبی کریم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کے لئے اخلاقیات کی خالص قدروں کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ علی گڑھ تحریک نے قومی زندگی میں جو ولولہ پیدا کیا تھا اسے بیدار رکھنے کے لئے ملی تاریخ سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ۔ لیکن اس تحریک نے تاریخ کو سپاٹ بیانیہ نہیں بنایا بلکہ اس فلسفے کو جنم دیا کہ تاریخ کے اوراق میں قوم اور معاشرے کا دھڑکتا ہوا دل محفوظ ہوتا ہے۔ جس کا آہنگ دریافت کرلینے سے مستقبل کو سنوارا اور ارتقاءکے تسلسل کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اسی نقطہ نظر سے سرسید احمد خان نے ”آئین اکبری“ ”تزک جہانگیری“ اور تاریخ فیروز شاہی دوبارہ مرتب کیں۔ شبلی نعمانی نے ”الفاروق“ ، ”المامون“ اور اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر لکھیں۔ جبکہ مولوی ذکا اللہ نے ”تاریخ ہندوستان “ مرتب کی۔

علی گڑھ تحریک نے مسلمانوں کے شاندار ماضی کی قصیدہ خوانی نہیں کی اور نہ ہی اسلاف کی عظمت سے قوم کو مسحور کیا بلکہ سرسید احمد خان کا ایمان تھا کہ بزرگوں کے یادگار کارناموں کو یاد رکھنا اچھی اور برا دونوں طرح کا پھل دیتا ہے۔ چنانچہ اس تحریک نے تاریخ کے برے پھل سے عوام کو بچانے کی کوشش کی اور ماضی کے تذکرہ جمیل سے صرف اتنی توانائی حاصل کی کہ قوم مستقبل کی مایوسی ختم کرنے کے لئے ایک معیار مقرر کر سکے۔ علی گڑھ تحریک نے تاریخ نگاری کے ایک الگ اسلوب کی بنیاد رکھی بقول سرسید

” ہر فن کے لئے زبان کا طرز بیان جداگانہ ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں ناول اور ناول میں تاریخانہ طرز کو کیسی ہی فصاحت و بلاغت سے برتا گیا ہو دونوں کو برباد کر دیتا ہے۔“

اس لئے علی گڑھ تحریک نے تاریخ نگاری میں غیر شخصی اسلوب کو مروج کیا اور اسے غیر جانبداری سے تاریخ نگاری میں استعمال کیا ۔ اس میں شک نہیں کہ تاریخ کا بیانیہ انداز نثر کی بیشتر رعنائیوں کو زائل کر دیتا ہے۔ تاہم سرسید احمد خان تاریخ کو افسانہ یا ناول بنانے کے حق میں ہرگز نہیں تھے اور وہ شخصی تعصبات سے الگ رہ کر واقعات کی سچی شیرازہ بندی کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے تاریخ کے لئے سادہ اور بیانیہ نثر استعمال کرنے پر زور دیا۔ اور اس نقطہ نظر کے تحت آثار الصنادید کی بوجھل نثر کو سادہ بنایا۔
علی گڑھ تحریک اور تنقید
علی گڑھ تحریک نے زندگی کے جمال کو اجاگر کرنے کے بجائے مادی قدروں کو اہمیت دی۔ چنانچہ ادب کو بے غرضانہ مسرت کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے ایک ایسا مفید وسیلہ قرار دیا گیا جو مادی زندگی کو بدلنے اور اسے مائل بہ ارتقاءرکھنے کی صلاحیت رکھتاتھا۔ ادب کا یہ افادی پہلو بیسویں صدی میں ترقی پسند تحریک کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ تاہم یہ اعزاز علی گڑھ تحریک کو حاصل ہے کہ اردو زبان کے بالکل ابتدائی دور میں ہی اس ی عملی حیثیت کو اس تحریک نے قبول کیا اور ادب کو عین زندگی بنا دیا۔ اس اعتبار سے بقول سید عبداللہ سرسید سب پہلے ترقی پسند ادیب اور نقاد تھے۔ اول الذکر حیثیت سے سرسید احمد خان نے ادب کو تنقید حیات کا فریضہ سرانجام دینے پر آمادہ کیا اور موخر الذکر حیثیت سے ادب کی تنقید کے موقر اصول وضع کرکے اپنے رفقاءکو ان پر عمل کرنے کی تلقین کی۔
اگرچہ سرسید احمد خان نے خودفن تنقید کی کوئی باقاعدہ کتاب نہیں لکھی لیکن اُن کے خیالات نے تنقیدی رجحانا ت پر بڑا اثر ڈالا۔ ان کا یہ بنیادی تصور کہ اعلیٰ تحریر وہی ہے جس میں سچائی ہو، جو دل سے نکلے اور دل پر اثر کرے بعد میں آنے والے تمام تنقیدی تصورات کی اساس ہے۔ سرسید احمد خان نے قبل عبا ت آرائی اور قافیہ پیمائی کو اعلیٰ نثر کی ضروری شرط خیا ل کیا جاتاتھا لیکن سرسید احمد خان نے مضمون کا ایک صاف اور سیدھا طریقہ اختیار کیا ۔ انہوں نے انداز بیان کے بجائے مضمون کو مرکزی اہمیت دی اور طریق ادا کو اس کے تابع کر دیا ۔ سرسید احمد خان کے یہ تنقیدی نظریات ان کے متعدد مضامین میں جابجا بکھرے ہوئے ہیں اور ان سے سرسید احمد خان کا جامع نقطہ نظر مرتب کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ علی گڑھ تحریک نے ایک ان لکھی کتاب پر عمل کیا۔
علی گڑھ تحریک سے اگر پہلے کی تنقیدی پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ علی گڑھ تحریک سے قبل کی تنقید صرف ذاتی تاثرات کے اظہار تک محدود تھی ۔ لیکن سرسید احمد خان نے ادب کو بھی زندگی کے مماثل قرار دیا۔ اور اس پر نظری اور عملی زاویوں سے تنقیدی کی ۔ گو کہ سرسید احمد خان نے خود تنقید کی کوئی باضابطہ کتاب نہیں لکھی ۔ تاہم ان کے رفقاءمیں سے الطاف حسین حالی نے ”مقدمہ شعر و شاعری“ جیسی اردو تنقید کی باقاعدہ کتاب لکھی اور اس کا عملی اطلاق ”یادگار غالب “ میں کیا۔ مولانا حالی کے علاوہ شبلی نعمانی کے تنقیدی نظریات ان کی متعدد کتابوں میں موجود ہیں۔ ان نظریات کی عملی تقلید ”شعر العجم “ ہے۔
