کاش یہ غم نہ ہوتا

میں ایک ایسے ادارے میں کام کرتا ہوں،جہاں تھیلے سیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کا علاج ہوتا ہے….تھیلے سیمیا ایک ایسی موروثی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے…. اس مرض میں خون نہیں بنتا….نتیجتاًاس مرض میں مبتلا بچوں کو ان کی زندگی برقرار رکھنے کے لیے ہر پندرہ سے بیس دن بعد خون لگوانے کی ضرورت پیش آتی ہے….اگر ماں اور باپ دونوں تھیلے سیمیا مائنر ہوں تو پیدا ہونے والے بچوں میں اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ وہ تھیلے سیمیا میجرمیں مبتلا ہوں….تھیلے سیمیا مائنر کوئی بیماری نہیں۔کوئی بھی فرد تھیلے سیمیا مائنر ہو سکتا ہے۔
یوں تو اوپی ڈی میں ہر قسم کے لوگ آتے ہیں،جن کے چہروں پر غم،خوف اور پریشانی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں،مگر اپنی باری کے انتظار میں ہسپتال کے داخلی دروازے کے ساتھ اپنے خیالوں اور خدشات میں گم، خاتون کی پریشانی اس کے پورے وجود سے عیاں تھی….اس کی کیفیت ایسی تھی جیسے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا کوئی زخمی آپریشن تھیٹر میں ہو…. اور اس کے لواحقین انتظار گاہ میں آپریشن کی کامیابی یا ناکامی سے متعلق جاننے کے لیے ڈاکٹر کے باہر آنے کا انتظار کر رہے ہوں۔
کھٹکا تو تھاہی….مگر معمول کی بات سمجھ کر میں اس کے سامنے سے گزر گیا اورسیٹرھیاں چڑھتا ہواپہلی منزل پراپنی نشست پر پہنچ کرکام میں مصروف ہوگیا۔جمعے کا دن تھا….نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد جانے کی غرض سے جب نیچے پہنچا تو وہ خاتون اُسی بے قراری کے عالم میں بیٹھی تھی….نماز ادا کر کے جونہی آفس تک آیا تو دیکھا وہ وہ خاتون دفتر کے باہرمین گیٹ پر کھڑی ہے،ساتھ ہی اس کی پانچ چھ سالہ بچی اس سے لپٹی ہوئی تھی۔اس کی آنکھیں آنسوﺅں سے لبریز تھیں….کرب کی شدت میں وہ کبھی اپنی گردن دائیں جانب موڑتی اور کبھی بائیں جانب،جیسے کوئی ایسا شانہ تلاش کر رہی ہوجہاں سر رکھ کر اپنے دل کا سارا غبار نکال سکے….اب یہ ایک ایسی صورتحال تھی جسے نظر انداز کر کے دفتر کے اندر جانے کی ہمت نہ مجھ میں تھی اور نہ ہی میرے دفتر کے کُلیگ اخلاق میں!۔
”کیا ہوا بہن؟“….ہم دونوں نے ایک ساتھ ان سے سوال کیا….ہمارا یہ پوچھنا تھا کہ خاتون کے ضبط کا سارا بندھن ٹوٹ گیا….”میرے بیٹے کو تھیلے سیمیا ہے“….اس نے اپنی گود میں موجود آٹھ ماہ کے بچے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا پھراس کی پیٹھ پر اپنا سر رکھ کر ہچکیاں لینے لگی۔یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس میں کچھ دیر کے لیے ہم بھی ساکت رہ گئے۔اب ہم نے آگے کیا بولنا تھا۔بُت کی صورت سر جھکائے کھڑے رہے….دلاسہ دینے کے لیے موزوں لفظ ذہن سے کوسوں دور تھا….سو ہم کھڑے رہے….وہ روتی رہی….ہم سکتے کے ماحول سے نکلے تواسے دفتر کے اندر لے گئے۔اخلاق نے بچہ خاتون کی گود سے لے لیا….اُسے ہلکورے دیتے ہوئے چمکارا….تب ہم نے خاتون سے کہا:….”بہن! غم کی کوئی بات نہیں ابھی تو بچے نے لمبا سفر طے کرنا ہے،آپ اس طرح ہمت ہاردیں گی تو بچے کا علاج کیسے ہوگا؟….خدا کی مرضی ہے….صبر سے کام لیں….ہم آپ کے ساتھ ہیں….آپ کے ساتھ ہر ممکن تعاﺅن کریں گے….آپ اکیلی نہیں ہیں….عمیر ثناءفاﺅنڈیشن ایسے ہی بچوں کے علاج کے لیے بنائی گئی ہے….بچے کا بلڈ گروپ بھی ”او“ہے اگر خون کا انتظام نہیں ہوگا تو ہم اپنا خون دیں گے۔“….ہم نے ابھی اتنی ہی بات کی تھی کہ تھمی ہوئی سسکیوں نے پھر سر اٹھایاوہ تلخ لہجے میں کہنے لگی:”اسی کو تھیلے سیمیا ہونا تھا،یہ میرا اپنا بیٹا نہیں ہے،بڑے بھائی سے گود لیا ہے….اب کیا ہوگا؟“۔
اب ہونا کیا تھاجس ہونی کا خدشہ تھا وہ انہونی نہ ہو سکا….آنسوﺅں کی ہر ہر موج پلکوں کی باڑ توڑ توڑ کر اس کے رخسار تک آتی اور اس کے سیاہ نقاب میں جذب ہوجاتی….ہم اس کے دکھ کی بارش میں کھڑے بھیگتے رہے….سوچتے رہے….سوچتے رہے کہ آخر ہم اپنا تھیلے سیمیا کا ٹیسٹ کیوں نہیں کراتے؟۔جب بھی کوئی بچہ اس جاں لیوا مرض کے ساتھ پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی پوری زندگی میں نہ صرف اپنے ماں اور باپ کے لیے آزمائش باعث ہوتا ہے بلکہ پورا گھرانہ ایک طرح کی ذہنی اور نفسیاتی عذاب میں مبتلا رہتا ہے….یوں تو کوئی بھی بیماری اللہ کی آزمائش ہوتی ہے مگر کئی ایسی بیماریاں ہیں جن سے ہم بچ سکتے ہیںاور خوش آئند بات یہ ہے کہ تھیلے سیمیا سے بچاﺅ کے اقدامات سے نئے پیدا ہونے والے بچوں کواس مرض سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ خاندان میں شادی سے گریز کیا جائے۔ شادی سے پہلے لڑکی اور لڑکا اپنا تھیلے سیمیا کا ٹیسٹ کرالے یا اگر خاندان میں شادی ناگزیر ہی ہو تو حمل کے دوران کرونک ویلس سمپلنگ نامی ٹیسٹ کرالیا جائے تو عمر بھر کے غم سے نجات مل سکتی ہے۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں