قدامت،لبرلزم اور فطرت

اگرچہ اب مذہبی لوگوں میں بھی ’’مزاحیہ فنکاروں‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ مگر مذہبی لوگ اس سلسلے میں سیکولر اور لبرل لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

ہمیں یقین ہے کہ جو لوگ پابندی سے انگریزی اخبارات پڑھتے ہیں وہ ہمارے اس خیال کی تصدیق کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انگریزی اخبارات میں آئے دن سیکولر اور لبرل خواتین و حضرات ایسے کالم لکھتے رہتے ہیں جن سے مذہب دشمنی کے ساتھ ساتھ ’’ علمی چٹکلا‘‘ ظہور ہوتا رہتا ہے۔

ڈان کراچی کے کالم نویس نیاز مرتضیٰ ایسے ہی ایک سیکولر اور لبرل دانشور ہیں ۔

نیاز مرتضیٰ صاحب نے اپنے 26ستمبر سن 2017ء کے کالم میں دو علمی چٹکلے چھوڑے ہیں ۔ ان کا ایک علمی چٹکلا یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست قدامت پسند ہے۔ نیاز مرتضیٰ کے بقول قدامت پسند 53سال سے اقتدار میں ہیں ۔

نیاز مرتضیٰ نے تحریک انصاف اور نواز لیگ کوقدامت پسند قرار دیا ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں قدامت پسندی کے بانی جنرل ضیا الحق ہیں۔ نیاز مرتضیٰ نے لکھا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اصل جنگ قدامت پسندوں اور لبرل قوتوں کے درمیان برپا ہے۔

نیاز مرتضیٰ کے بقول پاکستان کا آئندہ وزیر اعظم بھی قدامت پسند ہوگا۔ نیاز مرتضیٰ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں قدامت پسند اتنی ’’ بڑی‘‘ ہوگئی ہے کہ اپنا بوجھ نہیں اٹھا پارہی چنانچہ یہ قدامت پسندی اپنے ہی بوجھ سے ٹوٹ رہی ہے۔ ان کے بقول لبرل ازم کے تین ستون یا تین شاخیں ہیں ، یعنی سماجی برداشت یا social tolerance، سیاسی اختیارات کی تقسیم ، political devolution اور معاشی مساوات یعنی economic equality۔

نیاز مرتضیٰ کے بقول لبرل ازم کی یہ شاخیں یا اصول باہم ہم آہنگ ہیں یعنی ان میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ ہم نے یہ باتیں پڑھیں تو ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئے۔ لیکن یہ کیفیت زیادہ دیر برقرار نہ رہی۔ چند ہی لمحوں میں ہمیں خیال آیا کہ ان باتوں پر ہنسیں یا روئیں ۔۔۔؟

قدامت پسندی ایک مبہم اصطلاح ہے۔ سیکولر اور لبرل عناصر جب کسی مذہبی شخص یا جماعت کو گالی دینا چاہتے ہیں تو اسے ردعمل سے بچنے کے لیے ’’قدامت پسند‘‘ کہہ دیتے ہیں ۔ مذہب اور قدامت پسندی کاباہمی تعلق یہ ہے کہ قدامت میں ’’ قدیم‘‘ کا مفہوم پوشیدہ ہے اور جدید عہد میں قدیم صرف مذہب ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو نیاز مرتضیٰ نے پوری پاکستانی تاریخ کو مسخ کردیا ہے۔ اس لیے کہ پاکستان میں مذہب پسندوں یعنی حقیقی قدامت پسندوں کو کبھی اقتدار ملا ہی نہیں ۔ جنرل ایوب دس سال اقتدار میں رہے اور وہ خود کو سیکولر اور لبرل کہتے تھے۔ اس کی دوبڑی دلیلیں ہیں ۔

ایک یہ کہ جنرل ایوب نے ملک و قوم پر ایسے عائلی قوانین مسلط کیے جو قرآن وسنت کی تعلیمات کی ضد تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی قدامت پسند اس کا تصور بھی کر سکتا ہے کہ وہ زندگی کے کسی بھی دائرے میں مذہب کی تعلیمات کو پس منظر میں دھکیلے گا ۔ جنرل ایوب کی مذہب دشمنی اس امر سے ظاہر ہے کہ ان کے دور میں ڈاکٹر فضل الرحمن نے سود کو اسلامی لباس پہنانے کی کوشش کی ، جس کی مذہبی جماعتوں اور علما نے سخت مخالفت کی چناں چہ جنرل ایوب کے ’’ مفکر اعظم ‘‘ ڈاکٹر فضل الرحمن کو پاکستان چھوڑنا پڑا۔

