رودادِ حج

حج کے کتنے ہی سفرنامے پڑھ لیے جائیں اور کتنی ہی رودادیں سن لی جائیں مگر اس کا ذاتی تجربہ بلاشبہ انسان پر ایک نئے عالم کو منکشف کرتا ہے۔ اللہ کے فضل سے اس بار ہمیں بھی اس فریضے کی ادائیگی کی سعادت نصیب ہوئی۔ سرکاری حج اسکیم کے تحت جانے والے عازمین پچھلے سال ہماری وزارت حج کے کارناموں کے سبب جن روح فرسا مشکلات سے گزرے تھے ، جن کی وجہ سے سابق وزیر مذہبی امور کئی ماہ سے عدالتی احتساب کا سامنا کر رہے ہیں اور ضمانت پر رہائی پانے میں بھی اب تک کامیاب نہیں ہوسکے ہیں، اس کی تفصیلات سے سب ہی واقف ہیں۔ پھر بھی چادر کے مطابق پاؤں پھیلانے کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ہم نے سرکاری اسکیم ہی کے تحت سفر کافیصلہ کیا اور درخواست جمع کرادی۔چند ہفتوں میں درخواست کی منظوری کی اطلاع آگئی جس کے بعد انتظار کا کٹھن مرحلہ شروع ہوا۔
شہنشاہِ کائنات کی میزبانی سے مستفید ہونے کے شوق کے ساتھ ساتھ یہ اندیشے بھی پریشان کررہے تھے کہ اگر ہماری حکومت کے انتظامات اس بار بھی گزشتہ سال ہی کی طرح مثالی ہوئے تو نہ جانے قطرے پہ گہر ہونے تک کیا گزرے گی، مگر اس حوالے سے پہلا حیرت انگیز واقعہ وزارت حج کی جانب سے اس مضمون کے خط کی وصولی کی شکل میں رونما ہوا کہ آپ کے لیے رہائش گاہ چونکہ اُس رقم سے کم میں دستیاب ہوگئی ہے جو اس مقصد کے لیے رکھی گئی تھی اس لیے 510 ریال کے بقدر رقم پاکستانی کرنسی میں آپ کو واپس کی جارہی ہے‘ پھر یہ رقم پے آرڈر کی صورت میں مل بھی گئی۔ ہماری کرپشن زدہ سرکاری مشینری کے عمومی کلچر کے بالکل برعکس یہ واقعہ ہمارے لیے خوشگوار حیرت کا سبب بنا۔ ہمارے حج گروپ کے ایک ساتھی نے گوگل ارتھ پر سرچ کرکے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں جو رہائش گاہ ہمارے لیے حاصل کی گئی ہے وہ حکومتی یقین دہانی کے مطابق دو کلومیٹر کے اندر نہیں بلکہ اس سے دگنے سے بھی زیادہ فاصلے پر ہے ۔اس انکشاف سے رقم کی واپسی کا اصل سبب واضح ہوگیااور اس کے ساتھ ہی یہ فکر بھی شروع ہوگئی کہ کم و بیش پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے حرم آمد و رفت کیسے ہوگی، پیدل چلنا پڑے گا یا ٹیکسی والوں کو منہ مانگے پیسے دے کر یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا۔ پندرہ عازمین پر مشتمل ہمارے گروپ میں ہماری اہلیہ سمیت چھ خواتین بھی شامل تھیں جن کے لیے یہ فاصلہ پیدل طے کرنا یقیناًبہت مشکل تھا۔اس کے ساتھ ساتھ باکمال لوگوں کی لاجواب پروازوں کا حال زار بھی ہمیں تشویش میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔ چنانچہ جب پتہ چلا کہ ہمیں سعودی ایئرلائن سے جانا ہے تو اپنی تمام تر حب الوطنی کے باوجود ہم نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے قومی ایئرلائن کے چنگل میں پھنسنے سے بچالیا۔
انتیس اکتوبر کی شام سعودی ایئرلائن کی ہماری پرواز ٹھیک وقت پر کراچی سے روانہ ہوئی اور شیڈول کے عین مطابق ہمارا جہاز چار گھنٹے بعد نو بجے شب جدہ ایئرپورٹ پراترگیاجہاں دنیا بھر سے ہر لمحے عازمین جوق درجوق پہنچ رہے تھے ۔ سامان کی وصولی، امیگریشن کی متعدد طویل قطاروں کے سر ہونے اور پھر مطوف کی طرف سے فراہم کردہ بس میں بیٹھنے تک کئی گھنٹے صرف ہوئے جبکہ مکہ مکرمہ میں اپنے ہوٹل تک پہنچتے پہنچتے فجر کا وقت ہوگیا۔ گزشتہ سال سرکاری اسکیم کے تحت آنے والے پاکستانیوں کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس کے پیش نظرخدشہ تھا کہ ہمارے قیام کا انتظام کہیں کسی زیر تعمیر عمارت میں نہ کیا گیا ہو مگر پتہ چلا کہ ایک صاف ستھرے اور تمام ضروری سہولتوں سے آراستہ ہوٹل کی گیارھویں منزل پر ہمارے گروپ کے لیے چار کمروں پر مشتمل ایک سوٹ کے تین کمرے مختص کیے گئے ہیں۔ چنانچہ ایک کمرہ خواتین کے حوالے کردیا گیا اور باقی دو میں مردوں نے اپنا ڈیرہ جمایا۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہوٹل کی پہلی منزل پر پاکستانی حج مشن کا دفتر ہے اور مشن کی جانب سے عازمین کے مفت علاج کے لیے پاکستانی ڈاکٹر بھی اسی منزل پر موجود ہیں۔توقعات کے برعکس اپنی حکومت کے ان انتظامات پر حیرت آمیز مسرت ہوئی اور ہم نے خدا کا شکر ادا کیا۔
طویل سفر، شب بیداری اور تکان کے باوجود سارے ہی ساتھی بیت اللہ میں حاضری کے لیے بے چین تھے، حالت احرام میں ہونے کی وجہ سے عمرے کی جلد ادائیگی بھی مطلوب تھی لہٰذا نماز اور ناشتے سے فارغ ہوکر ہمارا پورا گروپ حرم جانے کے لیے پیدل نکل کھڑا ہوا مگر کچھ ہی دور چل کر معلوم ہواکہ ہوٹل سے حرم لے جانے والی بسوں تک پہنچانے کا انتظام ہماری وزارت حج نے کسی کرائے کے بغیر کیا ہے جبکہ اس سے آگے سعودی حکومت کی جانب سے بسوں کے ذریعے مفت حرم تک لے جائے جانے کا بندوبست ہے۔اس طرح یہ پریشانی بھی دور ہوگئی کہ قیام مکہ کے دوران ہوٹل سے حرم تک پانچ کلومیٹر کا فاصلہ کیسے طے ہوا کرے گا اور خوشی ہوئی کہ ہماری حکومت نے اپنے عمومی رویے کے برعکس کم ازکم حج کے معاملے میں پچھلے سال کی بدنامی اور رسوائی سے سبق سیکھا ہے اور اس بار اس کے ازالے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مناسک حج کے آغاز سے پہلے کے ان پانچ سات دنوں میں حرم میں ہر روز حاضری کا سلسلہ جاری رہا۔
آٹھ ذی الحجہ کی صبح سے بارہ ذی الحجہ شام تک منیٰ میں لاکھوں خیموں پر مشتمل بستی بسنے، عرفات کے میدان میں اللہ کے دیوانوں کی والہانہ آہ و زاری اور دعاؤں، مزدلفہ کے پہاڑوں کے دامن میں شب بسری پھر منیٰ واپسی ، رمی جمرات ، قربانی ، حلق و قصر اور طواف زیارت و سعی کے مراحل طے ہوئے اور یوں دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے لاکھوں زائرین کا حج مکمل ہوا۔ سخت مشقت پر مشتمل اس عبادت کے بے شمار حیرت انگیز پہلو ذاتی تجربے ہی سے سامنے آتے ہیں جو اس تاثر کی مکمل نفی کرتے ہیں کہ آج کے دور میں حج بس ایک قسم کی پکنک اور تفریح بن کر رہ گیا ہے۔ جو شخص مسلسل پانچ دن مشاعر مقدس کے درمیان لاکھوں انسانوں کے تند و تیز سیلاب میں جان ہتھیلی پر لیے میلوں تک تنکے کی طرح ڈوبتے ابھرتے چلے جانے ، منیٰ میں انسانوں سے لبالب بھرے خیموں میں صرف ڈیڑھ فٹ چوڑے گدوں پر کئی راتیں گزارنے اور حوائج ضروریہ سے فراغت کے لیے دن رات میں کئی بار باتھ روموں پر بیس بیس امیدواروں کی قطاروں میں اپنی باری کا صبر و تحمل کے ساتھ انتظار کرنے کے تجربات سے گزرچکا ہو، وہ حج کو ہرگز پکنک نہیں کہہ سکتا۔ اس کے برعکس عملی تجربے سے گزرنے کے بعد وہ حج کو ایک ایسی جامع عبادت کی حیثیت سے جان لیتا ہے جو سرکش انسانی نفس کو خالق کی مرضی کے تابع کرنے ، خود غرضی سے باز رکھنے، دوسرے انسانوں کے لیے ایثار و قربانی پر آمادہ کرنے، اور بہت سی خلاف طبیعت باتوں کو برداشت کرکے بھی دوسروں کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے کا ہنر سیکھنے کا بے مثال تربیتی کورس ہے۔ مختلف زبانیں بولنے، مختلف لباس پہننے، مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے دنیا کے ہر خطے سے حج میں شامل لاکھوں انسان کس طرح اپنے رب کی بندگی اور اسے راضی کرنے کے ایک ہی جذبے سے سرشار ہوتے ہیں اور اپنے نفس کے تقاضوں سے بالاتر ہونا سیکھ لیتے ہیں، اس کا ثبوت یہ حقیقت ہے کہ لاکھوں انسانوں کے سیلابی ریلے میں اگرچہ لوگ سخت تکلیفیں اٹھاتے ہیں مگر کہیں کوئی دنگا فساد نہیں ہوتا، باہمی تصادم اور مارپیٹ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آتا، حتیٰ کہ گالم گلوچ تک کے مناظر کہیں دکھائی نہیں دیتے، کہیں تند جملوں کا کوئی تبادلہ شروع بھی ہوجائے تو اول تو وہ بہت جلد خود ہی ختم ہوجاتا ہے ورنہ اسے روکنے کے لیے محض یہ کہنا کافی ہوتا ہے کہ حاجی صاحب اپنے حج کو کیوں ضائع کررہے ہو۔ باتھ روموں، وضو خانوں اورچائے کے اسٹالوں وغیرہ پر اگر لوگ بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قطار بندی کی خلاف ورزی کو کوشش کریں تو انہیں محض یہ احساس دلاکر روکا جاسکتا ہے کہ اللہ کے مہمانوں کو دھاندلی زیب نہیں دیتی۔
مزاجوں میں یہ کیفیت اس لیے پیدا ہوتی ہے کیونکہ حج انسان کو اپنے رب کے سامنے مکمل طور پر سرتسلیم خم کردینا سکھاتا ہے۔ انا کے سارے بت اُس وقت پاش پاش ہوجاتے ہیں اور اسٹیٹس کا خناس زمین میں گہرا دفن ہوجاتا ہے جب ایک حاجی شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے بعد سڑک کے کنارے بیٹھ کر سرمنڈاتا اوراس طرح اعلان کرتا ہے کہ اس نے اپنے رب کی مرضی پر اپنی ہر پسند و ناپسند کو قربان کردیا ہے۔بلاشبہ اسلامی تاریخ کے اولین ادوار میں حج کا ادارہ کہیں زیادہ نتیجہ خیز تھا مگر اس گئے گزرے دور میں بھی جس میں اقبال کے نزدیک محض ’’طواف و حج کے ہنگامے‘‘ باقی رہ گئے ہیں، حج کا ادارہ نفس کی پوجا اور انا پرستی کے خاتمے کے لیے نہایت مؤثر ہے اور یہی وہ بلائیں ہیں جو انسانی معاشروں میں چھوٹے بڑے نمرودوں ادر فرعونوں کو جنم دیتی اور انہیں جہنم بنانے کا سبب بنتی ہیں۔ حج کے عمل کو مسلمان معاشروں کی اصلاح و بہتری کے حوالے سے زیادہ مفید بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے آخری عمر پر اٹھارکھنے کے بجائے نوجوانی میں ادا کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ اس تربیتی کورس سے گزر نے والوں میں وہ لوگ بڑی تعداد میں ہوں جنہیں اپنے اپنے معاشروں کی تعمیر میں حصہ ادا کرنا ہے۔دنیا کے اکثر ملکوں سے آنے والے عازمین میں اکثریت ہوتی بھی نوجوانوں ہی کی ہے مگر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش وغیرہ سے عام طور سے اتنے بوڑھے اور ضعیف لوگ آتے ہیں جن کے لیے حج کے پرمشقت مناسک کی ادائیگی نہایت مشکل ہوتی ہے۔ ان لوگوں کو سنبھالنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے خاندان کے نوجوان افراد بھی ان کے ساتھ آنے کی کوشش کریں۔جہاں تک سعودی حکومت کے انتظامات کا تعلق ہے تو اس کی کوششیں یقیناًلائق تحسین ہیں۔ خصوصاً اس بار کیا جانے والا مونو ٹرین کا تجربہ نہایت مفید رہا ہے اور پروگرام کے مطابق اس نظام کی توسیع آئندہ برسوں میں حج کے انتظامات میں ان شاء اللہ نمایاں بہتری کا سبب بنے گی۔

(  2011 کی ایک ایک تحریر  )

حصہ
ثروت جمال اصمعی ایک کہنہ مشق صحافی اور کالم نگار ہیں۔انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز روزنامہ جسارت سے کیا،جسارت میں بحیثیت اسسٹنٹ ایڈیٹر اور میگزین ایڈیٹر رہے۔ہفت روزہ تکبیرکے مدیر شہیدمحمد صلاح الدین کے ساتھ معاون مدیر بعد ازاں مدیر کے حیثیت سے کام کیا۔ہفت روزہ فاتح کے بھی مدیر رہے۔ان دنوں روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

جواب چھوڑ دیں