Battle of Idea’s

آئیڈیاز کی گلوبل جنگ میں اپنے نظریات کی تشہیر کرنا اور ان کا دفاع کرنا آپ کا سب سے اہم کام ہے۔
یہ تھے سینئر صحافی محترم شاہنواز فاروقی صاحب جنہوں نے  جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی کے شعبہ نشر و اشاعت کے تحت ایک روزہ ورکشاپ میں “کالم نویسی” کے عنوان پر لیکچر دیا ۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تر انگریزی اخبارات اپنے پڑھنے والوں کی ایک عرصے سے مخصوص سیکولر ذہن سازی کا کردار ادا کررہے ھیں۔
پرائیویٹ اسکولز ،کالج اور یونیورسٹیز میں جہاں ہمارے معاشرے کے ساٹھ سے ستر فیصدبچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔وہ جن اساتذہ کی زیر نگرانی ہیں وہ مذہبی رجحان کھا جاتے ہیں ۔نتیجتا طلبا کی ایسی نسل آپ کے سامنے آکر کھڑی ہونے والی ھے جو آپ کا موقف سننے کے لئے قطعا تیار نہیں ہوگی۔۔۔۔اور پھر
اس نسل کو پاکستان اور پاکستان کے روحانی اور تہذیبی ،تاریخی نصب العین سے کوئ دلچسپی نہی ہو گی،وہ نہ اپنے ذہن سے سوچیں گے نہ اپنے ذہن سے سمجھیں گے۔۔۔۔۔۔ان حالات کی باقاعدہ منصوبہ بندی یا یوں کہئے شب خون مارنے کی تیاری کے لئے

حال ہی میں فورم فار سیکولر پاکستان کی جانب سے پانچ ستارہ ہوٹل میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس مین مشہور صحافی نے اپنی تقریر میں کہا

میری خواہش تھی کہ اس بات کا ذکر زیادہ ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی حکمت عملی پر ازسرنو غور کریں -حقیقت تو یہ ہے کہ آج سیکولرزم کے حامی دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور ہو گئے ہیں کیونکہ مذہبی پارٹیوں نے انھیں چالاکی سے ایک ایسے جال میں پھنسادیا ہے جس سے نکلنے کیلئے انھیں یہ یقین دہانی کرانی پڑرہی ہے کہ وہ اسلام دشمن نہیں ہیں جیسا کہ ان کے حریف انھیں ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
محترم شاہنواز فاروقی نے حالات کا یہ رخ سامنے رکھتے ہوئے ایک مثبت اور اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی کہ ایک بڑے عرصے سے وہ اس اشو پر باقاعدہ ریسرچ کر رہے اور ان کا تجربہ ھے کہ ان تمام حالات کے باوجود وہ جہاں بھی گئے انہوں نے لوگوں کی بڑی تعداد کو خیر کی طرف مائل پایا ھے۔۔۔انہوں نے کہا
آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اسوقت ان چیلنجز کا سامنا ھے۔۔۔۔اس حدیث کو یاد رکھیں۔
آپ صلی اللہ  علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔نوجوانوں نے میرا ساتھ دیا اور بوڑھوں نے میری مخالفت کی
Battle of Idea’s

کی جنگ میں آپ اپنے نظریات کے دفاع کے لئے سب کچھ کیجئے۔۔۔یاد رکھئے اس جنگ
میں آپ خود اپنا میڈیا ہیں اسکا اینکر ہیں ،اور بہت اہم ترین محاذ پر ہیں۔
اور۔۔۔۔ اچانک مجھے کوہ صفا کی طرف سے ہمیشہ سے فضاوں مین رچی ایک دلسوز آواز سنائی دیتی ھے
یا معشر القريش ….. اگر میں کہوں عقب سے تم پر ایک لشکر حملہ آور ہوا چاھتا ھے تو کیا یقین کرو گے؟۔۔۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں