بچے کا ذہن محفوظ بنائیے،  ٹی وی بند کر دیجیے

کیا کیا جائے! بات جب تک کسی امریکی یا یورپی یونیورسٹی یا ان کے تحقیقی اداروں نے نہ کی ہو، اپنے پلے نہیں پڑتی۔ دادی اماں کہہ کہہ کر مر گئیں، دادا ابا کہنے کے ساتھ ساتھ کھانستے کھانستے راہی ملکِ عدم ہو گئے، وعظ کر کر کے مولوی صاحب کی آواز بیٹھ گئی، ہمارے کان پر جوں نہ رینگی۔ لیکن اب تو کانوں پر کئی جانور رینگ جائیں گے کیونکہ فرمایا ہے امریکی ماہرین اطفال کی انجمن یعنی امریکن اکیڈمی آف پیڈیایٹرکس (اے اے پی) نے۔ اور بات یہ ہے کہ ننھے منے بچوں کی ٹی وی سے قربت ان کی ذہنی نشوونما کو متاثر کرتی ہے۔ آپ کو یاد آیا؟ دادی اماں کیا کہا کرتی تھیں؟ اس ’’موئے ٹی وا‘‘ کو۔

ماہرین اطفال کی اس انجمن نے اب سے بیس سال قبل بھی والدین کو سرسری انداز میں بتایا تھا کہ دو سال سے چھوٹے بچوں کو ٹی وی کا نظارہ کم سے کم کرایا جائے۔ تب یہ بات قطعیت کے ساتھ اس لیے نہیں کی جا سکی تھی کہ چھوٹے بچوں کی نشوونما پر میڈیا کے اثرات کے بارے میں تحقیق کی ابتدا تھی۔ اب تحقیق اس حد تک مکمل ہو چکی ہے کہ ماہرین قطعیت کے ساتھ کچھ کہہ سکتے ہیں، چنانچہ انہوں نے بچوں کو ٹک ٹک دیدم کی عادت ڈالنے والے ’’نشینی تفریح‘‘ (passive entertainment) پر مشتمل تمام میڈیا بشمول ٹی وی، ویڈیو وغیرہ کے بارے میں سائنسی ثبوت سے لدے پھندے پالیسی بیان میں جو کچھ کہا ہے کہ اس کا خلاصہ وہی ہے جو دوا کی ہر شیشی پر تحریر ہوتا ہے یعنی جس طرح ’’تمام دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں‘‘ اسی طرح (کم از کم دو سال تک کے) بچوں کو ہر قسم کے میڈیا سے دور رکھیں، کیونکہ میڈیا بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے نہ صرف ’’اچھا نہیں‘‘ بلکہ ’’شاید برا ہے‘‘۔

 میڈیا خواہ بڑوں کے لیے بنائی گئی فلموں، ڈراموں، ویڈیو وغیرہ پر مشتمل ہو یا بچوں کے خالص تعلیمی مقاصد کے لیے تیار کردہ مواد پر مبنی ہو، جب ننھے منے بچوں کو دکھایا جائے تو ’’اس کے منفی اثرات ہو سکتے ہیں اور دو سال سے چھوٹے بچوں کے لیے مثبت اثرات کا کوئی امکان ہی نہیں‘‘۔ بعض پروگرامات شیرخوار بچوں/ نونہالوں کے لیے باعث تفریح تو ہو سکتے ہیں لیکن ان پروگرامات کی تشہیر میں ایسا کوئی دعویٰ ہرگز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ’’تعلیمی و تربیتی‘‘ پروگرام ہیں۔

اکیڈمی نے ابتدائی سفارشات 1999ء میں پیش کی تھیں، تب اور اب میں فرق یہ ہے کہ نشینی تفریح (جس کی مثالیں ٹی وی، ڈی وی ڈی پلیئر، کمپیوٹر پر چلتی ویڈیوز ہیں) کے ذرائع ہر گھر تک پہنچ چکے ہیں اور بے حدوحساب استعمال ہو رہے ہیں، چنانچہ بارہ ماہ کا عام سا بچہ بھی روزانہ ایک سے دو گھنٹے ٹی وی اسکرین کے سامنے گزارتا ہے۔ اس سلسلے کو تقویت یوں بھی ملی کہ تجارتی مقاصد کے لیے بننے والے نام نہاد ’’تعلیمی پروگرامات‘‘ کا مرکزی ہدف یہی، دو سال تک عمر کے بچے ہیں، یہ تاثر والدین کے ذہن میں رچا بسا دیا گیا ہے کہ ایسے تعلیمی پروگرام نونہالوں کے لیے مفید ہیں۔

