تحصیل جتوئی کی تاریخی اور جغرافیائی پہچان

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کی 4تحصیلوں میں سے ایک تحصیل جتوئی ہے۔ جتوئی کی16 یونین کونسلیں ہیں۔ بنیادی طور پر جتوئی قبیلے کی وجہ سے جتوئی کا نام پڑا جو کہ بذات خود ایک طویل تاریخ ہے۔ جتوئی بلوچوں کے بڑے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ ہے۔ جتوئی قبیلہ بلوچستان، پنجاب اور سندھ میں بڑی تعداد میں موجود ہے۔ صوبہ سندھ کے ضلع و شہر نوشہروفیروز سے ملحق شہر نیو جتوئی اور پرانا جتوئی بھی بہت مشہور ہے اور یہاں کے جتوئی بھی کافی نام و مقام رکھتے ہیں۔تحصیل جتوئی کی آبادی غیر محتاط اندازے کے مطابق 7ملین ہے۔ ملحقہ علاقہ جات جھگی والا، میرانی ، سبائے والا ، پرمٹ چوک، شہر سلطان ، کلروالی ، قادر پور ، بکائنی ، بیٹ میر ہزار، لنڈی پتافی اور رامپور شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جتوئی شہر پہلے علی پور تحصیل میں شامل تھا۔
جتوئی ایک ذرخیز تحصیل ہے۔ شہریوں کے بڑے معاشی ذریعے صرف دو ہی ہیں۔ ایک ذراعت اور دوسرا مویشی پالنا۔ 90 کی دہائی تک تحصیل جتوئی کی بیشتر زرعی زمین سیم کی وجہ سے ناقابل کاشت رہی۔ ذراعت کی وجہ سے جتوئی کا نہری نظام بھی کافی منظم ہے۔ چودھری برادران کے دور حکومت میں پنجاب بھر میں نہری نظام بہت مظبوط اور پختہ ہوا۔ اسی منصوبے کے تحت جتوئی کی نہر کو بھی پکا اور نالیوں کو پختہ بنایا گیا۔ جس سے پانی ضائع اور چوری ہونے کے امکانات میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ جتوئی کو مرکزی تین نہریں سراب کرتی ہیں۔ جن میں سہراب نہر جو جتوئی شہر کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ لنڈا نالا جسے ماضی میں غلاظت سے پاک نہر کے طور پر جانا جاتا تھا تاہم اب آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ہی نہر کے پانی میں گٹر لائن ڈال دی گئی ہے ۔ یہ نہر جتوئی شہر کے مشرقی جانب واقع ہے۔ تیسری نہر سونی کے نام سے مشہور ہے۔ یہ جتوئی شہر کے مغرب کی جانب لنڈی پتافی کی جانب ہے۔
دریائے سندھ جسے انڈس ریور بھی کہا جاتا ہے وہ بھی جتوئی کے مغرب کی جانب سے مظفر گڑھ کی جانب سے آتا ہے اور جتوئی کے مغربی جانب سے ہوتا ہوا صوبہ سندھ کی طرف نکل جاتا ہے۔ دریا سندھ بنیادی طور پر ایک چین سے آتا ہے اور پنجاب کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا یہ دریا جتوئی کے پاس سے گزرتا ہے سندھ میں ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب یعنی سمندر میں جاگرتا ہے۔ جتوئی کے مغربی جانب دریا ئے جہلم واقع ہے۔


دونوں دریاؤں کے بیچوں بیچ یہ تحصیل ملکی نظام سے بالکل ہٹ کر ہے۔ جتوئی اگرچے ایک بڑے روٹ کے درمیان واقع ہے تاہم تحصیل کی حدود میں وہ روٹ تو آتا مگر شہر سے کوسوں دور سے بائی پاس ہوتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اگر بہاولپورکی جانب سے کوئی مظفر گڑھ یا ڈیرہ غازی خان جانا چاہے تو وہ اس روٹ کا استعمال کرتا ہے۔ مگر علی پور سے ہوتے ہوئے پرانا چوک پرمٹ اور موجودہ نصیرآباد چوک سے ہوتے ہوئے مظفر گڑھ کی جانب نکل جاتا ہے۔ اس طرح اگر شاہ جمال والا روڈ بھی جائیں تو بھی گرڈ چوک سے بغیر کسی اسٹاپ کے گاڑی نکل جاتی ہے تاہم یہ روڈ ون وے کے طور پر اپنی خدمات پیش کر رہا ہے۔ اس وجہ سے نہ صرف اس تحصیل کو گم نامی کا سامنا ہے بلکہ کسی معروف روٹ یہاں سے نہ گزرنے کی وجہ سے اس تحصیل کو کسی بھی قسم کا کوئی بزنس نہیں ملتا۔ یہ تحصیل اپنی طور پر جو کھیتی باڑی کرتی ہے اس پر ہی تمام تر نظام زندگی چلتا ہے۔
بہاولپور اور خان پور سے آنے والی ٹرانسپورٹ اگر راجن پور یا ڈیرہ غازی خان کی طرف جانا چاہیے تو ٹرانسپورٹ موجودہ صورتحال میں جتوئی شہر سے گزرنے کے بجائے بائی پاس ہوتی ہوئی پہلے مظفر گڑھ جائے گی پھر دریائے سندھ کے پل سے گزرتی ہوئی سیدھی ڈیرہ غازی خان جائے گی۔ اس طرح وہیں سے یہ ٹرانسپورٹ سخی سرور اور داجل، جام پور کی طرف جائے گی۔ اس لحاظ سے یہ روٹ کافی طویل ہوجاتا ہے تاہم کبھی حکومتوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس روٹ کے استعمال کرنے پر مجبور کرنے کی بجائے جتوئی سے ایک ڈبل روڈ نکالا جائے جو دریائے سندھ سے ہوتا ہوا سیدھا ڈیرہ غازی خان جائے۔ اگر یہ روٹ نکال لیا جائے تو یقیناًآدھا سفر اور فیول اس روٹ سے بچایا جاسکتا ہے۔ اس طرح سے جتوئی کو بھی ایک اچھا خاصا بزنس مل جاتا۔ تاہم جتوئی کی فلاح اور ترقی کا بھلا کوئی کیوں سوچے گا۔ سب کو روپیہ پیسا مل جاتا ہے اور اس سے ان کے کام چل جاتے ہیں۔


اگر اس روٹ کو لودھراں سے نکالا جاتا تو یہ روٹ جلال پور پیر والا سے ہوتا ہوا دریائے جہلم (پتن) پر پل بنا کر اسے چوک پرمٹ سے گزارتے ہوئے سیدھا جتوئی اور پھر جتوئی سے دریائے سندھ پر پل سے گزارتے ہوئے ڈیرہ غازی خان لایا جاتا تو یقیناًآدھے سے بھی کم ٹائم اور فیول میں یہ سفر اس قدر آسان ہوجاتا ہے۔ مگر بات وہیں ہے کہ یہ سب کوئی کیوں کرے گا۔ اگر تصور کیا جائے کہ یہ روٹ بن جاتا تو جنوبی پنجاب میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والا شہر جتوئی ہوتا اور سب سے بہترین روٹس میں سے یہ روٹ ہوتا۔ اب اسی روٹ کو نیشنل یعنی علاقائی سطح سے نکال کر قومی سطح پر دیکھا جائے تو یہ روٹ سندھ کو پنجاب سے گزارتے ہوئے بلوچستان اور خیبرپختونخوا تک رسائی دیتا۔
یہ تو تھی روٹس کی بات اب اگر شہر کی انتظامی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو جتوئی میں ترقیاتی کام تو کبھی سننے کو نہیں ملے۔ ایک مرتبہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے شہر میں سیوریج کے نظام پر کچھ کام شروع کیا تو گیا تاہم نہر سہراب اور جھگی والا روڈ کی اطرف اور بیچوں بیچ کھدائی کرکے وہ کھڈے ویسے کے ویسے ادھوری حالت میں پڑے رہ گئے اور آج تک سیوریج کا نظام مکمل تو کیا وہ کھڈے بھی واپس بھرنے کوئی نہیں آیا۔ ایک طرف سیوریج کا نظام انتہائی بری حالت میں ہے تو دوسری طرف شہر بھر کا سیوریج جتوئی کی مین نہر سہراب میں گھرتا ہے۔ اس لحاظ سے پورا شہر بدبو کی زد میں ہی رہتا ہے اور پھر یہیں پانی کھیتوں کے لیے کسانوں کو میسر آتا ہے جو ان کی صحت کے لیے بھی خطرناک ہوسکتا ہے۔


شہر کے اندرونی اسٹرکچر کی حالت تو ناگفتہ بہ ہے ہی تاہم جھگی والا روڈ کی حالت بھی اپنی کسمپرسی کا رونا رورہی ہے۔ جتوئی کی سبزی منڈی بھی جھگی والا روڈ پر واقع ہے۔ جھگی والا روڈ جتوئی کے لیے ایک اہم ترین روڈ کے طور پر اپنی سفری خدمات تو پیش کر رہا ہے تاہم پہلی بار بننے کے بعد شاید ہی اس پر کبھی کوئی کام ہوا ہو۔ روڈ کی حالت یہ ہے کہ وہاں پر سائیکل سوار کا گزرنا بھی محال ہے۔ تاہم اس پر کراچی ، لاہور اور اسلام آباد کے بڑے بڑے کوچز اور بسیں چل رہی ہیں۔ ایک طرف روڈ کی حالت یہ ہے کہ وہاں پر حادثات کسی بھی وقت ہونے کے لیے تیار رہتے ہیں اور دوسری بھاری ٹرانسپورٹ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جس پر آج تک نہ تو کسی پرائیویٹ اور نہ سرکاری سطح پر کام کیا گیا اور نہ آئندہ کے کسی پروجیکٹ کا حصہ یہ روڈ ہے۔
جتوئی کی تاریخی حیثیت پاکستان کے قیام سے قبل کی ہے۔ انگریز دور کا یہ ایک تاریخی شہر ہے جس میں آج بھی بھارت کے صوبہ راجھستان اور ہریانہ سے تعلق رکھنے والوں کے خاندان یہاں بسے ہوئے ہیں۔ یہ نہ صرف اس دور کی عمارتیں بھی ابھی تک یہاں موجود ہیں بلکہ آدھے شہر پر رنگڑوں کی آباد کار موجود ہیں اور بازار میں انہیں کی دکانیں ہیں۔ اگر یوں کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا کہ بازاری نظام دیہی نظام کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو بازاری نظام راؤ ، رانا اور راجپوتوں کے پاس ہے۔ اس لحاظ سے بنیے والا دماغ اور راجوں والی سوچ اب بھی جتوئی کے بازاروں اور گلی کوچوں میں دیکھائی دیتی ہے۔
جتوئی شہر میں تعلیم کا نظام سرکاری و نجی لحاظ سے کافی مضبوط اور منظم ہے۔ ہائی اسکول گزلز اور بوائے بھی موجود ہے۔ دونوں اسکول تاریخی اعتبار سے بہت پرانے ہیں۔ اسکولز میں جھگی والا، شاہجمال، لنڈی پتافی، شاہر سلطان تک سے طلبہ و طالبات یہاں سے پڑھ کر ملکی ستارے بن چکے ہیں۔ ہائی اسکول فار بوائز تاریخی اسکول جس وقت اس ایک تعلیمی عمارت کے علاوہ کوئی دوسری تعلیمی عمارت نہیں ہوا کرتی تھی۔ دونوں ہائی اسکول چھوٹا شہر میں واقعے ہیں۔ یہ چھوٹا شہر شہریوں کی اپنی اندرونی تقسیم ہے۔ چھوٹا شہر اسپتال روڈ سہراب نہر سے شروع ہوتا ہے مین بازار تک رہتا ہے۔


انگریز دور میں اس اسکول کی عمارت کچی ہوتی تھی۔ ہائی اسکول چکور انداز میں بنایا گیا تھا۔ یعنی چار اطراف میں اس کے کمرے ہوا کرتے تھے۔ ہر کمرے کے عقب میں لوہے کے دروازوں کی ایک کھڑکی ہوا کرتھی ۔ اس کھڑی کی دوسری جانب ایک طرف جتوئی کا پرانا تھانا اور دوسری جانب جتوئی کا پرانا اسپتال ہوا کرتا تھا۔ اس وقت کے پولیس اہلکار ہندو اور مسلم دونوں ایک ساتھ ہی اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے تھے اور آج کے سر، ٹیچر کی جگہ اس وقت کے ماسٹر اور مولوی کہا جاتا تھا جبکہ پولیس اہلکار سمیت دیگر سرکاری محکموں پر تعینات افراد ان پڑھ ہوا کرتے تھے۔ جس دور میں یہ عمارت کچی ہوا کرتی تھی اس وقت کے اساتذہ کے دل طلبہ کو تعلیمی زیور سے آراستہ کرنے کے لیے اس قدر پختہ ہوا کرتے تھے کہ چھٹی کی گھنٹی کب بجتی تھی شاید طلبہ کو اس بات کا احساس نہ ہونے دیا جاتا تھا۔ ایک گھنٹے تک تعلیم بدستور جاتی رہتی تھی۔
جتوئی میں سرکاری اسپتال تو شروع سے موجود ہے تاہم کالج اور عدالتی نظام 2010ء کے بعد ہی یہاں بنے ہیں۔ اس سے قبل سیکنڈری تعلیم اور عدالت کے لیے ملحقہ شہر علی پور یا پھر ضلع مظفر گڑھ گھنٹوں کی مسافت پر موجود تھے۔ اس لحاظ سے 2010ء سے قبل جتوئی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ اس وقت دو کالج ایک لڑکیوں اور دوسرا لڑکوں کے لیے بنا دیے گئے ہیں۔ لڑکیوں کا کالج گرڈ چوک سے شاہجمال کی جانب جاتے ہوئے راستے پر بھٹہ چوک سے پہلے واقع ہے۔ جبکہ لڑکوں کا کالج گریڈ چوک بجلی گھر کے برابر میں جتوئی روڈ پر واقع ہے۔ حال ہی میں (2016ء) میں پنجاب حکومت کی جانب سے اراضی ریکارڈ سینٹر کا قیام کیا گیا جس کی خوبصورت عمارت بھی تعمیر کردی گئی ہے۔
سیاسی میدان میں جتوئی سب سے آگے رہا ہے۔ متعدد وفاقی و صوبائی وزرا اس تحصیل سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ ہر حکومت میں تحصیل جتوئی سے کوئی نہ کوئی وزیر رہا ہے مگر ترقی ناپید ہی رہی ہے۔ جتوئی کی سیاست بھی ضلع مظفر گڑھ میں نمایاں رہی ہے۔ سیاست کے لحاظ سے جتوئی تحصیل میں جتوئی قبیلہ سرداروں کے طور پر ہر دور میں موجود رہا ہے۔ ابتدائی دنوں میں سردار کوڑے خان جتوئی برطانیہ حکومت کے دور میں پورے ضلع مظفر گڑھ پر اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ سردار کوڑے خان نے اپنی جائیداد اور زمینوں کو انگریز سرکار کو دینے کی بجائے غرابا مسکین کو دینے کو ترجیح دی تھی۔ ان کے بعد انگریز حکومت نصر اللہ خان جتوئی کی نظامت سونپ کر چلتے بنے۔ ان کے بعد سردار نذر محمد خان جتوئی بطور پاکستان پیپلز پارٹی لیڈر جتوئی کے حکمران رہے۔ ان کی حکمرانی نا صرف انتظامی امور میں ہوا کرتی تھی بلکہ عوامی سطح پر شہر بھر سے لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے آیا کرتے تھے۔ ان کے بعد ان کے بیٹے سردار عبد القیوم خان جتوئی اور سردار پپو خان جتوئی نے بطور پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ یوسف رضا گیلانی کے وزارت عظمیٰ کے عہدے پر تعیناتی کے وقت سردار عبد القیوم خان جتوئی وفاقی وزیر برائے دفاعی پیدوار بھی رہے۔ سردار عبد القیوم خان کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سردار معظم علی خان جتوئی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور وزیر مملکت برائے خوراک بنے۔ حال ہی میں سردار معظم علی خان جتوئی نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ہے جبکہ سردار عبد القیوم خان کے رشتے دار خان محمد خان جتوئی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ گویا جتوئی میں جتوئی قبیلے کی سیاست کسی ایک پارٹی کے ساتھ نہیں رہی بلکہ بکھرتی جارہی ہے۔ جبکہ جتوئی خاندان کے مقابلے میں بخاری خاندان ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن جیتتا اور ہارتا آیا ہے۔
جتوئی تحصیل کی حدود میں بننے والی مسجد سیکنۃ الصغریٰ جتوئی کی پہچان بن چکی ہے۔ یہ مسجد کوٹلہ رحیم علی شاہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں واقع ہے۔ مسجد کا سنگ بنیاد 2006 ء میں رکھا گیا اور اسے ڈیڑھ سال کے مختصر عرصہ میں مکمل کرلیا گیا۔ مسجد کی تعمیر میں ترک انجینئرز نے اہم کردار ادا کیا۔اس مسجد میں کی جانے والی خطاطی، منفرد نقش و نگار اور پودوں سے بنائے گئے اللہ اور محمد کے اسمائے گرامی پر آنے والوں کی خاص توجہ رہتی ہے۔52 کنال کے رقبہ پر تعمیر کی گئی مسجد کے بلند و بالا مینار اس کی خاص پہچان ہیں۔مکمل ایئر کنڈیشنڈ و زلزلہ پروف اس مسجد میں 4ہزار افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔ مسجد کے ساتھ مدرسہ بھی ہے جس میں بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ مسجد کی تعمیر میں مرکزی کردار ادا کرنے والے مقامی رہائشی امریکا میں ایک اعلیٰ سطح ہارٹ سرجن ہیں۔
جتوئی ثقافت اور کلچر کے اعتبار سے سرائیکی ہیں۔ سرائیکی زبان بولی جاتی ہے تاہم پنجابی اور رانگڑی بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پٹھانوں کی ایک بڑی تعداد یہاں پر بستی ہے اور اب ان کی زبان بھی سرائیکی ہوچکی ہے۔ جتوئیوں کا نہ تو کلچر ڈے منایا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی خاص ثقافتی دن ہے۔ اگر کہیں تھا بھی تو اس محرومیوں کی وجہ سے وہ اب نہیں رہا۔ جتوئی میں غیر معروفیت کی زندگی بسر کرتے یہ شہری پنجابی تو ہیں مگر سرائیکی، سندھی، پنجابی یا کسی بھی قسم کی حکومتوں نے کبھی یہاں کے لیے کوئی خاص کام نہیں کیا۔ جتوئی شہر کو موجودہ صورت میں لاکھڑا کرنے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کا اہم کردار ہے۔ یہ دونوں مرکز اور صوبیت میں رہے تاہم کبھی جنوبی پنجاب کے فلاح و ترقی کے لیے نہیں سوچا گیا۔ یہ سلسلہ کب تک رہے گا کچھ معلوم نہیں تاہم جتوئی شہر کا ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ انہیں ان کے حصے کا پانی اور بجٹ دیا جائے۔
نوٹ: اس مضمون میں بہت سی اہم ترین معلومات اور باتیں تاحال باقی ہیں۔ مزید معلومات کی فراہمی کے بعد اس پر مزید کام کیا جائے گا۔ ا ن شاء اللہ

حصہ

جواب چھوڑ دیں