سرسید نے صرف ادب اور اس کی تخلیق کو ہی اہمیت نہیں دی بلکہ انہوں نے قار ی کو اساسی حیثیت کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے مضمون کو طرزادا پر فوقیت دی ۔ لیکن انشاءکے بنیادی تقاضوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ بلکہ طرز ادا میں مناسب لطف پیدا کرکے قاری کو سحر اسلوب میں لینے کی تلقین بھی کی۔ چنانچہ ان کے رفقاءمیں سے مولانا شبلی اور ڈپٹی نذیر احمد کے ہاں مضمون اور اسلوب کی ہم آہنگی فطری طور پرعمل میں آتی ہے اور اثر و تاثیر کی ضامن بن جاتی ہے۔ اگرچہ ان کے مقابلے میں حالی کے ہاں تشبیہ اور استعارے کی شیرینی کم ہے تاہم وہ موضوع کا فکری زاویہ ابھارتے ہیں او ر قاری ان کے دلائل میں کھو جاتا ہے۔ اس طرح مولوی ذکاءاللہ کا بیانیہ سادہ ہے لیکن خلوص سے عاری نہیں جبکہ نواب محسن الملک کا اسلوب تمثیلی ہے اور ان کی سادگی میں بھی حلاوت موجود ہے۔
علی گڑھ تحریک اور مضمون نویسی
اصناف نثر میں علی گڑھ تحریک کا ایک اور اہم کارنامہ مضمون نویسی یا مقالہ نگاری ہے۔ اردو نثر میں مضمون نویسی کے اولین نمونے بھی علی گڑھ تحریک نے ہی فراہم کئے ۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ سفر یورپ کے دوران سرسید احمد خان وہاں کے بعض اخبارات مثلاً سپکٹیڑ، ٹیٹلر ، اور گارڈین وغیر ہ کی خدمات سے بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے اور سرسید احمد خان نے انہی اخباروں کے انداز میں ہندوستان سے بھی ایک اخبار کا اجراءکا پروگرام بنایا تھا۔ چنانچہ وطن واپسی کے بعد سرسید احمد خان نے ”رسالہ تہذیب الاخلاق“ جاری کیا۔ اس رسالے میں سرسید احمد خان نے مسائل زندگی کو اُسی فرحت بخش انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جو مذکورہ بالا رسائل کا تھا۔
سرسید احمد خان کے پیش نظر چونکہ ایک اصلاحی مقصد تھا اس لئے ان کے مضامین اگرچہ انگریزی Essayکی پوری روح بیدار نہ ہو سکی تاہم علی گڑھ تحریک اور تہذیب الاخلاق کی بدولت اردو ادب کا تعارف ایک ایسی صنف سے ہوگیا جس کی جہتیں بے شمار تھیں اور جس میں اظہار کے رنگا رنگ قرینے موجود تھے۔
تہذیب الاخلاق کے مضمون نگاروں میں سرسید احمد خان ، محسن الملک ، اور مولوی پیر بخش کے علاوہ دیگر کئی حضرات شامل تھے۔ ان بزرگوں کے زیر اثر کچھ مدت بعد اردو میں مقالہ نگاری کے فن نے ہمارے ہاں بڑے فنون ادبی کا درجہ حاصل کر لیا ۔ چنانچہ محسن الملک ، وقار الملک ، مولوی چراغ علی ، مولانا شبلی اور حالی کے مقالے ادب میں بلند مقام رکھتے ہیں۔
علی گڑھ تحریک اور ناول نگاری
علی گڑھ تحریک میں اصلاحی اور منطقی نقطہ نظر کو تمثیل میں بیان کرنے کا رجحان سرسید احمد خان ، مولانا حالی اور محسن الملک کے ہاں نمایاں ہے۔ تاہم مولوی نذیر احمد نے اسے فن کا درجہ دیا اور تحریک کے عقلی زاویے اور فکری نظریے کے گرد جیتے جاگتے اور سوچتے ہوئے کرداروں کاجمگھٹاکھڑا کردیا۔ چنانچہ وہ تما م باتیں جنہیں سرسید احمد خان نسبتاً بے رنگ ناصحانہ لہجے میں کہتے ہیں۔ ڈپٹی نذیر احمد نے انہیں کرداروں کی زبا ن میں کہلوایا ہے اور ان میں زندگی کی حقیقی رمق پیدا کر دی ہے۔
اگرچہ زندگی کی یہ تصویریں بلاشبہ یک رخی ہیں اور نذیر احمد نے اپنا سارا زور بیان کرداروں کے مثالی نمونے کی تخلیق میں صرف کیا ۔ لیکن یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ سکوت دہلی کے بعد مسلمانوں کی زبوں حالی کے پیش نظر اس وقت مثالی کرداروں کو پیش کرنے کی ضرورت تھی ۔ چنانچہ صاف اور واضح نظرآتا ہے کہ مولانا شبلی اور مولانا حالی نے جو قوت اسلاف کے تذکروں سے حاصل کی تھی وہی قوت نذیر احمد مثالی کرداروں کی تخلیق سے حاصل کرنے کے آرزو مند ہیں۔ مولوی نذیر احمد کے ناول چونکہ داستانوں کے تخیلی اسلوب سے ہٹ کر لکھے گئے تھے اور ان میں حقیقی زندگی کی جھلکیاں بھی موجود تھیں اس لئے انہیں وسیع طبقے میں قبولیت حاصل ہوئی اور ان ناولوں کے ذریعے علی گڑھ تحریک کی معتدل اور متوازن عقلیت کو زیادہ فروغ حاصل ہوا اس طرح نذیر احمد کی کاوشوں سے نہ صرف تحریک کے مقاصد حاصل ہوئے بلکہ ناول کی صنف کو بے پایاں ترقی ملی۔
علی گڑھ تحریک اور نظم
علی گڑھ تحریک نے غزل کے برعکس نظم کو رائج کرنے کی کوشش کی ۔ اس کا سبب خود سرسید احمد خان یہ بتاتے ہیں کہ

” ہماری زبان کے علم و ادب میں بڑا نقصان یہ تھا کہ نظم پوری نہ تھی۔ شاعروں نے اپنی ہمت عاشقانہ غزلوں اور واسوختوں اور مدحیہ قصوں اور ہجر کے قطعوں اور قصہ کہانی کی مثنویوں میں صرف کی تھی۔“

اس بناءپر سرسید احمد خان نے غزل کی ریزہ خیالی کے برعکس نظم کو رائج کرنے کی سعی کی۔ نظم کے فروغ میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے مولانا الطاف حسین حالی سے ”مسدس حالی“ لکھوائی اور پھر اُسے اپنے اعمال حسنہ میں شمار کیا۔
سرسید احمد خان شاعری کے مخالف نہ تھے لیکن وہ شاعری کو نیچرل شاعری کے قریب لانا چاہتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے محمد حسین آزاد کے نےچر مشاعرے کی داد دی اور ان کی مثنوی ”خواب امن“ کو دل کھول کر سراہا۔ سرسید احمد خان کی جدیدیت نے اس حقیقت کو بھی پالیا تھا کہ قافیہ اور ردیف کی پابندی خیالات کے فطری بہائو میں رکاوٹ ہے۔ چنانچہ انہوں نے بے قافیہ نظم کی حمایت کی اور لکھا کہ

”ردیف اور قافیہ کی پابندی گویا ذات شعر میں داخل تھی ۔ رجز اور بے قافیہ شعر گوئی کا رواج نہیں تھا اور اب بھی شروع نہیں ہوا۔ ان باتوں کے نہ ہونے سے ہماری نظم صرف ناقص ہی نہ تھی بلکہ غیر مفید بھی تھی۔“

