برما۔۔ احتجاج پر اتنی تکلیف کیوں ہے؟

ٹوئن ٹاور کا واقعہ بہت شفاف تھا ، اسکرپٹ میں جھول ہونے کے باوجود بالکل صحیح سمجھا گیا ، کیونکہ جس نے اسکرپٹ لکھا اس کو پتہ تھا ان کا میڈیا اور ان کازرخرید دنیا بھر کا میڈیا جھوٹ کو اتنے زور سے بولے گا اور بولتا جائے گا کہ کسی کا سچ دب جائے گا اس وقت تک نتائج حاصل کرلیے جائیں گے جب تک سچ کھلے گا اور ایسا ہی ہوا کئی جھولوں کے باوجود فلم ہٹ ہوگئی ، افغانستان اور عراق کے باکس آفس تباہ کردیے اس فلم کی نمائش نے ، جو اہداف تھے وہ حاصل ہوگئے ، ہم نے یقین کرلیا کیونکہ گورے نے کہا تھا گورے نے رورو کے بتایاتھاہولو کاسٹ کے دعویدار یہودی ہیں ان کا کہنا ہے کہ لاکھوں یہودیوں کو مار کر جرمنز نے دفنا دیا ، کیونکہ یہودی کہہ رہا ہے اس لیے سچ ہے ابھی بھی ہولوکاسٹ کو جھوٹ کہنے کی اس پر تحقیق کی اجازت نہیں ، بس آپ یقین کریں یہ حکم ہے ، اور ہم یقین کرتے بھی ہیں ۔

بمبئ کے ہوٹل پر حملہ ہو اس کے پیچھے پاکستان ہے آپ یقین کریں کیونکہ بھارت کہہ رہا ہے اور آپ کا سب سے بڑا میڈیا ہاؤس بھی اجمل قصاب کو ڈھونڈ کر نکالتا ہے ، آپ مگر اس کو جھوٹ نہ کہیں ۔
جب حلب کی تصویریں آتی ہیں تو کہا جاتا ہے سب جھوٹ ہے ایسا کچھ نہیں ، شام کے مسلمان جب ہجرت کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے یہ سب مفاد پرست مفت خورے ہیں ، ایک طبقہ پوری کوشش کرتا ہے کہ ظلم کو صحیح مان کر اس جنگ کو امریکہ یا سعودیہ کی جنگ کہتا ہے ، کہتا ہے فرقے کی جنگ ہے خبردار جو امّت کے جڑنے کی بات کی ۔
برما میں روہینگینز کی حالتِ زار اور کثیر تعداد میں ہجرت پر اس لبڑچے اور سیکولر پوتوں پر غلط تصویر جھوٹی وڈیو کی تان شروع ہے ، لگادی ہوگی کسی نے دس بارہ پرانی یا کسی اور علاقے میں مارے جانے والے مسلمانوں کی تصویریں ، جب ان سے کہا گیا کہ برما کی نوبل انعام والی حکومت جانے دے میڈیا کو اپنے آپ کو معصوم ثابت کرے اس پر امت کے اتحاد پر تکلیف میں مبتلا یہ لبڑچے کہتے ہیں یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے ۔
بھینسا اور روشنی کے بند ہونے پر ان کی عالمی میڈیا سے شکایت پر اندرونی معاملہ تیل لینے چلا جاتا ہے ۔
ظلم کی داستانیں ان ہجرت کرنے والے روہینگیا کے مسلمانوں سے پوچھو ، کون نکلتا ہے اپنا گھر چھوڑ کر ؟
مجھے خوشی ہے کہ ہر مسلک ہر فرقے نے برما حکومت کے مظالم پر مذمت کی محبت کا اظہار کیا ، میری فرینڈ لسٹ میں شیعہ ، سنّی ، دیوبندی ، سلفی ، اہلحدیث ہر پارٹی سے متعلق دوستوں نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔
بس یہ تکلیف ہے لبڑچوں کو امّت اتحاد کا مظاہرہ نہ کرے ۔

حصہ
صہیب جمال نے لکھنے لکھانے کی ابتداء بچوں کے ادب سے کی،ماہنامہ ساتھی کراچی کے ایڈیٹر رہے،پھر اشتہارات کی دنیا سے وابستہ ہوگئے،طنز و مزاح کے ڈرامے لکھے،پولیٹکل سٹائر بھی تحریر کیے اور ڈائریکشن بھی کرتے ہیں،ہلکا پھلکا اندازِ تحریر ان کا اسلوب ہے ۔ کہتے ہیں "لکھو ایساجو سب کو سمجھ آئے۔

جواب چھوڑ دیں