طلاق میں اضافے کی وجوہات

طلاق کی بعض وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ملک کے اکثر شہروں میں منہ دکھلائی، دودھ پلائی جیسی رسموں کے ساتھ ساتھ شادی کے فوراً بعد “منہ دھلائی” کی رسم نے جڑ پکڑ لی ہے۔۔ خادم اعلیٰ و دیگر اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ اس “حقیقت پسندانہ رسم کی جلد سے جلد سرکوبی کر کے سماج میں بکھرتے رشتوں کی نیا کو ڈوبنے سے بچانے کےلیے اقدامات کیے جائیں۔۔۔ نیز ملک بھر میں موجود بیوٹی پارلر جیسی جھوٹ کی فیکٹریوں​ سے دھوکہ دہی میں اعانت فراہم کرنے والوں اوزاروں اور کایا پلٹ و چہرہ بدل بیماروں کا جلد سے جلد قلع قمع کر کے کنواروں کے جذبات کو مجروح ہونے سے بچانے لیے تگ ودو​ کی جائے۔۔ نوجوانان کنوارہ ایسوسی ایشن کے صدر نے اپنی پارٹی کی ذیلی تنظیم “ڈسے ہوئے دلہے” سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ اس حوالے سے کسی خاتون، جیسا کہ مریم نوازشریف کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ملک کے چپے چپے میں پھیلے ایسے پارلرز پر چھاپے مارے اور اصل و نقل کے مابین فرق واضح کرنے کو کوئی اصول و ضوابط متعین کرے تاکہ نوجوانوں کو شادی جیسے پاکیزہ رشتے کی ابتدا ہی میں جوے جیسی لعنت سے محفوظ و مامون رکھا جا سکے۔۔ دھوکہ خورد نوجوانوں کے مظلوم صدر نے صدر مملکت سے بھی درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “آپ تو اس قسم کے واقعات سے بخوبی واقف ہی ہیں کہ کس طرح پھر زندگی بھر چپ لگ جاتی ہے پھر چاہے آپ ملک کے صدر ہی کیوں نہ بن جائیں” صدر مظلوم نے نوجوانوں کی آہ و بکا میں فوجی انتظامیہ کی بھی اس جانب توجہ دلائی کہ سی پیک کے بعد ایسے واقعات میں چینی مداخلت کے باعث اصل و نقل کے مابین فرق میں مزید خلا آنے کا خدشہ محسوس کیا جا رہا ہے لہٰذا ان خدشات کا ابھی سے تدارک کیا جائے۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نوجوان زندگی بھر کی جمع پونجی تو لٹوا ہی بیٹھیں ساتھ ہی ساتھ “مایوسی”کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گمراہ ہو کر “منزل نہیں رہنما چاہیے”جیسے بے ہودہ نعروں پر وشواس کرنا شروع کر دیں۔۔۔لٹے پٹے نوجوانوں کے صدر نے حکومت وقت سے آخری درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں اب بینکوں کے سامان کی نیلامی کے اشتہارات کی مانند رشتوں کا بندوبست کروایا جائے کہ جن میں مشتہر لکھتا ہے کہ “سامان جہاں جیسے کی بنیاد پر موجود ہے بولی میں شرکت کے خواہشمند حضرات جلد ازجلد دیے گئے نمبروں پر رابطہ کر کے خریداروں کے فہرست میں اپنا نام درج کروائیں شکریه”

حصہ
عرفان ملک پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں،صحافت کے متعدد در کی خاک چھان کر ان دنوں نجی ٹی وی چینل میں بطور اینکر کے اپنے ذوق و شوق کی آبیاری کر رہے ہیں۔

1 تبصرہ

  1. بہت عمدہ، بہت اعلیٰ۔
    صدر صاحب کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے کہے گئے اس جملے کا تو جواب ہی نہیں ’’کس طرح پھر زندگی بھر چپ لگ جاتی ہے پھر چاہے آپ ملک کے صدر ہی کیوں نہ بن جائیں‘‘۔
    واہ وا۔

جواب چھوڑ دیں