شہر قائد میں خواتین پر حملے،کیا کیا جائے؟

تحریر… سائرہ فاروق
شہرِ قائد میں خواتین پر بے در پے حملے، میڈیا پر ہونے والے ٹاک شوز، بریکنگ نیوز اور اس تمام صورتحال سے باخبر ہونے کے بعد دہشت اور خوف کا پیدا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے

کیا ستم ہے کہ اک چھری مار سرعام صرف خواتین کو گھات لگا کر شکار کر رہا ہے، گلی محلے، سڑک پر کی جانے والی سفاکی پر اردگرد کی تمام مخلوق کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور جب وہ جاگتی ہے تو تماشائی کے روپ میں گھیرا ڈال کر منہ میں انگلی دابے کھڑی رہتی ہے، یا پھر مزید ہوش میں آنے کے بعد پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتی ہے
ترقی یافتہ ممالک کی پولیس کے پاس بھی آلہ دین کا چراغ نہیں ہوتا کہ ادھر کسی نے چھری نکالی یا بم دھماکے سے پہلے ہی مجرم پکڑا ہو، خدارا اپنی پولیس کو جن سمجھنا چھوڑ دیں یہ بھی آپ کی اور میری طرح کے عام انسان ہیں

چلیں مانا پولیس غلط ہے تو بحثیت شہری آپکے کیا فرائض ہیں؟ یہ واقعات کھلے عام کسی سڑک گلی میں ہو رہے ہیں آپ میں سے کتنے اس کے پیچھے بھاگے؟
کسی نے شور کیا؟

کسی نے ایک موٹرسائیکل والے کو مشتبہ انداز میں کھڑے نوٹ کیا؟

آخر وہ انھی سڑکوں پر چلتا ہوگا، آسمان سے اتر کر عین واردات والی جگہ تو نہیں پہنچتا ہوگا….

چوری کے ملزم پر تو ہم سب ایکا کر کے اسے مارنے لگ جاتے ہیں، تو اس سفاک شخص کو پکڑنے پر ہم شہری ایکا کیوں نہیں کرتے…؟

ہم کیوں  اتفاق رائے دہی سے، محلہ کمیٹی یا بازار میں شاپ کیپرز منظم ہو کر اس ایک ناسور کو ڈائیگنوز کرنے میں ناکام ہیں…؟ کیا یہ وہی مقام تو نہیں جسے بے حسی کہتے ہیں؟

کیا یہ وہی مقام تو نہیں کہ جس میں انفرادی سوچ جب یہ جنم لے کہ ابھی آگ چونکہ میرے آشیانے تک نہیں آئی سو چپکے رہو، بولو نہ، آہ نہ کرو…. ایک سفاکیت آپ عوام کے ناک تلے رہ رہی ہے، سانس لے رہی ہے،اور یقینی طور پر کسی فلیٹ میں کسی کا ہمسایہ بھی ہوگی….

کہیں سے خریداری بھی کرتی ہوگی…. کیا بحثیت شہری ہم اس قدر ایک دوسرے کے لیے اجنبی اورخود میں تنہا ہوتے جا رہے ہیں کہ کوئی بھی، جس کادل جب فن کو چاہے، یا نفسیاتی دورے  پڑیں ہو تو وہ بآسانی ہمیں شکار کرنا شروع کر دے
….
ہم اپنے اردگرد سے بے نیاز رہ کر ہی آخر کیوں جینا چاہتے ہیں؟

کیا ساری زمہ داری پولیس پر ڈالنے سے ہماری بحثیت عوام زمہ داری ختم ہوجاتی ہے؟ یہ مسئلہ اسی لئے بڑھ رہا ہے کہ پولیس اور عوام کا ایک دوسرے پر اعتماد نہیں رہا

اس موقع پر پولیس اور عوام کے درمیان تعاون، کمیونیکیشن،دوستی اور اطلاع دینے والے کو مکمل جان ومال کاتحفظ یقینی بنایا جائے گا تب ہی بند گھپاؤں سے نکلنے والے یہ خون آشام بھیڑیے نیست ونابود ہوسکیں گے

ورنہ پولیس کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر یہ درندہ، عوام کے ہاتھوں چڑھ گیا تو بپھری عوام خدانخواستہ قانون ہاتھ میں بھی لے سکتی ہے لہذا پولیس بھی اس سنگین مسئلہ سے جس قدر جلدی چھٹکارا حاصل کر لے بہتر ہے

خواتین کو بھی اس سلسلے میں محتاط رویہ اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، گھر سے نکلتے ہوئے اپنی تمام پریشانیاں گھر چھوڑیں اور باہر نکلتے ہوئے اپنے زہن کو ہر طرح کی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار کر لیں

ڈریں نہیں… کیونکہ ڈر اس مسئلے کا حل نہیں آپ عورت ضرور ہیں مگر اپنے ساتھ جڑے کمزور بے بس جیسے لاحقوں کو اتار پھینکیں…. اگر آپ پیدل چل رہی ہیں تو سڑک سے ہٹ کر چلیں، اگر بس کا انتظار کر رہی ہیں تو ایسی جگہ کھڑی ہوں جہاں رش ہو.. تنہا ایسی جگہوں پر نہ جائیں نہ  انتظار کریں جہاں بآسانی ٹارگٹ بنایا جاسکتا ہو

سب سے بڑھ کر اپنے خوف پر قابو پائیے… اگر حادثہ ہو جائے تو زور سے چلائیں خاموش مت رہیں تاکہ اردگرد سے لوگ آپ کی مدد کے لیے آسکیں

قوموں پر ایسے سانحات آتے ہی رہتے ہیں، جو دہشت کی علامت بنتے ہیں مگر بہادر اور غیور قومیں وہی ہوتی ہیں جو ان معاملات سے گھبراتی نہیں بلکہ استقلال سے ان مسائل کا حل نکالتی ہیں اور آئندہ کے لیے ایسا لائحہ عمل تشکیل دیتی ہیں کہ جس میں ایسی تخریب کاری کے امکان کم ہوتے ہیں

حصہ
سائرہ فاروق ایم ایس سی کی طالب علم ہیں اور مختلف سماجی مسائل پر لکھتی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں