دل کی سنیں یا دماغ کی؟؟۔۔ثروت جمال اصمعی

دل محض خون پمپ کرنے کا آلہ ہے یا سوچنے سمجھنے اور فیصلے کرنے والا انسانی جسم کا حکمراں؟ پہلی رائے اب تک جدید سائنس کی رہی ہے جبکہ دوسرا موقف اللہ اور رسولؐ کے ارشادات پر مبنی ہے۔اپنی سرکشی سے خود کو جہنم کا مستحق بنالینے والے جنوں اور انسانوں کے بارے میں قرآن کہتا ہے ’’ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں‘‘ (سور ۂاعراف:179) ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بتاتے ہیں کہ انسان کے تمام معاملات کی درستگی کا انحصار دل کے درست ہونے پر ہے۔ صحیح بخاری کتاب الایمان کی مشہور حدیث کے مطابق نبی اکرم ؐ نے فرمایا ’’آگاہ رہو، جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ ٹھیک رہے تو پورا جسم ٹھیک رہتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم فساد کا شکار ہوجاتا ہے۔‘‘
سائنس اور قرآن کے اس اختلاف کی توجیہہ عام طور پر یہ کی جاتی رہی ہے کہ دل سے پسلیوں کے پنجرے میں مقید مخروطی عضو نہیں بلکہ انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مراد ہے ۔ نیز اس صلاحیت کا تعلق تو اصل میں دماغ ہی سے ہے مگر زمانہ قدیم سے چونکہ یہ خیال پایا جاتا ہے کہ یہ دل کا کام ہے اس لیے آسمانی کتابوں اور مذہبی تعلیمات میں اس حوالے سے دل ہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ہر زبان اور ہر دور کے ادب اور شاعری میں محبت اور نفرت ،دوستی اور دشمنی، دیانت اور خیانت، ایثار و خود غرضی، بخل اور سخاوت جیسے تمام جذبوں اور اعمال نیز روحانی معاملات کا رشتہ دل ہی سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ اسی تصور کے تحت دل جیتے اور ہارے جاتے ہیں۔محبوب دلوں ہی میں بستے ہیں۔دلوں کی کشادگی اور تنگی ہی سے باہمی تعلقات بنتے اور بگڑتے ہیں۔ دنیا کی تمام زبانوں میں دلکشی، د لفریبی، دلنوازی، دلربائی، دلد اری، دریا دلی وغیرہ جیسی ترکیبیں دل کے اسی تصور کی بناء پر رائج ہیں۔ دل میلا ہونا، دل صاف ہونا، دل ٹوٹنا،دل دُکھانا، دل بہلانا، دل لگانا،دل جلانا، دل خوش کرنا، دل کا باغ باغ ہوجانا،یہ تمام محاورے دل کے بارے میں اسی عمومی تصور کا نتیجہ ہیں جو انسانی معاشروں میں عصر حاضر سمیت ہر دور میں موجود رہا ہے۔ دل کو محض ایک پمپ نہیں بلکہ فہم و شعور کا مرکز سمجھے جانے ہی کی بناء پر غالب نے کہا تھا
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل اُن کو ،جو نہ دے مجھ کو زباں اور
اس سب کے باوجود دل اور دماغ کے بارے میں جدید سائنس کا موقف چند برس پہلے تک یہی تھا کہ یہ محض خون پمپ کرنے کا آلہ ہے۔ مگر پچھلے چند برسوں میں انسانی جسم میں دل کے کردار کے حوالے سے سائنس کے نقطہ نظر میں ایک انقلابی اور حیرت انگیز تبدیلی واقع ہوئی ہے جس کے بعد دل کے حوالے سے سائنس کے آسمانی کتابوں، ادب اور شاعری سے ہم آہنگ ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے ۔ تازہ ترین سائنسی تحقیقات کے مطابق دماغ ہی نہیں انسانی دل بھی سوچتا سمجھتا اور فیصلے کرتا ہے بلکہ زندگی کے انتہائی بنیادی فیصلے دل ہی کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے انسانوں کے خالق نے ان کے دل کے اندر بھی دماغ کی طرح کام کرنے والا ایک نظام تخلیق کررکھا ہے۔
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے دی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ میتھ کے ڈائرکٹر ریسرچ ڈاکٹر رولن میک کریٹے اس بات کو مجازاً یوں کہتے ہیں کہ’’دل میں بھی ایک دماغ ہے‘‘ اس کی وضاحت انہوں نے ان الفاظ میں کی ہے: ’’دل ایسے اعصاب اور خلیات رکھتا ہے جن کا کام بالکل وہی ہے جو دماغ کا ہے،مثلاً یادداشت۔ یہ علم الابدان کی ایک حقیقت ہے…. دل دماغ کو اس سے زیادہ معلومات بھیجتا ہے جو دماغ دل کو بھیجتا ہے۔‘‘
’’ہارٹ برین‘‘ یعنی ’’دل کا دماغ‘‘ کی اصطلاح1991 میں ڈاکٹر جے اینڈریو آرمر نے وضع کی ، ان ہی نے دل کو ’’چھوٹے دماغ‘‘ کا نام بھی دیا۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول کے مطابق ’’دل اور دماغ کے درمیان کیمیائی بات چیت دونوں اعضاء کو متاثر کرتی ہے۔افسردگی، تناؤ، احساس تنہائی،مثبت سوچ اور دوسرے نفسیاتی سماجی عوامل دل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔دل کی صحت دماغ اور ذہن پر اثر ڈال سکتی ہے۔‘‘
دل کے دماغ کی طرح کام کرنے کے اکتشافات کے بعد نیورو کارڈیالوجی کے نام سے علم طب کی ایک نئی شاخ وجود میں آئی ہے جو دل اور دماغ کے باہمی تعلق کے امور سے بحث کرتی ہے ۔تحقیق کار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ منفی جذبات ،دل کی دھڑکن اور دماغی لہروں دونوں کی ترتیب اور آہنگ میں خلل ڈالتے ہیں۔دل جسمانی واسطوں سے دماغ کو پیغامات بھیجتا ہے اور دماغ انہیں جذبات میں ڈھال دیتا ہے۔ ڈاکٹر میک کریٹے اس کی تشریح یوں کرتے ہیں’’دل کی دھڑکنیں مورس کوڈ کی طرح ہیں،ان پیغامات سے ایک شخص کے جذبات کی کیفیت کی عکاسی ہوتی ہے۔‘‘ ڈاکٹر ڈومینک سُرل ’’تھنکنگ فرام دی ہارٹ‘‘کے عنوان سے اپنے ایک مقالے میں بتاتے ہیں کہ’’ پچھلے دو عشروں میں ہونے والی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ دل اطلاعات کی پروسسنگ کا مرکز ہے جو سیکھ سکتا ہے، یاد رکھ سکتا ہے، کھوپڑی میں موجود دماغ سے بالاتر رہتے ہوئے خودمختارانہ طور پر کام کرسکتا ہے اور عملاًکلیدی دماغ کو سگنل بھیجتا اور مربوط کرتا اور یوں ہمارے فہم و ادراک اور جذبات کو منضبط کرتا ہے۔ گویا ہم اپنے سینے میں ایک دوسرا دماغ رکھتے ہیں۔‘‘
دل کے بارے میں یہ نئی سائنسی تحقیق، جس کے مختلف پہلوؤں پر بڑے پیمانے پر کام جاری ہے ، بارہا سامنے آنے والی اس حقیقت کا ایک اور ثبوت ہے کہ سائنس کے نام پر پیش کی جانے والی ہر بات حتمی سچائی نہیں ہوتی ۔حقیقت کی تلاش کے لیے سائنس کا سفر جاری ہے۔اس لیے سائنس کے تمام نظریات کو حتمی حقیقت سمجھ کر وحی الٰہی کے ذریعے ملنے والی معلومات کو ان کی کسوٹی پر جانچنے کی روش درست نہیں ۔کائنات کی پیدائش، انسان کی تخلیق ، خدا کے وجود اور کائنات پر اس کی فرماں روائی سمیت ایسے تمام معاملات میں درست راستہ یہ سمجھنا ہے کہ سائنس کائنات کے اصل حقائق تک پہنچنے کی کوشش میں ہے لیکن اب تک بے پناہ حقائق تک اس کی پہنچ سے باہر ہیں، جیسا کہ جدید سائنس کے امام نیوٹن نے کہا تھا کہ ’’میں نہیں جانتا کہ دنیا کی نگاہوں میں میرا مقام کیا ہے، لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں اپنے آپ کو محض ایک ایسا بچہ سمجھتا ہوں جو ساحل سمندر پر کھیل رہا ہے اور اسے عام سنگ ریزوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہموار سنگ ریزے یا زیادہ خوبصورت سیپیاں مل گئی ہیں، جبکہ غیر دریافت شدہ حقائق کا وسیع سمندر اس کے سامنے ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔‘‘

حصہ
ثروت جمال اصمعی ایک کہنہ مشق صحافی اور کالم نگار ہیں۔انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز روزنامہ جسارت سے کیا،جسارت میں بحیثیت اسسٹنٹ ایڈیٹر اور میگزین ایڈیٹر رہے۔ہفت روزہ تکبیرکے مدیر شہیدمحمد صلاح الدین کے ساتھ معاون مدیر بعد ازاں مدیر کے حیثیت سے کام کیا۔ہفت روزہ فاتح کے بھی مدیر رہے۔ان دنوں روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں