کامیاب اور پُرسکون زندگی گزارنے کے سنہری اصول.

۔ جھوٹ

جھوٹ دو ہی وجہ سے بولا جاتا ہے

کسی خوف سے

یا

کسی مفاد سے

ہمیشہ سیدھے راستے پر چلیں، آپ خوف سے نجات پا لیں گے

اللہ پر مکمل بھروسہ رکھیں، آپ تمام مفادات سے بالاتر ہو جائیں گے

اگر آپ نے یہ دو کام کر لیے تو عظمت ٹوٹ کر آپ پر برسنے لگے گی

۔ خوبیوں کا نادر مجموعہ

دنیا قابل انسانوں سے بھری پڑی ہے

دیانتدار لوگ آج بھی ڈھونڈنے پر مل جاتے ہیں

اور عجز و انکسار اختیار کرنے والوں کی بھی کمی نہیں

لیکن بدقسمتی سے

لائق لوگ عموماً لالچی اور متکبر ہوتے ہیں

دیانتدار حضرات عموماً نااہل ہوتے ہیں

اور عاجز عموماََ وہی ہوتا ہے جو محروم ہوتا ہے

اگر آپ اپنے گرد و پیش میں انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں تو قابلیت، دیانتداری اور عاجزی کو اپنی ذات میں یکجا کر لیجیے

اگرچہ ان خصوصیات کا ایک شخصیت میں اکٹھا ہونا بہت نایاب ہے لیکن یاد رکھیں، ریاضت انسان کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے بشرطیکہ آپ کہیں پہنچنا چاہتے ہوں

کیا آپ کہیں پہنچنا چاہتے ہیں؟

سوچیں!

۔ منزل مقصود

بغیر منزل کا تعین کیے، زندگی محض آوارہ گردی ہے

آوارہ گرد نہ بنیں

اپنی منزل اور سمت متعین کر کے چلیں

کہیں نہ کہیں ضرور پہنچ جائیں گے

۔ ایکسپائری ڈیٹ

دوا، موقع اور صلاحیت

تینوں بروقت استعمال نہ ہوں تو ایکسپائر ہو جاتی ہیں

اپنا میڈیکل باکس کھولیں اور غیر ضروری ادویات فورا ضرورت مندوں تک پہنچا دیں

جہاں اپنی یا کسی کی بہتری کا موقع ملتا ہو، اسے کسی صورت ضائع نہ جانے دیں

اپنی ذات کو اچھی طرح ٹٹولیں اور خدا کی عطا کردہ صلاحیتوں کی فہرست بنا لیں۔ پھر اپنی ایک ایک صلاحیت کو بنی نوع انسان کی فلاح کیلیے وقف کر دیں

اگر آپ نے عہد کر لیا ہے کہ ہر ایکسپائر ہونے والی چیز سے بروقت فائدہ اٹھائیں گے

تو یہ مت بھولیے کہ آپ کی اپنی بھی ایک ایکسپائری ڈیٹ ہے

پھر اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟؟؟

کیا ہم خود ایکسپائر ہونے سے پہلے کسی کا بھلا کر پائیں گے؟؟؟

سوچیں۔۔۔

۔ مکافات عمل اور تقدیر

 تقدیر کا لکھا ٹل سکتا ہے

لیکن آپکے اپنے ہاتھ کا لکھا کبھی نہیں ٹل سکتا

یاد رکھیے، ظلم مکافات عمل بن کر ظالم کا پیچھا کرتا ہے

اور مکافات عمل تقدیر بن کر انسان پر لپکتی ہے جو دنیا میں اسے چھوڑ بھی دے تو آخرت میں ضرور جا پکڑے گی

لہذا ظلم کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیے کہ آپ بچ نہیں پائیں گے

کیونکہ

مکافات عمل تقدیر سے زیادہ یقینی ہے اور یہ حقیقت آپکے یقین کی محتاج نہیں

۔ جو کام

جو کام اشارے کنایے سے ہو جائے اس کیلیے زبان نہ چلاؤ۔ یہ غیر ضروری ہے

جو کام الفاظ سے ہو جائے اس کیلیے ہاتھ نہ اٹھاؤ۔ یہ ظلم ہے

جو کام دست و بازو سے ہو جائے اس کیلیے ہتھیار نہ اٹھاؤ۔ یہ فتنہ گری ہے

اور

جو کام ہتھیار سے ہوتا ہے اس کیلیے ہاتھ نہ اٹھاؤ۔ یہ بزدلی ہے

جو کام ہاتھ سے ہوتا ہے اس کیلیے زبان نہ چلاؤ۔ یہ کمزوری ہے

جو کام زبان سے ہوتا ہے اس کیلیے اشارے نہ کراؤ۔ یہ منافقت ہے

۔ دنیا کا سب سے بیوقوف انسان

دنیا کا سب سے بیواقوف انسان وہ ہے جو سب کو بیوقوف سمجھتا ہے

ایسا بیوقوف انسان اپنی ہر بات اور اپنا ہر کام یہی سمجھ کر کرتا ہے کہ میرے سوا سب بیوقوف ہیں اور ان سب کو میری بات، میرے کام اور میری چال سمجھ نہیں آ سکتی

جبکہ حقیقتاً ایسا ہوتا نہیں کہ اس کے سوا سب بیوقوف ہوں،

عقلمند لوگ بھی ارد گرد موجود ہوتے ہیں جو نہ صرف اسکی حقیقت کو جان لیتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی سمجھا دیتے ہیں

نتیجتاً سب کو بیوقوف سمجھنے والا خود خلق خدا کی نظر میں بیوقوف بن جاتا ہے اور اسے معلوم بھی نہیں ہوتا

اگر وہ اپنے سوا سب کو بیوقوف سمجھنے کی بجائے سب کو خود سے عقلمند جانتا تو اپنی ہر بات، اپنے ہر کام اور ہر چال میں حددرجہ محتاط ہوتا

یہ محتاط رویہ اسے یقیناً ایک عقلمند انسان کی شہرت عطا کرتا

لہذا اپنے سوا سب کو بیوقوف سمجھنے کی بجائے سب کو خود سے عقلمند جانیے

لیکن خود پسندی کے جال میں بری طرح پھنسے دنیا کے سب سے بیوقوف انسان کے لیے اپنے سوا سب کو عقلمند سمجھنا پہاڑ سے نہر کھودنے کے مترداف ہے

۔ خواہشات اور خوشیاں

خواہشات بذات خود خوشیوں کی قاتل ہیں

اگر خواہش پوری ہونے کے آثار نہ ہوں تو مایوسی ہوتی ہے جو کئی نفسیاتی و روحانی عوارض ساتھ لاتی ہے

اگر خواہش پوری ہونے کے آثار ہوں تو خواہش پوری ہونے تک خواہش بڑھتی ہی جاتی ہے

خوشی محض اس مختصر وقت کیلیے ملتی ہے جب خواہش پوری ہوتی ہے

پھر تکمیل خواہش ایک عامی چیز ہو جاتی ہے اور خواہش پوری ہوتے ہی خوشی مٹ جاتی ہے لیکن ساتھ ہی پہلے سے بڑی خواہش پیدا ہو جاتی ہے نتیجتاً انسان اسی طرح خواہشات پالتے پالتے مر جاتا ہے

لہذا

خواہشات کو محدود رکھیں،

خود کو خواہشات کا غلام نہ بنائیں،

زندگی کو اصولوں اور نظریات کے تابع کریں

اور فقر و مشقت والی زندگی گزاریں

۔ ستاری و فیاضی

اگر قدرت ہمارے کرتوتوں پر پردہ ڈالنا اور ہمارے حق سے زیادہ نوازنا چھوڑ دے

تو آپ کو دنیا میں کوئی عظیم انسان نظر نہ آئے

لہذا خبط عظمت سے نکلیے اور اپنے خالق اور اسکی مخلوق دونوں کے سامنے عاجزی اختیار کیجیے

ورنہ کبھی نہ کبھی قدرت آپکو بے نقاب کر دے گی اور آپکے حق کے مطابق عطا کرنے لگے گی

پھر آپ کہیں کے نہیں رہیں گے

۔ غم اور ہمدردیاں

غم بیچ کر ہمدردیاں خریدنے کی احمقانہ کوشش نہ کریں

آپکے غم اس دنیا کی سرکس میں تماش بینوں کے لیے کچھ دیر لطف کا باعث تو بن سکتے ہیں

لیکن بازار دنیا میں ایسے بیوپاری بہت کم ہیں جو غم کی اصل قیمت دے سکیں

لہذا اپنا غم گلے میں لٹکا کر اور چہرے پر سجا کر گلی گلی ہمدردیوں کی بھیک نہ مانگیں۔ یہ عمل آپکی عزت نفس کا قاتل ہے

ہر حال میں خوش رہیں کیونکہ غم بھی خوشیوں کی طرح عارضی ہوتے ہیں

نوٹ: تکلیف زیادہ ہو تو اللہ سے رجوع فرمائیں

۔ قد

جب اپنا قد اصل سے بڑا نظر آنے لگے تو دوسروں کا قد اصل سے چھوٹا نظر آنے لگتا ہے

یہی اپنی ذات کا تکبر اور دوسروں پر حقارت کی نگاہ ڈالنا ہے

اپنی اوقات پر کڑی نظر رکھیں، یہ مسئلہ حل ہو جائے گا

ورنہ متکبر انسان کو قدرت دنیا میں ہی خاک چاٹنے پر مجبور کر دیتی ہے

غور کر لیں، کہیں آپ بھی خاک چاٹنے کیلیے قطار میں تو نہیں لگے ہوئے؟

 

حصہ
پیشے کے لحاظ سے الیکٹریکل انجینئر ہیں۔ مذہب، سیاست، معاشرت، اخلاقیات و دیگر موضوعات پر لکھتے ہیں۔ انکی تحریریں متعدد ویب سائٹس پر باقاعدگی سے پبلش ہوتی ہیں۔ درج ذیل ای میل ایڈریس پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے nomanulhaq1@gmail.com

2 تبصرے

جواب چھوڑ دیں