سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹرشپ اوربادشاہت

یوں تو پاکستانی سیاست دان ہمیشہ ملٹری ڈکٹیٹر شپس پر برانگیختہ نظرآتے ہیں لیکن اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے اندر موجود ڈکٹیٹرشپ اور بادشاہت کے بارے خاموش ہی رہتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہ ڈکٹیٹرز کی طرح احکامات دیتے اور اپنے بعد اپنے بیٹے، بیٹی،بیوی یا شوہر کوبادشاہانہ طریقے سے قیادت منتقل کرتے نظر آتے ہیں۔اہم فیصلوں اور قیادت کی منتقلی میں جمہوریت کا عنصر کہیں بھی نظر نہیں آتا بلکہ ایسا لگتا ہے جیسے سیاسی قائدین نے اپنی ڈکٹیٹرشپ کو جمہوریت کے لبادہ میں چھپایا ہوا ہو۔

حال ہی میں سپریم کورٹ سے نااہل قرار دئیے جانے والے وزیراعظم میاں نواز شریف اپنی نا اہلی کے خلاف ریلیوں اور جلوسوں میں مصروف ہو گئے ہیں۔ میاں نواز شریف اپنی جماعت پاکستان مسلم لیگ(ن) کے بانی اور سربراہ بھی ہیں۔ پہلے نواز شریف یہی تاثر دیتے رہے کہ ان کی سیاسی جانشین ان کی بیٹی مریم نواز شریف ہوں گی۔لیکن اب سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف ،ان کے بیٹوں اور بیٹی کو بھی قصوروار قرار دیا تو بڑی گھمبیر صورتحال پیدا ہو گئی۔ شاہد خاقان عباسی کو عارضی وزیراعظم تو بنا دیا گیا لیکن ساتھ ہی شہباز شریف کو مستقل وزیراعظم بنانے کا فیصلہ میاں صاحب زیادہ دیر برقرار نہ رکھ سکے۔بظاہر پنجاب میں ترقیاتی کاموں کو وجہ بنایا گیالیکن شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے سے یہ منصب مستقل طور پرمیاں نواز شریف کے خاندان سے شہبازشریف کے خاندان میں چلے جانے کا احتمال بھی اپنی جگہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔اب مسلم لیگ(ن)نواز شریف کی نااہلی کے باعث حلقہ این اے ۱۲۰ کی خالی ہونے والی نشست پر بیگم کلثوم نواز کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا چکی ہے اور عین ممکن ہے کہ وہی مستقبل میں وزیراعظم بھی بنیں ، لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف سے مریم نوازشریف کو پارٹی قیادت منتقل کرنا ہو یا پھر اب بیگم کلثوم نواز کو یہ ذمہ داری دینا ہو، کہیں بھی جمہوری عمل دکھائی نھیں دیتا۔ جو کچھ بھی میاں نوازشریف اعلان کر دیں وہی جمہوریت ہے اور یہ جمہوریت بادشاہانہ طرز پر ان کے اپنے بیوی بچوں میں ہی گھومتی نظر آتی ہے۔ پارٹی کے پرانے تجربہ کار اور مخلص رہنما بھی اس بادشاہانہ جمہوریت میں پارٹی کی قیادت ملنے کا خواب تک نہیں دیکھ سکتے۔

اب اگر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہم پلہ سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پر نظر ڈالی جائے تو حالات ایک جیسے ہی دکھائی دیتے ہیں۔جنرل ضیا ء الحق کے دورِحکومت میں عدالتی حکم پر جب پارٹی کے بانی اور سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی تو پارٹی قیادت ان کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو نے سنبھال لی۔محترمہ اس منصب پر تا حیات فائز رہیں۔جب ۲۰۰۷؁ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو ایک انتخابی ریلی کے دورا ن قتل کر دیا گیاتو محترمہ کی وصیت کی بنیاد پر ان کے شوہر ا ٓصف زرداری پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین اوربیٹے بلاول بھٹو زرداری چئیرمین بن گئے، پارٹی قیادت کے لئے نہ کوئی پارٹی کے اندر الیکشن ہوا اور نہ کوئی صلاح مشورہ۔ مزیدبرآں آصف زرداری نے شریک چئیرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعدایک ڈکٹیٹر کی طرح پارٹی کے پرانے مخلص اور تجربہ کار رہنماؤں کو اہم عہدوں سے فارغ کر دیا اور اپنی پسند کے رہنماؤ ں کو ان عہدوں پر فائز کر دیا۔

ملک کی تیسری بڑی جماعت، پاکستان تحریکِ انصاف پر نگاہ دوڑائی جائے تویہاں کے حالات کافی بہتر نظر آتے ہیں۔اگرچہ تحریک ِانصاف کے سربراہ عمران خان بھی کسی حدتک پرانے سیاسی گھرانوں کے افراد کو مرکزی حیثیت دے چکے ہیں لیکن اب بھی بے شمار نئے چہرے پارٹی میں کلیدی عہدوں پرفائز ہیں اور مزید نئے چہرے بھی مرکزی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔عمران خان نے خود بھی بادشاہانہ طرز پرابھی تک اپنا کوئی سیاسی جانشین متعارف نہیں کرایا۔

اب ذکر کریں خیبر پختونخواہ میں گہرا اثرورسوخ رکھنے والی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کا۔یہ جماعت ۱۹۳۰؁ء کی دھائی میں باچاخان نے خدائی خدمت گار کے نام سے بنائی تھی۔بعد میں یہ نیشنل عوامی پارٹی اور پھر عوامی نیشنل پارٹی کے نام سے متعارف کرائی گئی لیکن اس کی قیادت بھی باچا خان کی وراثت میں ہی چلتی گئی ماسوائے کچھ عرصے کے جب اجمل خٹک اس کے سربراہ رہے۔ باچا خان کے بعد ان کے بیٹے ولی خان ، اور ولی خان کے بعد بیگم نسیم ولی خان اور بیٹے اسفندیارولی خان نے اس خاندانی شاہانہ سیاست کی روایت کو برقرار رکھا جس میں باپ کے بعد بیٹا خودبخود پارٹی کا سربراہ بن جاتا ہے۔

کسی بھی سیاسی جماعت کی قیادت کے علاوہ ،الیکشن میں پارٹی ٹکٹس بھی مخصوص خاندانوں کو ہی دئے جاتے ہیں، جہاں پھران خاندانوں میں بادشاہانہ طرز پر باپ کے بعد بیٹا پارٹی ٹکٹ کا حقدار ٹھہرتا ہے۔پارٹی قیادت مختلف وزارتوں اور اہم عہدوں پرقابلیت کو بالائے طاق رکھ کر اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو صرف اس لئے فائز کرتی ہے تا کہ وہ اس مروجہ سیاسی ڈکٹیٹرشپ اور بادشاہانہ سیاسی نظام کو قائم رکھ سکیں۔ اس سیاسی ڈکٹیٹرشپ اور بادشاہانہ سیاسی نظام نے پاکستان میں جمہوریت کی حقیقی روح کو ختم کر دیا ہے جو کہ دیگر جمہوری ممالک میں دیکھی جا سکتی ہے۔

حصہ
چکوال کے رہائشی جواد اکرم نے بین الاقومی تعلقات میں ماسٹرز کیا ہے اور عالمی امور پر لکھتے رہتے ہیں۔ملک کے اردو اور انگریزی اخبارات و جرائد اور ویب پورٹل میں ان کے تجزیے شایع ہوتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں