خون کی سیج

اگر آپ کی یادداشت بہت اچھی ہے تو مجھے یقین ہے کہ آج سے پندرہ سال پہلے چھپنے والی ایک خبر ابھی تک آپ کے ذہنوں میں ہوگی۔
”سہاگ کی پہلی رات دوشیزہ کا بے دردی سے قتل۔“
یہ خبر کراچی کے ایک معروف روزنامے مےں تصویر کے ساتھ چھپی تھی شاید اس کی تفصیلات آپ کے علم مےں نہ ہوں یوں بھی اخبار والے معاملے کی گہرائی تک نہےں جاتے۔ تھانے سے جو رپورٹ ملتی ہے اسی پر اکتفا کر کے خبر چھاپ دیتے ہےں۔
وہ خبر بھی سرسری سی تھی جیسے آج کل کے ایوننگ اخبارات مےں محض دلچسپی پیدا کرنے کے لیے ایسی خبروں کو نمایاں کر کے شائع کر دیا جاتا ہے۔ چوں کہ مےں اس تمام واقعہ کا چشم دید گواہ بھی ہوں اس لیے میری تفصیلات یقیناً اخباری تفصیلات سے مختلف ہوں گی اور اس مےں سچائی کا عکس آپ کو ضرور دکھائی دے گا۔ مےں اس قتل کا آغاز بیان کرنے سے قبل آپ کو تمام تفصیلات کسی کہانی کی صورت بیان کر دینا چاہتا ہوں۔
مجےب احمد ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا گھرانہ تقسیم ہندوستان کے ان ہزاروں ستم گزیدہ خاندانوں مےں سے ایک تھا جنہوں نے سرحد پار کرنے کی کوشش مےں اپنی ماﺅں‘ بہنوں کو بے آبرو ہوتے دیکھا ‘ مردوںکو سینے پر بھالے کھاتے دیکھا ہے۔
جب مجیب احمد پاکستان آیا تو اس کی عمر صرف دو ماہ تھی۔ شیر خواری کے اس دور کے متعلق زیادہ کچھ نہ جانتا اگر ماں اسے گود مےں ہلکورے دیتے ہوئے لوریوں کے بجائے بلواﺅیں کی ستم کاریاں نہ بتاتی۔ وہ اپنی ماں کے سینے سے چمٹا پاکستان پہنچا۔ ماں نے اس کا ہر طرح سے خیال رکھا۔ اس کی تعلیم و تربیت مےں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ حالانکہ اس کی جوانی کی ابھی شروعات تھیں۔ شوہر کے شہید ہوجانے کے بعد وہ کوئی ساتھی باآسانی تلاش کر سکتی تھی مگر اس نے مجیب احمد کی بہتر تربیت کے پیش نظر خود کو تنہائیوں کے سپرد کیا اور بیٹے کی چاہت مےں زندگی کا طویل سفر تپتی دھوپ مےں کاٹنے کا عہد کر لیا۔
وقت کچھوے کی چال چلتا رہا۔ ماہ و سال گزرتے رہے۔
جب مجےب پندرہ سال کا ہوا تو ماں نے اپنا سفر ختم کر دیا۔ ایک شام وہ بستر پر ایسی سوئی کہ پھر نہ اٹھ سکی۔ مجیب احمد دنیا مےں تنہا رہ گیا تھا مگر اس جہاں مےں ابھی اچھے لوگوں کی کمی نہےں۔ مجیب کی ماںجس سیٹھ کے پاس ملازم تھی اس سیٹھ نے اسے اپنے پاس رکھ لیا۔ اب سیٹھ کے گھر مجیب نے وہ تمام کام سنبھالا جو اس کی ماں انجام دیا کرتی تھی مگر سیٹھ جبار علی جلد ہی بھانپ گیا کہ مجیب مےں ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ وہ بے پناہ تیز اور ہوشیار لڑکا تھا۔ ہر کام باآسانی اور جلد سمجھ جاتا تھا۔ سیٹھ کی کوئی اولاد نرینہ نہےں تھی۔ ایک بیٹی تھی جو مجیب سے شاید ڈیڑھ دو سال بڑی تھی۔ اس کے علاوہ گھر مےں ایک بوڑھی ملازمہ تھی جو شاید زندگی کی آخری سرحدوں پر کھڑی موت کے پروانے کا انتظار کررہی تھی سیٹھ جبار کا شہر کے معروف اور مصروف علاقے مےں پیٹرول پمپ تھا۔ لاکھوں کی آمدنی تھی اور کھانے والے صرف دو افراد۔
سیٹھ جبار کے ساتھ بھی عجیب المیہ ہوا تھا۔ اس کی پہلی شادی خاندان مےں والدین کی رضامندی اور باہمی مشاورت سے طے پائی تھی۔ نہ جانے کیا بات ہوئی کہ دونوں مےں نبھ نہ سکی۔ تیسرے سال جب نوبت اپنی انتہا تک پہنچ گئی تو انہوں نے بیوی کو طلاق دے دی۔ ان تین سالوں کے دوران مےں ان کی کوئی اولاد بھی نہ تھی۔ اس لیے پہلی بیوی کو چھوڑنا ان کے لیے کسی پریشانی کا سبب نہےں بنا۔ اس طلاق کے معاملے مےں پہلی بیوی پیش پیش رہی۔ بعد مےں اس کی طلاق لینے کی خواہش بھی سامنے آگئی۔ سیٹھ جبار کی بیوی راحت خالہ زاد سے عہدو پیماں کر چکی تھی۔ محبت کی خلش نے اسے چین سے نہ رہنے دیا یوں یہ بات جھگڑے سے ہوتے ہوتے علیحدگی تک جا پہنچی۔
سیٹھ جبار نے دوسری شادی اپنی مرضی سے کی ۔ وہ ان کے دوست کریم خان کی بہن شازیہ تھی۔ شازیہ گو زیادہ پڑھی لکھی نہ تھی مگر گھر کے کام کاج اور دیگر معاملات مےں بہت سی پڑھی لکھی لڑکیوں سے اچھی تھی۔ شازیہ نے سیٹھ جبار کو اتنی محبت اور توجہ دی کہ وہ پہلی بیوی کے دیے ہوئے تمام دکھ بھول گئے ۔ زندگی نئے انداز سے اپنا سفر شروع کرنے لگی۔
شادی کے پانچویں سال ان کے ہاں پہلی بیٹی پیدا ہوئی سیٹھ جبار نے کبھی یہ نہ سوچا کہ لڑکا پیدا ہو یا لڑکی۔ انہوں نے لڑکی کو خدا کی رحمت سمجھا اور گلے لگالیا۔ اس کے بعد ان کی زمین مےں فصل نہےں آئی۔ ڈاکٹروں نے چیک اپ کے بعد دونوں کو نارمل قرار دیا۔ یوں وہ اسے قدرت کی رضا سمجھ کر خاموش ہو گئے۔ نہ کبھی دل مےں پھر ایسی خواہش جاگی نہ پھر کسی ڈاکٹر حکیم کا رخ کیا۔ قدرت کو یہی منظور تھا۔ انہوں نے اسے رضائے الٰہی سمجھ کر قبول کر لیا۔ انہوں نے پوری توجہ اپنی بیٹی مریم پر دی۔ مریم بے انتہا خوبصورت او رمعصوم سی لڑکی تھی۔ دھیما لہجہ اور چمکتی آنکھیں اس کے حسن کو چار چاند لگاتی تھیں۔ شادی کے اٹھارہویں سال سیٹھ جبار کی دوسری بیوی ایسی بیمار ہوئی کہ پھر بستر سے نہ اٹھ سکی ۔ ڈاکٹر‘ اسپیشلسٹ‘ حکےم کسی کو نہ چھوڑا مگر نا کی بیماری کوئی نہ پکڑ سکا۔ یوں ایک دن شازیہ بھی خاموشی کے ساتھ دوسری دنیا سدھار گئی۔سیٹھ جبار پھر تنہا رہ گئے۔ اس وقت مریم کی عمر بارہ سال تھی اور رشتے داروں نے مشورہ دیاکہ ایک شادی اور کر لیں۔ لڑکی جوان ہو رہی ہے اسے گھر مےں کسی عورت کی ضرورت پڑے گی۔ مگر سیٹھ جبار نے تیسری شادی سے انکار کر دیا۔ انہےں اپنی دوسری بیوی شازیہ سے بے پناہ محبت تھی انہوں نے اپنی خواہش کو محبت کے نام پر قربان کر دیا اور بقیہ عمر تنہا گزارنے کا فیصلہ کر لیا۔ جہاں تک مریم کی تنہائی کا تعلق تھا تو اس کے لیے ان کے گھر مےں پہلے ہی ایک بوڑھی ملازمہ موجود تھی سیٹھ جبار نے اس کے بڑھاپے کے پیش نظر ایک جوان عورت کا بندوبست بھی کر دیا۔ یوں مجیب احمد کی ماں کو اس گھر مےں ملازمت مل گئی۔ پھر یہ ملازمت چلتے چلتے خود مجیب احمد تک پہنچ گئی۔
سیٹھ جبار نے مجیب کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اسے اسکول مےں داخل کروا دیا۔ اسکول کے بعد وہ جو کسر باقی رہ جاتی وہ مریم پوری کر دیتی۔ مریم اس سے دو سال آگے تھی وہ بھی پڑھنے مےں تیز تھی یوں ان دونوں کے درمیان استاد شاگرد کا رشتہ بھی قائم ہو گیا۔
زندگی اسی خاموشی کے ساتھ گزرتی رہی حالات یکساں رہے اور کوئی غیر معمولی واقعہ پیش نہ آیا۔
اب مجیب احمدبی ایس سی کررہا تھا جبکہ مریم ایم اے جرنلزم کررہی تھی۔
انہی دنوں سیٹھ جبار کااپنے پارٹنر جہانگیر سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا جہانگیر ان کے بزنس مےں برابر کا حصّے دار تھا۔ وہ ان کا سگا خالہ زاد تھا۔ جھگڑے کی وجہ مریم بنی تھی جہانگیر کا ایک ہی بیٹا تھا وقاص اور سیٹھ جبار کی بھی ایک ہی لڑکی تھی مریم ۔ وہ اپنے بیٹے کے لیے مریم کا رشتہ مانگنا چاہ رہا تھا۔ مگر سیٹھ جبار جانتے تھے کہ وقاص ایک آوارہ اور بڑے باپ کا بگڑا ہوا لڑکا ہے۔ انہوں نے سیٹھ جہانگیر سے کہا بھی کہ پہلے وقاص کو کچھ کرنے اور کچھ بن جانے دو‘ رشتے ناتے بھی ہو ہی جائیں گے۔ مگر جہانگیر بضد تھا کہ یہ سب بعد کی باتیں ہےں۔ فی الحال منگنی تو کر ہی دی جائے۔ پھر وقاص بھی کوئی کنگلا نہےں‘ امیر باپ کا مالدار اکلوتا بیٹا ‘ ہزاروں لاکھوں کی جائیداد کا مالک ہے۔ یہ بات سیٹھ جبار کو گوارا نہ تھی کہ لڑکے محض والدین کی چھوٹی ہوئی دولت کو چاٹتے رہےں اور خود کچھ نہ کریں۔ انہوں نے جہانگیر کی بات کو رد کر دیا۔ جہانگیر کے لیے یہ انکار بڑا غیر متوقع تھا اس کا خیال تھا کہ سیٹھ جبار اس رشتے کے معاملے مےں کسی پس و پیش سے کام نہ لےں گے مگر ان کے انکار کے بعد جہانگیر کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا۔ وہ غصے سے بپھر گیا۔ بات تکرار سے شروع ہوئی اور کاروباری معاملے تک آپہنچی آناً فاناً فیصلہ کر لیا گیا اور دونوں پارٹنر الگ ہو گئے۔ سیٹھ جبار نے پیٹرول پمپ ان کے حوالے کیا اور اپنے حصے کی رقم لے کر الگ ہو گئے ۔ حصے کی رقم بھی معمولی نہ تھی۔ انہےں اس علیحدگی سے کوئی پریشانی نہیں ہوئی سوائے اس تعلق کے جس کا اب خاتمہ ہو گیا تھا۔ انہوں نے صرف رشتہ داری کو نبھانے کے لیے جہانگیر کو گھر آنے کی دعوت دی تاکہ وہ ٹھنڈے دل کے ساتھ ایک بار پھر سارے معاملے پر غور و خوص کرے مگر اسے نہ آنا تھا نہ آیا‘ یوں یہ تعلق ہمیشہ کے لےے ختم ہو گیا۔ سیٹھ جبار نے کاروبار سے علیحدگی کے بعد دوبارہ اپنی رقم کو کسی کاروبار مےں لگانے کا سوچا مگر وہ تعین نہےں کر پا رہے تھے کہ اب کون سے کاروبار مےں ہاتھ ڈالا جائے۔ رقم اتنی خطیر تھی کہ وہ اسے کہےں بھی انویسٹ کر کے گھر بیٹھے منافع کما سکتے تھے مگر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا انہےں شروع دن سے ہی نا پسند تھا۔ انہوں نے مجیب اور مریم سے اس موضوع پر مشورہ مانگا۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ مجیب کو بھی اپنی اولاد ہی کی طرح سمجھتے تھے۔ اس لےے گھر کا کوئی معاملہ ہو ،وہ اسے ضرور شامل رکھتے۔
مریم ایم اے جرنلزم کر چکی تھی۔ یہ اس کا شعبہ تھا اور وہ ذہین بھی بہت تھی اس لیے اس نے مشورہ دیا کہ کوئی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کھولی جائے۔ سیٹھ جبار کو اس سلسلے مےں کوئی تجربہ نہ تھا مگر مریم نے بتایا کہ اس کے ایک پروفیسر اس سلسلے مےں اس کی مدد کرنے کو تیار ہےں۔
مریم نے جلد ہی پروفیسر ترمذی کو سیٹھ جبار کے رو برو کر دیا۔ پروفیسر ترمذی ادھیڑ عمر کے تھے اس لیے ان سے مریم کے معاملے مےں دلچسپی کو کوئی رخ نہےں دیا جا سکتا تھا۔ تھوڑی سی گفت و شنید کے بعد سیٹھ جبار نے ایڈورٹائزنگ ایجنسی کھولنے کا فیصلہ کر لیا۔ جلد ہی اس سلسلے مےں کام شروع ہو گیا۔
چند ہی ماہ بعد ویلکم ایڈورٹائزنگ کی بنیاد رکھی گئی ۔مریم اور پروفیسر ترمذی نے بھرپور توجہ اور لگن کے ساتھ کام کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے معروف اشتہاری اداروں کے کلائنٹس کو توڑ کر اپنی ایجنسی مےں شامل کر لیا۔
اشتہار دلوں کو چھو لینے ولے چند مناظر اور جملوں کا کھیل ہے اور مریم اس کھیل مےں خوب ماہر تھی۔ پروفیسر ترمذی نے بھی بغیر کسی حوصلے اور ستائش کے ایجنسی کے لیے کام کیا۔ مجیب جو شروع مےں اس میدان مےں اناڑی دیکھائی دیتا تھا جلد ہی مشاق ہو گیا۔
تھوڑے عرصے بعد جب پروفیسر ترمذی نے دیکھا کہ مریم اور مجیب اب اس کام کو سنبھال لیں گے تو وہ اپنی خوشی کے ساتھ الگ ہو گئے۔ سیٹھ جبار نے انہےں ان کی محنت کا صلہ دینا چاہا مگر انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مےں نے پودا لگا یا ہے جو اس کی مسلسل آبیاری کرے گا وہی اس کا پھل کھانے کا حق رکھتا ہے۔
سیٹھ جبار نے جب حالات سازگار دیکھے تو انہوں نے بھی دفتر مےں بیٹھنا شروع کر دیا۔ دن پر لگائے اڑتے رہے۔
سیٹھ جبار کی عمر اب اترائی کی طرف تھی اور وہ جانتے تھے کہ اترائی مےں رفتار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے مریم کی شادی کے لیے اس سے پہلے بھی کئی بار بات کی تھی مگر آفس کے معاملا ت سنبھالنے کے بعد اس نے شاید شادی کو فراموش ہی کر دیا تھا۔ مگر اب جبکہ وہ خود رفتہ رفتہ موت کی طرف بڑھ رہے تھے تو انہوں نے مریم کی شادی کے معاملے مےں دو ٹوک فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے مریم سے اس کی پسند پوچھی ۔ اس نے مشرقی لڑکیوں کی طرح سر جھکا دیا۔ تب انہوں نے اسے مجیب کی پناہ مےں دینے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ فیصلہ دونوں کے حق مےں بہتر ہوا۔ دونوں بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ عادات و مزاج سے واقف تھے۔ پھر ان کے دلوں مےں ایک دوسرے کے لیے پیار کا جذبہ موجود تھا۔
اس فیصلے کے چند ہی دنوں بعد مریم مجیب کی بیوی بن گئی۔ سیٹھ جبار کی یہ خواہش تھی کہ ان کی بیٹی ان سے دور نہ ہو۔ یوں ان کی خواہش بھی پوری ہوگئی۔ شادی کے بعد مجےب کی زندگی مےں عجیب انقلاب آیا۔ اس کے وہم و گمان مےں بھی نہ تھا کہ یوں بیٹھے بٹھائے اس کی زندگی سنور جائے گی۔ سادگی اور انکسار ی شروع سے اس کی طبیعت کا حصّہ تھا۔ شادی کے بعد وہ اور بھی ذمہ دار ہو گیا اس نے کبھی یہ نہ سوچا کہ اب وہ لاکھوں کی جائیداد کا تنہا وارث ہے نہ کبھی کوئی کمزور خیال اس کے دل مےں آیا۔
دفتر مےں انہوں نے اسٹاف بڑھا لیا تھا اس لیے صرف وہاں اس کی موجودگی ہی ضرری تھی ورنہ اس نے جو لوگ وہاں رکھے تھے وہ تمام ہی تجربہ کار اور محنتی لوگ تھے۔
مجےب نے شادی کے بعدمریم کو گھر بیٹھ کر صرف گھر داری سنبھالنے کا مشورہ دیا۔ باوجود اس کے کہ مریم پڑھی لکھی تھی‘ کاروبار زندگی سے بھی واقف تھی۔ اشتہاری ایجنسی نے اس کے اپنے ہاتھوں تکمیل پائی تھی اس نے شریف اور مشرقی لڑکیوں کی طرح شوہر کے سامنے سر تسلیم خم کر لیا۔ نہ اس نے یہ سوچا کہ مجےب ہماری ملازمہ کا بیٹا ہے ۔ اسے اس کی اوقات مےں رکھا جائے‘ نہ کبھی اس کے دل مےں یہ خیال آیا کہ وہ اسے دبا کر رکھے۔ وہ تو صرف اتنا چاہتی تھی کہ مجےب اب اس کی زندگی کا مالک ہے وہ اپنے شوہر کے ایک اشارے پر جان قربان کر دینے کے لیے تیار تھی۔ مجےب اپنی بیوی سے بہت خوش تھا وہ حقیقی معنوں مےں اس کی شریک حیات تھی۔ سچی ساتھی تھی۔ مریم نے مجیب کو اتنی محبت اور توجہ دی کہ وہ اس کا گرویدہ ہو گیا۔
سیٹھ جبار بھی دفتر مےں مجےب کے ساتھ موجود رہتے۔
شام کو وہ دونوں ساتھ ہی گھر آتے مریم دونوں کی منتظر ہوتی جب سے اس نے گھر سنبھالا تھا در و دیوار کی رونقیں کچھ اور بڑھ گئی تھیں یہ حقیقت ہے کہ اگر عورت کی دلچسپی رہے اور وہ اپنے گھر سے پیار کرے تو دیوار و در بولنے لگتے ہےں۔
وہ دونوں جب بھی گھر مےں قدم رکتے تو انہےں گھر مےں آنے کے بعد بے پناہ طمانیت کا احساس ملتا سیٹھ جبار خوش تھے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کا بے پناہ خیال رکھتے ہےں۔ چھوٹے بڑے ہر معاملے مےں ایک دوسرے کو شامل کرتے ہےں۔
ایک شام جب مجیب اور سیٹھ جبار ایک ساتھ کار مےں دفتر سے واپس آرہے تھے کہ اچانک راستے مےں سیٹھ جبار پر دل کا دورہ پڑا یہ تو اچھا ہوا کہ گاڑی مجیب ڈرائیو کررہا تھا ورنہ دونوں کی زندگی خطرے مےں پڑ سکتی تھی مجیب نے گھبرا کر انہےں دیکھا اور دھڑکوں کو محسوس کیا۔ ان مےں زندگی کی بھرپور رمق تھی۔ اس نے گھر جانے کے بجائے اپنا رخ سیدھا ہسپتال کی طرف کر دیا۔
ذرا دیر بعد وہ ہسپتال مےں موجود تھا۔ اس نے سب سے پہلے فون کر کے مریم کو اطلاع دی۔ مریم تو پاگل ہوگئی‘ فوراً ہسپتال پہنچی۔ اس وقت تک ڈاکٹر بتا چکے تھے کہ پریشانی والی ایسی کوئی بات نہےں ہے۔ اب وہ ٹھیک ہےں ۔ ان کی خیریت کی اطلاع ملی تو دونوں کی جان مےں آئی۔
سیٹھ جبار دو دن ہسپتال مےں رہ کر واپس گھر آگئے مگر اس شرط پر کہ وہ گھر پر مکمل آرام کریں گے۔ مریم نے بھی انہےں سختی سے منع کر دیا کہ جب تک ان کی طبیعت اچھی طرح ٹھیک نہےں ہوجاتی وہ کہےں نہےں جائیں گے۔
جلد ہی وہ دوبارہ صحت یاب ہو گئے۔ اور معمولات زندگی پھر سے پرانی روش پر آگئے۔
ان دنوں گرمیوں کے موسم کا آغاز ہونے والا تھا۔ ایڈورٹائزنگ ایجنسی مےں ٹھنڈے مشروبات اور آئس کریم وغیرہ کے لیے پارٹیوں کا رش بڑھ رہا تھا۔ چونکہ نئی کم پین شروع ہونے والی تھی اس لیے مجےب کو ایک لمحے کی بھی فرصت میسر نہ آتی تھی۔ اکثر دفتر سے بھی دیر سے آنے لگا۔
سیٹھ جبار تو اپنے وقت پر گھر کے لیے نکل جاتے مگر وہ پہلے اپنے کام نمٹاتا جب گھر کا رخ کرتا۔
جوں جوں عمر گزر رہی تھی سیٹھ جبار بھی تھک کر ہانپتے نظر آنے لگے تھے۔ تبھی ایک دن مریم نے انہےں دفتر جانے سے روک دیا۔
”بس ڈیڈی بہت ہو گیا کام! اب آپ گھر مےں آرام کریں اپنی خدمت کروائیں تاکہ میرا بھی دل بہلا رہے۔“
وہ اپنی بیٹی کے اصرار کے آگے انکار نہ کر سکے۔ یوں انہوں نے دفتر جانا چھوڑ دیا۔ اب پوری ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا تنہا مالک مجیب تھا۔ مگر وہ اب تک اپنے کام مےں لین دین کے معاملے مےں کھرا اور سچا رہا۔ کبھی اس کے دل مےں کوئی بے ایمانی نہ آئی۔ اس نے اپنی زندگی کو مکمل سمجھ کر کچھ اور سوچنا ہی چھوڑ دیا تھا۔
دن اپنی مخصوص رفتار سے گزرتے رہے۔
عجیب اور مریم زندگی کے دنوں کو خوش گوار طریقے سے گزار رہے تھے تاہم ان کے درمیان ابھی تک وہ تیسرا فرد نہےں آیا تھا جس کی قلکاریاں سننے کو دونوں بے چین تھے۔ ڈاکٹر وں نے بتایا کہ دونوں کی رپورٹیں نارمل ہےں۔ ان مےں سے کسی مےں بھی خامی نہےں جو اولاد نہ ہونے کا سبب بن سکے۔ بس اس مےں خدا کی رضا شامل نہےں تھی۔ وہ کب مریم کی گود ہری کرتا؟ یہ کسی کو خبر نہ تھی۔
اسی خبر کے انتظار مےں دو برس اور گزر گئے۔ مگر وہ اپنے گھرانے مےں اضافہ کیے بغیر ہنسی خوشی زندگی گزارتے رہے۔ نہ تو ان کے درمیان اولاد کے موضوع پر کوئی جھگڑا ہوا نہ بحث۔ مجےب احسان فراموش نہ تھا۔ اس پر دونوں کی کرم نوازیاں عیاں تھیں۔ مریم کو مجیب پر اعتبار تھا۔ اسے بہ ظاہر کوئی خوف نہےں تھا۔
زندگی کی گاڑی یوں ہی چلتی رہی۔
اچانک زندگی کی گاڑی ایک مرتبہ لڑکھڑا گئی سیٹھ جبار جو تندرست و توانا تھے موت کا شکار ہو گئے۔ بہ ظاہر انہےں کوئی بیماری نہےں تھی مگر موت کسی بیماری کا بہانہ کب مانتی ہے؟
وہ ایک دن ناشتے کی میز پر ٹھیک ٹھاک طریقے سے بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے کہ اچانک ان کی گردن ایک سمت لڑھک گئی۔ موت نے ان کے ہاتھ سے چائے کا کپ گرا دیا۔
مریم جو کچن مےں کھڑی برتن سمیٹ رہی تھی کپ گرنے کی آوا زسن کے دوڑی ہوئی آئی یہاں کا منظر تبدیل تھا اور سیٹھ جبار اپنے جسم کے پنجرے سے روح آزاد کر چکے تھے۔ وہ بہت روئی پیٹی‘ چلائی اور مجےب اپنے ہاتھوں سے ان کی قبر پر مٹھیاں بھر کر مٹی ڈال آیا۔ یہ کہانی بھی پرانی ہوگئی۔
نئی کہانی کا آغاز پھر اس وقت ہوا جب مجےب اپنے دفتر مےں بیٹھا کسی پارٹی سے بات کررہا تھا۔ ان دنوں سر کی شروعات تھیں۔ ایک پارٹی چائے کا نیا برانڈ مارکیٹ مےں لانا چاہتی تھی۔ تشہیر کے لیے انہوں نے ویلکم ایڈورٹائزنگ کا سہارا لیا کہ ان دنوں کا بہت شہرہ تھا چائے کے کاپی رائٹ تیار ہونے کے بعد اس کا ڈیزائن اور دیگر معاملات بھی نمٹا لیے گئے۔ یہ کمپین پہلے مختلف رسائل مےں شروع کی گئی بعد مےں پارٹی نے اسے ٹی وی پر لانے کے لیے بھی رضا مندی ظاہر کر دی۔ اس کا اسکرپٹ تو پہلے ہی تیار تھا صرف ماڈلنگ کے لیے نئے اور خوبصورت چہرے کی ضرورت تھی۔ اس کے لیے مختلف آرٹسٹوں کے نام زیر غور آئے مگر پارٹی کا خیال تھا کہ کچھ بھی ہو چہرہ یا ہونا چاہیے۔ چنانچہ پارٹی کی خواہش پر وہ کسی نئے چہرے کی تلاش مےں مصروف ہو گئے۔
ایک دن مجےب رات مےں آفس سے نکل کر گھر کی طرف آرہا تھا کہ راستے مےں قدرے سنسان جگہ پر اس نے ایک لڑکی کو سائن بورڈ کے پاس کھڑے دیکھا۔ وہ لڑکی باقاعدہ لفٹ کے انداز مےں اسے رک جانے کا شارہ کررہی تھی۔
مجیب کے لیے لڑکیاں ہھی کوئی انہونی چیز نہےں رہی تھیں۔ خود اس کی اشتہاری ایجنسی مےں ایک سے بڑھ کر ایک حسین لڑکی تھی مگر اس کی بیوی بھی کسی سے کم نہ تھی۔ یوں بھی اسے بیوی سے اتنی محبت تھی کہ وہ کسی لڑکی کے متعلق سوچنا بھی پسند نہ کرتا۔
رات کے اس لمحے مےں اس لڑکی کو دیکھ کر نہ جانے کیوں اس کے پیر خود بخود بریک کی طرف اٹھ گئے۔ وہ دل مےں سوچ رہا تھا کہ اس تاریکی مےں ممکن ہے کہ وہ کسی غلط گاڑی مےں بیٹھ کر تباہ و برباد ہوجائے۔صرف اس کی تباہی کے احساس نے اسے رک جانے پر مجبور کر دیا۔
گاڑی کے رکتے ہی وہ لڑکی دروازہ کھول کر یوں بیٹھ گئی یسے وہ اپنی ذاتی کار مےں سوار ہو رہی ہو۔
اس کے لہجے مےں بلا کا اعتماد تھا۔ ”جی مجھے ذرا سوک سینٹر تک جانا ہے۔“
زبان سے مجیب نے اندازہ لگا لیا کہ وہ اردو بولنے والے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے ورنہ شکل دیکھ کر اسے گمان گزرا تھا کہ وہ کشمیری ہے ۔ سرخ و سفید رنگ‘ سیاہ آنکھیں اور ہلکے سنہری مگر ریشم جیسے بال اس نے صرف ایک نظر مےں اس کا پورا جائزہ لے لیا۔
تمام راستے وہ خاموش رہی۔ مجیب بھی سامنے دیکھتا رہا۔ اس نے بات کرنے کی ضرورت محسوس نہےں کی تاہم وہ دل ہی دل مےں چاہتا تھا کہ وہ لڑکی اس سے کچھ پوچھے‘ کوئی بات کرے۔
ابھی وہ ایم اے جناح روڈ کو پار کر کے قائد اعظم کے مزار کے پاس ہی پہنچے تھے کہ مجیب کے دل کی مراد بر آئی۔
اس لڑکی نے مجیب کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ ”آپ کہاں کام کرتے ہےں؟“
”ایک اشتہاری ایجنسی مےں….!“ اس نے مختصر سا جواب دیا۔ جلد ہی مجیب کو یہ احساس بھی ہو گیا کہ لڑخی نہ صرف شکل کی اچھی ہے بلکہ آواز مےں بھی بلا کا ترنّم ہے۔
”اوہ! ایڈورٹائزنگ ایجنسی!“ وہ خوشی سے بولی۔ ”کیا آپ مجھے ماڈلنگ مےں ایک چانس دے سکتے ہےں؟“
”اوہ….!“ جیسے اسے کچھ یا دآگیا ہو۔ اس نے جلدی سے کہا۔ ”ہاں ہاں‘ کیوں نہےں۔ یوں بھی ان دنوں ہمےں نئے چہروں کی ضرورت ہے۔ ایک نئی چائے کا اشتہار بنانے کے لیے ہمےں کسی خوبصورت چہرے کی ضرورت بھی تھی۔“
”تو کیا مےں آپ کی نظر مےں خوبصورت نہےں۔“ اس نے انتہائی اعتماد سے جواب دیا۔
مجیب حیران سا ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔ ”ہاں کیوں نہےں آپ خوبصورت بھی ہےں اور غالباً پڑھی لکھی بھی؟“
”جی ہاں مےں نے اسی سال انٹر کا امتحان دیا ہے مگر یہ کتابےں میرے لیے کوئی بہت بڑا معیار نہےں۔ آپ مجھ سے دنیا کے ہر موضوع پر بات کر سکتے ہےں۔“
”مثلاً….!“ مجیب نے اسے یوں ہی کریدا۔
”مثلاً…. مسولینی کے مظالم سے پکاسو کے پورٹریٹ تک اور دربار اکبری سے دربار….!“
مجیب نے اس کی بات کو مکمل نہےں ہونے دیا۔ ”بس بس …. مجھے یقین آگیا۔“ اور اسی یقین کے ساتھ اس کے اترنے والا مقام بھی آگیا۔ ترتے ہوئے اس نے مجیب سے اس کا وزیٹنگ کارڈ مانگا اور اسے پرس مےں رکھ لیا۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی ہوئی گلشن اقبال کی طرف نکل گئی۔
مجیب اس کو نظروں سے اوجھل ہونے تک دیکھتا رہا جب وہ اس کی نگاہوں کے سامنے سے دھندلا گئی۔تب اسے ہوش آیا۔ اس نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ تمام راستے اس کی برابر والی نشست سے اس کے کپڑوں سے امڈنے والے پرفیوم کی خوشبو آتی رہی۔ وہ اس خوشبو مےںجھومتا ہوا گھر آگیا۔
اس رات نہ جانے کیوں مجیب کو عجیب سی بے چینی رہی مریم نے اس سے اس کے چہرے پر پھیلنے والی انجانی خوشی کی وجہ پوچھی بھی مگر وہ ٹال گیا۔
اگلے روز وہ دفتر پہنچا تو اسے رات والی لڑکی کا انتظار تھا ۔ اس کاانتظار رائیگاں نہےں گیا۔
تمام دن کا چمکنے والا سورج جب شام کو تھک کر دور سامنے ڈوبنے لگا تو وہ اپنی مخصوص پرفیوم کی مہک لیے اندر داخل ہوئی۔
مجیب نے نظر اٹھا کر پہلے وال کلاک کو پھر اسے دیکھا۔ ”اچھا کیا آپ وقت سے پہلے آگئیں۔ مجھے اب تو آپ ہی کا انتظار تھا۔“
وہ خاموشی سے مجیب کے سامنے بیٹھ گئی۔ مجےب نے پھر سے اس کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ رات وہ اس کے متعلق صحےح اندازہ نہ لگا سکا تھا۔ اب نظر پڑی تو وہ دل تھام کر رہ گیا۔ وہ سترہ سالہ نوخیر کلی تھی۔ دراز قد‘ اسمارٹ اور جوانی کی بھرپور کشش اس کی رنگت سرخ و سفید تھی۔ یاقوتی ہونٹوں پر خفیف سی دل موہ لینے والی مسکراہٹ تھی۔ اس نے جلدی اپنے رات کے فیصلے پر ترمےم کی ۔ وہ نہ صرف حسین تھی بلکہ حسین و جمےل تھی۔ اس نے میک اپ سے گریز کیا تھا۔ قدرتی حسن ہی ایسا تھا کہ اسے مزید کسی شے کی ضرورت نہ تھی وہ ہنسی تو مجیب نے اس کے موتیوں جیسے دانت بھی دیکھ لیے۔
اس نے اسی وقت اپنی چائے والی پارٹی کو فون کر کے بلوایا کہ مےں نے ایک چہرے کا بندوبست کر دیا ہے۔ پارٹی ایک گھنٹے مےں اس کے آفس پہنچ گئی ۔ مجیب نے جس چیز کو پسند کیا تھا اسے تو کوئی بھی عقل و دانش اور صاحب بصارت رد نہےں کر سکتا تھا۔وہی ہوا پارٹی نے اسے ایک نظر دیکھا اور اوکے کر دیا۔ مجیب نے فوراً آﺅٹ ڈور شوٹنگ کے لیے تاریخی متعین کیں اور کام مےں مصروف ہو گیا۔
چند دنوں کی محنت کے بعد جب اشتہار ٹی وی پر چلا تو دھوم مچ گئی۔ نہ صرف چائے کی مقبولیت مےں بے پناہ اضافہ ہوا بلکہ اس لڑکی کے لیے بھی ڈیمانڈ آنے لگیں۔
مجےب نے جب دیکھا کہ اسے دوسری ایجنسیاں اپنی طرف کھینچنے لگی ہےں تو اس نے کہا ۔ ”دیکھو سائرہ! یہ اشتہاروں کی دنیا ہے۔ یہاں زندگی برق رفتاری سے شروع ہوتی ہے اور شعلے کی طرح بجھ جاتی ہے۔ تیز دوڑوگی تو تھک جاﺅ گی۔“ وہ کچھ سمجھی اور کچھ نہےں۔
مجیب نے اسے آسان لفظوں مےں بتانا شروع کیا۔ ”بات صرف یہ ہے کہ انسان کو ایسا کام کرنا چاہیے کہ اس کی طلب ہمیشہ رہے۔ اس وقت سارا زمانہ تمہارے پیچھے ہے ۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کا کمرشل تم کرو یہ وقت تو تمہےں اس اعتبار سے بڑا سہانا نظر آئے گا کہ تم تمام وقت اسکرین پر رہو مگر ایسا کرنے والے جلد ہی اپنی اہمیت کھو دیتے ہےں۔ بہتری اسی مےں ہے کہ تم صرف میرے کہنے پر کمرشل سائن کرو۔ مےں تمہےں اس رنگ برنگ دنیا مےں لایا ہوں‘ مےں ہی تمہارا بہتر استعمال جانتا ہوں۔ اگر میرے مشوروں پر چلو گی تو ہمیشہ اس فیلڈ مےں جگمگاتی رہوگی۔ “
وہ کمسن تھی اور مستقل شہرت کی شوقین بھی اس لیے مجےب کی بات اس کی سمجھ مےں آگئی۔ اب جو دوسرے لوگ اس کے پیچھے بھاگ رہے تھے‘ تھک کر خاموش ہو گئے ۔
مجیب رفتہ رفتہ اسے کمرشل دیتا رہا مگر اس طرح کہ اس کی شہرت بھی رہے اور عزت بھی۔ سائرہ اس کی حکمت عملی سے بے حد مطمئن تھی۔ مجیب اب اس کے لیے اشتہار مےں خصوصی راہیں کھلوانے لگا۔
جلد ہی مجیب کو احساس ہو گیا کہ وہ سائرہ کی زلفوںکا اسیر ہو گیا ہے۔ سائرہ بھی اس کی محبت کا دم بھرنے لگی۔ اب مجیب زیادہ تر وقت دفتر مےں سائرہ کے ساتھ گزارتا۔ وہ صبح ہی سے دفتر آجاتی اور پھر دوپہر کے کھانے سے رات کے ڈنر تک اس کے ساتھ رہتی۔ دفتری معاملات اپنی جگہ ‘ مگر مجیب اس کی ذات مےں بالکل سنجیدہ ہو گیا تھا۔ اس نے کبھی سائرہ کی ذاتی زندگی مےں داخل ہونے کی کوشش نہےں کی۔ صرف اسے اتنا پتا تھا کہ اس کی ماں ایئرہوسٹس ہے۔ باپ کا انتقال ہو چکا ہے۔ گھر مےں آزادانہ ماحول ہے۔ کسی قسم کی معاشی فکر نہےں۔ ماں سے بھی اس کے تعلقات زیادہ خوشگوار نہےں۔ بس واجبی سی تعلق داری ہے اور بس!
مجیب نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز بھی اس سے نہےں چھپائے۔ اس نے سائرہ کو بتا دیا کہ وہ شادی شدہ ہے مگر یہ شادی اس نے سیٹھ جبار کا احسان اتارنے کے لیے کی تھی ورنہ اسے مریم سے کوئی دلچسپی نہےں تھی۔ یہ بات کہتے ہوئے اس کا یہ مفاد پوشیدہ تھا کہ جب کبھی وہ اس کی طرف شادی کی پیشکش کرے اسی وقت ظاہر ہوجائے کہ مجیب اپنی پہلی بیوی سے محبت نہےں کرتا وہ محض احسان مندی کا بوجھ ہے اور بوجھ کسی بھی وقت اتار پھینکا جا سکتا ہے۔
سائرہ اس ی شادی کا سن کر پہلے تو پریشان ہوگئی مگر مجےب نے اسے چند اور دلیلیں دے کر مطمئن کر دیا۔
مجیب کے لیے یہ پہلی لڑکی تھی جو دل کے راستے اس کی زندگی مےں آئی تھی۔ انسان لاکھ خود کو پارسا کہے‘ پرہیزگار سمجھے ‘ شادی کے بعد بھی اس کے پاس بہک جانے کا چانس رہتا ہے۔ مجیب بہک رہا تھا مگر اس غلطی کا اسے احساس نہےں ہو رہا تھا۔ وہ سائرہ کو اپنی ضرورت سمجھنے لگا تھا۔
اب جب وہ گھر مےں تاخیر سے داخل ہوتا تو مریم پوچھتی ”آج کیوں اتنی دیر لگادی؟ مےں تو آپ کے انتظار مےں بھوکی ہی رہ گئی۔ جانتے بھی ہےں کہ مےں آپ کے بغیر کھانا نہےں کھاتی مگر پھر بھی۔“
مجیب اسے روکھے سے لہجے مےں جواب دیتا ”بھئی تم سے مےں نے ہزار مرتبہ کہا ہے کہ میرا انتظار مت کیا کرو۔ کھا لیا کرو کھانا! میرا کام ایسا ہی ہے کبھی کہاں کبھی کہاں۔ اور اب یہ چونچلے بھی چھوڑ دو۔ نئی نویلی دلہوں کو اچھے لگتے ہےں ایسے کما۔ اب تم اس دور سے گزر چکی ہو۔“
مریم کو نہ جانے کیوں یہ احساس ہونے لگا تھا کہ مجیب اب پہلے جیسا نہےں رہا۔
ایک دن وہ اس سے پوچھ بیٹھی”آپ کا لہجہ پہلے والا کیوں نہےں رہا؟ وہ پیار‘ وہ محبت! مجھے اب کچھ بھی محسوس نہےں ہوتا۔“
وہ اسے کبھی غصے اور کبھی مصنوعی پیار سے ٹال جاتا۔ مگر یہ بات ٹلنے والی تو نہ تھی ۔ سائرہ ہر روز اس کے دفتر آتی رہی اور داستان محبت آگے بڑھتی رہی۔
مریم نے ایک مرتبہ آفس فون کیا تو معلوم ہوا کہ مس سائرہ کے ہمراہ لنچ پر گئے ہےں۔ پھر وہ تقریباً روزانہ ہی فون کرنے لگی تب وہ جان گئی کہ اس بیگانگی کی دیوار کے پرے کوئی سائرہ نامی لڑکی ہے۔ مریم حلیم طبیعت اور مشرقی بیویوں مےں سے تھی۔ اتنا کچھ جاننے کے بعد بھی وہ کچھ نہ بولی۔ وہ جانتی تھی کہ مرد اپنی غلطی عمر بھر چھپاتا رہتا ہے اور جب کبھی اچانک اس کی غلطی پر انگلی رکھ دی جائے تو وہ آگ بن کر برس پڑتا ہے۔ اسے غصہ غلطی کرنے والے معاملے پر نےہں ہوتا وہ تو اس بات پر برہم ہوتا ہے کہ اس کا راز آشکار کیوں ہوا؟
مریم نے اس سے کبھی کچھ نہ پوچھا۔ اس نے مجےب سے دوبارہ کوئی شکوہ نہ کیا۔ بس چپ چاپ اس کے معمولات پر اندر ہی اندر کڑھتی رہی۔
دوسری طرف معاملہ اب سنگین ہونے لگا۔ سائرہ نے اسے کہا تھا کہ وہ ابھی کم عمر ہے جب کہ شادی مےں اسے مزید دو چار سالوں کی ضرورت ہے یوں بھی اشتہاری دنیا کو چھوڑنے کا دل کہاں چاہتا تھا۔
مجیب نے اسے بڑے ناصحانہ انداز مےں سمجھاتے ہوئے کہا ”دیکھو سائرہ! لڑکی جوان ہوتی ہے تو خبر ہی نہےں ہوتی اور جب اس کی عمر ڈھلنے لگتی ہے تب بھی اسے ذرا احسا س نہےں ہوتا۔ شادی کے لیے اصل عمر تو یہی ہوتی ہے۔ پھر رہا کمرشل کا مسئلہ تو تم مطمئن رہو۔ مےں جب تک زندہ ہوں تم اسکرین سے آﺅٹ نہےں ہوگی۔“
یہ سن کر سائرہ مطمئن ہو گئی۔ ”مگر تمہاری پہلی بیوی ہے“ اس نے تشویش کے سے انداز مےں پوچھا۔
”وہ تمہارے لیے بالکل بے ضرر ہے“ مجیب نے اسے مطمئن کرنے کے لیے کہا۔
”نہےں مجیب! بچھو کیسا بھی ہو خطرناک ہوتا ہے۔ سانپ کا زہر نکال بھی دو تب بھی اس کا اپنا خوف‘ اپنی ایک دہشت ہوتی ہے۔ مےں کسی خوف اور دہشت کی موجودگی مےں تمہارے ساتھ نہ رہ سکوں گی؟“
مجےب سوچ مےں پڑ گیا ”پھر….؟“
اس سے شکستہ سی آواز مےں سائرہ نے کہا۔
”مےں چاہتی ہوں پہلے تم اس کا معاملہ ختم کرو۔ جب تک تم اسے طلاق نہےں دے لیتے مےں تمہاری طرف آنے کا سوچ بھی نہےں سکتی۔“
ایک لمحے کے لیے مجیب خاموش ہو گیا۔ وہ سوچنے لگا۔ ’کیا احسان فراموشی کر دی جائے؟“
اس کے ضمیر نے کہا ”کسی کی آستین کے سانپ نہ بنو۔ مریم تمہاری بیوی ہے ۔ تم سے پیار کرتی ہے۔ وہ اتنا بڑا صدمہ کیسے برداشت کرے گی؟“
مگر انسان وقت پر ضمیر کی آواز نہےں سنتا۔ اسے صرف وہی دکھائی دیتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔ اسے وہی سجھائی دیتا ہے جو اس کے من مےں ہوتا ہے۔ محبت کے اس نشے نے مجےب کو پاگل کر دیا تھا۔ اس نے دل مےں سوچاکہ محبت کے نام پر احسان فراموشی کوئی جرم نہےں۔ محبت تو ازل سے قربانی مانگتی آئی ہے۔ اب اگر مجھے اپنی محبت کے سمندر تک پہنچنے کے لیے راستے مےں کھڑی ریت کی دیوار کو گرانا ہے تو مجھے اس دیوار کو مسمار کرنے مےں دیر نہےں کرنی چاہیے۔
اس شام جب وہ واپس آیا تو اس کا لہجہ کچھ اور تلخ ہو چکا تھا۔
مریم تو اس کو بہت دنوں سے سن رہی تھی۔ محسوس کررہی تھی جیسے اب کچھ ہونے والا ہے۔ ایک انجانے خوف نے اسے بہت پہلے ہی بیدار کرنا شروع کر دیا تھا۔ اب وہ مکمل طور پر جاگ چکی تھی مگر وہ مجیب کے دل کا حال نہ جانتی تھی۔ اسے ایک خطرہ ضرور تھا کہ مجیب کسی دوسری عورت مےں دلچسپی لینے لگاہے مگر وہ کون ہے؟ کہاں سے آئی ہے؟ اسے کچھ خبر نہ تھی۔ پورا دن جب اسے گھر کی تنہائیاں ڈستی رہتیں تب اس کاجی چاہتا‘ کاش اس کا شوہر اس کا ہم سفر دو گھڑی رک اس سے اس کا حال ہی پوچھ لے۔ صرف یہی جان لے کے کہ وہ تمام دن اس کے انتظار مےں کیوں بیٹھی رہتی ہے۔ مریم جب تمام وقت ان باتوں مےں الجھی رہتی تب اسے خیال آتا۔ وہ دل مےں سوچتی کہ آج مجیب آئے گا تو وہ ضرور اس سے شکوہ کرے گی۔ سوال کرے گی اپنی تنہائیوں کا حصّے دار بنائے گی۔ اپنے دکھوں مےں شریک کرے گی مگر جب وہ سامنے آتا تو وہ سب کچھ بھول جاتی ۔ اس کی ہمت ہی نہ پڑتی کہ وہ اس سے اس کی مصروفیات کے متعلق کچھ دریافت کر سکے۔
ایک دن اس نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا۔
وہ بپھر کر اس پر چیخا”تمہےں یہ حق کس نے دیا ہے کہ میرے معمولات مےں دخل اندازی کرو۔“
وہ مجیب کی آواز سن کر سہم گئی۔ اس نے خاموش رہنے مےں ہی عافیت جانی مگر وہ خاموش نہ رہا۔
”مےں جانتا تھا کہ ایک نہ ایک دن ایسا ہوگا۔ تمہارے باپ نے نہ جانے کیوں تمہےں میرے پلّے باندھ دیا۔ بڑی عمر کی عورتیں ہمیشہ شوہروں پر شک کرتی ہےں۔ اگر تمہارے باپ کے مجھ پر احسانات نہ ہوتے تو مےں کبھی تم سے شادی نہ کرتا۔ مجھے کیا خبر تھی کہ وہ مجھے کسی قربانی کے بیل کی طرح پال رہا ہے۔ ایک دن اپنی ہی چھری کے نیچے آئے گا۔“
مریم سے یہ سب کچھ برداشت نہ ہوا۔ مجیب کا لہجہ گستاخانہ ہوگیا تھا۔
”آپ مجھے جو کچھ چاہیں کہہ لیں مگر خدا کے لیے میرے ڈیڈی کو کچھ نہ کہےں ۔ انہوں نے مجھے صرف اس لیے آپ کے حوالے کیا کہ انہےں آپ پر اعتبار تھا۔ انہےں ذرا بھی شبہ ہوتا کہ آپ بھی انسانوں کی اس قسم سے تعلق رکھتے ہےں تو شاید وہ مجھے آپ کے ساتھ بیاہنے کے بارے مےں ایک بار سوچتے ضرور!“
”ہاں ہاں وہ تو پنڈ کا چوہدری تھا نا! مجھ جیسا لڑکا اسے کہےں نہ ملتا“مجیب اس کے سامنے آگیا۔ جانتی ہو میری عمر کیا ہے؟مےں تم سے دو سال چھوٹا ہوں اور مرد ہمیشہ اپنے آپ سے دس سال چھوٹی لڑکی سے شادی کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ مےں نہ جانے کن باتوں مےں آکر تمہار ے بوڑھے جذبات کے سر تھوپ دیا گیا۔ آج کوئی جوان لڑکی ہوتی تو مجھے میرا بازو تو فراہم کرتی۔ تم تو ایک چڑیاکا بچہ بھی پیدا نہےں کر سکی ہو۔“
مریم کو یوں لگا جیسے اس کے پاﺅں سے کسی نے زمین کھینچ لی ہو۔وہ گرتے گرتے بچی“ اگر آپ کو ابھی تک یہ دکھ ہے کہ مےں آپ کے معیار کی نہےں تو مےں آپ کو اجازت دیتی ہوں‘ جسے چاہے اس گھر مےں لے آئیں۔ مےں کبھی انکار نہ کروں گی۔ اولاد دینے والا اللہ ہے۔ میرے ہاتھ مےں ہوتا تو آج مجھے یہ طعنہ سننے کو نہ ملتا۔ مےں بنجر نہےں ہوں۔ صرف خدا کی طرف سے!“
مجےب نے اس کا جملہ مکمل ہونے کا انتظار نہےں کیا۔ ”تم کون ہوتی ہو یہ فیصلہ کرنے والی کہ مےں اس گھر مےں کوئی دوسری لاﺅں یا تیسری۔ اور یہ بات بھی کان کھول کر سن لو۔ مےں چاہوں‘ تمہےں اپنی زندگی سے نکال سکتا ہوں۔ یہ اختیار مرد کے پاس ہے کہ کسے لائے اور کسے رکھے۔“
مریم صدمے سے نڈھال ہو گئی‘ وہ جانتی تھی اس تلخی کے پیچھے ضرور کوئی دوسری عورت ہے۔
پہلی عورت اس وقت تک بے عیب نظر آتی ہے جب تک زندگی مےں کوئی دوسری عورت داخل نہ ہوجائے۔ دوسری عورت کے آتے ہی پہلی کی خامیاں نظر آتی ہےں۔ اس کی برائیاں تلاش کی جاتی ہےں۔ مجیب بھی وہی کررہا تھا۔ اس کی خامیاں بتا رہا تھا اور دل مےں سائرہ کی خوبیاں گن رہا تھا۔ مریم عورت تھی اس کے اپنے جذبات تھے‘ اپنے احساسات تھے۔ مجیب نے آج جس انداز سے اس کی توہین کی تھی اس پر اس کا پورا وجود ماتم کناں تھا۔ اس کا انگ انگ گھائل ہو گیا تھا۔ اتنے زخم تو اس نے کبھی نہ کھائے تھے۔ اب پناہ گاہ بھی اس کے پاس کوئی نہ تھی۔ صرف اس چھت کا ہی آسرا تھا اور چھت کے آسرے ہی نے اسے خاموش کر دیا۔ وہ فطری طور پر صلح جو اور امن پسند تھی۔ اسے گھریلو ناچاقیوں سے ہمیشہ ہی خوف آتا تھا مگر آج وقت نے اسے ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا کہ جن چیزوں سے اس نے نفرت کی تھی وہیں چیزیں اس کے سامنے آرہی تھیں۔
مجیب بکتا جھکتا آخر کار اپنے کمرے مےں چلا گیا۔ مریم کو چھوڑ دینے کے لیے اس کے پاس ابھی کوئی معقول جواز نہ تھا اور اسے کسی بھی جواز کے پیدا ہونے تک انتظار کرنا تھا۔
دوسری طرف سائرہ کے کمرشل زوروں پر چل رہے تھے۔ اس نے مجیب سے دو ٹوک الفاظ مےں کہہ دیا تھا کہ تمہاری زندگی مےں داخل ہونے سے قبل مےں تمہاری پہلی بیوی کی علیحدگی چاہوں گی۔ اس سے قبل تم مجھے حاصل کرنے کی خواہش کرو گے تو محض خواب دیکھو گے۔
مجیب سمجھ رہا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے‘ وہ اس کی محبت مےں پاگل ہو گیا تھا۔ اس پاگل پن مےں ایک دن اس کے ہاتھ ایک جواز آہی گیا۔
وہ اپنے دفتر سے ایک روز جلد لوٹ آیا تھا۔ ابھی اس نے گھر مےں قدم رکھا ہی تھا کہ اسے کسی کے باتیں کرنے کی آوازآئی۔ وہ تیزی سے کمرے مےں داخل ہوا۔ اندر مریم کا کزن احسان بیٹھا ہوا تھا۔ احسان اس سے قبل بھی اس کی موجودگی اور غیر موجودگی مےں آتا رہا تھا مگر آج تو اس کے دماغ مےں خناس سمایا ہوا تھا۔ وہ آتے ہی غصے مےں پاگل ہو گیا۔ احسان کچھ نہ سمجھتے ہوئے چپ چاپ گھر سے نکل گیا۔
جب مریم اکیلی رہ گئی تب وہ اس پر پھٹ پڑا۔ ”مےں سمجھتا تھا میرے پیچھے تم میرا انتظار کرتی رہو گی مگر آج معلوم ہوا کہ تم نے وقت گزاری کے لیے راستہ دیکھ لیا ہے۔“
اس نے مریم پر الزام لگایا اور وہ اس کے پیروں مےں گر گئی۔ ”خدا کے واسطے مجھ پر شک نہ کریں۔ مےں پاک دامن ہوں اور ہمیشہ رہوں گی۔ مےں آپ کی غلام ہوں‘ ساری زندگی آپ ہی کی رہوں گی مگر خدا کے واسطے اس کے رسول کے واسطے میری ذات پر بہتان نہ لگائیں۔ مےں….!“
اس کے ہاتھ جواز آگیا تھا۔ اس نے نفرت سے کہا ۔ ”بکواس بند کر کمینی عورت‘ کیا تو سمجھتی ہے کہ میں تیری دولت کے لیے تیرا ہر عمل‘ ہر فعل برداشت کرتا رہوں گا۔ یہ تیری بھول ہے۔ آج تو نے میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی….!“
وہ بیچ مےں ہی چیخ اٹھی۔ ”آپ میری بات تو سنیں۔ احسان میرا خالہ زاد ہے وہ شادی شدہ ہے۔ مےں خدا کو حاضر وناظر جان کر کہتی ہوں کہ وہ کھوٹی نیت کا مالک نہےں۔ وہ مجھے بہن سمجھتا ہے۔ وہ چھپ کر مجھ سے ملنے نہےں آتا۔ اس سے پہلے بھی آپ کی موجودگی اور غیر موجودگی مےں آتا رہا ہے۔ آپ بھی اچھی طرح جانتے ہےں۔ مےں نے آپ سے کبھی نہےں چھپایا۔ میرا دل صاف ہے۔ میں نے آپ کو کبھی دھوکا نہےں دیا۔ کبھی بے ایمانی نہےں کی۔“
مجےب کے لیے اب اس کی کوئی بات اطمینان طلب نہےں رہی تھی۔ وہ تو دل مےں اس کی پاکیزگی کا اعتراف کررہا تھا مگر زبان سے کہہ رہا تھا۔ ”مےں اب تیری دولت کے جھانسے مےں نہےں آﺅں گا۔ شاید تو سمجھتی ہے کہ مےں تیری ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے عمر بھر کھاتا رہوں گا اور تیری ہر جائز و ناجائز بات برداشت کر لوں گا تو یہ تیری بھول تھی۔ مےں تجھے آج زندگی سے نکال رہا ہوں۔ جا حرام زادی‘ مےں نے تجھے طلاق دی۔
وہ مجیب کے قدموں سے لپٹ گئی۔ ”خدا کے واسطے“ مجیب نے ایک جھٹکے سے اپنا پیر چھڑایا۔ ”مےں نے تجھے طلاق دی…. طلاق دی۔“
وہ نیم جان ہوگئی ۔مجیب نے دیکھا وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔
جب مریم کو ہوش آیا تو سب کچھ بدل چکا تھا۔ وکیل اس کی جائیداد سے متعلق ضروری کارروائی کر چکے تھے۔ مجیب نے صرف ایجنسی کے اکاﺅنٹس سے اتنے روپے نکلوائے تھے جتنے اس نے مریم کے چلے جانے کے بعد وہاں سے کمائے تھے۔ اس کے علاوہ اس نے ایجنسی کے کاغذات مےں کوئی تبدیلی نہ کروائی یا شاید وہ تبدیلی کروانا بھول گیا تھا۔ ایجنسی شروع دن سے مریم جبار کے نام لکھوائی گئی تھی اور اب تک اسی کے نام تھی۔
مجےب نے طلاق اور روپوں کے لین دین کے بعد وہ گھر چھوڑ دیا تھا ۔ اس کی راہ کا کانٹا آخر کار نکل گیا تھا۔ اس نے فوراً سائرہ کو مطلع کیا اور شادی کی آفر کر دی۔ اس نے اپنے اطمینان کے لیے مریم کی طلاق کی تصدیق کی ۔ تب اس نے مجیب احمد سے نکاح پڑھوایا۔ مگر نہایت خاموشی کے ساتھ۔ اس کا خیال تھا کہ اس کی شادی کی خبر اس کے ماڈلنگ کیریئر پر اثر انداز ہوگی۔
نکاح کے بعد مجےب بے حد مسرور نظر آرہا تھا۔ اسے لگتا تھا جیسے پوری کائنات اس کے ہاتھ آگئی ہو۔
سہاگ کی پہلی رات جب وہ پھولوں کی سرخ سیج پر آیا تو وہ سائرہ کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ وہ سوچ بھی نہےں سکتا تھا کہ اس قدر حسین اور کم عمر لڑکی اس کی بیوی بن جائے گی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر سائرہ کا چہرہ اوپر اٹھایا۔
”سنو….! جانتی ہو تمہےں حاصل کرنے کے لیے مجھے کتنی تگ و دو کرنا پڑی؟“
وہ رغبت سے اسے دیکھتی رہی۔
”مےں نے پہلے اپنی چاہنے والی بیوی کو چھوڑا۔ مگر ہماری محبت ابھی اور قربانیاں مانگ رہی تھی۔ پھر مےں نے وہ گھر چھوڑا اور پھر سب سے بڑی بات مےں نے وہ اشتہاری ایجنسی اور اپنی بیوی کی تمام جائیداد بھی چھوڑ دی۔ صرف تمہاری چاہ مےں….!“
وہ مجیب کی بات سن کر چونک اٹھی۔ ”ایجنسی اب تمہاری نہےں رہی“ اس نے اس انداز سے کہا کہ مجیب بھی لرز گیا۔
”ہاں مجھے یہ گوارا نہ تھا کہ مےں اس کی کسی بھی شے کو اپنے پاس رکھوں۔“
سائرہ اپنی سیج سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کا انداز بتا رہا تھا جیسے وہ دلہن نہےں‘ کوئی بزنس مین ہو جسے اچانک بتایا گیا ہو کہ تمہار الاکھوں کا مال پکڑا گیا ہے۔
”مجیب احمد ! خبر نہےں تھی کہ تم اتنے بے وقوف نکلو گے۔ تم نے اپنی قسمت کا دروازہ خود اپنے ہاتھ سے بند کر لیا ہے۔ بیوی کو چھوڑ دینے کا قطعی یہ مطلب نہےں ہوتا کہ انسان اس کی ہر شے چھوڑ دے۔ محبت قربانیاں مانگتی ہے‘ بے وقوفیاں نہےں۔ مجھے کیا پتا تھا کہ تم اس قدر احمق نکلو گے اور سچی بات تو یہ ہے کہ میری ساری دلچسپی تمہاری اشتہاری ایجنسی مےں تھی۔ ورنہ تم جیسے لوگ تو مجھے سر راہ بہتیرے مل جاتے۔ کنوارے ‘ خوش شکل اور پیسے والے میرے پیچھے آج بھی پھرتے ہےں۔ پھر تم مےں اور ان مےں فرق ہی کیا رہ گیا۔“
مجیب احمد ساکت رہ گیا وہ بدستور بولے جا رہی تھی۔ اس کی زبان کسی قینچی کی مانند چل رہی تھی۔
”مےں نے بھی کتنا بڑا فیصلہ ایک لمحے مےں کر لیا۔ مگر مےں نے اب بھی کچھ نہےں گنوایا۔ میری شادی کے متعلق بہت کم لوگوں کو طلاع ہے۔ مےں جا رہی ہوں۔ ایک ایسا شخص جو بے وقوف ہو‘ میرا جیون ساتھی کبھی نہےں ہو سکتا۔“ سائرہ جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔
”مگر….!“مجیب اس کے سامنے آگیا۔
”مجیب! میرے راستے مےں نہ آنا۔ مےں یہاں سے اپنی شادی کا خراج دیے بغیر جانا چاہتی ہوں۔ جب تک مےں کنواری رہوں گی‘ اسکرین میری منتظر رہے گی اور مےں اپنی دوشیزگی کی سلامتی کے ساتھ یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔“
مجیب احمد کی آنکھوں شعلے اگلنے لگیں۔ ”کمینی عورت! تو نے مجھے برباد کیا۔ میرے گھر کو برباد کیا۔ مےں تجھے جانے دوں گا؟“ وہ بھی اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑ اہو گیا۔
”مےں جاﺅں گی اور مجھے کوئی نہےں روک سکتا۔ اگر تم میرے سامنے آتے تو مےں پرانی تعلق داری کا بھی لحاظ نہےں کروں گی۔“ اس کا لہجہ ایسا تھا کہ مجیب احمد سے برداشت نہ ہو سکا۔ اس نے ادھر اُدھر دیکھا اور میز پر پڑا پھل کاٹنے والا چاقو اٹھا لیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنا بچاﺅ کرتی مجیب احمد نے پے در پے اس پر وار کردیے۔ وہ نڈھال ہو کر گر پڑی۔
باہر شادی کے گیت بج رہے تھے اس لیے اس کی چیخیں کوئی نہ سن سکا۔ پھولوں کی سیج اب خون سے سرخ ہو گئی تھی۔ جب اسے دوبارہ ہو ش آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کے ہاتھوں مےں خون آلود چاقو ہے۔ سامنے سائرہ کی لہریں بناتی ہوئی لاش ہے۔ بس یہ آخری منظر تھا جو اس نے دیکھا اس کے بعد وہ رات کی تاریکی مےں فرار ہو گیا۔
دوسرے دن وہ لاہور پہنچ گیا۔ وہاں اس نے اخبارات مےں سائرہ کی لاش دیکھی اور خبر پڑھی۔ اس کے بعد وہ پولیس سے چھپتا رہا اور گمنامی کی زندگی مےں کئی برس بیت گئے۔
مجیب احمد حلیے بدلتا رہا۔ نام بدلتا رہا‘ یوں قانون اسے گرفتار نہ کر پایا اسے قدرت نے احسان فراموشی کی بڑی کڑی سزا دی تھی۔
مےں نے شروع مےں بتایا تھا کہ مےں اس واقعہ کا چشم دید گواہ تھا۔ مےں یہ ساری باتیں کیسے جانتا ہوں؟ مےں اس واقعہ مےں چشم دید گواہ کیسے بنا؟ یہ بات بتانا اب بے حد ضروری ہو گیا ہے ۔ دراصل وہ مجےب احمد مےں خود ہوں۔ ہاں یہ میری ذاتی کہانی ہے۔ یہ میری ذاتی اذیتیں ہےں۔ مےں اب بھی کسی ایک شہر مےں نہےں رہتا۔ اِدھر اُدھر پھرتا رہتا ہوں۔ میرا یہ نام بھی فرضی ہے شاید یہ کیس اب دب کر ختم بھی ہو چکا ہوگا‘ مگر چونکہ میرے دل مےں چور ہے اس لیے سامنے آنے سے گھبراتا ہوں۔ یہ تحریر صرف اس لیے ایک لکھنے والے کو لکھ کر بذریعہ ڈاک بھجوا رہا ہوں تاکہ میرے ضمیر پر پڑا گناہوں کا بوجھ کچھ ہلکا ہو سکے۔
مےں آج بھی قانون کی نظروں سے روپوش ہوں مگر یہ ضرور سوچتا ہوں کہ وہ نگاہےں جو سب پر نظر رکھتی ہےں ان کا سامنے مےں روزِ حشر کیسے کروں گا؟ اپنی پہلی بیوی کو مےں کیا منہ دکھاﺅں گا؟ اور سب سے بڑی بات سیٹھ جبار علی سے احسان فراموشی کے بعد مےں روز قیامت ان کا سامنا کیسے کروں گا؟

 

حصہ
محبوب الٰہی مخمور نامور قلم کار ہیں ،دوشیزہ،سچی کہانیاں،مسرت،ماہنامہ ریشم اور دیگر رسائل و جرائد کے لیے لکھتے رہے ہیں۔ان دنوں کراچی سے شایع ہونے والے ماہ نامہ انوکھی کہانیاں کے مدیر ہیں۔

2 تبصرے

  1. ap tehreron kay unwan English man zaroor dan kou kay english man serach nahe ho gi ap ki tehrerran es tarhan kam log es say istafada kar sakhna gay

  2. ali akmal tasawur ki bohat se inpage rehreran bhaji thee unka ka keya howa….tehreran acche han. blog man shamil karan

جواب چھوڑ دیں