تعلیم کے نام پر دکانداری کیوں؟

قوموں کی قسمت بدلنے میں تعلیم کا اہم کردار ہے، محض ڈگری نہیں بلکہ حقیقی شعور دینے والی تعلیم۔ وہ شعور جو اقوام کی زندگی میں انقلاب برپا کرے اور انہیں ترقی کی راہوں پر ڈال دے۔ پاکستان کے آئین کی شق 25-اے میں واضح لکھا ہے کہ 5 سے 16 سال تک کے بچوں کی تعلیم حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن درحقیقت بچوں کو بنیادی تعلیم کی فراہمی میں بھی حکومت ناکام رہی ہے۔ سرکاری اسکول اپنا کام ٹھیک طریقے سے سر انجام نہیں دے رہے۔ وہاں بچوں کی تعلیم کا ایسا کوئی معیار نہیں جو اس وقت دنیا میں رائج ہے۔ اس لیے والدین کو بچوں کے لیے بہتر ماحول اور تعلیم کی خاطر نجی اسکولوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے “ہر بچے پر انفرادی توجہ دی جاتی ہے”۔

90ء کی دہائی میں نجی اسکولوں کو معیاری تعلیم کا ضامن سمجھا جاتا تھا۔ وہاں کے فارغ التحصیل طلبہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا کرتے تھے۔ نئی صدی کے اوائل میں متوسط طبقے نے تو سرکاری اسکولوں سے مکمل طور پر جان ہی چھڑا لی۔ کیونکہ نجی اداروں میں تعلیم دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق دی جاتی تھی، جن میں انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنا بھی شامل تھا۔

پاکستان میں اس وقت تقریباً ایک لاکھ 73 ہزار 110 رجسٹرڈ نجی اسکول کام کررہے ہیں، جن میں تقریباً دو کروڑ 38 لاکھ 39 ہزار 431 طلبہ زیر تعلیم ہیں، اور لگ بھگ 15 لاکھ اساتذہ اسکولوں میں تدریسی عمل انجام دے رہے ہیں۔ ان اسکولوں کو ہم تین درجات میں تقسیم کررہے ہیں، ان کے معیار اور فیس کے مطابق: درجہ اول کے اسکول وہ جن کا تعلیمی معیار اور فیس بہت زیادہ ہے، وہاں صرف امیروں کے بچے تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کی ماہانہ فیس تیس ہزار روپے سے بھی زیادہ ہے درجہ دوم میں ہم اپنے اُن اسکولوں کو شامل کررہے ہیں جن کا تعلیمی معیار مناسب ہے اور فیس درجہ اول کے اسکولوں کے مقابلے میں تیس فیصد کم ہے اور ان میں اساتذہ کا معیار کم از کم 14 سال کی تعلیم مکمل ہونا ضروری ہے لیکن کسی قسم کی ٹیچرٹریننگ وغیرہ کا ہونا ضروری نہیں جوکہ استاد بننے کے لیے بہت اہم ہے۔ درجہ سوم میں وہ اسکول آتے ہیں جوکہ اوّل تو رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتے اور ہر گلی محلے کے کسی گھر میں کھلے ہوتے ہیں۔ یہاں کی فیس ان اسکولوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔ اساتذہ کے لیے کوئی قید نہیں کہ ان کی تعلیم کتنی ہے، بس ان کو پڑھنا لکھنا آنا چاہیے۔ زیادہ تر کی تعلیم میٹرک سے زیادہ نہیں ہوتی اور یہی وہ اسکول ہیں جو سب سے زیادہ تباہی پھیلارہے ہیں۔ ان اسکولوں کی درجہ بندی سے واضح محسوس ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بچوں کو درجہ اوّل و دوم کے اسکولوں میں داخل کرانا چاہے تو اس کے لیے یہ کتنا مشکل ہوگا کیونکہ فیسوں میں روز بروز تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک عام آدمی اتنا سرمایہ کہاں سے لائے جو وہ اسکول والوں کا پیٹ بھرسکے تاکہ اس کے بچے کو معیاری تعلیم مل جائے؟ 17 اگست 2017ء کو نجی اسکولوں نے فیسوں میں 50 فیصد تک کا اضافہ کیا، جسے والدین نے”تعلیمی دہشت گردی” قرار دیا ۔ ایک طرف یہ معاملہ اور دوسری جانب غیر رجسٹرڈ اسکولوں نے تعلیم کے نام پر جو تباہی مچا کر رکھی ہے، وہ الگ۔ چکی کے ان دو پاٹوں کے درمیان ملک کا مستقبل بھی پس رہا ہے اور اس کی تعلیم و تربیت کے ذمہ دار والدین بھی۔

نجی تعلیمی اداروں میں وہ بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں جن کے والدین بڑے اسکولوں کی فیسوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے اور سرکاری اسکولوں سے بہتر ہونے کی وجہ سے آخری انتخاب یہی اسکول بچتے ہیں۔ بڑے نجی اسکول بڑی فیس لے رہے ہیں لیکن معیاری تعلیم بھی دے رہے ہیں لیکن یہ درمیانے درجے کے اسکول تعلیم کے نام پر محض دکان داری کر رہے ہیں۔

ان اسکولوں کا طریقہ واردات بھی بڑا منفرد ہے۔ مہنگے تعلیمی نصاب دکھا کر والدین کو متاثر کیا جاتا ہے اور پھر داخلہ فیس کے ساتھ ساتھ نجانے کون کون سی فیس لگا کر والدین سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔ شام کو یہی اسکول اکیڈمیز کا روپ دھار لیتے ہیں اور اسکول میں داخل بچے اسی اسکول کی اکیڈمی میں ٹیوشن پڑھنے پر بھی مجبور ہیں کیونکہ اسکول کے اوقات میں ویسی تعلیم نہیں دی جاتی، یوں مالکان کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں۔

آٹھویں کلاس تک یہ تماشہ جاری رہتا ہے اور ہمارے اکثر بچے بغیر کچھ سیکھے “ترقی” کرتے جاتے ہیں۔ جب بچہ نویں میں پہنچتا ہے تو والدین کو بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ بچہ بالکل اس قابل نہیں کہ بورڈ کے پیپر دے سکے۔ پھر ایک نئی دوڑ دھوپ جس میں اسکول انتظامیہ “نجات دہندہ” بنتی ہے اور بورڈ میں اپنی “لائن” کے بل بوتے پر من چاہے نمبر حاصل کرنے کا خواب دکھاتی ہے۔ یہاں بھی والدین رقم کے عوض بچوں کی سند خریدتے ہیں۔

2010ء میں “Educational Debate in Pakistan Breaking up the wrong tree” کے نام سے ایک تحقیق کی گئی جس میں بتایا گیا کہ نجی اور سرکاری دونوں طرز کے اسکولوں کا تعلیمی معیار بہت خراب ہے ان دونوں طرح کے اسکولوں میں بس انیس، بیس کا فرق ہے۔ 43 فیصد نجی اسکولوں کے بچے اردو بھی پڑھنے سے قاصر ہیں۔ 2015ء میں ایک اور تحقیق کی گئی جس کا نام تھا۔ “Effectiveness of Private and Public and Private- Public Partnership School in Pakistan” جوکہ ادارہ تعلیم وآگاہی میں کرائی گئی، سے معلوم ہوا کہ تیسری جماعت کے بچے کو جو کام دیے جاتے ہیں، وہ بھی Task بھی پورے نہیں کر پاتا۔ اس رپورٹ میں موجود سروے سے پتا چلتا ہے کہ 49 فیصد بچے انگریزی کے سادے الفاظ بھی نہیں پڑھ پاتے، 32 فیصد بچے سادی جمع اور تفریق بھی نہیں کرسکتے اور 48 فیصد بچے اردو نہیں پڑھ سکتے۔

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا

اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ تاجر مزاج اساتذہ کے ہاتھوں تیار ہونے جاہلوں کی یہ فوج معاشرے میں کیا گل کھلائے گی۔ آپ جو بدعنوانی میں ڈوبا ہوا معاشرہ پاتے ہیں، جہاں ہر شخص مادّیت پسند ہے، سب پیسے کمانے کی دوڑ میں آگے سے آگے نکلنے میں شریک ہیں، کمائی کا کوئی معیار نظر نہیں آتا، حلال و حرام سے ناآشنا، بکھرے ہوئے منتشر لوگوں کا یہ ہجوم، جسے معاشرہ کہنا بھی شاید غلط ہو، اسی “تعلیم” کا تیار کردہ ہے۔

جہاں تعلیمی اداروں کا یہ حال ہو کہ وہ حقیقی پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد سے یہ کہہ کرمعافی مانگ لیں کہ “معاف کیجیے گا، ہم آپ کے شایان شان تنخواہ نہیں دے سکتے” اور پھر ایسے افراد کا تقرر کریں جن کی اکثریت انٹر میٹرک، حتیٰ کہ نان میٹرک بھی ہو، جو خود کسی اسکول سے پڑھ کر آئے ہوں، وہاں کسی بھی حقیقی تبدیلی کی امید رکھنا عبث ہے۔

تو تعلیم بیچنے والے ان تجارتی اداروں سے جو معاشرہ بنے گا، وہ خود غرضی، پست ہمتی، نکمے پن، جہالت اور نفسانفسی کی تصویر ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسا آجکل ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں

حصہ
حمنہ عزیزجامعہ کراچی سے شعبہ عمرانیات میں ماسٹرکر رہی ہیں،مختلف سماجی موضوعات پر لکھتی ہیں

جواب چھوڑ دیں