روح تعلیم

کسی بھی ملک وقوم کی ترقی کا انحصار اس کے تعلیمی نظام پر ہوتا ہے۔خوشحال معاشرے کی تشکیل میں بلند معیا ر تعلیم ،اچھے مدارس اور بہترین اساتذہ کا اہم کردار ہوتاہے۔لیکن وہ معاشرہ جہاں تعلیم کو قانونی طور پر تجارت کا موقف حاصل ہو اور مدارس کو طبقاتی نظام کی بنیادوں پر قائم کیا جائے وہاں صحت مند جمہوری نظام کی کس طرح توقع کی جا سکتی ہے۔ہمارا تعلیمی نظام طبقاتی کشمکش کی منہ بولتی تصویر ہے۔غریبوں وناداروں کے لئے محدود وسائل بلکہ کثیر المسائل مدارس،متوسط و درمیانی طبقے کے لئے ادنی خانگی اسکولس اور دولت مندوں کے لئے اعلی و بہتر کار پوریٹ تعلیمی نظام۔تعلیمی نظام کا یہ فرق ہمارے منقسم اور زوال پذیر معا شرے کی اعلی مثال ہے۔غریب طبقہ کے لئے سرکاری مدارس کا جال تو موجود ہے لیکن تعلیمی ما حول اور تعلیمی ضروریات کی فراہمی وتکمیل میں ارباب مجاز نا کام ہو چکے ہیں ۔ مدارس کو وسائل کی فراہمی و تکمیل حکومت کے لئے اگرچہ ایک معمولی کام ہے ا ور حکومت یہ معمولی کام انجام دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ان مدارس سے غیر معمولی افراد کا ظہوریقینی ہے۔حیدرآباد فرخندہ بنیاد کے حکمرانوں سے ایک نہایت ہی اعلی اور مثالی تعلیمی نظام وراثت میں ہم کو ملا تھا لیکن اس نظام کو مزید ترقی دیناتو در کنار اس نظام کو ہماری حکو مت سنبھال تک نہ سکی۔شہر حیدرآبا د میں سر کاری اعلی تعلیمی اداروں کا ایک مبسوط جا ل بچھا ہواتھا غریب اورامیرایک ہی مدرسہ میں تعلیم حا صل کر تے تھے لیکن یہ ان دنوں کی بات ہے جب تعلیم کو عبادت سمجھاجاتاتھااور اسے تجارت کا درجہ حاصل نہیں ہوا تھا۔�آج سرکا ری اسکولس کے جائزے سے ایک سوال ذہن میں ابھرتاہے کہ ماضی میں ہم ترقی یافتہ تھے یا آج ہم تر قی کی منازل طئے کر رہے ہیں۔ دو تاتین کمروں پر مبنی یہ اردو مدارس کس طرح اردو قوم کو ایک صحت مند تعلیمی ما حول فراہم کر سکتے ہیں اساتذہ کی قلت کے ہوتے ہوئے ملک کی تر قی ایک خام خیالی نہیں تو اور کیاہے۔ ۱۰۰گز پر مبنی 10/10 کے رقبے پر محیط دو تین کمروں کے مدارس جن کی دبتی ہو ئی اس بسطاس کی چھت مو سم گر ما کے آغاز سے ہی ا پنی قہر سامانیوں کانظا رہ پیش کر تی ہے وہیں بارش میں ٹپکتی ہو ئی یہ چھتیں بچوں کو حفظ ما تقدم کی تعلیم بھی بدرجہ اتم دیتی نظر آتی ہیں۔ ان مدارس کے طلباء کے لئے رحمت باراں بھی کسی عذاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔الغرض طلباء تعلیم حاصل کر یںیانہ کر یں موسم کی ستم ظریفوں کوسہنے کے ضرور عادی ہوجا تے ہیں۔ پانی ، بجلی کی سربراہی اور بیت الخلاء کی جھنجھٹ سے یہ مدارس بالکل آزاد ہیں۔ میدان کی عدم موجودگی کی بنا ء پر فزیکل ایجوکیشن ٹیچر کا تقرر بھی بے فیض ہے۔ پانچ جماعتوں کے لئے ایک یادو اساتذ ہ کا تقرر حکومت کی کفایت شعاری کا غماز ہے۔ کسی بھی ملک کی تر قی میں سیاستداں اہم کردار انجام دیتے ہیں۔پالیسی ساز( بیوروکیٹس) افراد کا ملک کے اعلی ترین تعلیم یافتہ طبقے میں شمار ہو تا ہے۔ان کا تقرر ملک و قوم کی بہتری کے لئے کیا جا تاہے۔انھیں کی مرتب کردہ پالسیوں پر ملک کی تعمیر ہو تی ہے۔عدلیہ میں خدمت انجام دینے والے منصف دانشوران کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ ملک میں امن و امان کی بر قراری اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔وکلاء عدلیہ کے معاون ہونے کے سا تھ کسی بھی مسئلہ کی تہہ تک پہنچنے کی مہارت رکھتے ہیںیہ اپنے دلائل سے جھوٹ اورمکر و فریب کا ابطال کرتے ہیں اسی لئے یہ صداقت و حقانیت کے علم بردار کہلاتے ہیں۔انسانی زندگی کی نگہداشت اور اس کے علاج معالجے کے لئے ڈاکٹر ز کا ہو نا اشد ضروری ہے اور ڈاکٹرس کو معاشرے میں بہت ہی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔مبصرین و صحا فی سماجی برائیوں کے انسداد اپنا گرانقدر عملی تعاون پیش کرتے ہیں۔عوام تک حق و سچ پہنچانا ان کا اولین فر یضہ ہوتا ہے۔ مذکورہ افراد کا معاشرے کے اعلی تعلیم یافتہ افراد میں شمار ہوتاہے اور یہ اعلی عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔لیکن یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ یہ افراد رشوت خوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔عوامی املاک کی ہیرا پھیری کے ذریعہ سیاستداں ا پنی دولت میں روز بہ روز ا ضافہ کرتے جا رہے ہیں ان کی بدعنوانی پر کبھی کو ئی مقدمہ بھی دائر ہو تا ہے تویہ عدالتوں سے اپنی بے گناہی کا سرٹیفیکٹ لینے میں کا میاب ہو جا تے ہیں۔صحافی سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کر رہے ہیں اور اپنی دلفریب داستانوں سے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ ڈاکٹرس کا حال بھی ان افراد سے کچھ مختلف نہیں ہے یہ اپنی خطیر فیس کے ذریعہ عوامی زندگیوں کے لئے ایک خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ججس کی رشوت خوری کی خبریں بھی اب اخبارات کی زینت بننے لگی ہیں۔وکلا برادری سچ کی وکالت میں پس و پیش کا شکار ہے۔
مذکورہ افراد کا جا ئزہ لیا جا ئے تو ان میں ایک با ت مشترک ہے اور وہ یہ کہ یہ سب کے سب اعلی تعلیم یا فتہ ہیں۔ان تمام خرافات کے پیچھے اگر کو ئی عنصر کار فر ما ہے تو وہ ان کی اپنی تعلیم کی خرا بیاں ہیں۔ مختصرا کہا جا سکتا ہے کہ یہ ہمارے تعلیمی نظام کا نقص ہی ہے جو ایسے رشوت خور،مفاد پرست ،خود غرض ،بے ایمان اور غیر اخلاق افرادکو وجود میں لا رہا ہے۔ان لوگوں نے تعلیم تو حا صل کی لیکن حقیقی تعلیم او ر روح تعلیم سے یہ نا آشنار ہے ۔دانشوررابرٹ ہیچن سن کے قول کے مطابق تعلیم خطر ناک ہو تی ہے اور اس کو غیر خطر ناک (بے ضرر)بناناایک مشکل کام ہے۔ کثرت سے ماہرین تعلیم اس با ت کی تائید کر تے ہیں کہ مادیت پرست نظام تعلیم و تدریس کے بجائے طلباء کو تعلیم کی حقیقی روح اور اس کی غرض و غایت سے روشنا کر وایاجائے تاکہ دنیا کو امن و امان نصیب ہو۔حقیقی تعلیم یافتہ اور نیم تعلیم یافتہ افراد میں واضح فرق ہوتا ہے۔نیم تعلیم یافتہ افراد سے مراد وہ لو گ ہیں جو بظاہر تو تعلیم یافتہ نظر آنے ہیں لیکن در حقیقت یہ روح تعلیم سے بالکل نا واقف ہو تے ہیں۔ یہ تعلیمی میدان میں کسی ایک زمرے میں مہارت حا صل کرلیتے ہیں اور اسی میدان یا زمر ے کو تعلیم سے تعبیر کرنے لگتے ہیں جو ان کی زندگی کو آسودہ بنادے اور ان کی زندگی میں دولت کی ریل پیل ہو جائے۔در اصل یہ ایک مادہ پرست تعلیم کا حقیقی چہرہ ہے جس کو آج غلطی سے زمانہ حقیقی تعلیم سمجھ بیٹھا ہے۔ اور یہ نظریہ بیشتر ماہرین تعلیم کے نظریات کے منافی ہے۔ سر سید کے مطابق ” کسی شخص کو تعلیم دینے کا مقصد یہ ہے کہ اس کی فطری صلاحیتوں کا تجزیہ کر کے اس کو صحیح راستہ پر ڈالا جائے۔تعلیم دینا در حقیقت کسی چیز کا باہر سے ڈالنا نہیں بلکہ بچے میں کا ئنات و فطرت کی سمجھ کے ساتھ ساتھ بصارت بھی پیدا کر نا ہے اور اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ زندگی میں اپنی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکے۔” حقیقی تعلیم ایک مکمل انسان کی تعمیر و تشکیل کا نام ہے جبکہ مروجہ تعلیم( جسے اطلاعاتی تدریس کہنا ہی درست ہے) طلباء کی شخصیت سازی جیسے اہم پہلو کو پس پشت ڈالتے ہوئے کسی ایک فن یا مضمون میں مہارت حا صل کر نے کا نام ہے۔اچھی تدریسی کے نتیجے میں ایک اچھا فوجی،بڑھئی،پینٹر ،وکیل،میکانک،پتھالوجسٹ،ڈاکٹر ،انجینیر،چارٹیڈ اکاؤ نٹس تو پیدا کرنے میں ہم یقیناًکامیاب ہو جائیں گے لیکن اگرروح تعلیم سے ان کو نا بلد رکھا گیا تو یقیناًیہ مفاد پرست ،خود غرض اور مادہ پرست انسان ہی بنیں گے۔ نہ صرف اعلی تعلیم یافتہ پیشہ ور حضرات روح تعلیم سے نا آشنا ہو سکتے ہیں بلکہ ایک اچھا شاعر ایک اچھا آرٹسٹ جو ایک حسا س دل و دماغ کا مالک ہو تا ہے اس کے باوجود وہ روح تعلیم سے عدم آگہی کی بدولت اپنے خاندان ،پڑوسیوں اور معا شرے کے تئیں اپنے فرائض کو جان بوجھ کر نظر انداز کر تاہے۔ہمارا معاشرہ گواہ ہے کہ کس طرح سے دانشوری کا چغہ پہننے والوں نے انسانیت کو داغدار کیا۔اس کی اہم وجہ بھی ہمارا تعلیمی نظام ہی ہے جو جنسی تعلیم کو تو رواج دینا چاہتاہے لیکن ماد ہ پر ستی کی عفریت سے گلو خلاصی میں عاجز نظر آتا ہے۔اچھے تعلیمی نظام کا کام کامیاب پیشہ وار افراد کو تیار کرنا ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ اچھے ذمہ دار انسان شہری تیار کرنا بھی تعلیم کا اہم مقصد ہے۔