!فوج کا سپہ سالار

    آج پہلے اپنی خبر لیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جسارت میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں مضمون نگار نے بغیر کسی تردد کے ’’بے مہابہ‘‘ لکھ ڈالا۔ فاضل مضمون نگار سے کون پوچھے کہ یہ کیا ہے؟ یہ دراصل ’’بے محابا‘‘ ہے اور اس میں ہائے ہوز (ہاتھی والی ’ہ‘) نہیں بلکہ ہائے حطی (حلوہ والی ’ح‘) آتی ہے۔ اس غلطی سے ہمیں ایک فائدہ ہوا کہ لغت میں محابا کا مطلب تلاش کرلیا۔ دراصل بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کا مفہوم اور استعمال تو معلوم ہوتا ہے لیکن لغوی معنی یا ان کی اصل کا علم نہیں ہوتا۔ ’’محابا‘‘کے لغوی معنی باہم نزدیک کرنا، آپس میں سلوک کرنا، مجازاً بمعنی فروگزاشت۔ اور یہ محابہ نہیں بلکہ محابا ہے۔ بہارِ عجم کے مطابق محابا (بضم اول) بمعنی معاوضہ کرنا اور بخشش ہے۔ فارسی میں بمعنی خوف و ہراس مستعمل ہے۔ اردو میں ’’بے محابا‘ کا مطلب ہوا بغیر کسی خوف و خطر کے۔
    غالب کا شعر ہے:
    محابا کیا ہے میں ضامن اِدھر دیکھ
    شہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا
    جسارت کے مضمون میں شائع ہونے والے ’’بے مہابہ‘‘ میں دو غلطیاں ہیں۔ کچھ دن پہلے ایک خبرمیں تھا کہ ’’راز افشاں ہوگئے‘‘۔ کسی سب ایڈیٹر نے راز افشاں کی طرح خبر کے صفحے پر چھڑک دیے۔ افشا اور افشاں کی غلطی پر پہلے بھی توجہ دلائی جاچکی ہے۔ مکرر عرض ہے کہ ’’اِفشا‘‘ کا الف بالکسر ہے یعنی اس کے نیچے زیر ہے، جب کہ عموماً اسے الف بالفتح یعنی اَفشا بولاجاتا ہے اور لگتا ہے کہ یوں ہی بولا جاتا رہے گا۔ اِفشا کا قافیہ اِخفا ہے۔ اب اگر کوئی اخفا کے الف پر بھی زبر لگا دے تو کہا کیا جاسکتا ہے۔
    اب ذرا فرائیڈے اسپیشل کا جائزہ لیں۔ تازہ شمارے (7تا 13جولائی) میں ایک دلچسپ ترکیب نظر سے گزری۔ صفحہ 8 پر ایک حکایت میں اورنگ زیب عالمگیرؒ کو ’’فوج کا سپہ سالار‘‘ لکھا گیا ہے۔ ہم اس سوچ میں پڑ گئے کہ فوج اور سپہ میں کیا فرق ہے۔ اورنگ زیب ایک بڑی شخصیت تھی اس لیے شاید اسے سپہ سالار یا فوج کا سالار لکھنا اس کی شان کے شایان نہیں تھا۔ یہ حکایت مولانا سراج الدین ندوی کی کتاب ’’کردار کے غازی‘‘ سے لی گئی ہے۔ لیکن کیا یہ غلطی حضرت مولانا کی ہے؟ ہو بھی سکتی ہے۔ کئی نامور لکھنے والوں کی تحریروں میں یہ غلطی نظر سے گزری ہے۔ فوج عربی کا، سپہ فارسی کا لفظ ہے، لیکن مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔
    ایک لفظ ’’اتباع‘‘ ہے۔ ایک طالب علم نے پوچھ لیا کہ یہ مذکر ہے یا مونث؟ اس کا کہنا تھا کہ کئی علما کی تقریر اور تحریر میں یہ مذکر استعمال ہوا ہے۔ سید مودودیؒ نے اتباع کو مذکر لکھا ہے، تاہم ان ہی کے خوشہ چیں محترم حافظ ادریس نے اسے مونث باندھا ہے۔ فرائیڈے اسپیشل کے اسی شمارے میں حافظ صاحب کا جملہ ہے ’’ان کی زیادہ سے زیادہ اتباع ۔۔۔ رسول اکرم ؐ کی اتباع مرحوم کے ایمان و عمل کا حصہ تھی‘‘۔ لغت میں یہ مذکر ہے۔ عربی کا لفظ ہے (الف بالکسر) مطلب ہے پیروی کرنا۔ اور اگر الف پر زبر ہو یعنی بالفتح اور سکوت دوم تو یہ (اَت۔باع) تابع کی جمع ہوجائے گا۔
    ایک شعر ہے :
    کرکے عصیاں آنکھ کو پُرنم کیا
    اِتبّاع سنتِ آدم کیا
    یہاں بھی اتباع کو مذکر ہی باندھا گیا ہے یعنی ’’اتباع کیا‘‘۔ ایک ماہرِ لسانیات کا کہنا ہے کہ اتباع مصدر ہے اور مصدر کا مذکر مونث نہیں ہوتا، دونوں طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ وارث سرہندی کی ’علمی اردو لغت‘ میں مذکر، مونث دونوں ہی دے دیے ہیں۔ جیسے چاہے استعمال کریں۔
