نیک اختر

    ہمارے صحافی اور ادیب کسی بھی لفظ کے آگے ’’یت‘‘ (ی ت) بڑھاکر اسم صفت بنالیتے ہیں۔ اس طرف پروفیسر علم الدین نے بھی توجہ دلائی تھی۔ ایک مضمون میں ’’معتبریت‘‘ پڑھا۔ غنیمت ہے کہ اعتباریت نہیں لکھا۔ لیکن اعتبار میں کیا خرابی ہے؟ یا اپنے آپ پر اعتبار نہیں کہ اس طرح ’’معتبریت‘‘ قائم نہیں ہوسکے گی۔
    جامعہ کراچی میں اردو کے استاد اور زبان پر دسترس رکھنے والے پروفیسر رؤف پاریکھ ایک اخبار میں زبان کے حوالے سے مضامین بھی لکھ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک مضمون میں انہوں نے عام ہوجانے والی کئی اصطلاحوں کی وجۂ تسمیہ بھی بیان کی ہے، مثلاً ’’سینڈوچ‘‘۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عبدالرحیم کی کتاب ’’پردہ اٹھادوں اگر چہرۂ الفاظ سے‘‘ بڑی دلچسپ ہے جس میں الفاظ کا تاریخی، لغوی اور لسانی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ ہم بھی اس سے استفادہ کرچکے ہیں، مثلاً ہڑتال کی وضاحت بڑی دلچسپ ہے۔ رؤف پاریکھ نے بائیکاٹ کی جو تاریخ بیان کی ہے ایسی ہی ڈاکٹر عبدالرحیم نے اپنی کتاب میں دی ہے۔
    خوشی کی بات ہے کہ معروف عالم دین مفتی منیب الرحمن بھی اصلاحِ زبان کے میدان میں آگئے ہیں۔ ان کی آمد اس لیے بھی خوش آئند ہے کہ وہ عربی و فارسی پرعبور رکھتے ہیں۔ ہم نے اپنے کسی مضمون میں لکھا تھا ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است‘‘۔ اور یہی معروف بھی ہے، لیکن مفتی صاحب نے اس کی اصلاح فرمائی ہے۔ یہ سعدی شیرازی کا شعر ہے جو یوں ہے:
    نہ در ہر سخن بحث کردن رواست
    خطا بر بزرگاں گرفتن خطاست
    یعنی خطائے بزرگاں کی جگہ ’’خطا بر بزرگاں‘‘۔ شیخ سعدی زندہ ہوتے تو ممکن ہے کہ عوامی اصلاح قبول کرلیتے کہ اس طرح مصرع رواں اور سہل ہوگیا ہے اور ’’بر۔بز‘‘ کے عیب تنافر سے بھی پاک ہوگیا ہے۔ ایسے کئی شعر ہیں جو عوام کی زبان پر چڑھ کر زیادہ جامع ہوگئے ہیں۔ مفتی صاحب نے ’’نور چشمی‘‘ کی وضاحت بھی کی ہے کہ یہ مہمل ہے۔ اسی پر یاد آیاکہ شادی کے دعوت نامے میں نور چشمی کے علاوہ ’’دختر نیک اختر‘‘ بھی لکھا جاتا ہے۔ نیک اختر کا مطلب ہے اچھے ستارے والی یعنی اچھی قسمت والی۔ گو کہ عربی میں ’نیک‘ کے معنی اُس کے برعکس ہیں جو ہم اردو میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ تو جملۂ معترضہ ہے لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضعیف الاعتقاد انسان نے اپنی قسمت کی باگ ڈور ستاروں کے ہاتھ میں دے رکھی ہے کہ فلاں ستارے کے زیراثر پیدا ہونے والا بخت ور ہوگا اور فلاں ستارے کے زیر سایہ پیدا ہونے والا بدقسمت۔ ہندوؤں میں تو جیوتش ودیا، ستارہ شناسی، دست شناسی وغیرہ جیسی باتیں سمجھ میں آتی ہیں کہ پورا دھرم ہی ضعیف الاعتقادی کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی جنم کنڈلی بنوا لی جاتی ہے اور پنڈت جی نومولود کا پورا زائچہ بناکر دے دیتے ہیں۔ لیکن یہ کام مسلمان بھی کرتے ہیں۔ مرزا غالب کا مصرع ہے
    اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    اور علامہ اقبال نے ستاروں سے حال معلوم کرنے پر کہا تھا کہ
    ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
    وہ تو خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں
    بات لمبی ہوجائے گی لیکن عابد علی عابد کا شعر بھی سن لیجیے:
