کامیابی کو کیسے ممکن بنائیں

ایک کامیاب انسان اس پر پھینکے جا نے والے سنگ و خشت سے ایک مضبوط قلعہ تعمیر کر لیتا ہے اور اپنی کا میابی کے نقارے بجاتا ہے جب کہ ایک کم ہمت بزدل شخص اس پر پھینکے جا نے والے سنگ و خشت سے بو کھلا جا تا ہے ۔یہ راز جس کسی نے بھی جان لیا وہ کا میابیوں کی بلندیوں تک پہنچا۔حا لیہ عر صہ میں ریا ست گجرات میں منعقدہ کرا ٹے مقابلوں میں حیرت انگیز طور پر ایک لڑکا جس کا پو لیو سے ایک پیر شدید طو ر پر متاثرتھا نہ صرف مقابلہ میں شرکت کی بلکہ انعام اول بھی حا صل کیا ۔یہ جان کر حیرت ہوں گی کہ اس لڑکے نے جسمانی طور پر معذور بچوں کے زمرے میں حصہ نہیں لیا بلکہ عام (جنرل) زمرے میں مقابلہ کیا اور کامیا ب و کامران ہوا۔ جب اس لڑ کے سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ اس نے جنرل کیٹگری میں مقابلہ کیو ں کیا اور اس میں کا میابی کس طرح سے حا صل کی۔معذور لڑکے کے جواب کو ا ولوالعزمی اور بلند ہمتی کی ایک بہترین مثال کہا جا سکتا ہے لڑکے نے جواب دیا کہ میں اپنے آپ کو معذور نہیں سمجھتا کیو ں کہ کسی ایک زمرے میں جسمانی طورپر معذوری کو میں اپنے آپ پر لاد نا نہیں چاہتا ما سوا پولیو سے متا ثرہ ایک پیر کے میرے با قی تما م اعضااچھے ہیں اور ان سب کے علاوہ میر ی ہمت اور فکر مجروح نہیں ہے اور معذوری مجھ پر تبحاوی ہو گیجب میر ی فکر اس کو قبول کر لے اور میں عام زندگی میں اپنی معذوری کے سہارے لوگوں سے ترس کا طلب گار ہو جا و اور رہا میر ی کامیابی کا راز تو سنیئے کہ میں نے اپنے حر یف کے مکوں کا سامنا کر نے کے لئے اپنے با ئیں متاثرہ پیر کو آگے کیا کیوں کہ متا ثرہ پیر پر لگنے والے چوٹ اور مار کا مجھے کوئی احساس نہیں ہوتا اور قبل اس کے کہ وہ مجھ پر مزید مکے رسید کر تا میں نے اس پر مکوں کے بارش کر دی ۔معذور لڑکے کے جواب پر صحافی اپنے اشکوں پر قابونہ رکھ سکا۔ایک معذور لڑکا محض اپنی بلند ہمتی کی بنا پر عام مقابلے میں نہ صرف شریک ہو تا ہے بلکہ مقابلے میں انعام اول بھی حا صل کر تا ہے ۔طلبا میں تحریک پیدا کرنے اور اس کو پر وان چڑھانے کے لئے یہ ایک عمدہ مثال ثابت ہو سکتی ہے۔دنیا میں اس جیسی کئی مثالیں موجود ہیں جنھوں نے اپنی معذوری اور پر یشانی کو قسمت قرار دینے کے بجائے اولوالعزمی سے اپنی معذوری اور پر یشانیوں کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ پریشانیوں اور مجبوریوں کو خوشحالی میں بدل دیا۔ہیلن کلر ¾ اسٹفین ہیاکینگ (سائنسداں) ادکارہ و رقاصہ سدھا چندرن ایسے افراد کی جیتی جاگتی مثال ہے۔جب کبھی پریشانیوں کا سیلاب امڈ تا ہے تو اکثر لوگ حواس با ختہ ہو جا تے ہیں اور خود کو مجبور و لاچار محسوس کر تے ہیں اور اورں کی جا نب پر امید نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ کو ئی بندہ آگے بڑھ کر ان کی مدد کو آئے۔بجائے مجبوری کی چادر اوڑھنے کے اور مجبوری و لاچاری کا راگ الاپنے کے اگر وہ اولوالعزمی اور جواں ہمتی سے کا م لیں تو یقینا کامیابی ان کا مقدر بن سکتی ہے۔تیمور لنگ ایک جنگ میں ہزیمت سے دوچارہوا اور اپنی جان بچانے کے لئے ایک غار میں پنا ہ لینے پر مجبور ہوا۔اپنی جان بچانے میں وہ سرگرداں و پر یشاں تھا کہ اس کی نظر ایک چیونٹی پر پڑی جو اپنے منہ میں ایک اناج کا دانہ اٹھائے دیوار پر چڑھنے کی کوشش میں مصروف تھی۔لیکن دانے کے بوجھ سے وہ اونچائی کی سمت اپنے سفر کو جا ری رکھنے میں شدید دقت کا شکا ر نظر آرہی تھی با رہا گر جا تی اور پھر سے اپنی کوشش کو جا ری رکھتی بالاخر اس کی مسلسل کوشش نے اس کو کامیابی سے ہمکنا ر کر دیا ا ور وہ اناج کے دانے کو اونچائی تک لے جانے میں کا میاب ہو گئی۔تیمور لنگ اس واقعہ سے بہت زیادہ متا ثر ہو جا تا ہے اور فیصلہ کر تا ہے کہ ایک ادنی سے چیونٹی نا کا می سے گھبرانے کے بجائے اپنی مسلسل کو شش کے ذریعہ کا میاب ہو سکتی ہے تو میں اشرف المخلوقات میں سے ہوں بھلا میں کس طرح نا کامی کو اپنا مقدر بنا سکتا ہوں ۔ اس خیا ل کے ذہن میں آتے ہی تیمور لنگ اپنی تلوار سونت کر میدان کار زار میں نئی ہمت نئے ولولے کے ساتھ نکل پڑتا ہے اور فتح و کامرانی اس کے قدم چومنے لگتی ہے۔انسان اگر چاہے تو اپنے گرد و پیش سے کچھ نہ کچھ سبق حا صل کر سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ چشم بینا کا حامل ہو حضرت عثمان کا قول ہے کہ چشم بینا کے لئے ہر دن روز قیامت ہے۔

