حکیم محمد سعید کا لہو ہم پہ  قرض ہے

اردو سے پہلی محبت روزنامہ جنگ میں روز چھپنے والی ٹارزن کہانی سے پیدا ہوئی اور پھر نونہال ، تعلیم و تربیت ، ساتھی اور ٹوٹ بٹوٹ نے ماہانہ بنیادوں پہ اسے پروان چڑھایا ” نونہال ” سے حکیم محمد سعید کا تعارف ہوا اور وہیں سے انکی دیگر کتب  جو سیرت نبوی و سیاحت سے متعلق تھیں ، دل میں گھر کر گئیں ۔

بہت حیرت ہوتی جب ہم پڑھتے کہ حکیم صیب دوپہر میں کھانا کھانے کے بجائے پھلوں پہ اکتفاء کرتے اسی طرح انکے سفر نامے ہمیں لمحوں میں امریکہ جاچان وغیرہ کی سیر کرادیتے ۔

یہ غالباً ترانوے کی بات ہے جب حکیم صیب  سندھ کے عبوری گورنر مقرر ہوئے ایک تعلیمی تقریب میں انکی آمد تھی اور مجھے اپنی ایک کلاس فیلو کیساتھ انہیں گلدستہ پیش کرنا تھا ، مجھے یاد ہے کہ اس شب میں صحیح طرح سے نہ سو سکا کیونکہ سویرے اس شخصیت سے مختصر ملاقات ہونا تھی جو بلاشبہ ہمارا ھیرو تھا ۔

گزشتہ دنوں زاہد علی خان صاحب کے گھر میں سجی ایک مجلس کے دوران کراچی کا رونا رویا گیا تو ڈاکٹر فیاض عالم صاحب نے یہ واقعہ سنا کر سب کو مزید دکھی کردیا کہ نوے کی دھائی کے ابتدائی برسوں میں انہوں نے ایک دن نائن زیرو کے باھر کرسی پہ  حکیم محمد سعید کو بیٹھے دیکھا اور خاصی دیر تک جب انہیں یوں عظیم قائد کی گلی میں انتظار کرتے دیکھا توالطاف  بھائی کے ایک عقیدت مند سے کہا کہ حکیم صاحب کوجانتے ہو جو انہیں یوں ذلیل کر رہے ہو ؟ جواب ملا ، جلدی کیا ہے جب ” بھائی ” کو فرصت ملے گی بلالیں گے ۔

حکیم صاحب بڑے انسان تھے ہماری خوش قسمتی کہ انہیں دیکھنے ملنے اور سننے کی سعادت ملی پھر آج ہی کے دن کئی برس پہلے ” نامعلوم افراد ” جاگو اور جگاؤ کا نعرہ لگانے حکیم صاحب کو صبح سویرے سلاگئے ، حکیم صاحب کی کریم کلر کی شیروانی لہو سے بھیگ گئی اور درجن بھر گولیاں انکا سینہ چاٹ گئیں ۔

گھر و شہر سے بزرگ قتل ہوکر  قبرستان آباد کرنے لگیں تو نئی نسل کو آسیب بھر ماحول ملتا ہے اور اسکا حتمی نتیجہ تباھی ۔

حکیم محمد سعید کا لہو ہم پہ  قرض ہے اور اسے چکانے کا راستہ وہی ہے جو شہید سمجھا گئے تھے ۔

جاگو اور جگاؤ ، پاکستان سے محبت کرو پاکستان کی تعمیر کرو  ۔

 

حصہ
فیض اللہ خان معروف صحافی ہیں۔۔صحافیانہ تجسس انہیں افغانستان تک لے گئی جہاں انہوں نے پانچ ماہ تک جرم بے گناہی کی سزا کاٹی۔۔بہت تتیکھا مگر دل کی آواز بن کر لکھتے ہیں۔کراچی میں ایک نجی ٹی وی چینل س وابستہ ہیں

1 تبصرہ

  1. خوب لکھا ہے لکھتے رہا کریں سماج پر آ پ کی گہری اور عمیق نظر ہے کراچی کے کئی سماجی مسائل اور ایشوز ہیں اس پر بھی قلم ااٹھائیں ۔جسارت بلاک نیا سلسلہ ہے اس میں منفرد تحریریں پڑھنے کو مل رہی ہیں جو اس کا امتیاز ہے۔

جواب چھوڑ دیں