جنرل ایوب جب تک اقتدار میں رہے انہوں نے قدامت کی سب سے بڑی علامت اور اس کے اصل مرکز مذہب کو کبھی حکومت اور ریاست کے معاملات پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی۔

جنرل یحییٰ کا زمانہ تین سال پر محیط ہے مگر جنرل یحییٰ بھی خیر سے برٹش آرمی کی ’’Product‘‘ تھے۔ ان کی شراب نوشی اور خواتین سے متعلق کہانیوں پر جتنی کم گفتگو کی جائے اچھا ہے مگر ان کہانیوں سے اتنی بات تو ظاہر ہو ہی جاتی ہے کہ جنرل یحییٰ کی شخصیت کا مذہب اور اس کی قدامت پسندی سے کوئی تعلق نہ تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو اول و آخر ایک ’’ مغربی انسان ‘‘ تھے۔ انہوں نے مریکا اور برطانیہ کے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ سوشلزم کے علمبردار تھے اور سوشلزم ایک سیکولر نظریہ تھا۔ بلاشبہ بھٹو صاحب نے اسلامی سوشلزم ایجاد کیا تھا مگر اسلام کا ذکر ان کی سیاسی مجبوری اور سیاسی ضرورت تھا ورنہ ان کی انفرادی، خاندانی اور اجتماعی زندگی میں اسلام کی ایک جھلک بھی موجودنہ تھی۔

وہ مذہبی تشخص سے اتنا بیزار تھے کہ پھانسی سے قبل جیل میں ان کی shave بڑھ گئی تو انہوں نے یہ کہہ کر shaveبنائی کے میں ڈاڑھی کے ساتھ نہیں مرنا چاہتا۔ بھٹو کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر دو بار وزیر اعظم بنیں۔ ان کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری صدارت کے منصب تک پہنچے۔

یہاں کہنے کی اہم بات یہ ہے کہ بینظیر اور آصف زرداری شخصی اعتبار سے اور ان کی جماعت پیپلز پارٹی ایک پارٹی کی حیثیت سے خود کو سیکولر اور لبرل کہتی رہی ہے اور اب بھی کہتی ہے۔میاں نواز شریف اور ان کی جماعت کا تاثر ضرور ایک قدامت پسند جماعت کا ہے لیکن میاں صاحب کے طویل اقتدار سے مذہب کو حکومت، ریاست اور معاشرے میں ایک قدم بھی پیش قدمی کا موقع نہیں ملا اور اب تو میاں صاحب عرصے سے خود کو اور جماعت کو سیکولر باور کرانے کے لیے کوشاں ہیں ۔

نواز لیگ کے رہنما اور وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنے حالیہ دورۂ امریکا میں یہ کہہ بھی دیا ہے کہ نواز لیگ ایک سیکولر جماعت ہے البتہ تحریک انصاف ایک مذہبی جماعت ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو میاں نواز شریف اور ان کی جماعت بھی حقیقی معنوں میں قدامت پسند نہیں ۔

مگر نواز شریف اور نواز لیگ کے جسم پر کسی بھی وقت سیکولر ازم اور لبرل ازم پھوڑے پھنسی کی طرح پھوٹ کر باہر آسکتا ہے۔ جہاں تک عمران خان اور ان کی پارٹی تحریک انصاف کا تعلق ہے تو وہ نظریاتی اعتبار سے نہ Heمیں شامل ہے نہ Sheمیں ۔ اس بات کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ مذہبی لوگوں کو تحریک انصاف لبرل نظر آتی ہے اور لبرل لوگ اسے مذہبی سمجھتے ہیں۔

بلاشبہ جنرل ضیاء الحق ایک مذہبی انسان تھے اور ان کے اقتدار میں آنے سے معاشرے میں مذہب کا چرچا ہوا مگر جنرل ضیاء الحق نے ریاست کے نام پر مذہب کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچایا۔ انہوں نے اسلام کے نظام صلوٰۃ، نظام عشر اور اسلامی بینکاری کو مذاق بنا دیا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے اقتدار کے گزشتہ پچاس برسوں میں سے چالیس سال لبرل ازم اور سیکولر ازم کے سال تھے۔ مگر نیاز مرتضیٰ نے ان برسوں کو کسی قابل فہم شہادت کے بنا قدامت کے سال بنا دیا۔

