نیکی کرنے کیلیے نیک طریقہ اپنائیے

 اجتماعی طور پر ہمارے معاشرے کا ایک المناک پہلو یہ ہے کہ ہم نیکی کرتے ہوئے ایسا طریقہ اختیار کر جاتے ہیں جس میں کئی گناہ شامل ہوتے ہیں اور نیکی کی روح کو متاثر کرتے ہیں؛
جیسے رزق حرام سے حج کرنا،
ریاکاری سے صدقہ خیرات کرنا،
کسی کا بھلا کر کے اس سے فرمانبرداری مانگنا،
احسان کر کے جتلانا،
اور قرض دے کر مقروض کو رسوا کرنا وغیرہ وغیرہ۔
کسی نیکی کے اصل روحانی و مادی فوائد کو پانے کیلیے ازحد ضروری ہے کہ اس نیکی کا طریقہ کار بھی گناہ سے پاک ہو ورنہ نیکی کے ثمرات بدرجہ اتم حاصل نہیں ہو پاتے۔
ایسی ہی ایک نیکی چند دن بعد ہمارے ہاں سنت ابراہیمی کی شکل میں کی جانے والی ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اس میں بھی ایسی ایسی خرافات کو شامل کیے دیتے ہیں جو اس نیکی کیلیے زہر قاتل بن جاتی ہیں جیسا کہ
نمود و نمائش،
آپس میں زیادہ سے زیادہ پیسہ خرچ کرنے کی دوڑ،
ناک رکھنے کیلیے قرض اٹھا کر قربانی کرنا
اور ذبیحہ کے سامنے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنا وغیرہ وغیرہ۔
درج بالا خرافات ایک فرد کی قربانی کو محض انفرادی سطح پر متاثر کرتی ہیں البتہ آج ہمارا مقصد اس نیکی میں شامل ایک ایسی قباحت پر روشنی ڈالنا ہے جس کے اثرات بد نہایت وسیع تر ہیں لیکن اصل موضوع کی جانب آنے سے پہلے ہم اس عظیم قربانی کا مختصر سا ذکر کریں گے جس کی یاد میں یہ نیکی کرنا قیامت تک آنے والے صاحب حیثیت مسلمانوں پر واجب قرار دے دیا گیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رب کے حکم پر اپنے عزیز از جان نوعمر بیٹے کی معصوم آنکھوں پر پٹی باندھی اور انہیں زمین پر لٹا دیا۔ بیٹے کی رگوں میں ابراہیمی لہو تیزی سے دوڑ رہا تھا۔ آپ نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تیز دھار آلہ ننھے بچے کی نرم و نازک گردن پہ چلا کر یہ ثابت کر دیا کہ اللہ کی رضا ہی مطلوب و مقصود مومن ہوا کرتی ہے خواہ اس کیلئے اولاد کے گلے پر خنجر ہی کیوں نہ چلانا پڑے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے اور اپنے نبی کہ یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ آسمان سے پلک جھپکتے میں جانور نازل ہوا اور آپ علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ لے لی اور قیامت تک کے مسلمان اس وفا اور قربانی کی یاد میں جانور زبح کرتے رہیں گے۔
اتنا بڑا نیک عمل کرتے وقت ہم اپنے پیارے رسول پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا متفق علیہ فرمان بھول جاتے ہیں کہ “صفائی نصف ایمان ہے” جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس عظیم نیکی کے طریقہ کار میں ایک بہت بڑی برائی شامل ہو جاتی ہے اور وہ ہے آلائشوں اور گندگی کے ڈھیر جو قربانی کے بعد ہفتوں ملک کے طول و عرض میں گلی گلی کوچہ کوچہ قریہ قریہ نظر آتے رہتے ہے۔
واضح رہے کہ سرکار کا فرمان، “صفائی نصف ایمان ہے” انفرادی و اجتماعی صفائی کے ہر شعبے سے متعلق ہے لیکن ہم ہیں کہ ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ صفائی ستھرائی پر مامور ادارے و سرکاری ہرکارے جہاں اپنے کام میں سستی کرتے دکھائی دیتے ہیں وہاں عوام الناس کی طرف سے بھی صفائی کی انفرادی کوششوں کا شدید فقدان نظر آتا ہے۔ ہم یہاں حکومت سے صفائی کے اچھے انتظامات کا تقاضا (جس کے پورا ہونے کی امید نہیں) کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور عوام کے کردار پر بحث کرتے ہیں کیونکہ اصل میں عوام ہی تبدیلی کا سرچشمہ ہیں۔
ہمارے ہاں ایک بہت بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ گناہ صرف وہی ہے جسے مولوی صاحب گناہ کہیں حالانکہ بہت سارے گناہ ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں مولوی صاحب نہیں بتاتے یا بتا نہیں پاتے۔
یاد رکھیے گناہ صرف نماز روزے کو ترک کرنا یا مسجد میں دنیاوی گفتگو کرنا ہی نہیں ہے بلکہ ہر وہ کام بھی گناہ ہے جو مفاد عامہ کو نقصان پہنچانے والا ہو اور عام لوگوں کی جان، مال اور آبرو کیلیے ضرر رساں ہو۔
1۔ جیسے ہسپتال کے قریب بدتمیزی سے پریشر ہارن بجانا گناہ ہے
2۔ ایمبولینس کو دانستہ طور پر راستہ نہ دینا گناہ ہے
3۔ غلط جگہ پارکنگ کر کے گزرگاہ کو بلاک کرنا گناہ ہے
4۔ بلا اجازت سڑک بلاک کر کے فنکشن کے ٹینٹ کرسیاں اسٹیج لگانا گناہ ہے
وغیرہ وغیرہ
اسی تناظر میں آپکے گوش گذار کر دیں کہ کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کے مفتی اعظم نے فتویٰ جاری کیا تھا کہ ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کرنا قانوناً جرم ہونے کے ساتھ ساتھ شرعاً بھی گناہ ہے کیونکہ اس سے انسانی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ان باتوں کو جان لینے کے بعد اب قارئین کیلیے یہ سمجھنا بہت آسان ہے کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی آلائشیں اور گندگی کو ذمہ داری سے ٹھکانے لگانے کی بجائے لاپروائی سے گھر کے باہر یا گلی کی نکڑ پر گلنے سڑنے کیلیے چھوڑ دینا بھی گناہ ہے کیونکہ اس کام سے
1۔ گندگی و تعفن پھیلتا ہے
2۔ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے
3۔ بیماریاں پھیلتی ہیں
4۔ حقوق العباد تلف ہوتے ہیں
5۔ گلی، محلے، شہر کی خوبصورتی خراب ہوتی ہے
6۔ مفاد عامہ کو نقصان پہنچتا ہے
ایسا کرنے سے بلاشبہ ہم اسی غلطی کے مرتکب ہوں گے کہ
“نیکی کا کام کرتے وقت گناہ والا طریقہ اختیار کرنا اور اپنی نیکی کی روح کو نقصان پہنچانا”
اگرچہ بنیادی طور پر یہ سرکاری اداروں اور اہلکاروں کی ہی ذمہ داری ہے کہ عید الضحی کے موقع پر صفائی کے انتظامات کو یقینی بنائیں لیکن اس حوالے سے عوام الناس بھی کلی طور پر بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔
عوام کو چاہیے کہ جس اہتمام سے وہ جانور خریدتے ہیں، اسکی خدمت سیوا کرتے ہیں، قربانی کیلیے قصائی کا بندوبست کرتے ہیں، گوشت بانٹتے اور پکا کے کھاتے ہیں، اسی اہتمام سے اللہ کیلیے قربان کیے گئے جانوروں کی آلائشوں اور گندگی کو ٹھکانے لگانے کیلیے بھی انتظام کریں۔ سب جانتے ہیں کہ قربانی کے جانوروں کی کوئی چیز ضائع نہیں کی جاتی اور تمام آلائشوں کو مفت میں اٹھا کر لے جانے والے باآسانی مل جاتے ہیں۔ بس آپکے ذمہ داری لینے اور تھوڑی سی کوشش کرنے کی بات ہے۔
سرکاری اداروں پر نہ رہیں، زندگی کے اور کتنے ہی معاملات ایسے ہیں جن میں ہم اداروں پر تکیہ کرنے کی بجائے ذاتی حیثیت میں کوشش کر کے اپنا اور دوسروں کا بھلا کر لیتے ہیں۔ اسی طرح اس موقع کیلیے بھی آپ سے گذارش ہے کہ
آلائشوں کو ٹھکانے لگانا قربانی کرنے کی نیکی کا حصہ سمجھیں،
انکو بے آسرا گلنے سڑنے کیلیے چھوڑ دینا گناہ سمجھیں
اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں
یہ آپکی گلی، آپکا محلہ، آپکا علاقہ اور آپکا شہر ہے
یہ آپکا پیارا پاکستان ہے
عید کے موقع پر یہ ایسے ہی صاف ستھرا دکھائی دینا چاہیے جیسے ہمارے گھر خوشی کے موقع پر چمک دمک رہے ہوتے ہیں۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اس عید قربان پر صفائی کو یقینی بنائیں گے اور تاحیات ہر عید پر ایسا ہی کریں گے اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی یہی تربیت دیں گے کہ
“قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو ٹھکانے لگا کر اپنی نیکی کو گناہوں کی آلائشوں سے پاک رکھنا ہے”
حصہ
پیشے کے لحاظ سے الیکٹریکل انجینئر ہیں۔ مذہب، سیاست، معاشرت، اخلاقیات و دیگر موضوعات پر لکھتے ہیں۔ انکی تحریریں متعدد ویب سائٹس پر باقاعدگی سے پبلش ہوتی ہیں۔ درج ذیل ای میل ایڈریس پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے nomanulhaq1@gmail.com

جواب چھوڑ دیں