ادارے قانون کی کتنی عزت کرتے ہیں؟

عام لوگ جب لڑتے ہیں تو ایک دوسرے سے کہتے ہیں تو کیا ڈی آئی جی لگا ہوا ہے یہاں؟ جو بدمعاشی کررہا ہے؟ یا کہتے ہیں تم کیا وزیر لگے ہوئے ہو جو اتنا اترارہے ہو؟ مگر چند روز قبل جو کچھ پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال اور دیگر وزراء و سیاستدانوں کے ساتھ ہوا یا جو سلوک ماضی میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے ساتھ ہوتا رہا ہے اس کے بعد کون ڈی آئی جی یا وزیر لگنا پسند کرے گا؟ بارہ اکتوبر کو اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں واقع، احتساب عدالت میں نواز شریف صاحب کی پیشی کے موقع پر، عدالت کو پنجاب رینجرز نے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس موقع پر صورتحال اس وقت غور طلب ہوگئی جب رینجرز کے اہلکاروں نے وزراء اور صحافیوں کو عدالت جانے سے روک دیا گیا۔ نواز شریف صاحب کی عدالت پیشی کے موقع پر سینیٹ میں قائد ایوان اور بزرگ رہنما راجہ ظفر الحق، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز، وزیر مملکت طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کو عدالت کے دروازے پر روک لیا گیا۔ جبکہ رینجرز کمانڈر بریگیڈیئر آصف کے حکم پر میڈیا کے نمائندگان کو بھی احاطہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔ اس موقع پر وکلاء کو بھی عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تاہم بعدازاں سماعت ختم ہونے پر دانیال عزیز، مائرہ حمید اور میڈیا کے آٹھ نمائندگان کو عدالت میں جانے کی اجازت دیدی گئی۔ احتساب عدالت کے مرکزی دروازے پر وفاقی وزیر احسن اقبال پندرہ منٹ سے زائد وقت کھڑے رہے۔ اس دوران وزیر داخلہ کے بلانے کے باوجود بریگیڈیئر آصف صاحب نہ آئے، لیکن کچھ دیر بعد بریگیڈیئر صاحب دانیال عزیز کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ رینجرز کو عدالت میں داخل ہونے والے افراد کی جو لسٹ ملی تھی اس میں وزیر داخلہ صاحب کا نام درج نہیں تھا اس لیے وہ مجبور تھے۔ مگر بریگیڈیئر صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ رینجرز کس کے حکم پر احتساب عدالت پہنچی تھی؟ اس صورتحال کا احسن اقبال صاحب نے نوٹس بھی لے لیا ہے اور ذرائع کے مطابق انہوں نے آرمی چیف صاحب اور ڈی جی رینجرز پنجاب کو واقعہ کی تحقیقات کے لئے خط لکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اسی صورتحال پر وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ ماضی میں یہی حال چوہدری نثار صاحب کا بھی تھا۔ چند روز قبل ایک صحافی نے پرویز رشید سے پوچھا کہ مشرف کو وطن سے باہر جانے دینے میں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے مدد کی؟ تو پرویز رشید نے مسکراتے ہوئے کہا کہ چوہدری صاحب ہماری مدد نہیں کرسکے تو وہ مشرف کی کیا مدد کرینگے۔۔ اس بیان کا ایک مطلب تو یہ بھی نکلتا ہے کہ مشرف صاحب چوہدری نثار کی مرضی کے بغیر ہی باہر چلے گئے مگر ایسا سوچنا کسی محب وطن کے لئے اچھی بات نہیں ہے۔ بلکہ محب وطن لوگوں پر ریمنڈ ڈیوس کی کتاب پڑھنے پر بھی پابندی ہونی چاہئے۔ گزشتہ چند روز سے ملک میں جو ہورہا ہے یہ ہمارے پاکستان میں کئی سالوں سے ہوتا آیا ہے۔ بس کبھی ہلکی پھلکی موسیقی چلتی ہے اور کبھی پکے راگ گائے جاتے ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں جو کچھ ہوتا رہا ہے یہ ہلکے، سروں میں پکے راگ گانے کی کوشش ہے۔ ہم ان لوگوں سے اتفاق نہیں کرتے جن کے خیال میں رینجرز نے احتساب عدالت کا محاصرہ کرلیا تھا، ہمارے خیال میں رینجرز نے ملکی داخلی صورتحال اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی جان کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر عمارت کی سیکورٹی سنبھالی۔ رینجرز اور ملک کی دیگر قانون نافذ کرنے والی وفاقی ایجنسیاں پاکستان سے اپنی محبت کا ثبوت ہر مشکل وقت میں دیتی آئی ہیں۔ اس لیے جب بات ملکی وقار، عزت، سلامتی اور وزیراعظم کی حفاظت کی ہو تو، یہ ادارے بغیر کسی حکم کے بھی اکثر کسی عمارت کو اپنے کنٹرول میں لے لیتے ہیں۔ ہمارے ادارے ماضی میں اسی حفاظتی ضرورت کے پیش نظر کئی مرتبہ پورے ملک کا کنٹرول سنبھالنے جیسے مشکل فیصلے بھی کرلیتے ہیں۔ اور کئی موقعوں پر سربراہ مملکت کو بھی حفاظتی تحویل میں لے لیا جاتا ہے اگر سربراہ مملکت کی جان کو ملک کے اندر سنگین نوعیت کے خطرات لاحق ہوں تو حفاظت کے پیش نظر انہیں کسی برادر ملک بھی بھیجا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں، ایک سویلین اور دوسرے وہ سویلین جو وردی پہن کر وطن کے دفاع کی قسم کھالیتے ہیں۔ اور مرنے کے بعد بھی سویلین نہیں ہوپاتے، ان وردی میں ملبوث غازیوں، شہیدوں کی قربانیوں کی بدولت آج تک بھارت نے ہم پر قبضہ نہیں کیا ورنہ وہ کب کا کشمیر کی طرح ہم پر قبضہ کرلیتا۔ انہی بہادر سپوتوں کی وجہ سے ہم نے 71ء میں آدھا ملک بچالیا ورنہ بنگلہ دیش سے آگے ہماری باری تھی۔ پاکستان کے یہ ادارے آئینی لحاظ سے تو منتخب حکومت کے ماتحت آتے ہیں مگر اس بات کی کون ذمہ داری لے سکتا ہے کہ منتخب نمائندے ان جیسے تعلیم یافتہ یا پیشہ وارانہ مہارت رکھتے ہونگے، یا وہ محب وطن ہونگے؟ سوال یہ ہے کہ آئین کی پاسداری ضروری ہے؟ یا ملک کی سلامتی؟ جنرل مشرف کے بقول آئین ملک کے لئے ہوتا ہے جب ملک ہی نہ رہے تو آئین کا کیا کرینگے اچار ڈالیں گے؟ کیا ہوا اگر عدالت میں داخلے سے روکے جانے والے وزیر داخلہ احسن اقبال، چوہدری عبدالرحمن خان کے نواسے ہیں وہ عبدالرحمن خان جو برطانوی دور میں 1927-45 تک پنجاب قانون ساز اسمبلی کے رکن تھے۔ کیا ہوا جو ان کی والدہ نثار فاطمہ صاحبہ 1985ء میں ایم این اے تھیں، کیا ہوا جو موصوف وزیر داخلہ مکینکل انجینئر ہیں اور امریکا کے Wharton School of the University of Pennsylvania سے MBA کیاہے۔ وہ جو بھی ہوں ان کا نام اگر عدالت میں داخلے والی لسٹ میں نہیں تھا تو بریگیڈیئر صاحب کیا کرسکتے ہیں؟ وزیر داخلہ ہونے سے زیادہ ضروری لسٹ میں نام ہونا ہوتا ہے۔ کیا ہوا جو خواجہ سعد رفیق شہید خواجہ محمد رفیق کے بیٹے ہیں جن کو 1970ء میں قتل کردیا گیا تھا۔ کیا ہوا جو سعد رفیق نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے سیاسیات کر رکھا ہے اور وفاقی وزیر ریلوے ہیں؟ کیا ہوا جو 18 نومبر 1935ء کو پیدا ہونے والے راجہ ظفر الحق کو روک دیا گیا؟ کیا فرق پڑتا ہے کہ اگر وہ بزرگ سیاستدان ہیں؟ اور سپریم کورٹ کے وکیل ہیں اور سینیٹ میں قائد ایوان ہیں؟ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ یہ وزیر عوامی ذمہ داریاں رکھتے ہیں یا ان کا ماضی کیا ہے؟ یا یہ سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ ان کا لسٹ میں نام نہیں تھا۔ اور جن صحافیوں کے پاس عدالت میں داخلے کے خصوصی اجازت نامے تھے یہ ان صحافیوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ رینجرز کو دستیاب داخلہ لسٹ میں اپنا نام درج کرواتے۔ ملک جس نازک دور سے گزر رہا ہے اس کا سوائے چند اداروں کے کسی عام سویلین کو احساس تک نہیں ہے۔ سویلین بس منہ اٹھاکر عدالت میں آجاتے ہیں۔ پاکستان میں اگر یہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام نہ کریں اور اکثر ضرورت سے زیادہ اور جلدی حالات کو کنٹرول میں نہ کرلیا کریں تو کون ہے جو اس ملک کو سنبھالے گا؟ کیا ہوا جو ان اداروں نے جنرل مشرف کے زمانے میں بلوچستان، کے پی کے اور کراچی میں جلد بازی سے کام نہیں لیا؟ اب تو ہر جگہ امن ہوگیا ہے نا؟ ناشکری قوم ہیں ہم۔ ہم اﷲ رب العزت کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے کہ اس نے ہمیں فلسطین، شام، لبنان، عراق، افغانستان کے آزمائش زدہ علاقوں سے دور پاکستان جنت نظیر میں پیدا کیا جہاں ہماری حفاظت کے لئے ایسے ادارے اور فرض شناس آفیسرز موجود ہیں جو رول آف لاء پر مکمل ایمان رکھتے ہیں ۔ اﷲ کا ہزار ہا شکر کے ہماری حفاظت کے لئے باکمال ادارے اور فرض شناس لوگ اداروں میں موجود ہیں جو وزیراعظم کی سیکورٹی کے لئے صرف ضابطے کے تحت چلتے ہیں وہ کسی کے عہدے یا شکل سے متاثر نہیں ہوتے۔ اپنے اداروں پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے ہمیں یقین ہے کہ اس روز اگر احتساب عدالت میں نیول چیف، آرمی چیف، ائیر چیف ، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی، حتیٰ کہ اگر ڈی جی رینجرز پنجاب بھی آجاتے تو رینجرز اہلکار صرف ان لوگوں کو احاطہ عدالت میں جانے کی اجازت دیتے جن کا نام لسٹ میں ہوتا۔ یہ ادارے ہیں۔ یہ قانون کے محافظ ہیں یہ قانون کی پاسداری کے پابند ہیں یہ قانون کی عزت کرتے ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ یہ قانون کی کتنی عزت کرتے ہیں؟

حصہ
احمد اعوان اسلامی تاریخ، فلسفہ، جدیدیت، سیاست، خواتین کے حقوق، انسانی حقوق، ماڈرن اسٹیٹ اور سماجی مسائل جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں۔ موصوف نے جامعہ کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم اے مکمل کرنے کے بعد ایس ایم لاءکالج سے ایل ایل بی مکمل کیا۔ پیشہ ور وکیل ہیں اور ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان کے لیگل ایڈوائزر ہیں۔ ahmedawan1947@gmail.com

جواب چھوڑ دیں