چنانچہ سرسیداحمد خان کے ان نظریات کااثر یہ ہو ا کہ اردو نظم میں فطرت نگاری کی ایک موثر تحریک پیداہوئی ۔ نظم جدید کے تشکیلی دور میں علی گڑھ تحریک کے ایک رکن عبدالحلیم شرر نے سرگرم حصہ لیا اور ”رسالہ دلگداز“ میں کئی ایسی نظمیں شائع کیں جن میں جامد قواعد و ضوابط سے انحراف برت کر تخلیقی رو کو اظہار کی آزادی عطا کی گئی تھی۔
مجموعی جائزہ
مختصر یہ کہ علی گڑھ تحریک ایک بہت بڑی فکری اور ادبی تحریک تھی ۔ خصوصا ادبی لحاظ سے اس کے اثرات کا دائرہ بہت وسیع ثابت ہوا۔ اس تحریک کی بدولت نہ صرف اسلوب بیان اور روح مضمون میں بلکہ ادبی انواع کے معاملے میں بھی نامور ان علی گڑھ کی توسیعی کوششوں نے بڑا کام کیا۔ اور بعض ایسی اصناف ادب کو رواج دیا جو مغرب سے حاصل کردہ تھیں۔ ان میں سے بعض رجحانات خاص توجہ کے لائق ہیں۔ مثلاً نیچرل شاعری کی تحریک جس میں محمد حسین آزاد کے علاوہ مولانا الطاف حسین حالی بھی برابر کے شریک تھے۔ قدیم طرز شاعری سے انحراف بھی اسی تحریک کا ایک جزو ہے۔ اردو تنقید جدید کا آغاز بھی سرسید احمد خان اور اُن کے رفقاءسے ہوتا ہے۔ سوانح نگار ، سیرت نگاری ، ناول اردو نظم اور مضمون نگاری سب کچھ ہی سرسید تحریک کے زیر اثر پروان چڑھا۔

رومانوی تحریک

رومانوی تحریک کو عام طور پر سر سید احمد خان|سرسید احمد خان کی علی گڑھ تحریک کا ردعمل قرار دیا جاتا ہے۔ کیونکہ سرسید احمد خان کی تحریک ایک اصلاحی تحریک تھی۔ کیونکہ یہ دور تہذیب الاخلاق کا دور تھا اور تہذیب الاخلاق کی نثر عقلیت ، منطقیت ، استدالیت اور معنویت سے بوجھل تھی۔ مزید برآں تہذیب الاخلاق کا ادب مذہبی ،اخلاقی ، تہذیبی اور تمدنی اقدار سے گراں بار تا۔اس جذبے اور احسا س کے خلاف رومانی نوعیت کا ردعمل شروع ہوا اور جذبے اور تخیل کی وہ رو جسے علی گڑھ تحریک نے روکنے کی کوشش کی تھی۔ ابھرے بغیر نہ رہ سکی۔ لیکن اس سے قبل کی رومانیت یا رومانوی تحریک کے بارے میں بحث کریں ، ضروری ہے کہ ہم یہ دیکھ لیں کہ رومانیت سے کیا مراد ہے۔
رومانیت کا مفہوم
رومانیت پر بحث کرتے ہوئے ڈاکٹر سید عبداللہ صاحب فرماتے ہیں کہ لفظ جتنا دل خوش کن ہے تشریح کے لحاظ سے اتنا سہل نہیں۔ لغات اور فرہنگ ، اصطلاحات کے سائیکلو پیڈیا اور تنقید کی کتابیں اس سلسلے میں سب الگ الگ کہانی سنا رہی ہیں۔ اس لئے رومانیت کے متعلق کوئی معین بات کہنا چاہیں تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ رومانیت کے معنی رومانیت ہیں۔ بہر حال سید عبداللہ رومانیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ رومانیت کا ایک ڈھیلا سا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسے اسلوب اظہار یا انداز احساس کا اظہار کرتی ہے جس میں فکر کے مقابلے میں تخیل کی گرفت مضبوط ہو۔ رسم و روایت کی تقلید سے آزادی خیالات کو سیلاب کی طرح جدھر ان کا رخ ہو آزادی سے بہنے دیا جائے۔
مختصر یہ کہ رومانی ادیب اپنے جذبے اور وجدان کو ہر دوسری چیز پر ترجیح دیتا ہے۔ اسلوب اور خیالات دونوں میں اس کی روش تقلید کے مقابلے میں آزادی اور روایت کی پیروی سے بغاوت اور جدت کا میلان رکھتی ہے۔ رومانی ادیب حال سے زیادہ ماضی یا مستقبل سے دلچسپی رکھتا ہے۔ حقائق واقعی سے زیادہ خوش آئند تخیلات اور خوابوں کی اور عجائبات و طلسمات سے بھری ہوئی فضائوں کی مصوری کرتا ہے۔ دوپہر کی چمک اور ہرچیز کو صاف دکھانے والی روشنی کے مقابلے میں دھندلے افق چاندنی اور اندھیرے کی ملی جلی کیفیت اسے زیادہ خوش آئند معلوم ہوتی ہے۔ڈاکٹر محمد حسن رومانیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”رومانیت“ کا لفظ رومانس سے نکلا ہے۔ اور رومانس زبانوں میں اس کا طلاق اس قسم کی نثری منظوم کہانیوں پر ہوتا ہے جن میں انتہائی آراستہ و پرشکوہ پس منظر کے ساتھ عشق و محبت کی ایسی داستانیں سنائی جاتی تھیں جو عام طور پر دور وسطی کے جنگجو اور خطر پسند نوجوانوں کی مہات سے متعلق ہوتی تھیں۔ اس طرح اس لفظ کے تین خاص مفہوم ہیں۔
١) عشق و محبت سے متعلق تمام چیزوں کو رمانی کہا جانے لگا
٢) زبان کی بناوٹ ، سجاوٹ ، آراستگی اور محاکاتی تفصیل پسندی کو رومانی کہا جانے لگا۔
٣) عہد وسطی سے وابستہ تمام چیزوں سے لگائو ، قدامت پسندی اور ماضی پرستی کو رومانی کا لقب دیا گیا۔

مغرب میں رومانیت
یورپ میں یہ تحریک کب اُبھری اس سلسلے میں کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے۔ تاہم یہ بات وثوق سے کہی جاتی ہے کہ یورپ میں اس تحریک کا دور عروج اٹھارویں صدی کے وسط تک محیط ہے۔ اس تحریک کو سب سے زیادہ مقبولیت فرانس انگلستان اور[جرمنی میں حاصل ہوئی۔ ان ممالک میں اس کے پھیلنے کی وجہ حالات کی وہ تبدیلیاں تھیں جن کے زیر اثر لوگوں کے خیالات میں تبدیلیاں رونماہوئیں یہ تبدیلیاں یورپ کے سیاسی اور سماجی انقلابات کی مرہون منت ہیں
ادبیات کے سلسلے میں اس لفظ کو سب سے پہلے 1781ءمیں وارٹن اور برڈ نے استعمال کیا۔ اس کے بعد 1820ءمیں گوئٹے اور شلر نے ادبیات کے سلسلے میں رومانیت کا اطلاق کرنا شروع کیا۔ لیکن بطور اصطلاح اسے مادام ڈی سٹائل اور شیگل نے رائج کیا۔ یورپ میں رومانیت کا سب سے بڑا علمبردار روسو کو تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ سب سے پہلے روسونے فردکی آزادی پر زور دیا۔ چنانچہ روسو کی اس بات کو رومانیت کا مطلع کہاجاتا ہے۔
انسان آزاد پیدا ہوا ہے ، مگر جہاں دیکھو وہ پابہ زنجیر ہے۔“
روسوکے خیال میں انسان کی ناخوشی کا سب سے بڑا سبب تصنع اور بناوٹ ہے ، اور اس چیز کو وجود میں لانے کا سبب تہذیب و تمدن ہے۔ روسو کے خیالات نے اہل یورپ کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ لیکن روسو کا میدان سیاست اور عمرانیات سے آگے نہیں بڑھا۔ جس کی وجہ سے ادب میں ان جدید رجحانات کی ابتداءبعد کے ادیبوں نے کی اور دھیرے دھیر اصول و ضوابط سے سرتابی کی روایت پیدا کی۔
اردو میں رومانیت
اردو میں رومانیت کی ابتداءاگرچہ انیسویں صدی کے آخری حصے میں ہو چکی تھی تاہم اسے فروغ بےسویں صدی کے [پہلی جنگ عظیم کے بعد حاصل ہوا۔ اردو میں اس کاآغاز سرسید تحریک کے ردعمل کے طور پر ہوا۔ سرسید عقلیت ، مادیت اور حقائق نگاری پربہت زیادہ زور دیا اور فرد کی زندگی کی جذباتی اور رومانی پہلوئوں کو یکسر نظرانداز کر دیا۔ کچھ عرصہ تک یہ سکہ چلتا رہا لیکن بالآخر سرسید کے عقلی اور مقصدی ادب کے خلاف رومانوی ادیبوں نے شدید احتجاج کیا اور اس طرح شعر و ادب کی دنیا میں نئی راہوں کی نشاندہی کی۔اور اُس وقت کے حالات اور مغربی علوم کی آمد نے اس تحریک کو آگے بڑھنے میں مزید مدد دی۔
علی گڑھ تحریک کی عقلیت اور مادیت کے خلاف ردعمل میں سر فہرست محمد حسین آزاد ، میر ناصر علی دہلوی اور عبد عبدالحلیم شرر تھے۔ ان لوگوں نے ان اسالیب کو فروغ دینے کی کوشش کی جن میں ادیب کا تخیل جذبے کی جوئے تیز کے ساتھ چلتا رہے۔ لیکن آزاد کی رومانیت کسی ردعمل کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ان کی افتاد طبع کی نقیب ہے۔ جبکہ اس کے برعکس میر ناصر علی کا رومانی عمل شعوری نظرآتا ہے۔ میر ناصر علی نے سرسید احمد کان کے علمی و ادبی کارناموں پر نہ صرف تنقیدکی ہے بلکہ انہوں نے سرسید کی سنجیدہ نثر کا جامد خول توڑنے کے لئے انشاءپردازی کا شگفتہ اسلوب بھی مروج کرنے کی کوشش کی۔ اور انہوں نے سرسید کے مقابلے میں ”فسانہ ایام“، ”صدائے عام جسے رسالے نکالے۔ عہد سرسید میں شدید جذباتی رویے اور رومانی طرز احساس کی ایک اور مثال عبدالحلیم شرر ہیں۔ شرر نے مسلمانوں کے اجتماعی اضمحلال کے خلاف ردعمل پیش کیا اور اس شاندار ماضی میں آسودگی تلاش کی جس میں مسلمانوں کے جاہ و جلال اور ہیبت و جبروت نے مشرق و مغرب کی طنابیں کھینچ رکھی تھیں۔
رسالہ مخزن سرعبدالقادر نے بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی یعنی 1901 میں لاہور سے ماہنامہ مخزن جاری کیا۔ جسے اردو کی عملی و ادبی رسائل میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس رسالے کی اشاعت سے نہ صرف یہ کہ رومانیت کی تحریک کو تقویت ملی بلکہ بعد میں آنے والی تحریکوں کی راہ بھی ہموار ہوئی۔ اس رسالے میں اپنے دور کے تمام رومانیت پسندوں نے لکھا اور اس رسالے نے بہت سے ادبیوں کو اردو دان طبقے سے روشناس کرایا۔
ابولکلام آزاد
مولانا ابو الکلام آزاد کی رومانی نثر کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد حسن لکھتے ہیں کہ ان کی آواز بلندیوں سے آتی ہے اور ان کی بلند شخصیت کی طرح آسمانوں سے نیچے نہیں اترتی وہ ایک پیغمبرانہ سطوت سکے بولتے ہیں۔ ان کے لہجے میں انفرادیت کی وہ کھنک ہے جو اس دور کے کسی اور نثر نگار کے ہاں نہیں ملتی۔ بقول قاضی عبدالغفار،
اردو ادب میں کوئی دوسرا ادیب ایسا نظر نہیں آتا جس نے اس شدت کے ساتھ اپنی انفرادیت کے تازیانے عوام کی ذہنیت پر مارے ہوں۔“
ابو الکلام آزاد|مولانا ابو الکلام آزاد نے نثر کو نثریت سے آزاد کرایا اور ایک علیحدہ اسلوب کی بنیادرکھی۔ ان معنوں میں آزاد جدید عہد کے پہلے صاحب طرز نثر نگار ہیں جس نے اپنے طرز کے زیر اثر حکومت و فلسفہ کے دبستانوں کو اپنے نغمہ رنگ کے آگے بے کیف کردیا۔ ان کی نثر حکیمانہ ہونے سے زیادہ کچھ اور بھی ہے۔ انہوں نے ہمارے ایشائی ذہنوں پر انفرادیت کے تازیانے مارے پستی اور محرودمی ،ذلت اور کم ہمتی کا احساس دلایا ہے جو تبدیلی کی شدید خواہش اور حال سے بے پناہ نفرت کی شکل میں ظہور پذیر ہوا۔ ان کی نثر نے اردو ادب کو ایک نیا اعتماد بخشا۔ البتہ ان کی نثر کی ایک خامی ہے کہ اس پر ابولکلام کے مطالعے کا بوجھ لدا ہوا ہے اور قاری اس سے متاثر ہونے کے بجائے فوراً مرعوب ہو جاتا ہے۔ اور نثر کا تانا بانا خاصا الجھا ہوا ہے اور اس کی تقلید آسان نہیں۔
رومانوی شاعر
رومانوی فکر شاعروں پر بھی کافی حد تک اثر انداز ہوا۔ اور اُس دور کے بہت سے شعراءنے اس اثر کو اپنا یا۔ جن میں زیادہ تر شعراءآہستہ آہستہ سفر کرتے ہوئے انقلاب اور حقیقت پسندی کی طرف گئے۔ اُس دور کے رومانی طرز فکر رکھنے والے شعراءمندرجہ ذیل ہیں۔
علامہ اقبال
رسالہ مخزن میں لکھنے والوں میں سر فہرست شاعر مشرق علامہ محمد اقبال|اقبال کا م ہے۔ علامہ اقبال کے اکثر ناقدین کا کہنا ہے کہ اقبال کی شاعری میں رومانوی اثرات نمایاں نظرآتے ہیں۔ ان کے ہاں جذبات اور وجدان کی افراط اور غلبہ اس قدر زیادہ ہے کہ اگر ان کو رومانوی شاعر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ علامہ اقبال نے عقل و عشق کے لفظوں سے نیا جہاں بسایا اور اس جہان کی تعمیر میں جذبہ اور وجدان کی اہمیت بنیادی ہے۔ لیکن علامہ اقبال روسو کی طرح خودی کو بے پناہ جذبے کی شدت پرعقل کے ذریعے نہیں بلکہ عشق یعنی ایک شدید جذبے کی مد د سے قابو حاصل کرنے کامشورہ دیا۔اقبال نے اپنے کلام میں جگہ جگہ جذبے اور وجدان کی بنیادی اہمیت پر زور دیا ہے۔مثلاً

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

اقبال کی رومانیت کا ذکر کرتے ہوئے انور سدید لکھتے ہیں کہ یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران ہی علامہ اقبال کے رومانی شعراءمیں متعارف ہوئے اس شاعری کو پسند کرنے لگے بلکہ رومانیت نے ان کے قلب و ذہن پر قبضہ جما لیا۔ نقادوں نے اقبال کے ہاں رومانوی زاویوں کی نشادہی کی وہ تین ہیں۔ جن میں پہلا حسن از ل کی طلب و جستجو، ماضی کی عظمتوں کو اجاگر کرنا اور رومانی کرداروں کی تخلیق شامل ہے۔

اختر شیرانی
اردو رمانی شعراءمیں ایک اہم نام اختر شیرانی کا ہے۔ اختر کی شاعری میں ایک مخصوص رومانی نقطہ نظر ملتا ہے۔ اُن کے یہاں حال سے گریز اور فرار کا رجحان نمایاں ہے۔ اختر زندگی کے ٹھوس حقائق کا سامنا کرنے کے بجائے تخیلی زندگی میں پناہ لیتے ہیں۔
اختر شیرانی کی شاعری میں عورت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے انھوں نے اردو ادب کی تاریخ میں پہلی بار اپنی محبوبائوں کے نام کے کھلم کھلا اور بے دھڑک پر جوش جذبات محبت ادا کئے او ر اپنی محبت کو اصل حیات قرار دیا۔ اختر شیرانی نے متوسط طبقے کی دوشیزہ کو معشوقہ بنا کر اس کا نام لے کر شعرکہنے کی روایت ڈالی۔ چنانچہ وہ کبھی سلمیٰ کے رومان حسین کے تذکرے کرتے ہیں اور کبھی عذرا ، ناہید، پروین اور کبھی شمسہ کے زہر آلود ہونٹوں کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن انہوں نے ماورائی لطافت اور سرمستی کی جس طرح پرستش کی ہے اس سے گمان ہوتا ہے کہ وہ کسی خا ص محبوبہ کے غمزوں کا شکار ہونے سے زیادہ سرمستی و عشق پر عاشق ہے۔ اختر کی گوشت پوست کی عورت میں بھی تخیل کا شبہ ہوتا ہے۔
اختر کی بعض نظموں میں وطن پرستی کے جذبات بھی ادا ہوئے ہیں۔ تاہم وطن کا یہ روپ بھی نسائیت کا حامل ہے۔ لیکن وطن ایک ایسی محبوبہ ہے جسے اختر نے ٹوٹ کر پیار کیا اوراس کی جدائی اس کے دل کو غموں اور دکھوں سے ہمکنار کر دیتی ہے۔مختصر یہ کہ اختر شیرانی متنوع جہات شاعر نہیں۔ ان کی شاعری کی سطحی جذباتیت نے انہیں صرف نوجوانوں کا شاعر بنا دیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اختر رومانیت کی ایک توانا آوازہیں۔

محبت کے لئے آیا ہوں میں دنیا کی محفل میں

محبت خون بن کر لہلہاتی ہے میر دل میں

ہر اک شاعر مقدر اپنااپنے ساتھ لایا ہے

محبت کا جنوں تنہا میرے حصے میں آیا

حفیظ جالندھری
حفیظ جالندھری کا شمار رومانوی شعراءمیں ہوتا ہے ان کہاں ماضی پرستی کا رجحان غالب ہے۔ وہ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو بڑے مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی ایک طویل نظم ”شاہنامہ اسلام“ خصوصی طور پر قابل ذکر ہے۔ ماضی پرستی کے علاوہ حفیظ جالندھری کے ہاں فطرت پرستی کا رجحان غالب ہے۔ انہوں نے بہت سی نظمیں لکھیں ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان نظموں میں فطرت کو تشبیہ کی مدد سے مسجسم کیا گیا ہے۔ فطرت ایک خاص انداز اور جسمانی پیکر کے ساتھ برآمد ہوتی ہے۔ ”اٹھی حسینہ سحر “ میں یہ عمل کامیاب ہے۔ حفیظ نے ہندی اور سب نرم و نازک الفاظ کا استعمال بھی بڑی خوبی سے کیا ہے۔ ترنم اور موسیقیت کی طرف بھی انہوں نے خصوصی توجہ دی ہے۔ اور بحروں کے انتخاب اور الفاظ کی ترتیب سے آہنگ نغمہ پیدا کیا۔ نظموں کی ظاہری شک و صورت میں بھی انہوں نے انقلابی تبدیلیاں کی ہیں۔
جوش ملیح آبادی
جیلانی کامران جوش ملیح آبادی کی شاعری کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جوش بنیادی طور پررومانی شاعر ہیں۔ لیکن ان کی رومانیت پیکر اور اجسام کی خوبصورتی ہی کا ذکر کرتی ہے۔ ڈاکٹر محمد حسن جوش کے متعلق لکھتے ہیں کہ جوش جمالیات اور تلاش حسن سے زیادہ شدت جذبات کے پرستار ہیں۔ ان کی رومانیت کی عام شکل مبہم افسردگی ، نسوانیت اور ماورائت نہیں بلکہ گھن گرج ، انقلابی آن بان اور پہاڑوں سے ٹکرانا نئے والے ولولے کی صورت میں نمایاں ہوتی ہے۔ جوش کی پوری شاعری شبابیات کی شاعر ی ہے۔ وہ جذبے کی بے باک سرکشی کے قائل ہیں۔ اس کی تڑپ کے پرستا ر ہیں اور اسی تڑپ ، اس جذباتی احساس کو ادارک کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ جوش کے کلام میں فلسفیانہ مضامین بھی ہیں۔ انہوں نے سائنس اور حکیمانہ شعور کی تعریف ہی نہیں کی اسے برتا بھی ہے لیکن ان سب کے باوجود جوش کابنیادی نغمہ رومانوی ہے۔ ان کے فن میں مختلف رجحانات اور ارتقائی منزلیں اور ادوار ملتے ہیں لیکن جذبات و احساسات پر ان کا زور ہر جگہ قائم رہتا ہے۔
احسان دانش نوائے کارگر ، آتش خاموش ، چراغاں ، شیرازہ ، مقامات ، زخم ، و مرہم اور فصلِ سلاسل ، احسان دانش کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری میں درد و سوز و ، غم روزگار اور زندگی کے نشیب و فراز کی جھلکیاں پائی جاتی ہیں۔ ان کی رومانیت نے غربت کے داخلی احساس سے جنم لیا ہے۔ ان کی شاعر ی میں مسرت کا لمحہ نایا ب اور زندہ دلی کا شدید فقدان ہے۔ ان کے ہاں آنسوئوں اور آہوں کی کمی نہیں۔ احسان دانش کے آنسو انسانی درمندی کے وفور سے پیدا ہوتے ہیں اور یہ اس وقت بہتے ہیں جب تک انسانیت پر زوال آجاتا ہے۔ اور پست و بلند میں امتیاز پیدا کر دیا جاتا ہے۔ احسان دانش کی رومانیت میں ماضی کی یادوں اور فطرت پرستی کو اہمیت حاصل ہے۔ اس رومانیت کے نقوش ان کی نظموں” شام اودھ“، ”بیتے ہوئے دن“ ،” صبح بنارس“ وغیر ہ میں جا بجا بکھرے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر محمد دین تاثیر
ڈاکٹر محمد دین تاثیرکی شاعری کا مجموعہ ”آتش کدہ “ رومانی شاعری کا ایک نمونہ ہے۔ وہ بیک وقت رومانوی تحریک سے بھی وابستہ ہیں اور ترقی پسند تحریک سے بھی۔ ان کی نظمیں مثلا ، انسان ، دہقان کا مستقل ترقی پسندوں جیسا اسلوب بیان لئے ہوئے ہیں۔ رس بھر ہونٹ ، دیوداسی ، لندن کی ایک شام ، اور مان بھی جاؤ جیسی نظموں میں وہ رومانی شاعری نظر آتے ہیں۔ ان کی آزاد نظموں پر مغرب کے رومانی شاعروں کا گہرا پرتو ہے۔
ساغر نظامی
ساغر نظامی کی شاعری میں خود پسندی نے ایک قدر کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ذات میں کائنات کا جلوہ دیکھا اور رومانی کرنیں بکھیرنے کے بجائے انہیں اپنی شخصیت کے نقطے پر مرتکز کرنے کی شعور ی کاش کی۔ ساغر کی رومانیت خود پسندی اور انائے ذات کا زاویہ بھی پیش کرتی ہے۔ اسے نہ صرف اپنے وجود کا احساس ہے۔ بلکہ وہ یہ باور کرانے کی کوشش بھی کرتا ہے کہ وہ اپنے عصر کی آواز ہے اور تغیر کی قوت اس کی ذات میں موجود ہے۔
الطاف مشہدی
الطاف مشہدی کی رومانیت میں ستارے ، پھول ، چاندنی راتیں، بیمار کلیاں ، پر خواب فضائیں اور سحر کار ماحول نے بڑی خوبی سے جادو جگایا ہے اور اس فضا میں اس کا رومانی کردار ریحانہ، شمیم و عنبر بکھیر رہا ہے۔ موضوعات کی کمی کے باعث الطاف مشہدی کے ہاں تنوی کا احساس نہیں ہوتا۔ اور اس کی بیشتر نظمیں ایک ہی مسلسل خیال کا بیانیہ نظرا تی ہیں۔ مجموعی طور پر وہ رومانی تحریک کی ایک ایسی آواز ہے جس میں اختر شیرانی کی آواز بھی شامل ہے۔
رومانوی افسانہ
ایک طرح سے ارد و میں افسانے کا آغاز ہی رومانی تحریک سے ہوتا ہے۔ اردو ادب میں افسانے میں زیادہ تر دو رجحانات غالب رہے ایک رومانی رجحان اور دوسرا ترقی پسند تحریک کا رجحان۔ ترقی پسند یا حقیقت پسند رجحان کی طرح رومانی رجحان بھی ایک مضبوط رجحان ہے جس کا اثر ہر عہد کے افسانے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ رومانوی افسانہ چاہے کیسا بھی ہو لیکن اس سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ اردو میں افسانے کی ابتداءرومانیت پسندوں کے ہاتھوں ہوئی۔آئیے چند اہم افسانہ نگاروں کے کام کا جائزہ لیتے ہیں۔
سجاد حیدر یلدرم
سجاد حیدر یلدرم اردو کے پہلے افسانہ نگار ہیں۔ رومانیت یلدرم کی شخصیت بھی ہے اور ان کا اسلوب فن بھی۔ابتدائے شباب میں ہی رومانی قسم کی بغاوت ان کے ذہن میں پیدا ہو گئی تھی۔وہ اپنے ماحول سے مطمئن نہ تھے اُسے اپنے ذہن و خیال کے مطابق منقلب کرنے کے آرزو مند تھے۔
یلدرم ترکی ادب سے متاثر ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی میں صرف ”محبت “ ایک ایسا عنصر ہے جو ادب اور افسانے جیسی صنف لطیف کا موضوع بن سکتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ادب اور ادیب کوزندگی کے ان جھگڑوں سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہیے جس میں پھنس کر ادیب مصلح اور ادب کوپندو وعظ بننا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی تحریروں کو عورت اور فطرت کے حسن اور ان دونوں کے فطری رومان کے لئے وقف کر دیا تھا۔ ان کا موضوع عور ت اور مرد کی وہ محبت تھی جو فطرت کے قوانین کے سوا کسی اور قسم کی رسوم و قیود کی پا بند نہ تھی۔ اس بات کا اظہار انہوں نے اپنے افسانوں میں کھلے طور پر کیا ہے۔ مثلاً خارستان و گلستان میں لکھتے ہیں کہ، ”عورت ! ، عورت! عورت! ایک بیل ہے جو خشک درخت کے گرد لپٹ کر اُسے تازگی ، اسے زینت بخش دیتی ہے۔“

”عورت میں حسن نہ ہوتا تو مرد میں جرات اور عالی حوصلگی نہ ہوتی۔ مرد میں عالی حوصلگی نہ ہوتی تو عورت کی خوبصورتی اور دلبری رائیگاں جاتی۔“

یلدرم کی رومانیت کا ذکر کرتے ہوئے انور سدید لکھتے ہیں کہ یلدرم کی عطا یہ ہے کہ اس نے اردو ادب کو تعلیم یافتہ عورت سے متعارت کرایا اور زندگی میں اس کے کردار کو تسلیم کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں جب رسوا نے امراءکو اردو میں پیش کیا تھا تو وہ بالواسطہ طور پر ایک طوائف کو کوٹھے سے اتار کر خانہ نشین بنانے کے آرزو مند تھے۔ جبکہ یلدرم نے اس خانہ نشین کو حریم ناز سے نکلنے اور اپنی لطافتوں سے زندگی کو عطر بیز کرنے کی راہ سمجھائی۔
یلدرم محبت کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں چاہتے وہ دو محبت کرنے والوں کے وصال میں مانع ہو۔ وہ ان تمام قدروں کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہیں جو آزادی کی راہ میں حائل ہیں۔ جنسی مسائل پر وہ بالکل جذباتی نہیں ہوتے۔ یلدرم عریانیت اور سماجی قدروں سے براہ راست تصادم سے بچنے کے لئے اپنے افسانوں میں ہزاروں برس قبل کی کسی اجنبی دنیا کے قصے بیان کرتے ہیں۔
مختصر یہ کہ یلدرم کی رومانیت میں ایک ایسا معصوم تحیر موجود ہے جو بچے کے چہرے پر کھلونے حاصل کرنے کی آرزو سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کی رومانیت میں گہرائی یقینا نہیں لیکن جذبے کی سادگی اور ملائمت موجود ہے۔
نیاز فتح پوری
نیاز فتح پوری کے افسانے اس بناوٹی وجود اور غیر حقیقی زندگی کی سب سے بڑی مثالیں ہیں”شاعر کا انجام “ ”شباب کی سرگزشت“ کے طرز تحریر اور اسلوب فکر میں ”گیتانجلی “ سکے روحانی ہم آہنگی جاتی ہے۔وہی شکل وہی انداز بیان اور تمناپسندی ، وہی بات سے بات پر وجد کرنے اور ہرچیز کو اس طرح دیکھنے کی کوشش جیسے اس کا ماورائی وجود ہے اور وہی حسن و عشق کے بارے میں فلسفیانہ طرز خیال۔ ان سب چیزوں نے اردو افسانہ کو بڑی مدت تک متاثر رکھا ہے۔
ان کی ابتدائی تحریروں میں رومانیت کا غلبہ ہے۔ ارضی چیز نہیں ملتی ، ماروائی چیزیں ملتی ہیں۔ کردار نگاری میں بھی ماورائی یکسانیت ملتی ہے۔ ان میں عام انسانی کردار وں کی نوک پلک انداز و ادا اور ارتقاءنہیں ملتا۔ شروع سے لے کر آکر تک ایک بنیادی نغمہ ہے جو شخصیت پر حاوی ہے۔ ان کا پنا کوئی لہجہ زبان اور اندازِگفتگو نہیں۔ یہ سب نیاز کی سجی سجائی بے حد ادبی زبان ہے۔اندا ز بیان کا انداز مکالموں کی عبارت سے ہوتا ہے۔ یہ نثر غالب ، بیدل ذدہ شاعری کے مماثل ہے۔مناظر فطرت کا بے حد جذباتی بیان اور وفور شوق ، تشبیہ اور استعارے کی بہتا ت کے ساتھ ملتا ہے۔
حجاب امتیار علی
کی شعریت اس سے بھی زیادہ آراستہ اور ماورائی ہے اور اس میں جذبات کی فراوانی اور حسن معصوم کی دلکشی ہے۔ ان کے ہاں تحیر کا عنصر ہے۔ حجاب کی کہانیاں ایک خاص انداز میں واحد متکلم کے صیغے میں لکھی گئی ہیں اور ان کے سب کردار کم و بیش جانی پہچانی شخصیتیں ہیں۔ روحی ان کا اپنا نام ہے جسے وہ ارضی سرزمین کی خوشگوار سیاحت میں ساتھ رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر یزدانی ، شہزادہ مشہدی ایسے نام ہیں جو ان کے قاری کے دوست اور آشنا ہوں۔
مجنوں گورکھپوری
مجنوں گورکھپوری نے نیاز فتح پوری کے زیرا ثر افسانہ نگاری شرو ع کی۔ ان کا سب سے پہلا افسانہ ”زیدی کا حشر ، ہے جو کہ شہاب کی سرگزشت سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مجنوں کے افسانوں میں رومانیت کی ایک سنبھلی ہوئی شکل ملتی ہے۔ اس میں جذبے کے وفور کے ساتھ ساتھ تشکیک کی جھلکیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ دوسرے رومانوی ادیبوں کی طرح مجنوں گورکھپوری کے کردا ر بھی غیر دلچسپ کاروباری دنیا میں گھری ہوئی اجنبیت ار تصور پرست روحیں ہیں جو یہاں خواب دیکھنے آتی یں اور جن کی تعبیر میں درد و الم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ان کے ہاں جذبہ ہے جو ناکامیوں سے تھک کر خود اپنے آپ کو تباہ کر لیتا ہے۔ ان کا ہیرو وقت سے پہلے جوان ہو گیا ہے۔ اور جب وہ اپنے معصوم تصورات کو شکست ہوتے دیکھتا ہے تو خود بھی اپنے آپ کو تکلیف دینے اور عذاب میں مبتلا کرنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ یگانہ ، ثریا ، ناصری ،سب اپنی شکست کی آوازیں ہیں۔ مجنوں کی کہانیوں میں محبت ، ناکامی کا دوسرا نام ہے جس کی سزا اور پاداش سوائے گھل گھل کر مرنے کے اور کچھ نہیں۔
غرض یہ کہ مجنوں کا انداز ِبیان نیاز اور خلیقی دونوں سے زیادہ سلجھا ہوا ہے۔ اس میں دشوار شاعرانہ نثر کی فراوانی نہیں۔وہ قصے بیان کے انداز میں لکھتے ہیں۔ لیکن بات بات میں شعرپڑھنا اور موقع بے موقع اشعار نقل کرنا ان کے رومانوی طرز تحریر کی خصوصیت ہے۔ اکثر ان کے کردار اشعار میں گفتگو کرتے ہیں۔ان کے افسانے جذباتی سپردگی کے آئینہ دار ہیں، جنہوں نے اردو افسانہ نگاری پر بڑا اثر ڈالا ہے۔
اس کے علاوہ ناول کے حوالے سے قاضی عبدالفغار نے رومانوی طرز کو نئے حسن سے آشنا کیا۔ ”لیلے کے خطوط“ فنی حیثیت سے نال نہیں کہلا سکتے ہیں۔ لیکن ان میں جذبات کی فروانی اور خطابت کا جوش ہے اور اس لحاظ سے وہ مکمل رومانوی تخلیق ہیں۔

ادب اسلامی کیا ہے؟

محمد علاء الدین ندوی

خدا کی بے شمار نعمتوں میں سے ادب بھی ایک خدائی عطیہ ہے ، ادب ہمیشہ سے انسانی زندگی کے ساتھ جڑا رہا ہے اور جڑا رہے گا ، ادب کسی خاص قوم، خاص زمانہ،اور خاص واقعہ کے حصار میں محدود نہیں رہ سکتا ،و ہ تو ہمیشہ سے انسانی احساسات و جذبات کے ساتھ مربوط رہاہے ، وہ بے حد معززاور لطیف فن ہے، جو قلب و روح کو جلا بخشتا ہے ا ور لذت و منفعت عطا کرتا ہے ، اس کا دامن اتنا ہی وسیع ہے ،جتنی وسعت حیات انسانی میں رہی ہے اور آیندہ ہونے کا امکان باقی رہتا ہے ، وہ اظہار خیال کا پہلا اثر انگیز اور پر کشش ذریعہ ہے ،میوزک اور آرٹ کا مرحلہ بعد میں آتا ہے، بلکہ ادب میں خود میوزک اور آرٹ سمویا ہوا ہوتا ہے۔

ادب سرچشمۂ قوت ہے اور ادب آفریں بھی،وہ مخزن صلاحیت ہے اور صلاح و فساد انگیز بھی ،وہ انسانی شعور کی ایسی حسین پیشکش ہے جس میں ادیب اپنے ذہن و خیا ل پر ابھرنے والے مادی و معنوی حقائق کی شکلوں کو اپنی شعوری تحسین کا ری اور اپنے تجربے کے حوالے سے پیش کرتاہے۔

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ارشاد فرماتے ہیں

’’جب ہم اسلامی ادب کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ادب کی وسعت کو تنگ کرنا نہیں چاہتے، بلکہ ہمارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کے ساتھ لباس کو گندہ نہ کیا جاے اور اس لباس میں کہیں گندگی آجاے تو اس کو ہاتھ کے اشارہ سے بتایا جاے ، اس سے چمٹ کر اپنے کو پراگندہ نہ کیا جاے ، اسلام نے ادب کو اسی خوبی و احتیاط کے دائرہ میں رکھنا پسند کیا ہے اور اس کا حکم دیا ہے۔ادب میں دلوں کو متوجہ کر لینے کی جو طاقت ہے اس کی وجہ سے مختلف زبانوں اور سوسائیٹوں میں اس سے جمہور و عوام کو متأثر کرنے کا کام بھی لیا جاتا رہا ہے ،اس کی مثالیں برے اور اچھے دونوں مقاصد کے لئے تاریخ میں ملتی ہیں،فرانس کے انقلاب میں روسو اور کمیونسٹ اور وولیٹر کے ادب کا کتنا بڑا حصہ ہے؟کمیونزم کو متعدد ملکوں کے عوام میں پسندیدہ بنانے میں کمیونسٹ ادیبوں نے ادب سے کتنا کام لیا ؟اور اس وقت بھی یورپ کی ثقافت و تہذیب کو عام کرنے میں مغرب زدہ ادب کی کتنی خدمات ہیں ؟اس سے اسلام کی تاریخ میں اصلاح و دعوت کے کاموں میں کتنی مدد لی گئی؟ ‘‘

