دہشت گردی کے اسباب جاننا ضروری ہیں

بہت سے لوگوں کے نزدیک جو جنگ مقدس جہاد ہے وہ باقی افراد کے نزدیک دہشت گردی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ آج یورپ سے لے کر ایشیا تک ہر جگہ عسکریت پسندی، حملے اور دھماکے ہورہے ہیں۔ میرے نزدیک عسکریت پسندی کے دو بنیادی عوامل ہیں۔

مظالم کا ردعمل

نظریات

مظالم کا ردعمل

قانون قدرت ہے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ نیوٹن نے اس نکتے کو اپنے تیسرے حرکی قانون میں اس طرح بیان کیا ہے کہ “ہر عمل کا برابر مگر مخالف ردعمل ہوتا ہے‘’۔

For every action there is an equal and opposite reaction

دنیا کے مختلف ممالک میں غیر مسلموں کی جانب سے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر ردعمل پیدا ہوتا ہے، نتیجتا جوابی حملے ہوتے ہیں اور جہادی تنظیموں کو نیا خون ملتا ہے۔

اگرچہ مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ تو آغاز اسلام سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ تاہم ہم سردست دور جدید میں عسکریت پسندی کو سمجھنے کےلیے بات کریں تو مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ 1925 میں سلطنت عثمانیہ کی تقسیم کے بعد شروع ہوا۔ خلافت کی بندربانٹ کی گئی۔ مسئلہ فلسطین ، مسئلہ کشمیر سلگتے ہوئے موضوعات تھے اور ہیں۔ پھر مسلم علاقوں کو اپنی کالونیاں بنانا مثلا اٹلی کا لیبیا، فرانس کا الجزائر پر قبضہ، خود قیام پاکستان کے وقت بہنے والا خون، بوسنیا، افغانستان، عراق، مشرقی تیمور، میانمار، شام غرض ہر ہر جگہ غیر مسلموں نے ’’عمل‘‘ کیا۔ لہذا قدرتی قانون کے مطابق جگہ جگہ ردعمل آیا اور آرہا ہے۔

درحقیقت عمل اور ردعمل کا یہ قانون فطری ہے جو محض مسلمانوں کے ساتھ خاص نہیں۔ بلکہ اگر کسی جانور کے ساتھ بھی ہی اگر آپ ناروا سلوک کریں تو وہ آپ سے حتی المقدور انتقام لینے کی کوشش کرے گا۔ اگر مغربی ممالک ’قدرے امن‘ چاہتے ہیں تو یہ اپنے ’’عمل‘‘ کا سلسلہ بند کریں۔

ایک تجویز: فلسطین، کشمیر اور شام کے مسائل کو حل کرکے وہ ’قدرے امن‘ حاصل کرسکتے ہیں۔

پاکستان افغانستان کی بات کریں تو نائن الیون سے قبل وہ عسکریت پسندوں کے نشانے پر نہیں تھا۔ نائن الیون کے بعد سقوط کابل اور پھر ہزاروں طالبان کی ہلاکتیں ہوئیں۔ افغانستان میں صرف ایک واقعے میں دشت لیلی نامی صحرا میں طالبان کو کنٹینروں میں بند کرکے مارا گیا۔ لہذا قدرتی طور پر یہاں بھی عمل کیا گیا جس میں جس جس نے ان کا ساتھ دیا بشمول پاکستان، وہ قدرتی طور پر آنے والے ردعمل کی زد میں آگیا۔

لہذا عمل اور ردعمل کے اس سلسلے کو اگر روکنا ہے تو یہ بات ذہن نشین کرلیجئے کہ طاقت کے ذریعے یہ مسئلہ حل ہونے والا تھا نہ ہی ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر ڈرون حملے یا کسی فوجی آپریشن میں کسی کی ماں مرتی ہے تو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مارنے والے نے اس مقتول ماں کے بال بچوں کے خود کش بمبار بننے کی راہ ہموار کردی۔ اس طرح تو عسکریت پسندی کو ختم کرنے کی بجائے اس پر مزید ایندھن ڈالا جارہا ہے۔

دوسرا پہلو

نظریات

عسکریت پسندوں کے پاس اپنے جہاد کے جواز میں قرآن و حدیث کے مکمل دلائل موجود ہیں۔ عسکریت پسندی صرف غریب اور مدرسے کے طالب علم تک محدود نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، مالدار گھرانوں کے افراد بھی اس میں شامل ہوگئے ہیں۔ مثلا ٹائمز اسکوائر میں بم دھماکے کی کوشش کرنے والا پاکستانی نژاد امریکی نوجوان فیصل شہزاد امریکا میں ہی پلا بڑھا۔ اس کے والد پاکستانی فضائیہ میں ائر وائس مارشل تھے۔ پھر سانحہ صفورا میں ملوث سعد عزیز پاکستان کے انتہائی موقر ترین تعلیمی ادارے آئی بی اے کا فارغ التحصیل اور مالدار گھرانے سے تعلق رکھنے والا ہے۔ اور ابھی نورین لغاری کا تازہ کیس۔ یہ صرف چند مثال ہیں۔ خود اسامہ بن لادن کا تعلق دنیا کے مالدار ترین خاندانوں میں سے تھا۔ ایسے سیکڑوں کیسز مل جائیں گے۔ دراصل یہ نظریات کی وہ طاقت ہے جو کسی کو بھی مرنے اور مارنے پر تیار کردیتی ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں عسکریت پسندی ختم ہو تو جنگجوؤں کو ان کے تمام نظریاتی ’اعتراضات اور دلائل‘ سے ’محروم‘ کرنا ہوگا جن کی بنیاد پر انہوں نے ہم سے جنگ چھیڑی ہوئی ہے۔ مثلا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت۔ غیر مسلموں کے ساتھ اتحاد ۔ اسلامی قانون اور شریعت کا عدم نفاذ، سودی معاشی نظام کا خاتمہ وغیرہ وغیرہ۔ ان کے پاس قرآن و حدیث سے جواز اور حجتیں بھی موجود ہیں ۔ کیا ان کے مطالبات پورے کرکے اس جنگ کو ختم کرنا ممکن نہیں؟۔

شاید مذکورہ بالا اقدامات کرکے نظریاتی طور پر مسئلے کو مکمل نہیں تو کسی حد تک حل کیا جاسکتا ہے۔ لہذا مل جل کر بیٹھنا اور اس مسئلہ کو حل کرنے کا سوچنا ہوگا جس کا صرف پاکستان میں ہی ہزاروں افراد ایندھن بن چکے ہیں۔ مگر طاقت سے یہ مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کیا نیٹو اور ایساف میں شامل 40 سے زائد ممالک کے ’مشترکہ آپریشن‘ اور ہیبت ناک جنگی مشینری سے یہ مسئلہ حل نہ ہوچکا ہوتا اور امریکا کیوں آج طالبان کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دے رہا ہوتا۔ مئی 2017 میں امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے 40 فیصد حصے پر بدستور طالبان کا کنٹرول ہے اور وہ پیش قدمی کررہے ہیں۔ 17 سال سے جاری اس جنگ سے یہی سبق ملتا ہے کہ طاقت کی بجائے افہام و تفہیم اور بات چیت سے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ورنہ ایکشن اور ری ایکشن کا سلسہ دراز ہوتا رہے گا اور دنوں اطراف سے کلمہ گو لوگوں کی لاشیں گرتی رہیں گی۔

 

حصہ

جواب چھوڑ دیں