چند تعلیمی زمروں (مضامین )میں بہترین استعدادوں کے حامل لوگوں کو ان کی سماجی بے حسی کے سبب حقیقی طور پر تعلیم یافتہ نہیں کہا جا سکتا ۔ بلکہ یہی وہ نیم تعلیم یافتہ طبقہ ہے جسے خو د کے تعلیم یافت پر ناز ہے۔ ا س کے بر خلاف ایک شخص جو تعلیمی زمرے میں ید طولی تو نہیں رکھتا ہو پھر بھی اپنے خاندان ،پڑوسیوں اور معاشرے کے تئیں اپنے فرا ئض اور ذمہ داریوں کو ٹھیک طریقے سے نبھانے کے علاوہ جائز طریقے سے حلال روزی کماکر ایک پر سکون زندگی گزار تاہے۔فی الحقیقت یہی انسان تعلیم یافتہ کہلانے کے لائق ہے کیو نکہ اس کی کسی تعلیمی زمرے میں مہارت نہ ہو نے کی وجہ سے سماج کو کو ئی گزند نہیں پہنچی اور نہ اس نے اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کو پا مال ہونے دیا۔
آج کے تعلیمی نظام کی بنیادی کمزوری مادی نظریات پر توجہ اوراخلاقی و روحانی اقدار سے دوری ہے۔اس غفلت و لاپرواہی کا لازمی نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بچے خود غرض ،نا فرمان ،بد اخلاق ،بے ایمان اور رشوت خور نکل رہے ہیں۔یہ اچھائی اور برائی میں امتیاز کرنے والی میزان تھامنے کے بجائے ہر چیز کو نفع و نقصان کی ترازو میں تو ل رہے ہیں ۔حصول دنیا میں جائز طریقوں کے بجائے حرام راستوں کو اختیار کررہے ہیں۔آج کا تعلیمی نظام انسانی استحصال کو فروغ دے رہاہے۔یہ انسانی محبت ،مروت ،اخوت اور سماجی انصاف کے اصولوں سے یکسرنابلدہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کا نام نہاد تعلیم یافتہ شخص علم کے نام پر ایک بد نما داغ بن چکاہے۔ فرائض سے لاپرواہی بر تنے والے ٹیچر،ڈاکٹر،انجینئر، بیورو کریٹس، منصف،وکیل اور دیگر پیشوں سے وابستہ افراد کی ایک بڑی تعداد سماجی انصاف اور انسانیت کی بقاء کے لئے ایک مستقل خطرہ بن گئے ہیں۔بقول جگر مرادآبادی
اہل خرد نے وہ دن دکھائے گھٹ گئے انسان بڑھ گئے سائے
اگر ہم انسانی فلاح و بہبود چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ تعلیمی نصاب کو خوف خدا کی بنیادوں پر استوار کریں۔طلباء میں اس یقین کو جا گزیں کیا جائے کہ اللہ ہمارے ظاہر و باطن پر نظر رکھے ہوئے ہے۔نظام تعلیم کو اسلامی اصولوں پر تر تیب دیا جائے اگر حکومت یہ کا م انجام نہیں دے سکتی ہے تو اقلیتوں کو دستوری حقوق حاصل ہیں کہ وہ اپنا نصاب خود ترتیب دیں اور نام نہاد نیم تعلیم یافتہ گروہ سے سماج کو نجات دلایں۔اگر ہم اس مقصد کو حا صل کر لیتے ہیں تو یقیناًعدالتوں ،بازاروں اورزندگی سے وابستہ دیگر زمروں میں انصاف و عدل کے نقیب کہلانے کے ساتھ ساتھ اپنے دینی فریضہ ” انی جاعلن فی الارض خلیفہ ” کے مصداق بن جائیں گے۔

حصہ
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں