زلزلے کی یادیں

جب زلزلہ آیا تو ہم سوات کے علاقہ برہ بانڈئی کے ہائی اسکول میں کلاس روم کے اندر بیٹھے تھے۔ ماسٹر عبدالودود حاضری لے رہے تھے۔ ان کی کرسی اچھلنے لگی۔ سب سے پہلے وہ بھاگے ہیں، اس کے بعد ہم بنچوں کو پھلانگتے ہوئے باہر کی جانب دوڑ پڑے۔

آٹھ اکتوبر 2005 کی صبح جب زلزلہ آیا تو ہم سوات کے علاقہ برہ بانڈئی کے ہائی اسکول میں کلاس روم کے اندر بیٹھے تھے۔ ماسٹر عبدالودود حاضری لے رہے تھے۔ ان کی کرسی اچھلنے لگی۔ سب سے پہلے وہ بھاگے ہیں، اس کے بعد ہم بنچوں کو پھلانگتے ہوئے باہر کی جانب دوڑ پڑے۔
چند دن بعد ہم نے اپنے اسکول میں چندہ اکھٹا کیا اور مجموعی رقم الخدمت فاونڈیشن کو جمع کرکے خود بھی ان کے ساتھ بشام روانہ ہوگئے۔ بشام بازار کے بالکل سامنے دریا کے اس پار دو کمرے کا مدرسہ اور اس کے سامنے کھلا علاقہ تھا، اس میں الخدمت فاونڈیشن کا امدادی کیمپ لگایا گیا تھا۔ سمتبر کے بعد بشام میں سخت سردی ہوتی ہے۔
یہاں تقریبا سو افراد کل وقتی مقیم تھے۔ مختلف ٹیمیں تشکیل دیکر ان کی الگ الگ ذمہ داریاں لگائی گئی تھیں۔ ایک طرف ٹینٹ میں ڈاکٹر زخمیوں کا علاج کرتے تھے، دوسری جانب رضا کار امدادی اشیا کے پیکج تیار کرتے تھے۔ ایک ٹیم صبح پہاڑوں پر جاکر سروے کرتی اور متاثرین کو ٹوکن دیکر اگلے دن کیمپ میں بلاتی۔ کیمپ میں دوسری ٹیم ان سے ٹوکن لیکر ٹینٹ، گرم بستر اور اشیائے خور ونوش تقسیم کرتی۔ یہ روز کا معمول تھا۔
کیمپ کے انچارج زرنور آفریدی جو اس وقت جماعت اسلامی خیبر ایجنسی کے امیر تھے، انتہائی عاجز، خدا ترس اور رحمدل انسان تھے۔ آذانیں بھی خود دیتے تھے۔ سحری میں لوگوں کو اٹھاتے، کیمپ پر پہرہ بھی دیتے تھے۔ صبح جب کیمپ میں معمول کی سرگرمیاں شروع ہوتی تو وہ ہر ٹینٹ میں جاکر اعلان فرماتے، ساتھیو! اللہ کی رضا کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا دو، ان کی اس دلسوزی کی وجہ سے تمام رضاکار اپنے استعمال کے کپڑے اور بستر بھی بانٹ دیتے تھے۔ میرے ساتھ کئی بار ایسا ہوا کہ رات میں بستر نہ ملا تو جاکر پرانے کپڑوں کے ڈھیر میں سوگیا۔

بشام بازار میں ایک غیر ملکی این جی او کا کیمپ لگا ہوا تھا۔ ہم فارغ اوقات میں جب بشام بازار کی طرف نکلتے تو ان کے پاس جاکر گپ شپ کرتے تھے۔ وہ ہمارے کام کا طریقہ جان کر حیران رہ گئے اور اپنا پورا سامان الخدمت فاونڈیشن کے سپرد کردیا کہ آپ لوگ تقسیم کریں۔
ایک بات میں نے یہ نوٹ کی امدادی اشیا بھیجتے وقت علاقے کی حالات کو لازمی مدنظر رکھنا چاہیے۔ بشام میں لوگ کیمپ سے منرل واٹر کی بوتلیں لیکر آگے دکان میں فروخت کرتے تھے۔ کیوں کہ وہاں پانی کی کمی نہیں تھی۔ اس کے بعد ہم نے پانی منگوانا اور تقسیم کرنا بند کردیا۔ ہم نے عید بھی اس کیمپ میں گزاری اور اگلے روز جب نوجوانوں کی تازہ دم کھیپ پہنچی تو ہم بوجھل دل کے ساتھ اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔

 

حصہ
، نور الہدیٰ شاہین صحافت کے طالب علم اور سماجی کارکن ہیں۔ مختلف سماجی موضوعات پر سوشل میڈیا کے ذریعے مہمات چلاتے ہیں جن میں فروٹ بائیکاٹ مہم اور وی آر گرین شجر کاری مہمات بھی شامل ہیں۔

جواب چھوڑ دیں