    گزشتہ دنوں ایک اخبار سے وابستہ بہت سینئر صحافی صالح ظافر کی سیاسی ڈائری میں قطر کے شہزادے کے نام کے ساتھ ’’التھانی‘‘ پڑھا۔ حیرت ہوئی کہ ایسا کہنہ مشق صحافی بھی یہ غلطی کرسکتا ہے! انہیں کبھی موقع ملے تو ہمیں بھی بتائیں کہ یہ ’’تھانی‘‘ کیا ہے، کیا اس کا تعلق تھانے سے ہے یا تھانہ بھون سے، جس سے نسبت رکھنے والے تھانوی کہلاتے ہیں۔ ممکن ہے یہ تھانوی کی مونث ہو۔ یہ سارا فساد انگریزی املا کا پیدا کردہ ہے۔ انگریزی میں ’’ث‘‘ کے لیے THاستعمال کیا جاتا ہے اور بھولے بھالے صحافی اسے تھانی بنا دیتے ہیں۔ ارے بھائی، یہ ’’الثانی‘‘ ہے۔ ایسی غلطی جسارت سمیت دیگر اخباروں میں بھی نظر آجاتی ہے۔ پہلے جب خبریں انگریزی میں آتی تھیں اور اردو کی خبر ایجنسیوں کی بھرمار نہیں ہوئی تھی تو یہ غلطی عموماً ہوجاتی تھی۔ جسارت ہی میں برسوں پہلے ایک نام ’’اتھمان‘‘ پڑھا۔ جب پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انگریزی کی خبر سامنے رکھ دی گئی جس میں OTHMAN لکھا ہوا تھا اور بے چارہ عثمان ’’اتھمان‘‘ ہوگیا۔ اردو کی خبر ایجنسیوں میں بھی ہم ہی جیسے لوگ بیٹھے ہیں، چنانچہ انگریزی سے ترجمہ کرتے ہوئے ایسے لطیفے سرزد ہوجاتے ہیں۔ عربی کے حروف ض، ظ کا خود اہلِ عرب بھی ’’دواد‘‘ تلفظ کرتے ہیں جیسے سورہ فاتحہ میں ضالین کا تلفظ دوالین ہے۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ اس تلفظ کے مطابق انگریزی میں اسے DHسے ظاہر کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب کا دارالحکومت ریاض بھی Ryadhلکھا جاتا ہے، لیکن چونکہ ریاض اردو، فارسی میں عام ہے اس لیے اسے ریاض ہی لکھا جاتا ہے۔ لیکن سعودی عرب کا ایک اور شہر ظہران ہے جو اردو کے ذرائع ابلاغ میں ’’دہران‘‘ ہوگیا ہے۔
    اجیرن کرنا یا اجیرن ہونا بہت عام ہے، لیکن یہ اچانک اجیرن بنانا ہوگیا جو محاورے کے خلاف ہے۔ زندگی اجیرن ہوگئی یا اجیرن کردی گئی اصل محاورہ ہے، اجیرن بنانا کوئی محاورہ نہیں۔
    اجیرن سنسکرت کا لفظ ہے اور وہاں بدہضمی کے معنی میں آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب پیٹ میں گڑبڑ ہو تو زندگی اجیرن نہ ہوگی تو کیا ہوگا۔ اردو میں ناگوارِ خاطر، بارِ خاطر دوبھر ہونے کی جگہ بولا جاتا ہے۔
    قلق کا ایک شعر ہے:
    بولے جاتے ہیں اے مہِ عالم
    لو اجیرن ابھی سے ہو گئے ہم
    بدہضمی کے حوالے سے اس غذا کے بارے میں کہا جاتا ہے جس کے کھانے سے طبیعت بدمزہ ہو جیسے ’’اب تک طبیعت چاق نہیں ہے، رات کے اتنے سے چاول اجیرن ہوگئے‘‘۔ مشکل اور دشوار کے معنوں میں جیسے ’’ان کو چار قدم چلنا اجیرن ہے‘‘۔ باعثِ تکلیف، وبالِ جان۔
    یہ شعر دیکھیے:
    کیوں تُو اپنی آپ دشمن ہوتی ہے
    عقل اتنی بھی اجیرن ہوتی ہے
    چلتے چلتے ایک لفظ ’’ اَجِنّہ‘‘۔ عام طور پر اسے جن کی جمع سمجھا جاتا ہے، جب کہ اس کی جمع ’’ جنّہ‘‘ ہے۔ اور اجنّہ (عربی) جنین کی جمع ہے اور جنین وہ بچہ جو ماں کے پیٹ میں ہو۔

    حصہ

    1 تبصرہ

    1. اطہر بھائ…سلام ورحمت اللہ. اردو ادب کے ایسے لطیفے تو بس آپکی تحریر ہی میں نظر آتے ہیں. میں تو اس غم میں گھلا جاتا ہوں کہ املا کی غلطیوں کا کیا ذکر , موبائل کے عروج سے اردو تحریر ہی نئی نسل سے معدوم ہوئ جاتی ھے. جسے دیکھو اردو خط کی جگہ رومن انگریزی میں اردو لکھ رہا ھے !

    جواب چھوڑ دیں