عقل بڑی کہ بھینس ۔۔۔ ؟؟

خدانخواستہ اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جو عقل کو بھینس سے بڑا بتاتے ہیں تو میری یہ تحریر آپ ہی کے لیئے ہے تاکہ اگر آپ میں‌ بھینس سے متعلق دیرینہ غلط فہمیاں اگر ختم نہیں کی جا سکتیں تو کم ضرور ہوسکیں اور آپ بھینسوں سے متعلق اپنے ناگوار خیالات کی اصلاح کرکے کسی بھینس کو منہ دکھانے کے قابل ہو سکیں اور ان سے متعلق ایک نئے نظریئے کے ساتھ جی سکیں- یہاں میں یہ حوالہ دیئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ صاحب طرز مزاح نگار شفیق الرحمان نے بھینسوں‌ سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی ہیں اوریہ کہ کر انکا مستقبل تاریک کرنے کی کوشش کی ہے کہ ” بھینسیں ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتیں کیونکہ محبت اندھی تو ہوتی ہے لیکن اتنی بھی اندھی نہیں ہوتی ” ۔۔۔ لیکن بڑے اطمینان کی بات یہ ہے کہ ایک دوسرے سے منہ پھیر کے بیٹھی رہنے والی ان بھینسوں کے یہاں بھی بالکل دوسرے مویشیوں کی مانند نئے مہمانوں کی ریل پیل لگی رہتی ہے – جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ محض محبت اور حسن کی تلاش میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی بجائے عمل اور حمل پہ یقین رکھتی ہیں حالانکہ وہ بالکل بھی نہیں جانتیں کہ عمل سے زندگی بننے کے بارے میں اقبال کیا کہ گئے ہیں –

ایک بات اور بھی بھینسوں کے حق میں جاتی ہے اور وہ یہ کہ انکی اس بے نیازانہ طرز حیات نے انسانی زندگی پہ بھی بہت اثر ڈالا ہے اور ان سے متاثر ہوکے ہمارے بہت سے ناراض ازدواجی جوڑے باہم راضی بھی نہیں ہوتے لیکن پیہم ‘گل کھلانے ‘ سے باز بھی نہیں آتے – اسی طرح یہ خصلت بھی وہیں سے آئی ہے کہ بھینس اور بھینسے کی مانند لحیم شحیم دکھنے والے اور اسکے سینگوں‌ کی مانند بڑی بڑی اور نوکیلی مونچھیں رکھنے والے بہت سے خوفناک صورت مرد عین خطرے کے وقت بیٹھے کے بیٹھے ہی رہ جاتے ہیں اور بعضے وقت تو اسی حالت میں بغیر اف کیئے ذبح تک ہوجاتے ہیں ۔۔۔ میری دانست میں اب اس بے نیازانہ و صلح جویانہ سوچ کو نفسیات کے باب میں بفیلو سائیکلوجی کی صورت اک خاطر خواہ مقام ضرور دیا جانا چاہیئے- یہ عرض کردوں کہ آپ میری اس تحریر کو کائنات میں بھینس کا مقام متعین کرنے کی کوشش کے طور پہ ہرگز نہ لیں کیونکہ وہ پہلے سے واضح ہے بس یہ تو اس بڑے مغالطے کی اصلاح کی ایک عاجزانہ سی کوشش ہے کہ جسکی رو سے عقل کو بھینس سے بڑا بتانے کی کوشش کی جاتی ہے –

آپ خود ہی دیکھیئے کہ یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ جو کچھ لوگ عقل اور بھینس کا موازنہ کرتے ہیں اوردو روشن آنکھوں کے حامل ہونے کے باوجود عقل کو بھینس سے بڑا بتاتے ہیں حالانکہ بینائی سے محروم افراد تک ٹٹولے بغیر بھی بتاسکتے ہیں کہ بھینس عقل سے بڑی بلکہ بیحد بڑی ہے اور زیادہ ٹٹولنے سے تو بھینس خود ہی بتا دیتی ہے کہ وہ کتنی بڑی ہے- تحقیق سے ثابت ہے کہ کسی بھی منش میں عقل یعنی مغز سوا دو اونس یعنی قریباً ایک پونڈ سے زیادہ وزن کا نہیں ہوتا لیکن اگر وہ شادی شدہ ہے تو یہ مقدار مزید کم رہ جاتی ہے جبکہ بلحاظ وزن سالم بھینس کا ایک پایہ ہی اس سے زیادہ ہوتا ہے اور عقل سے بلند پایہ مقام عطا کرتا ہے ۔۔۔۔ وزن اور جسامت کے علاوہ بھی بھینس کا عقل سے موازنہ سراسر زیادتی ہے کیونکہ کئی اور پہلو سے بھینس عقل پہ فوقیت رکھتی ہے مثلا یہ کہ بھینس دودھ دیتی ہے لیکن عقل دودھ نہیں دیتی – گوالہ راضی ہو تو بھینس کے دودھ میں بالائی بھی ہوتی ہے جس سے کمزور بدن توانا ہوتا ہے جبکہ عقل بالائی کو صرف آمدنی سے نتھی کرکے ہی پہچانتی ہے اور اس بالائی کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ خاص کڑھن دیتی ہے کہ پھر جس کے حصول کا اضطراب اچھے بھلے بندے کو روگی بنادیتا ہے اور ان پینتروں کے بارے میں مسلسل سوچنے سے ۔ پہلے درجے میں اسکا اخلاق کمزور ہوتا ہے اور بعد ازاں پکڑے جانے سے بچنے کی فکروں سے بدن کے ساتھ ذہن بھی ۔۔۔