نیاز مرتضیٰ کا دعویٰ ہے کہ لبرل ازم کا ایک ستون یا ایک شاخ سماجی برداشت یا social toleranceہے۔ لیکن یہ ایک سفید جھوٹ ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یورپ کی لبرل ریاستیں ہیں۔ یہ ریاستیں اسلام کے تہذیبی، ثقافتی اور سماجی تجربے کو ہضم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ مساجد کی تعمیر پر پابندی لگا رہی ہیں ۔ مساجد کے بلند میناروں پرمعترض ہو رہی ہے۔

انہیں اسکارف اور برقع ناقابل برداشت نظرآرہا ہے۔وہ مسلمانوں کی ڈاڑھی پر انگلی اٹھارہی ہیں، انہیں مسلمانوں کے حلال گوشت پر اعتراض ہے۔ یورپ اتحاد کی 28میں 22ریاستوں نے شام کے پناہ گزینوں کو اپنے یہاں پناہ دینے سے صاف انکار کردیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہی لبرل ازم کی سماجی برداشت ہے؟ نیاز مرتضیٰ کے بقول لبرل ازم کا ایک ستون یا ایک شاخ سیاسی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہے، political devolution ہے۔ ایسا ہے تومغرب کی لبرل ریاستیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ختم کر کے اس کے اختیارات جنرل اسمبلی کو کیوں نہیں دے رہیں جہاں جمہوری اصول کی لبرل ریاستیں گزشتہ پچاس سال سے مسلم دنیا میں بنیاد پر ’’ اکثریت ‘‘ کے فیصلے سامنے آسکتے ہیں ۔

مغرب کی لبرل ریاستیں گزشتہ پچاس سال سے مسلم دنیا میں بادشاہتوں اور فوجی آمروں کی پشت پناہی کررہی ہیں۔ کیا یہی لبرل ازم کا political devolution ہے ؟ خود مغرب کی لبرل ریاستوں کا یہ حال ہے کہ وہاں سارے اہم فیصلے طاقت ور ادارے کرتے ہیں ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ امریکا کے صدر اوباما بار بار اعلان کے باوجود آٹھ برسوں میں گوانتانا موبے بند نہیں کراسکے ۔کیوں کہ گوانتاناموبے سی آئی اے کی ایجاد ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آنے سے قبل فرماتے تھے کہ ہمیں افغانستان سے نکل جانا چاہیے۔ مگر پینٹا گون نے ان پر دباؤ ڈالا کہ افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے اور اب ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان کے سلسلے میں پینٹا گون کی زبان بول رہے ہیں۔

نیاز مرتضیٰ صاحب کا اصرار ہے کہ لبرل ریاست کا ایک ستون معاشی مساوات ہے۔ مگر لبرل ریاستوں میں بھی معاشی مساوات موجود نہیں۔ امریکا دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، امریکا میں چار کروڑ امریکی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔ مغرب کے ہر ملک میں وخواتین شکایت کرتی ہیں کہ انہیں ہر شعبے میں مردوں سے کم تنخواہ دی جاتی ہے۔

خود مغرب کے ماہرین اور ذرائع ابلاغ بتا رہے ہیں کہ دنیا کی دولت کا 80فی صد دو فی صد لوگوں کے ہاتھ میں مرتکز ہوگیا ہے۔ خود امریکا اور یورپ میں ارب پتیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور امریکا کی جمہوریت کو کارپوریٹ جمہوریت کا خطاب ملے عرصہ ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی لبرل ازم کی معاشی مساوات ہے ؟

نیاز مرتضیٰ صاحب نے اپنے کالم میں ایک جگہ تو مزاحیہ فنکاری کی حد ہی کردی۔ انہوں نے فرمایا کہ ارتقائی نفسیات‘‘ evolutionary psychology کہتا ہے کہ انسان کی ’’فطرت‘‘ میں قدامت پسندی کے لیے طرف داری، تعصب، bias کا ایک رجحان موجود ہے۔ انسانی ذہن کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ قدیم ہے جو انسانوں نے حیوانوں سے ورثے میں حاصل کیا ہے۔ اس حصے میں غلبے، عدم برداشت اور تشدد کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ جب کہ دوسرا حصہ حال ہی کی چیز ہے۔ اس حصے میں عقل پرستی، انصاف اور برداشت کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ یہاں آپ پہلے فطرت کے بارے میں رسول اکرم ؐ کا ارشاد مبارک سن لیجیے۔

رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے ’’ اگر آپ سنیں کہ کوئی پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے تو اس بات پر یقین کرلیں لیکن اگر آپ سنیں کہ کسی انسان کی فطرت بدل گئی ہے تو اس پر یقین نہ کریں ۔ کیوں کہ انسان کی فطرت کبھی نہیں بدلتی۔ ‘‘

مگر نیاز مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ انسان کی فطرت بدلتی ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ نیاز مرتضیٰ کو فطرت اور ذہن کا فرق تک معلوم نہیں۔ چناں چہ انہوں نے اپنے کالم میں فطرت کا ذکر کرکے ارتقا انسان کے ذہن میں ہوتے ہوئے دکھایا ہے۔ حالاں کہ natureاور mindدو مختلف چیزیں ہیں ۔ ایک اور مرے کی بات یہ ہے انہوں نے فطرت کے ارتقا کے تحت ذہن کے دو حصے کر ڈالے ہیں ۔

ایک حصہ ان کے نزدیک قدیم ہے اور ایک جدید۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسا ارتقا ہے جو پورے ذہن میں وقوع پزیر ہوا نہ وہ ذہن کو ایک اکائی یا one uniteبنا سکا۔ بلکہ اس ارتقا سے ذہن دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ یعنی قدیم اور جدید حصوں میں ۔ قدیم حصہ نیاز مرتضیٰ صاحب کے بقول ’’ قدامت پسند‘‘ ہے اور جدید حصہ ’’ لبرل‘‘ ہے۔ آخر ’ ’ارتقا‘‘ سے انسان کا پورا ذہن ہی لبرل کیوں نہ ہوا ؟ نہ رہتا بانس نہ بجتی بانسری یعنی قدامت پسندی دنیا سے نابود ہو جاتی۔ کارل مارکس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ڈارون کے تصور ارتقا سے بہت متاثر تھا اور اس نے اس تصور کا اطلاق تاریخ پر کر کے اسے ارتقا پزیر دکھایا ہے۔

اس نے کہا ہے کہ انسانی معاشرہ زرعی معاشرے سے صنعتی معاشرے میں تبدیل ہوا ہے اور صنعتی معاشرے کے استیصال سے سوشلسٹ ریاست وجود میں آئے گی اور سوشلسٹ ریاست بالآخر کمیونزم کو جنم دے گی جس کے دائرے میں ریاست کابھی وجود نہ ہوگا۔ مگر جو کچھ ہوا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔

روس میں صنعتی انقلاب کے بغیر سوشلسٹ انقلاب آگیا اور سوشلسٹ انقلاب کے بطن سے کمیونزم کے بجائے سرمایہ دارانہ نظام برآمد ہوگیا۔ یعنی تاریخ آگے بڑھنے کے بجائے پھر سے ماضی میں لوٹ گئی۔ آپ نے دیکھا ارتقائی نفسیات کے دائرے میں کیسے کیسے لطیفے ہوتے ہیں ۔ نیاز مرتضیٰ نے یہ بھی لکھا ہے کہ انسانی ذہن کے نئے حصے میں عقل پرستی، انصاف اور برداشت جیسے رجحانات پائے جاتے ہیں ۔

ذرا کوئی بتائے کہ امریکا اور یورپ جیسے لبرل معاشرے گزشتہ پچاس سال سے تیسری دنیا بالخصوص مسلم ممالک کے ساتھ جو سلوک کررہے ہیں اس میں کہیں انصاف اور برداشت موجود ہے؟

رہی عقل تو مغرب کے تیسری دنیا بالخصوص مسلم ممالک کے بلاک میں عقل کا کام عیاری، مکاری، اور جنگ و جدل ایجاد کرنے کی کوششوں کے سوا کچھ نہیں ۔ خدا ایسے لبرل ازم سے سب کو بچائے۔

حصہ
شاہنواز فاروقی پاکستان کے ایک مقبول اورمعروف کالم نگار ہیں۔ آج کل جسارت کے کالم نگار اور ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کے اسٹاف رائیٹر ہیں۔ ان کے موضوعات میں زبان، ادب، شاعری، تنقیدکے ساتھ برصغیر کی تاریخ وتہذیب، عالمی، قومی اور علاقائی سیاست ، تعلیم، معیشت، صحافت، تاریخ اور سماجی مسائل شامل ہیں۔ اسلام اورمغرب کی آ ویزش اور امت مسلمہ کے ماضی وحال اور مستقبل کے امکانات کا مطالعہ ان کا خصوصی موضوع ہے۔ اس کے علاوہ سوشلزم اور سیکولرازم پر بھی ان کی بے شمار تحریریں ہیں۔ فاروقی صاحب ’’علم ٹی وی‘‘ پر ایک ٹاک شو ’’مکالمہ‘‘ کی میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔ شاہنوازفاروقی اظہار خیال اور ضمیر کی آزادی پر کسی سمجھوتے کے قائل نہیں ہیں۔

جواب چھوڑ دیں