عاشقوں کا پوسٹ مارٹم

جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں
سینکڑوں گزر چکے ہزاروں تیاربیٹھے ہیں
کرکے برباد عشق میں زندگی،کہتے ہیں
مولانا!دعا کریں بے روزگار بیٹھے ہیں
برصغیر کا لوک ادب عشق و محبت کے بغیر نامکمل سمجھا جاتا ہے۔سندھ ہو یا پنجاب، عرب یا ایران! تمام ہی معاشروں میں حسن و عشق کی داستانیں موجود ہیں۔ کچھ داستانیں تو مقبولیت کی معراج پر پہنچ چکی ہیں جیسے کہ ہیر رانجھا، سوہنی ماہی وال، شیریں فرہاد اور لیلیٰ مجنوں وغیرہ ایسی ہی داستانیں جن پر بالی ووڈ اور لالی ووڈ میں متعدد بار فلمیں بنائی گئی ہیں۔ آج ہم چند مشہور و معروف عشقیہ داستانوں کا جائزہ لیں گے۔
اس سے پہلے کہ ہم ان داستانوں کی طرف جائیں میں آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہوں گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی فرد کسی شخص کو اپنے گھر میں ملازم رکھے، وہ اس ملازم پر اندھا اعتماد کرے، لیکن جواب میں یہ شخص اپنے مالک کی بیٹی پر بری نظر رکھے، اسے ورغلائے اور بالآخر اس کی شادی بھی ختم کرا دے، تو ایسے فرد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہوگی؟؟ یقینا آپ یہی کہیں گے کہ یہ شخص انتہائی بد خصلت، بے مروت، نمک حرام اور احسان فراموش ہے کہ یہ اپنے مالک کی عزت کا پاس نہیں کرتا اور اس کی بیٹی پر بر نظر رکھتا ہے۔
جی ہاں! ایسا ہی ہے لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ادب میں ایسے فرد کو ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔ جی جی جی! آپ بالکل ٹھیک سمجھے ہیں۔ یہ موصوف جناب رانجھا صاحب ہیں، ان کے بھائیوں نے جائیداد کے کتنازع پر اسے گھر سے نکال دیا، رانجھا پھرتے پھراتے ہیر کے گاؤں پہنچتے ہیں، وہاں ان کا ہیر سے آنکھ مٹکّا ہوجاتا ہے۔ قصہ مختصر ہیر کا باپ ان پر ترس کھا کر اپنے مویشیوں کی دیکھ بھال کے لیے انہیں ملازم رکھتا ہے لیکن نمک حرام رانجھا نے اپنے مالک کی بیٹی ہیر پر بری نظر رکھی، اسے ورغلایا،جب گھر والوں نے ہیر کی شادی کہیں اور طے کردی تو یہ موصوف اس کے سسرالی گاؤں بھی پہنچ جاتے ہیں اور داستان کے مطابق میاں بیوی میں علیحدگی کراتے ہیں۔اس داستان میں ہیر کا چچا ”کیدو“ اپنی بھتیجی کی عزت بچانے کی کوشش کرتا ہے اسے ولن کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے۔(یہ بات ذہن نشین رہے کہ انڈیا اور پاکستان میں 1928سے لے کر 2017تک مجموعی طور پر 12مرتبہ اس پر فلمیں بنائی گئی ہیں یعنی اوسطاً ہر سات سال بعد یہ داستان فلمائی گئی ہے۔)
سوہنی ماہیوال کی داستان بھی کچھ اس سے ملتی جلتی ہے، سوہنی ضلع گجرات کے کمہار خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی ہے، عزت بیگ بخارا سے تعلق رکھنے والا ایک تاجر ہے، تجارت کے سلسلے میں وہ گجرات آتا ہے اور سوہنی کو دیکھ کر اپنا دل دے بیٹھتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنا تمام کاروبار اور تجارت ختم ختم کرکے سوہنی کے باپ ”تُلّا“ کمہار کی ملازمت اختیار کرلیتا ہے۔ (اتفاق سے عزت بیگ کو بھی مویشی چرانے کا کام ملتا ہے جس کے باعث وہ ماہی وال یا میہار یعنی بھینسوں کو چرانے والا مشہور ہوجاتاہے۔)ان کے عشق کے معاملات کو دیکھتے ہوئے والدین سوہنی کی شادی کمہار خاندان میں طے کردیتے ہیں اور سوہنی بیاہ کر اپنے سسرال چلی جاتی ہے۔ماہیوال صاحب بھی سب دھندے چھوڑ کردریائے چناب کے کنارے واقع سوہنی کے سسرالی گاؤں کے بالکل سامنے دریا کے دوسری جانب ڈیرے ڈال دیتے ہیں۔ اب داستان کے مطابق سوہنی ہر رات ایک گھڑے پر تیرتی ہوئی دریا کے اس پار آتی، دونوں عاشق و معشوق رات کے اندھیرے میں ”راز و نیاز“ کی باتیں کرتے۔ (داستان کے مطابق یہ بہت پاکیزہ عاشق و معشوق تھے اس لیے ساری رات صرف باتیں ہی کرتے تھے۔) ایک رات سوہنی کی نند یہ ماجرا دیکھ لیتی ہے اور وہ سوہنی کے گھڑے کی جگہ ایک کچا گھڑا رکھ دیتی ہے، حسبِ معمول رات کو سوہنی صاحبہ گھڑا اٹھا کر نکلتی ہیں اور یہ گھڑا بیچ دریا میں ٹوٹ جاتا ہے جس کے باعث سوہنی ڈوبنے لگتی ہے، سوہنی کو ڈوبتا دیکھ کر ماہیوال بھی دریا میں چھلانگ لگا دیتا ہے اور اس طرح یہ دونوں ڈوب جاتے ہیں۔ (خس کم جہاں پاک)
یہ تو مختصراً ہم نے داستان بیان کی ہے۔اب اس کا جائزہ لیں تو یہاں بھی وہی معاملہ ہے کہ ماہیوال صاحب نہ صرف یہ کہ انتہائی گھٹیا، احسان فراموش اور بے مروت انسان ہیں کہ اپنے مالک کی بیٹی پر بری نظر رکھتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی بے غیرت بھی ہیں کہ کسی دوسرے کی منکوحہ کے ساتھ عشق کی پینگیں بڑھا رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ سوہنی بھی انتہائی بے حیا خاتون ہے کہ وہ شادی شدہ ہونے کے باوجود کسی غیر مرد سے عشق کررہی ہے اور نہ صرف یہ کہ عشق کررہی ہے بلکہ شوہر کی امانت میں خیانت کررہی ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے ادب میں ان کو مظلوم اور سوہنی کی نند کو ظالم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان بد کاروں کو ہمارے یہاں ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیاہم یہ برداشت کرسکتے ہیں کہ کوئی ہماری عزت پر اس طرح حملے کرے؟ کیا کسی شادی شدہ خاتون کا شوہر کی امانت میں خیانت کرنا اچھی بات ہے؟ فی الوقت ہم ان دو داستانوں کے پوسٹ مارٹم پر اکتفا کرتے ہیں اگلی دفعہ انشاء اللہ بشرطِ زندگی دیگر داستانوں کا بھی پوسٹ مارٹم کریں گے

حصہ
سلیم اللہ شیخ معروف بلاگرہیں ان دنوں وہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیچرز ٹریننگ بھی کراتے ہیں۔ درس و تردیس کے علاوہ فری لانس بلاگر بھی ہیں اور گزشتہ دس برسوں سے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر مضامین لکھ رہے ہیں۔ ان کا...

3 تبصرے

  1. Ab Urdu type kahañ se layñ.
    …… Phir bhi hum ne English mei noon Ghunnah dhooñd Lia hai.
    …… Anyway Bhai Saleem Ullah ki TehqeeqUllah La’jwaab hai……Ishq ki in Dastanoñ se Jo tasawwur ko Roohani ghiza milti hai oska kia huga

جواب چھوڑ دیں