جہانتک صفات کی بات ہے تو بلاشبہ بھینس کی صفات عالیہ بیشمار ہیں لیکن ان میں میں نمایاں تر اسکی عاجزی اور درویشی ہے اور اسکا ثبوت دینے کے لیئے اسے جب اور جہاں وقت ملے بیٹھ جاتی ہے اور آنکھیں موند کے ‘اپنے من میں ڈوب کے پا جا سراغ زندگی ‘ کا عملی مظاہرہ کرتی ہے تاہم چونکہ وہ عملیت پسندی بھی ہے لہٰذا اس دوران بھی مسلسل جگالی کرتی رہتی ہے تاکہ عمل کا وقت ضائع نہ ہو اور ہم جنسوں کو اسکی بیداری کی اطلاع پیہم ملتی رہے اور وہ بھی ‘آمادہء عمل’ ہوسکیں- بھینس کی اس عاجزی و بے نیازی سے گوالے اکثر ہی ناجائز فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ دودھ برآمد کرنے میں کامیاب رہتے ہیں‌ کہ جتنا انکے بدن میں اصلاً ہوتا ہے ۔۔۔ ہاں‌تو بات ہورہی تھی عقل اور بھینس کے موازنے کی تو بھینس کی برتری کے حوالوں میں‌ایک بڑا حوالہ یہ بھی ہے کہ بھینس خود تو بڑی ہے ہی لیکن وہ اپنے مالک کو بھی بڑا بنا دیتی ہے اور برتری کے اس خاص حوالے سے میں ایک نہایت سادہ سی مثال روزمرہ مشاہدے سے دیتا ہوں ۔۔۔ اور آپ بھی یقینناً میری تائید کریں گے کہ یہ عام سے مشاہدے کی بات ہے کہ کتنے ہی عقل والے ایسے ہیں کہ جو بھینس والوں کی ملازمت کرتے ہیں اور انکی آمدن کا حساب سنبھالتے ہیں- لیکن کیا کسی نے کسی بھینس والے کو کسی عقل والے کی نوکری میں کبھی دیکھا ہے-

پھر بھینس کے یہ اضافی اوصاف بھی تو دیکھیئے کہ وہ ہردم صلح جوئی پہ مائل رہتی ہے ورنہ اگر اسکی جسامت کو پیش نظر رکھتا تو کوئی گوالہ کبھی اسکے تھنوں کو چھونے کی جسارت نہ کرتا – جبکہ عقل کا تو یہ حال ہے کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ آزار کے طریقے ڈھونڈھتی ہے اور اسی لیئے سیدھے سادے اور کم عقل لوگوں کے پڑوس میں رہنا ہمیشہ سے اکثریت کو مرغوب رہا ہے – مزید تفہیم مطلوب ہو تو اس مجرب محاورے سے مدد لیجیئے اور پہلے کسی بھینس کے آگے اور پھر کسی عقل والے کے منہ پہ بین بجا کے دیکھیئے پہلے مرحلے میں آپکو فریق دوم یعنی بھینس کے منہ پہ زبردست شانتی کا راج ملے گا اور وہ پورے وقت بڑی محبوبیت سے آپکی بین نوازی پہ اپنی آنکھیں پٹ پٹاتی رہے گی اور وقفے وقفے سے سر بھی ہلاتی دکھئی دے گی– لیکن اگر عقل والے کے منہ پہ بین بجانے کی کوشش کی جائے تو وہ آغاز ہی میں آپکا بین چھین کر آپکے سر پہ توڑ سکتا ہے اور یوں نہ بین رہے گا نہ ہی بین نواز ،،، ساری سلامتی ہی خطرے میں پڑسکتی ہے

عقل کے مقابلے میں بھینس کی برتری اور بلند مقامی کی داستان آپ کہاں تک سنیں گے اور کہاں تک سناؤں ۔۔ بس یہ ہی سمجھ لیجیئے کہ دیکھنے میں آیا ہے اور کئی اطلاعات کے بموجب ، دریا کی لہروں میں پھنس کے کوئی عقل والا جب ڈوبنے لگتا ہے تو اکثر اس سمے سامنے موجود کسی دوسرے عقل والے کو پکارتا ہے لیکن چوںکہ وہ عقل والا ہوتا ہے لہٰذا عین اسی وقت اسکی آنکھوں ممیں کچرا سا پڑجاتا ہے ۔۔۔۔ یوں بھنیس کی فوقیت و برتری کے باب میں یہ دلیل آخری نہ سہی لیکن بھینس کی مانند بہت وزنی سمجھیئے کہ جب کبھی دریا سرکشی پہ مائل ہو تو ایک نہیں کئی کئی ڈوبتے لوگ اسکی پیٹھ پہ لد کے اپنی جان بچا پاتے ہیں اور بعضے تو محض اسکی پونچھ پکڑکے اسکی اقتداء میں ہی نئی زندگی کی نوید پالیتے ہیں اور ایسے میں اس نازک وقت اگر اسکی پیٹھ پہ بیٹھے کسی بڑی سے بڑی عقل والے سے بھی پوچھا جائے کہ عقل بڑی یا بھینس تو آپ بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس کا جواب کیا ہوگا ۔۔۔ البتہ مجھے یقین ہے کہ بھینس کے ناقدین کو پھر بھی چین نہ آئے گا اور مجھے یقین ہے کہ وہ ڈوبتے آدمی کی جنب سے بھینس پہ سوار ہوکے جان بچانے کو بھینس کی بڑائی پہ نہیں بلکہ عقل کی بڑائی پہ ہی محمول کریں گے ۔۔۔

حصہ
سید عارف مصطفیٰ ایک کہنہ مشق قلم کار اور کالم نگار ہیں۔سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔سیاسی اتھل پتھل کے پس پردہ عوامل کا بڑی گہرائی و عمیق نظری سے تجزیہ کرتے ہیں

جواب چھوڑ دیں