عید کا پاجامہ

اک آدمی نے ڈانٹا جو درزی کی ذات کو

کرتہ پاجامہ آ ھی گیا چاند رات کو

دیکھا پہن کے جب اسے کرتہ تو ٹھیک تھا
پاجامہ پر لگا انہیں تین 3 اینچ کچھ بڑا

بیگم سے بولے آج میرا کام یہ کرو
تین 3 انچ کاٹ کر اسے بس ٹھیک سے سی دو

بیگم یہ بولی دیکھئیے فرصت کہاں مجھے
کل عید ھے اور آج بڑا کام ھے سر پے

بیٹی جو بڑی سامنے آئی اسے کہا
مہندی کا مگر اس نے بہانا بتا دیا

یوں چار بیٹیوں سے بھی جب بات نہ بنی
کرتے بھی کیا ، کسی سے بھی امید نہ رھی

خود ھی پجاما کاٹ کے پھر سی دیا اسے
اور پھر وہ جناب بے فکر سو گئے

ہ،…………………….

بیگم بچاری کام سے فارغ ھوئی ذرا
پاجامہ کی سلائی کا تب دھیان آگیا

ناراض ھو نہ جائیں میاں کوئی بات پر
پاجامہ ٹھیک کر دیا نیچے سے کاٹ کر

دھویا جو بڑی بیٹی نے مہندی بھرے وہ ھاتھ
پاجامہ چھوٹا کر دیا پھر خوشدلی کے ساتھ

جس جس کو جب بھی وقت ملا سب نے دیکھئیے
پاجامہ چھوٹا کر کے وہیں سب نے رکھدئیے

یوں رات بھر سبھی تھے پجامے پے مہربان
کہتا بھی کیا کسی سے وہ معصوم و بے زبان
ہ………..
پاجامہ کی تھی صبح کو درگت عجیب سی
کرتے پہ اک سفید تھی چڈّی رکھی ھوئی

حصہ

جواب چھوڑ دیں