درحقیقت کامیابی کا حصول مشکل نہیں ہے جامع منصوبہ بندی اور اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا فروغ اور نا مساعد حالات کی پرواہ کئے بغیر آگے بڑھتے رہنے کی جستجو کسی بھی مشکل سے مشکل کام اور ہدف کو آسان بنا سکتی ہے۔دنیا میں وہی لوگ سرخرو اور کامیاب ہوتے ہیں جو اپنی ناکامی اور بد قسمتی کا رونا رونے کے بجائے ناکامی سے تحریک پا تے ہیں اور آگے بڑھکر کامیابی سے بغلگیر ہو تے ہیں اسی لئے کہا گیا ہے کہ ناکامی کامیابی کا زینہ ہو تی ہے۔کامیابی کو اپنا مقدر بنا نے کے لئے اکثر و بیشتر شخصیت سازی کے ما ہرین نے پا نچ عوامل کو اہم گردانا ہے۔(ا)برتاو،رویہ ¾(attitude) ،یقین (belief) ،اعتماد(confidence) ،عزم وارادہ(Determination)،کاوش و کوشش(Efforts)

مذکورہ بالا عناصر پر عمل پیرا ہو کر کوئی بھی فرد کامیاب ہو سکتا ہے ۔جب کبھی آپ کو پر یشانی یا مسائل کا سامنا درپیش ہو ان سے ما یوس ہونے کے بجائے اپنے رویے برتاﺅ میں مثبت تبدیلی لایئے، یقین اور اعتماد کو غیر متزلزل رکھیں اور بہت ہی استقلال اور جوان مردی سے اپنے مقاصد کی طرف پیش قدمی کر تے رہیئے ۔ ایک چھوٹا سے قدم میلوں کے سفرمیںمنزل تک پہنچنے کا با عث ہو تا ہے۔اپنے مقصد کی جا نب پیش قدمی کے دوران آپ کومتعدد مسائل کا سامنا ہوگا لیکن اپنے ارادوں پر آپ کی ثابت قدمی آپ کو کامیاب و کامران بنا دے گی۔یہ با ت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ یقین اور شئے ہے اور اعتماد اور شئے ۔لیکن جب یقین اعتماد سے ہم آہنگ ہو جا تا ہے تو کامیابیاں مقدر بن جا تی ہیں

یقین محکم ، عمل پیہم ، محبت فاتح عالم

 یہ ہے جہاد زندگانی میں مردوں کی شمشیریں

سونا آگ میں جل کر کندن بنتا ہے اور کندن بننے سے پہلے سونے کے حصول کے لئے منوں مٹی کو کھوداجا تا ہے ۔منو ں مٹی کی کھدائی کے نتیجے میں قلیل مقدار میں سونا حا صل ہو تا ہے ۔کھودی گئی مٹی کو کئی مر حلوں سے گزرنا پڑتا ہے تب کہیں سونے کا حصول ممکن ہوتا ہے۔منوں مٹی کھدائی کے با وجود نتائج حسب توقع نہیں حا صل ہو تے ہیںپھر بھی کانکنی کے دوران کسی بھی قسم کی نا امیدی کا شکار ہوئے بغیر کھدائی کے کام کو نہا یت انہماک سے انجام دیا جا تا ہے اور سونے جیسے دھات کے حصول کو یقینی بنا یاجا تا ہے۔یہاں ایک با ت قابل توجہ ہے کہ جب ہم سونے جیسے دھات کے حصول کے لئے منوں مٹی کے تودوں کو بغیر کسی نا امیدی کے کھود دیتے ہیں تو بھلا اپنی خودی (شخصیت ) جو کہ دنیا کی تما م قیمتی اشیاءسے نا یا ب و انمول ہے اس کے حصول کے لئے کس طرح نا امیدی کا شکار ہو سکتے ہیں۔دنیا کے کا میاب افراد اس کی درخشاں مثال ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح کئی سیا سی لیڈر انتخابات میں ہزیمت سے دوچار ہونے کے با وجود پھر سے نئے ولولے اور جوش کے سا تھ آئندہ انتخابات میں کامیابی کو ممکن بنا نے کے لئے کوشش و کا وش کر تے ہیں۔قدرتی گیس اور تیل کاعلم رکھنے والے افراد جا نتے ہیں کہ ماہر ارضیات کی نشاندہی پر کھودے جا نے والے دس میں سے صرف ایک کنویں میں تیل یا قدرتی گیس حا صل ہو تی ہے۔کر کٹر ،ہا کی یا بیس بال کے کھلاڑیوں کی کا میابی کی شرح ۴۴فیصد ہو تی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی نا کا می کا تناسب کا میابی کے بر خلاف ۶فیصد زیادہ ہو تا ہے ایسے میں بھی کھلاڑی ہوتے ہیں جو کہ ٹورنمنٹ میں اچھے مظاہرے کے با وجود فائنل مقابلے میں شکست سے دوچار ہو جا تے ہیں پھر بھی وہ دل برداشتہ و غمگین اور نا امیدی کا شکار نہیں ہو تے ہیں بلکہ نئے جستجو ولولہ اور جوش سے پھر سے مقابلہ کے لئے میدان میں کود پڑتے ہیں۔صرف مذکورہ زمروں میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے دیگر زمروں میں بھی ایسے اشخاص پا ئے جا تے ہیں جنھوں نے محض اپنی اولوالعزمی اور مستقل مزاجی کے ذریعہ ناکا می کو کامیابی میں تبدیل کر دیا۔مستقبل کو درخشاں کر نے کے لئے حال کے چراغ میں محنت کا تیل ڈالنا ضروری ہو تا ہے۔ایک دیہات جہا ں کے لوگ مختلف خرافات کا شکار تھے وہا ں سے ایک بزرگ کا گزر ہوا ۔برائیوں کو دور کر نے کی غرض سے بزرگ نے دیہات میں سکونت اختیار کر نے کا فیصلہ کر لیا۔بزرگ کی باتوں اور نصیحتوں نے دیہات کی عوام کو اپنی جا نب راغب کیا اور وہ برا ئیوں سے اجتناب کر نے لگے جس کے سبب جوا اور شراب کا کاروبا ر کر نے والے آدمی کو نقصان ہونے لگا۔نقصان سے دلبرداشتہ شخص نے بزرگ کے قتل کے ارادے سے ایک پہلوان کو بھیجا۔پہلوان بزرگ کے پا س پہنچا دیہاتی عوام بزرگ کے واعظ کو سماعت کر رہے تھے۔پہلوان کے ہا تھ میں ایک طوطا تھا پہلوان نے بزرگ سے سوال کیا کہ حضرت بتلائیے کہ میر ے ہا تھ میں جو طوطا ہے اس کا مستقبل کیا ہوگا۔اگر بزرگ کہتے کہ یہ آزاد ہو جائے گا تو وہ اسے مار ڈال دیتا اور اگر وہ کہتے کہ یہ مر جا ئے گا تو وہ اس کو آزاد کر کے عوام میں بزرگ کی شخصیت کے اثر کو زائل کر ڈالتا۔لیکن بزرگ نے نہایت ہی تحمل سے کہا کہ بیٹا جو کچھ بھی ہے وہ تمہا رے ہا تھ میں ہے۔کہنے کو تو یہ ایک حکایت ہے لیکن دراصل طلباءہی اپنے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں ان کا مستقبل انہی کے ہا تھوں میں پوشیدہ ہو تا ہے صرف طلباءاپنے رویوں میں تبدیلی لاتے ہوئے اپنے مستقبل کو روشن و تابنا ک بنا سکتے ہیں۔

خود پر بھروسے سے عاری شخص کسی بھی کا م کو انجام نہیں دے سکتا ۔اگر انجام دیتا بھی ہے تو اس کو پائے تکمیل تک نہیں پہنچا پا تا۔لیکن وہ شخص جس کو اپنی ذات پر کامل یقین ہو وہ معجزے انجام دیتا ہے تاریخ میں ایسی کئی روشن مثالیں ہم کو ملتی ہیں امریکہ کو دریافت کر نے والا کرسٹو فر کولمبس ،نابینا افراد کے لئے بریل طرز تحریر کی مو جد لوئس بریل ،سورج کے گرد زمین کے گردش کرنے کے حقائق کا انکشاف کر نے والا سائنسداں کاپر نیکس ان تمام کو اپنی ذات پر مکمل یقین تھا جس کی بنا پر انھوں نے حیرت انگیز کا ر نا مے انجام دیئے۔بیشمار مسائل اور پر آشوب حالات کے حائل ہونے کے با وجود ان لوگوں نے اپنے اختیار کردہ موقف و راستے کو تر ک نہیں کیا بلکہ مستقل مزاجی اور خود اعتمادی کے ساتھ پیش قدمی جا ری رکھی جس کی وجہ سے ان کا نام ایجادات کی دنیا میں آج بھی روشن و منور ہے یہ نابغہءروزگار اسی لئے کہلائے کہ انھوں نے اپنے مقصد( commitment) سے سرموئے انحراف نہیں کیا۔انھوں نے ثابت کر دیا کہ انسان تمام مخلوقات میں اشرف و اعلی ہے محض اپنے ارادوں کی ثابت قدمی ،علم اور حلم ،تدبیر و تدبر اور دانائی و حکمت کی بناءپر انسان کو اشرف المخلوقات کی خلعت فاخرہ سے سر فراز کیا گیا ہے۔قوی ارادوں کے ساتھ دانش مندانہ حکمت عملی کے ذریعہ انسان ہا ری ہو ئی بازی کو جیت سکتا ہے مغل حکمراں بابر اور اورنگ زیب اپنی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے ذریعہ تا ریخ میں نما یا ں مقام حا صل کر نے میں کامیا ب ہوئے ہیں۔آپ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کا ر لاتے ہو ئے کامیابی کی عظیم مثالیں قائم کر سکتے ہیں لیکن اس کے لئے آپ کو صرف اپنے تساہل کو چھوڑنا پڑے گا۔

حصہ
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں