پاک امریکا تعلقات۔۔گھاس ختم

پاکستان میں امریکا کی پسندیدہ گھاس ختم ہو گئی،اب ہماری دوستی سانپ ، بچھو کھانے والوں سے ہے،امریکا نے خطے میں بہت خاک چھانی مگر افغانستان میں قدم نہیں جما سکا،افغانستان کی سرزمین دوسری سپر پاور کو کھا گئی ہے۔ امریکا اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے حالانکہ پاکستان اپنی استطاعت سے زیادہ امریکا کے ساتھ تعاون کر چکا ہے اور اب امریکا کی میت کو کاندھا دینے کو بھی تیار نہیں ہے۔ اس کی وجہ بھی صاف ہے ، چین اور روس عالمی منظر نامے پر تیزی سے ابھر کر سامنے آ رہے ہیں اور امریکی بالادستی انجام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ساتھ ہی قدرت نے بھی ٹرمپ جیسے انسان کو وائٹ ہاؤس کے سیاہ و سفید کا مالک بنا کر امریکا سے بدلہ لینا شروع کر دیا ہے۔ آئے دن سمندری طوفان اور بے قابو آگ اسی کی جھلک ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو پاکستان آنے سے پہلے ہی پاکستان کے بدلتے تیور کے حوالے سے بریفنگ تو دے دی گئی ہو گی تاہم انہیں سب سے زیادہ  سُبکی کا سامنا اس وقت کرنا پڑا ، جب وہ چکلالہ ایئر بیس پر اترے اور کوئی وزیر تک ان کے استقبال کے لئے ائیر پورٹ پر موجود نہ تھا۔ سفارتی قوانین کے سمجھنے والے لوگ اس کو سب سے بڑی توہین قرار دیتے ہیں۔ خیر مذاکرات میں امریکی وزیر خارجہ کے ہاتھ زیادہ کچھ نہ آنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ امریکا افغانستان پر بات کرنا چاہتا تھا تاہم پاکستان کی جانب سے کشمیر کا موضوع چھیڑ دیا گیا۔اسلام آباد میں دال نہ گلنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ نئی دہلی پہنچے تو وہی ڈومور کی گردان دہرا دی ، تاہم اس کا ’’اچھا‘‘ سا جواب وہ پہلے ہی سن بھی چکے تھے۔ امریکیوں کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ مذاکرات کے دوران تو پاکستانی عسکری قیادت خاموش رہتی ہے تاہم افغانستان میں ان کے مفادات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ امریکا افغانستان میں بھارت کو بھی نمایاں کرداردینے کا خواہاں ہے تاہم اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود بھارت اور امریکا اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ امریکا کی کوششوں کے باوجودبھارت اور افغانستان کا غیر فطری اتحاد اچھے اسٹریٹجک پارٹنر میں نہیں بدل سکا ہے۔

امریکا کی خواہش ہے کہ وہ افغانستان میں باعزت  طریقے سے قیام کرے اور پوست کی کاشت کسی صورت بند نہ ہو تاہم  وہ اپنے عزائم کی راہ میں طالبان سے بھی بڑی رکاوٹ پاک فوج یا آئی ایس آئی کو گردانتا ہے ۔ چند روز قبل امریکی خواہش کے مطابق افغان طالبان کو مسقط میں ہونے والے مذاکرات سے مائنس کیا گیا تھا، جس کے اگلے چار دن تک مسلسل تابڑ توڑ حملوں نے افغان قیادت کے ساتھ ساتھ امریکا کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ طالبان نے ثابت کیا ہے کہ افغانستان کے اصل سٹیک ہولڈرز میں وہ نمایاں اہمیت رکھتے ہیں۔ افغان حکومت کی عمل داری کابل یا چند شمالی صوبوں تک محدود ہے۔ طالبان کو قابو کرنے کے لئے امریکی فوج افغانستان میں داعش کے فتنے کو ہر طرح کی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ اسلحہ، پیسہ، افرادی قوت اور امریکی فوجی اڈے بھی داعش کے خونخوار درندے استعمال کر رہے ہیں تاہم طالبان انہیں قدم جمانے نہیں دے رہے ہیں۔ اس صورتحال سے تنگ امریکی فوجی حکام نے کھلے عام آئی ایس آئی اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کی باتیں شروع کر دی ہیں ۔امریکا الزام تراشیوں کے ساتھ پاکستان کے دفاعی اداروں سے بارڈر کے دونوں طرف بھرپور تعاون بھی چاہتا ہے۔ اب  ایک وقت میں دونوں کام تو نہیں ہو سکتے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے اور جنرل ضیاالحق کے انتقال کےبعد امریکا خطے سے خاموشی کے ساتھ نکل گیا تھا ، تاہم اب اس کے لئے ایسا کوئی حل بھی ممکن نہیں۔ اس وقت پاکستان میں قیادت کا فقدان بھی تھا تاہم اب دفاعی اعتبار سے پاکستان بہت مضبوط حیثیت رکھتا ہے جبکہ دو بڑی عالمی طاقتوں کی بھرپور تائید بھی حاصل ہے۔ معاشی مفادات کی حصول کی خاطر ہی سہی، چین اور روس پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاکستان میں اب وہ گھاس ختم ہو گئی ہے جو انیس سو اسی سے اب تک امریکیوں کو کھلائی جا رہی تھی۔  امریکی خود بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی دوستی زیادہ خطرناک ہوتی ہےبہ نسبت دشمنی ۔ دوستی کرکے پاکستان نے اربوں ڈالر اور ہزاروں جانوں کا نقصان اٹھایا ہے۔ اب دشمنی کر کے بھی دیکھ لی جائے ۔امید ہے اس کا نقصان کم ہی اٹھانا پڑے گا۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں