گھر انسانی رشتوں سے بنتے ہیں

           عبد الرزاق صاحب نہیں سدھریں گے” یہ وہ فقرہ ہے جو میرے کسی بھائی یا بہن نے دادا کی ”زیادتیوں” اور ان کی ہر معاملے میں روک ٹوک کی روش سے تنگ آکر اُس ڈکشنری کے حاشیے پر درج کیا ہے، جو ہمارے دادا جان نے 1938 ء میں آٹھ آنے کے عوض خریدی تھی اور اب وہ اس قدر بوسیدہ ہو چکی ہے کہ اگر بے احتیاطی سے  ورق گردانی کی جائے تو اس کے خستہ اوراق پھٹنے کا اندیشہ ہوتاہے۔ آج بھی بعض ایسے الفاظ جس کے معنی نہیں ملتے’ وہ دادا کی 72 سالہ اس پرانی لغت میں مل جاتے ہیں اور جب بھی لفظ تلاش کیلئے ہمیںلغت کھولنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو کسی صفحے پر درج اس قدیم اور تاریخی فقرے سے مڈبھیڑ ضرور ہوتی ہے، تب آپ سے آپ ہی ذہن ماضی کے ”خوشگوار” ”حیرت انگیز” اور ناقابل بیان دھندلکوں میں کھو جاتا ہے اور پھر دادا بے طرح یاد آتے ہیں اور بچپن کی یادیں دل میں ترازو ہو جاتی ہیں۔

            ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ ان  کی تاریخ ِ پیدایش کیا تھی، مگر جب سے ہم نے ہوش سنبھالا، دادا کو اپنی نگرانی پرمامور پایا۔ یہ کرو ،وہ نہ کرو ‘ یہاں جائو’وہاں مت جائو’ دھوپ میں مت پھرو’ یہ اور اس نوع کے دیگر فقرے سن سن کر ہم بیزارہو چکے تھے مگر، دادا بھی اپنی دھن کے پکے تھے وہ کب باز آنے والے تھے، سو دمِ واپسیں تک وہ اپنی اِسی پرانی روش پر قائم رہے اور تادم ِتحریرہم بھی!

            وہ ہم11بھائی بہنوں کے دادا تھے۔ ان کی شخصیت کی کئی جہتیں تھیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ خطاط تھے۔ پیتل کے ظروف پر نقش نگاری اور لوہے کے قلم سے قرآنی آیات کندہ کرنے میں انہیں مہارت حاصل تھی ۔یوں تو دادا آٹھ جماعت پاس تھے مگر ان کی اردو’ ریاضی اور انگریزی ہمارے لئے باعثِ رشک تھی۔ مطالعے کے دوران ہم بھائی بہنوں کا اگر کسی مشکل لفظ سے واسطہ پڑتا تو ہم داداہی کی خدمات حاصل کرتے، دادا ہمارے لئے ڈکشنری کا کام کرتے۔ محلے میں کسی کی شادی کے موقعے پر کارڈ پر نام لکھواناہو یا محلہ کمیٹی یا مسجد کمیٹی کا کوئی دعوت نامہ تیار کرنا ہو، دادا کی مہارت سے ضرور استفادہ کیا جاتا۔ ہمارے دادا ہرفن مولا کے طور پر جانے جاتے تھے۔ کسی کی چپل ٹوٹ جاتی یا قلم…بجلی کا بلب فیوز ہوجاتا یاہماری شرارتوں سے کسی کرسی کی ایک ٹانگ ضائع ہو جاتی، ایسے موقعے پر اکثر دادا ہی کام آتے اور کام اتنی مہارت’ صفائی اور باریک بینی سے کرتے کہ جیسے یہی ان کا پیشہ ہو، ان کا دیسی طریقے سے گھر پر تیار کیا جانے والاٹوتھ پیسٹ ہمیںآج بھی نہیں بھولتا’ ٹوتھ پیسٹ کے جملہ لوازمات وہ تھوک فروش سے خرید لاتے اور اپنے وضع کردہ طریقے سے اسے تیار کرتے اور کہتے ایک توتھ پیسٹ میں یہی اجراء شامل ہوتے ہیں جو میں لایا ہوں۔ ڈاڑھی تراشنے کی قینچی ہو یا خط بنانے کا اُسترا ،یہ چیزیں کم ہی خریدی جاتیں، اکثر یہ سامان دادا خود ہی تیار کر لیتے… گھڑی ہاتھ کی ہو یا دیوار کی کسی بھی خرابی کی صورت، اس کے علاج کا مکمل سامان ہمہ وقت موجود ہوتا۔ سحر خیزی کے عادی ہم نہ آج ہیں نہ نو خیزی میں تھے۔تاہم دادا نے نو خیزی میں ہم سب بھائی بہنوں کو سحر خیز بنانا کے لئے ایک ایسی دواء تیار کی تھی جسے وہ اس وقت ہماری ناک کے قریب لاتے جب ہم ان کی تمام کوششوں کے باوجود اٹھ کر نہ دیتے،تب اس دواء کے سونگتے ہی ہم سب ہڑبڑا کر اس طرح اٹھ بیٹھتے، جیسے ہم نے دادا کی دوا نہیں سونگھی ہو بلکہ صورِ اسرافیل سن لیا ہو۔ ہم میں سے ایک بھائی ایسا بھی تھا جو دادا کے ان تمام ”ہتھکنڈوں” کے باوجود اٹھ کر نہیں دیتاتھا، تب دادا وہ فارمولا اختیار کرتے جس کی زد میں آنے سے ہم ہمیشہ محفوظ رہے’ وہ یہ تھا کہ… اٹھاتے’ فضا میں بلندکرتے اورپھر دھڑام سے بستر پر چھوڑ دیتے!

ناظرہ قرآن کی تعلیم ہمیں دادا ہی کے ذریعے ملی’ سبق کے یاد نہ کرنے پر جہاں ایک طرف ہماری گوش مالی کی جاتی ‘ وہیں دوسری جانب ہمیں راغب کرنے کیلئے انہوں نے اپنی صندوق میں کھجوریں بھی رکھی ہوئی تھیں، جس کی لالچ میں ہم کبھی آجاتے اور کبھی نہیں۔ دوران ِ تدریس وہ واقعات بھی سناتے۔ سورہ لہب کا ترجمہ اور اس کا پورانفس ِ مضمون جس کہانی کے انداز میں دادا نے سنایا تھا آج بھی سورہ لہب کی تلاوت کے موقع پر دادا کی تشریح ذہن میں گھومنے لگتی ہے۔

 جھوٹ،سچ’ چغلی’ غیبت اور حلال و حرام کا تصور ہم پر دادا ہی کے ذریعے واضح ہوا۔ دادا نے گھر کی دیوار پر کبھی کسی جاندار کی تصویر آویزاں نہیں کرنے دی اور نہ ہی کبھی اس طرح رکھنے کی اجازت دی کہ نمایاں ہو،وہ ہمیں اکثر یہ حدیث سناتے کہ :”جس گھر میں تصویر ہو وہاں فرشتے نہیں آتے”۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ آج بھی ہمارے گھر کے درو دیوار تصویروں سے خالی ہیں’ جب بھی تصویر آویزاں کرنے کی خواہش ہوتی ہے تو معاً دادا کی بات یاد آجاتی ہے۔

جب بھی وہ ہمیں غلط کام کرتے دیکھتے تو انتہائی شفقت سے سورہ زلزال کی یہ آیت پڑھتے:فمن یعمل مثقال ذرة خیرایرہ ومن یعمل مثقال ذرة شرایرہ۔۔۔جو ذرہ برابر نیکی کرے کا وہ بھی وہ دیکھ لے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ بھی وہ دیکھ لے گا۔دادا کی یہ نصیحت کبھی کبھی بریک کا کام دے جاتی ہے۔ہم نے کبھی دادا کو نماز ضائع کرتے نہیں دیکھا ،سردی ہو یا گرمی…موسم کاکوئی رنگ اورتغیر ان سے تکبیر ِ اولیٰ نہیں چھڑواسکا’ کم گوئی و کم آمیزی ان کی شخصیت کا خاصہ تھی۔شعور کی عمر کو پہنچ کر جب ہم نے نماز پڑھنا شروع کی تو ،رات سونے سے قبل ہم دادا کو  تاکید کرتے کہ وہ ہمیں بھی فجر میں اٹھا دیا کریںمگر جب وہ ہمیں اٹھاتے تو ہم کسمساکر رہ جاتے ،یوں نماز کا وقت نکل جاتا،ہر رات ہم ان سے  اپنے انہی نیک جذبات کا اظہار کرتے اور دادا ہر صبح اپنے فرض کو پورا کرتے،بسا اوقات وہ ہمیں صرف منہ سے اٹھانے اور ہاتھ سے ہلانے پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنے ہاتھ کو ہماری گردن میں حمائل کر کے ایسے اٹھا کر بٹھادیتے جیسے کسی جاں بہ لب مریض کو دوا پلانے کے لیے بستر سے اٹھاتے ہیں۔اگرکسی روز وہ اس ”سعادت”سے محروم رہ جاتے تو ہم ان سے شکایتی لہجے میں کہتے ”آج آپ نے فجر میں نہیں اٹھایا؟”تب وہ تُنک کر جواب دیتے”سسرا اٹھتا تو ہے نہیں”۔

دادا پوری زندگی اسلام ،شعائر اسلام اور احکامِ اسلام کے خود بھی پابندرہے اور ہم لوگوں کے لیے بھی ان کی یہی خواہش رہی کہ ہم بھی ایسا ہی کریں ،کبھی کبھی ہمارے نزدیک جو انتہائی چھوٹی اور معمولی بات ہوتی دادا کے نزدیک وہ قطعاً معمولی نہ ہوتی، اس کا اندازہ ہمیں اُس وقت ہوا جب میرے ایک بڑے بھائی نے جو اس وقت آٹھویں جماعت میں زیر ِ تعلیم تھے ،پہلی جماعت میں زیر ِ تعلیم چھوٹی بہن کی کاپی پر اس کی ٹیوشن کی مس کے لیے محبت کے اظہار پر مبنی چند فقرے لکھ دیئے …بڑے بھائی کی بد قسمتی کہ یہ کاپی دادا کی نظر سے گزر گئی،دادا نے دروازے کے پیچھے سے وہ ڈنڈانکالاجو ہم سب کو راہِ راست پر رکھنے کے کام آتا تھا،اس ڈنڈے سے دادا نے ان کی وہ خبر لی کہ اللہ کی پناہ…”دادا اب نہیں کروں گا”!۔بھائی کی اس یقین دہانی کے باوجود، دادا کو اس بات کا یقین نہیں ہوا اور جب ڈنڈا پیٹھ پر کئی آڑی ،ترچھی لکیریںبناتا جواب دے گیا تو دادا نے بیلٹ نکال کر گویا بھائی کو ادھ موا ہی کر دیا۔اس وقت تو ہم یہی سمجھے کہ شاید ہمارابھائی دنیا کا سب سے سنگین جرم کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑاگیا ہے،دادا کی غضب ناکی کی وجہ ہمیں اس وقت سمجھ آئی جب ہم خود بھائی کی عمر کو پہنچے اور اللہ اور اس کے رسولۖ کی تعلیمات سے آگاہ ہوئے۔

میں جب دفتر سے گھر آتا تو بائیک صحن میں کھڑی کر کے دادا کے کمرے میں داخل ہو کر ”اور کیا حال ہیں،دادا”ضرور کہتا…ایک دن حسب معمول گھر آیا، بائیک کھڑی کی اور کمرے میں داخل ہوتے ہی”اور کیا حال ہیں دادا”کہہ کر داخل ہوا ،مگر آج کمرے میں دادا نہیں تھے۔ انھیں رخصت ہوئے توپورا ہفتہ گزر چکا تھا مگر دل دماغ نے اس حادثے کو قبول نہیں کیا تھا،تب مجھے پہلی مرتبہ معلوم  ہواکہ    سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا… اور یہ کہ مکان اینٹ گارے نہیں انسانی رشتوں پر ایستادہ ہوتے ہیں ،اوراگر یہ رشتے ٹوٹ جائیں یا جدا ہو جائیں تومکینوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ جیسے تند و تیز ہوا کے جھکڑ نے مکان کی چھت اڑاکر انھیں بے اماں اور بے خانماں کر دیاہو ۔کہنے کو تو وہ عملاً زندہ لاش تھے مگر یہ لاش ہی ہمارے گھر کی روح اور جان تھی۔میںان کے انتقال کے تیسرے دن ، پھول اور پتیاںلے کر قبرستان گیا۔لاکھ تلاش کرنے اور حافظے پر زور دینے کے باوجود ان کی قبر کی شناخت کرنے سے قاصر رہا،بالآخر پھول اور پتیاں کسی اور کی قبر پر نچھاور کر کے اپنی بد قسمتی پر کڑھتا اور خود کو ملامت کرتا گھر چلاآیا۔

ماہ وسال کا پہیہ گھومتا رہا …دو دہائیاں بیت گئیں…زمانے نے اپنے کئی رنگ دکھلائے اور آج ہم اس سیدھی سادی زندگی سے گزرتے ہوئے اکیسویں صدی میں داخل ہوگئے…جو روشن خیالی اور جدت پسندی سے عبارت ہے…جہاں اصلاح کے لیے ڈنڈا نہیں…ہاتھوں میں روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا علم ہے اور ذہنوں میں دنیا کے سامنے اپنا سافٹ امیج پیش کرنے کابھوت سوار ہے…سو، اب کوئی اس عمل کا اعادہ کرے تو وہ رجعت پسند ہے اور انتہا پسند ہے۔”مہذب” اور ”روشن خیال”قوم کو ایسے شخص سے کوئی علاقہ نہیں …!

  اکبر ہمارے عہد کا اللہ رے انقلاب

گویا وہ زمیں  نہ رہی  وہ آسماں نہیں

 اب ہم اس منزل پہ آگئے ہیں جہاں کسی سے کھلے بندوں بھی محبت کا اظہار کوئی معیوب بات نہیں بلکہ ایک فیشن ہے،اور نہ ہی یہ فعل اس قدر سنگین ہے کہ کسی کی پیٹھ پر ڈنڈا توڑ ا جائے۔

عمر کے آخری حصے میں جب ان پر فالج کا حملہ ہوا تو ہم سب بھائی بہن بے حد رنجور ہوئے۔ فالج کے نتیجے میں ان کا بایاں دھڑ مفلوج ہو کر رہ گیا تھا، تاہم اس کے باوجود وہ تیمم کر کے نماز ضرور ادا کرتے۔ رات میں اکیلے اٹھ کر واش روم تک جانا ان کیلئے ایک مسئلہ تھا میں نے ازراہ ہمدردی ان سے کہہ رکھا تھا کہ رات جب واش روم جانا ہو تو مجھے اٹھا دیا کریں۔ ابتداً تو ان کے اٹھانے پر میں خواہی نہ خواہی اٹھ کر انہیں واش روم لے جاتا رہا پھر آہستہ آہستہ فطرت نے سر اٹھایااور ان کا یہ عمل ہماری طبع ِ آزاد پر گراں گزرنے لگا جسے دادا نے بھانپ لیا اور رات میں جب بھی واش روم کی حاجت ہوتی وہ خود ہی دیوار کے سہارے چلے جاتے۔

            غرض دادا کی یادیں کیا ہیں،یادوںکی کہکشائیں ہیں ،اور یادوں کی ان کہکشانوںمیں انگنت ستارے ہیںاور ہر ستارے میں گئے دنوں کی یاد کی ایک دنیا آباد ہے۔

 فرصت ملے تو خاک سے پوچھوں کہ او لئیم

            تو نے   وہ  گنجہائے   گراں   مایہ  کیا   کیے

 

حصہ

2 تبصرے

جواب چھوڑ دیں