حسن اتفاق سے جتنا جتنا ’’اسکرین‘‘ کا حلقہ اثر پھیلتا گیا ہے اتنا ہی تحقیق کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا ہے، چنانچہ اس انجمن کے ذرائع کے مطابق دو سال تک عمر والے بچوں میں میڈیا کے استعمال کے بارے میں 1999ء سے اب تک اندازاً 50 مطالعاتی رپورٹیں تیار ہو چکی ہیں۔

ان مطالعاتی رپورٹوں کے مطابق بچوں کو اسکرین پر ہونے والی سرگرمی اس وقت تک سمجھ میں نہیں آتی جب تک وہ دو سال کے نہیں ہو جاتے۔ دو سال عمر کے بعد وہ کچھ سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں اور تب ہی وہ اس سے کچھ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں، اس سے قبل ٹی وی یا کمپیوٹر ان کے لیے ایک مسحور کن اور روشن ڈبا ہے، بس!

یہ تو ممکن ہے کہ ٹی وی بچوں کے لیے بطور لوری استعمال کیا جائے یعنی وہ اسے دیکھتے دیکھتے سو جائیں، لیکن یہ طریقہ طویل مدت میں ناخوشگوار نتائج لا سکتا ہے، یعنی بچوں کی نیند متاثر یا بے قاعدہ ہو سکتی ہے۔ ٹی وی کو بطور لوری استعمال کرنے سے کون سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں؟ اگرچہ اس موضوع سے مخصوص کوئی مطالعہ تو نہیں کیا گیا ہے تاہم عام طور پر نومولودوں میں نیند کی خرابی موڈ، رویے اور آموزش (learning) سے متعلق مسائل کا نتیجہ قرار دی جاتی ہے۔

ٹی وی یا دیگر بصری میڈیا کا ایک اثر ایسا ہے جو مستقبل میں بچوں کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے اور وہ یہ کہ ان میں لسانی ترقی کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔ ٹی وی کے سامنے سب باادب اور چُپ ہوتے ہیں، خصوصاً والدین، اور والدین کا بچوں سے بات نہ کرنا جبکہ بچے بات کرنا یا سوال کرنا چاہ رہے ہوں، بچوں کی لسانی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

1999ء سے اب تک ’’تعلیمی ٹی وی‘‘کے استعمال اور لسانی ترقی کے موضوع پر تین مطالعات ہو چکے ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ ٹی وی کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے ذہنی نمو تاخیر سے ہوتی ہے۔

جب بچے اپنے کھیل میں مصروف ہوں اور ان کا رخ ٹی وی اسکرین کی طرف نہ ہو تب بھی ٹی وی کی آواز ان کا کھیل متاثر کر رہی ہوتی ہے، حالانکہ کھیل ان کی ذہنی نشوونما کے لیے نہایت مفید سرگرمی ہے۔ ظاہر ہے، والدین یا گھر کے بڑے بارہ گھنٹے بچوں کے ساتھ کھیل سکتے ہیں نہ انہیں ہر وقت کہانی سنا سکتے ہیں، تاہم بچوں کو تنہا کھیلنے دینا بھی ان کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ تنہا کھیلتے وقت بچے اپنے آپ سے ہم کلام ہوتے ہیں، اس دوران وہ چھوٹے چھوٹے مسائل کا حل تلاش کر رہے ہوتے ہیں، ان کا ذہن تصورات میں کھویا ہوا ہوتا ہے، وہ اپنی ذات میں مگن ہو کر اپنے آپ کو خوش کر رہے ہوتے ہیں۔

اکیڈمی کے سالانہ اجلاس منعقدہ بوسٹن کے لیے 18 اکتوبر 2011ء کو جاری ہونے والی یہ رپورٹ معروف جریدے ’’پیڈیاٹرکس‘‘ (Pediatrics) کے نومبر کے شمارے میں شائع ہوئی۔

[ American Academy of Pediatricsکی رپورٹ It’s official: to protect baby’s brain, turn off the TV کا آزاد ترجمہ]

ماخذ: https://www.wired.com/2011/10/infant-tv-guidelines/

 

حصہ
تحریر و تصنیف کے شعبے میں اپنی شناخت بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ عامل صحافی تھے، فی الحال مترجم کی حیثیت سے معروف ہیں۔ ایم اے ابلاغ عامہ اردو کالج کراچی سے ۱۹۹۸ء میں کرنے کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑ دی، جس کا تعلیم پر کوئی برا اثر نہیں پڑا، البتہ نئی نسلوں کو عبرت ملی کہ تعلیم چھوڑ دینے کا کیا نقصان ہوا کرتا ہے۔ اردو اور انگریزی فکشن سے دلچسپی ہے، اردو میں طنز و مزاح سے۔

جواب چھوڑ دیں