ادب ایک انسانی اور سماجی فریضہ ہے، دراصل ادیب اپنی زندگی اور ماحول سے اپنے احساس و شعور کی طاقت سے کچھ لیتاہے پھر اپنی شخصیت کے شعوری تجربے اور فنی حسن و جمال کا پرتو ڈال کر اسکو واپس لوٹا دیتا ہے ،یہیں سے ادیب اور شاعر کی شخصیت و انفرادیت جلوہ گر ہوتی ہے ،اس انفرادیت کو کسی طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ادب حکمت،دانائی،اور نبض شناسائی کے جوہر سے بھی مالامال ہوتا ہے، اس لئے ادیب پر اپنے سماج کے انحرافات و امراض کے خلاف صحتمند رویہ اپنانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ،ہم ہوں یا دنیا کا کوئی بھی باادب و با مقصد انسان ،ادب کو ادیب کے تصور زندگی اور مقصد حیات سے جدا نہیں کیا جا سکتا،دین کا مقصد اگر انسانی رویوں کو درست کر کے اسے دونوں جہانوں میں کامرانیوں سے ہم کنار کرنا قرار پاتا ہے ،تو ادب ادبی صدقت، جمال،خیر اور حق کی سمت تحسین کاری کی کوشش کا نام ہے۔

ادب اسلامی کا پوداتصور اسلامی کی کشت زار پر اگتا ہے ،تصور اسلامی کا دائرہ اتنا ہی وسیع ہے جس قدر وسعت اور ہمہ گیری خود اسلام میں پائی جاتی ہے،تصور اسلامی کی یہ وسعت ادب اسلامی کو زندگی کا وسیع کینوس فراہم کرتا ہے،تاہم وہ ادب کو مقصد نہیں وسیلہ سمجھتا ہے،وہ اسلامی مفہومات و تصورات اور اصول و اقدار کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے، مگر وہ وعظ و ارشاد،دعوت و تبلیغ اور عمدہ اخلاق و فضائل کی براہ راست تلقین نہیں کرتا۔قطعا ضروری نہیں ہے کہ ادب اسلامی ،اسلام کے عقائد و حقائق ،اس کی تعلیمات اور اس کے اکابر و عظماء کو موضوع گفتگو بنائے،بلکہ وہ تو انسان ،زندگی اور کائنات کو تصور اسلامی کے زاویہ سے دیکھتا ہے،اوراپنے شعوری تجربے کو ادبی جمالیات اور فنی نزاکتوں کے حوالے سے پیش کرتا ہے۔

مولانا ڈاکٹر سعید الاعظمی ندوی فرماتے ہیں :

’’اسلامی ادب پوری زندگی پر محیط ہے ، زندگی اور کائنات میں پیش آنے والے حالات و وقعات پر اس کی گرفت کبھی کمزور نہیں پڑتی ، وہ واقعات کا فنی انداز میں تجزیہ کرتا ہے اور اپنے گرد و پیش کے حالات پر اپنا اثر ڈالتا ہے اور اپنے پرتوِ جمال سے فکر و خیال کو صحت بخش غذا فراہم کرتا ہے اور ہر طرح کے تخریبی عناصر سے ذہن و دماغ کو پاک کرتا ہے‘‘۔

ادب ایک فطری قوت کا نام بھی، کیونکہ انسانی جذبات یا سماج کے دکھ، درد کا گہرا ادراک ادیب و شاعر سے زیادہ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا،حقیقت میں ادیب ہی جگ بیتی کو آپ بیتی بنا کرپھر اس میں خلوص کی مٹھاس اور صداقت کی طاقت بھرتا ہے اور جمالیاتی لطف و لذت کے ساغر میں رکھ کر پیش کرتا ہے تاکہ ادب ایک طرف تو زندگی کا آئینہ بن جائے اور دوسری طرف اس زندگی کومثبت رویہ کے راستے پر ڈالنے میں وسیلے کا کام کرے۔مگر ہمیں یہ نکتہ فراموش نہ کرنا چاہئے کہ ادب اسی وقت تک انسانی فطرت اور سماجی زندگی کی صحیح عکاسی ،بلکہ صحیح خدمت کرتا ہے جب تک انسانی فطرت انحرافات کا شکار نہیں ہوتی،اسلامی تصور زندگی سے جو لوگ محروم رہتے ہیں ان کے لئے فطرت سے انحراف آسان ہو جاتا ہے،اگر ادیب ہی خود انحرافات کا شکار ہو جائے تو پاکیزہ فطرت،صحت مند اور مقصدی و تعمیری ادب کی تخلیق نہیں ہو سکتی۔
اسلامی ادب ایمان کی سرزمین پر اگتا ہے، کیونکہ جب تک آدمی کاایمان و یقین اور اسلامی نظام زندگی کا واضح تصوراس کے فکر و عمل کا سرچشمہ بنا رہتا ہے ،تب تک تو وہ صحیح انسانی فطرت پر قائم رہتاہے، اگر اس سے محروم ہوتاہے تو فطرت سے دور جا پڑتا ہے،آج اگر سماج میں منحرف ادب کی گرم بازاری ہے، تو اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگ( بشمول ادباء و شعراء یا ان میں اکثرو بیشتر) دین فطرت سے منحرف ہو گئے ہیں اور منحرف تصور زندگی کے علمبردار بن گئے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ منحرف ادب منحرف سماج اور منحرف انسان کی نمایندگی کر رہا ہے۔ اگر ببول کے درخت سے کانٹے پیدا ہوتے ہوں تو یہ عین ا س کی فطرت کے مطابق ہے، احمق و نادان ہے وہ شخص جو اس ببول کے درخت سے سیب کی آس لگاے بیٹھا رہے ۔

چونکہ دنیا کا سب سے پاکیزہ فطرت انسان اورواحد فطری نظریۂ حیات کا پیغامبر محسن انسانیت ﷺکی ذات والا صفات تھی اس لئے ان کی زبان مبارک سے جس ادب عالی کا ظہور ہوا ہے، وہ اعلی درجہ کا فطر ی اورانسانی ادب ہے ،اسی ادب کو ہم ادب اسلامی کا شاہکار اور قرآنی ادب کا عکس جمیل کہتے ہیں ، پھر اس دائرہ میں ہر اس ادیب و شاعر کو اپنے نظریۂ حیات کا شاعر و ادیب سمجھتے ہیں جو کم از کم تصوراسلامی اورعام انسانی اخلاقی قدروں کے خلاف بغاوت پر آمادہ نظرنہ آتا ہو۔

حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒ نے کیا خوب ارشاد فرمایا:

’’ادب، ادب ہے ، خواہ وہ کسی مذہبی انسان کی زبان سے نکلے ، کسی پیغمبر کی زبان سے ادا ہو ، یا کسی آسمانی صحیفہ میں ہو ، اس کے لئے شرط یہ ہے کہ بات اس انداز میں کہی جاے کہ دل پر اثر ہو ، کہنے والا مطمئن اورسننے والا لطف اٹھاے ۔ حسن پسندی تو یہ ہے کہ حسن جس شکل میں ہو اسے پسند کیا جاے ، بلبل کو پابند نہیں کر سکتے کہ اُس پھول پہ بیٹھے اِس پھول پر نہ بیٹھے،لیکن یہ کہاں کی حق پسندی ہے کہ اگر گلاب کا پھول کسی میخانہ کے صحن میں اس کے زیر سایہ کھلے تو وہ گلاب ہے اور اگر کسی مسجد کے چمن میں کھلے تو پھر اس میں کوئی حسن نہ ہو ،کیا یہ اس کا جرم ہے کہ اس نے اپنے نمود اور اپنی جلوہ نمائی کے لیے مسجد کا سہارا لیا ؟ اقبال کا شعر ہے ۔

حسن بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لئے ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بن

حصہ

جواب چھوڑ دیں