    چاند ستاروں سے کیا پوچھوں کب دن میرے پھرتے ہیں
    یہ تو بچارے خود ہیں بھکاری، ڈیرے ڈیرے پھرتے ہیں
    ستم یہ ہے کہ اب تو ٹی وی چینلوں پر بھی ستارہ شناسوں، نجومیوں اور زائچے بنانے والوں کو بٹھاکر اُن سے معلوم کیا جاتا ہے کہ فلاں شخص کے مقدر میں کیا ہے یا پاکستان کا مستقبل کیا ہے۔ اس طرح ضعیف الاعتقادی کو پختہ کیا جارہا ہے۔
    ستارے کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالرحیم نے بڑی دلچسپ وضاحت کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انگریزی کا لفظ DISASTER بھی اسی عقیدے کا مظہر ہے۔ اس کے معنی کوئی بڑی مصیبت اور تباہی کے ہیں، لیکن اس لفظ کی نقاب کشائی کی جائے تو اس کے پیچھے تباہی کے بجائے انسان کی اپنی ضعیف الاعتقادی نظر آئے گی، کیونکہ DISASTER (ڈیزاسٹر) کے لفظی معنیٰ ہیں برا ستارہ۔ یعنی یہ نیک اختر کی ضد ’بداختر، ہے۔ یہ دو لفظوں کا مرکب ہے یعنی DIS-ASTER ۔ یہاں DIS بمعنی برا ہے، اور ASTER لاطینی ASTRUM سے ہے جس کا مطلب ہے ستارہ۔ یہ لفظ دراصل اطالوی ہے جہاں سے فرانسیسی میں اور پھر وہاں سے انگریزی میں آیا۔
    فرائیڈے اسپیشل کے پچھلے کسی شمارے میں ایک خاتون کا مراسلہ شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے تبصرہ کیا تھا کہ یہ کالم ان کے سر اور ذہن (یا شاید دماغ) کے اوپر سے گزر جاتا ہے۔ کسی نے بتایا تھا کہ ذہن یا دماغ سر میں ہی ہوتا ہے، لیکن ان کا شکوہ بجا ہے۔ اس کا احساس ہمیں نیک اختر کی طول طویل وضاحت سے ہورہا ہے۔ اسی پر یاد آیا کہ استاد العلما مفتی لطف اللہ صاحب (مرحوم) نے اپنے ایک رسالے میں لکھا ہے کہ ’’طوالت عام طور پر بولتے ہیں جو غلط ہے، صحیح طول ہے۔ اسی طرح عمداً بفتح میم (یعنی میم پر زبر) بولاجاتا ہے، جب کہ صحیح سکون المیم ہے (یعنی عم دن)‘‘۔ اسی رسالے میں ایک بات اور لکھی گئی ہے کہ ’’شکر خود مصدر ہے، اس پر’ی‘ اور ’ت‘ بڑھا کر شکریہ کہنا اور لکھنا غلط ہے۔ کیونکہ ی، ت کا اضافہ ان کلمات پر کیا جاتا ہے جو مصدر نہ ہوں اور بطور مصدر ان کو استعمال کرنا ہو جیسے ’فاعلیت، وغیرہ۔ ہماری رائے تو یہ ہے کہ شکریہ کی ترکیب خواہ غلط ہو لیکن یہ اتنی عام ہوگئی ہے کہ غلط العام ہوکر فصیح ہوگئی ہے۔ اب لوگ اسے ترک نہیں کریں گے۔ بہرحال اس تصحیح کا شکریہ۔
    مشفق محترم حافظ محمد ادریس نے ہماری گستاخی کو نظرانداز کرتے ہوئے محبت نامہ ارسال کیا ہے کہ
    ’’فرائیڈے اسپیشل میں آپ کا کالم بڑے شوق سے پڑھتا ہوں۔ زباں بگڑ جائے تو بڑا نقصان ہوتا ہے، مگر بہت کم لوگ اسے جانتے ہیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے کہ آپ نے میرے مضمون پر بہت اچھا تبصرہ کیا ہے۔ یقین جانیں کہ اسے پڑھ کر بہت لطف آیا۔ صورت حال یہ ہے کہ آج کل بہت زیادہ مصروفیت اور بھاگ دوڑ، نیز صحت کی کمزوری کی وجہ سے باتھ سے لکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ کمپوزر حضرات کو لکھواتا ہوں اور بعد میں اسے ایڈٹ کرتا ہوں۔ جس مضمون کا آپ نے حوالہ دیا ہے، اس کی غلطیاں آپ کے اس کالم سے پہلے میری نظر سے گزر چکی تھیں۔ یہ سب کمپوزنگ (کتابت) کا کمال ہے، جس پر آپ نے بجا طور پر ناصحانہ گرفت کی ہے۔
    فارسی شعر تو مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے اور اس سے قبل کلیار صاحب کی زندگی میں ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘ کے کالم ’’دریچۂ دل‘‘ میں ایک سے زیادہ مرتبہ وہ چھپ بھی چکا ہے، جس میں کوئی غلطی نہیں۔ اس مرتبہ یہ مضمون رسائل کو بھجوایا گیا، جس کا فائنل پروف میں نہ دیکھ سکا۔ ہمارے ’’یادِ رفتگاں‘‘ کے یہ کالم بعد میں ’’عزیمت کے راہی‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں طبع ہوتے ہیں۔ کتاب کی تیاری کے وقت میں خود بھی قدرے زیادہ غور سے ان کو دیکھ لیتا ہوں۔ پھر بھی کوئی نہ کوئی غلطی رہ جانے کا احتمال موجود ہوتا ہے۔ اس وقت لکھے جانے والے مضامین ان شاء اللہ ’’عزیمت کے راہی‘‘ جلد ہفتم میں شامل ہوں گے۔ پہلی چھ جلدیں الحمدللہ طبع ہوکر قارئین کی طرف سے تحسین حاصل کرچکی ہیں۔ بعض پر ’’فرائیڈے اسپیشل‘‘ میں تبصرے بھی چھپے، جبکہ دیگر پر باوجود کتاب ارسال کرنے کے تبصرہ نہ چھپ سکا۔ کیوں؟ اس کا علم نہیں۔ ادارہ کے اربابِ حل و عقد کو معلوم ہوگا۔
    آپ کے توجہ دلانے پر شکر گزار ہوں اور اس کے ساتھ ایک یادگار واقعہ بھی عرض کیے دیتا ہوں۔ مستند عالم دین اور معروف مصنف حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ ایک مرتبہ خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے اور مسلسل دعا کیے جارہے تھے کہ اے اللہ کاتبین کے فتنے سے محفوظ فرما۔ اس دعا کی حکمت ہر وہ شخص جانتا ہے، جو تصنیف و تالیف کے میدان میں اترتا ہے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے، آپ نے جو توجہ دلائی ہے میں اس سے قبل ہی یہ غلطیاں ’’ایشیا‘‘ میں چھپنے والے مضمون کو دیکھ کر نوٹ کرچکا تھا۔
    آپ کے لیے دعاگو ہوں اور آپ کی برادرانہ شفقت اور بزرگانہ دعاؤں کا محتاج بھی ہوں۔ والسلام
    خاکسار
    حافظ محمد ادریس
    نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان
    ڈائریکٹرادارہ معارف اسلامی، منصورہ‘‘
    (ازراہِ نوازش انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ’’وطیرہ‘‘ ان کی غلطی ہے اور یہ اطلاع لاہور سے حامد ریاض ڈوگر نے فراہم کی ہے۔ غلط بیانی کے ذمے دار وہ ہی ہوں گے)
    25 جولائی کے جسارت میں صفحہ 12پر ایک سرخی شائع ہوئی ہے
    ’’پاکستان کی تیسری آفاقی’معیادی‘ جائزہ رپورٹ‘‘۔ سرخی تو کیا پوری خبر ہی پلے نہیں پڑی کہ یہ کس قسم کی رپورٹ ہے۔ اس سے قطع نظر یہ ’’معیادی‘‘ کیا چیز ہے؟ معیادکوئی لفظ نہیں۔ یہ غالباً میعاد ہے۔ معیاد اور معیار اکثر ہمارے صحافی بھائیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں چنانچہ میعاد ’معیاد‘ اور معیار ’میعار‘ ہوجاتا ہے اور ’ی، بے جگہ ہوتی رہتی ہے۔ میعاد عربی کا لفظ ہے، قرآن کریم میں ’لا تخلف المیعاد، آیا ہے۔ مطلب ہے وقتِ معینہ، ایام مقررہ۔ جیسے کہا جاتا ہے ’’حکومت کی میعاد ختم ہوگئی ہے‘‘۔ امیر مینائی کا شعر ہے:
    کھول کر بال جو آتے ہیں وہ زنداں کی طرف
    کچھ بڑھا جاتے ہیں میعاد گرفتاروں کی
    میعاد کا مزید مطلب وعدہ، وعدے کا وقت۔ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ میعاد بولنا کا مطلب ہے قید کا حکم لگانا۔ پنجابی میں کہا جاتا ہے ’’قید بول گئی‘‘۔
    ایک مشہور مقدمے میں ایک اخبار نے شہ سرخی لگائی تھی ’’تانگہ آگیا کچہریوں خالی۔ سجناں نوں قید بول گئی‘‘۔ ایک میعادی بخار بھی ہوتا ہے جو رہ رہ کر چڑھتا ہے جیسے اقتدار کا نشہ۔

    حصہ

    1 تبصرہ

    جواب چھوڑ دیں