موسیقی کا سحر

ارے یار علی تم کوک پی رہے ہو۔۔۔۔۔۔ ہاں تمہیں دِکھ نہیں رہا۔۔۔۔۔
ارے یار ایسے نہیں ایسے پیو جھوم کے ناچ کے۔۔۔۔جیسے کوک کے ایڈ میں لڑکے پیتے ہیں۔۔۔۔۔
بس کردے قاسم ایڈ کی تو بات ہی نا کر۔۔۔۔۔۔ وہ تو ٹوتھ پیسٹ سے منہ دھو کے پورے محلے کو لیکر بیچ سڑک پر مل کر ناچتے ہیں ہاہا۔۔۔۔اور ٹریفک بھی ڈسٹرب نہیں ہوتی۔۔۔۔
ارے سب چھوڑ بم پھوڑ یہ دیکھ فیس بک پہ آپ کا ساحر کا پیج۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈانس کامپیٹیشن۔۔۔۔۔ہر شہر کا مقابلہ ہے۔۔۔۔۔
چل یار ہم بھی اپنا ٹیلنٹ دکھائیں گے۔۔۔۔۔۔
تو میری ڈانس وڈیو ریکارڈ کرلے اور میں تیری۔۔۔۔ دیکھتے ہیں کس کی قسمت ساتھ دیتی ہے۔۔۔۔
یہ وہ گفتگو جو ،اب ہر شہر کے ہر گھر میں ہورہی ہے۔۔۔۔ ٹی وی ون سے نشر ہونے والا مارننگ شو آپ کا ساحر لا رہا ہے ڈانس کامپیٹیشن۔۔۔۔
اسی طرح پہلے بھی پاکستان آئڈل کے نام سے جیو کی جانب سے شروع ہونے والا سانگ کامپیٹیشن نے نوجوان کو آواز کے جادو میں پھنسایا اور پھر سب نے پاکستان آئڈل کے فیس بک پیج پر پڑھا کے نوجوان کس قدر مایوس اور دل شکستہ نظر آئے گویا گانا انکی زندگی کا اہم ترین حصہ ہو اور اس مقابلے میں ہار کر گویا وہ زندگی ہار بیٹھے۔۔۔۔۔ آپ چاہیں تو ابھی پاکستان آئڈل کے فیس بک پیج پر نوجوانوں کے ڈپرس شدہ کمنٹ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
اور اب ٹی وی ون کا ساحر نوجوان لڑکے لڑکیوں کے درمیان سے شرم و حیا کی چادر کو گرا دینا چاہتا ہے۔۔۔۔کھل کے ناچو۔۔۔۔اپنا ٹیلنٹ دکھاؤ۔۔۔۔دنیا میں شاید اب ایسے ہی ٹیلنٹ رہ گئے ہیں!!
سوال یہ ہے کے اس طرح کے پروگرامات کا مقصد کیا ہے؟؟ اس کے فائدے ہیں یا نقصان؟۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کا مفہوم ہے جب قوم کے نوجوانوں میں بے راہ روی،بے حیائی عام ہوجاتی ہے۔ تو قوم زوال کا شکار ہوجاتی ہے۔
ٹیلنٹ شو کے نام پر نچوانا گوانا۔۔۔۔ محض قوم کو بے راہ روی اور گمراہی کی طرف لے جانا ہے۔بے شمار سائنسی تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ موسیقی اور گانے بجانے کے اثرات ہمارے جسم اور ذہن دونوں پر مرتب ہوتے ہیں۔موسیقی سنتے ہوئے لوگوں پر جذباتی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
علامہ اقبال نے موسیقی کی اسی صفت کے متعلق فرمایا تھا:
چشم آدم سے چھپاتے ہیں مقامات بلند
کرتے ہیں روح کو خوابیدہ جسم کو بیدار
یعنی موسیقی جسم کو بیدار کرکے آپ کی روحانی صلاحیتوں کو معزور کردیتی ہے۔
ظاہر سی بات ہے ڈانس کمپٹیشن میں گانے سنوا کے ہی آپ کے جذبات کو جسم کو تھرکنے پر مجبور کیا جائے گا۔
اب سوال یہ ہے کیا موسیقی حرام ہے؟؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامور صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ موسیقی کے متعلق کہتے ہیں:
گانا بجانا دل کے اندر نفاق پیدا کرتا ہے۔ (علامہ ابن قیم الجوزیہ اغاثہ اللفھان رار البیان جلد اول)
حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ حاجیوں کے ایک گروہ کے پاس سے گزرے۔آپؓ نے دیکھا کہ آدمی گانا گا رہا ہے اور باقی سب گانا سن رہے ہیں تو حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا:اللہ کرے کے تم لوگ بہرے ہوجاؤ۔اللہ کرے کے تم لوگ بہرے ہوجاؤ۔
(اتحاف السادہ المتقین بحوالہ مفتی شفیع صاحب)
اسی طرح ائمہ اربعہ کے نزدیک بھی گانے موسیقی کے بارے میں یہی رائے ہے۔دوسری طرف بہت سے لوگ صوفی علما موسیقی کو جائز قرار دیتے ہیں۔
جبکہ ہندو مت۔عیسائیت سکھ اور دوسرے مذاہب میں موسیقی ان کی عبادت کا حصہ بن چکی ہے جبکہ اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔
اب سوال یہ ہے کے کیا ہمارے لئے تفریح اور ٹیلنٹ کا سامان یہی ناچ گانا ہے؟؟
اسلام ایک مکمل اور جامع دین ہے جو ہماری زندگی کے تمام گوشوں اور ضروریات کو نظر میں رکھتا ہے اسی میں ہماری تفریحات اور تنوع پسندی بھی آجاتی ہے جس میں ہمارے لیے حلال اور جائز تفریحات شامل ہیں جیسے کے:تیراندازی۔گھڑ سواری،پیدل دوڑ،کشتی و تیراکی۔ اہل خانہ و دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا۔قرات مقابلہ، معلومات عامہ سے متعلق سوالات پر مبنی پروگرام۔
جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے معاشرتی فوائد سے متعلق مقابلہ جات جیسا کہ آج کے بچے کمپیوٹر کی دنیا میں کمال دکھا سکتے ہیں۔
اسی طرح اسلامی معلومات پر مبنی پروگرامات۔
جبکہ دوسری طرف اللہ اور دین سے غافل کردینے والی موسیقی و ناچنا تھرکنا روح میں ایک بے حسی لاپرواہی ایک خلا پیدا کردیتی ہے ذہن موسیقی کے زیر اثر میں جسم کے اعضا کو تھرکنے مچلنے پر مجبور کردیتا ہے ایسے میں بے حیائی کی فضا عام ہوتی ہے اور دیکھنے اور سننے والے اچھے اور برے کی تمیز نہیں کرپاتے آنکھوں کے سامنے ناچتی ہوئی لڑکی یا لڑکا اسے اچھا لگنے لگتا ہے۔
اس بے حیائی کے زیر اثر معاشرہ اور بھی کئی لغویات کو حرام یا برا نہیں سمجھتا اور یوں قوم زوال کا شکار ہوجاتی ہے۔
آ تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر وثنا اول طاؤس ورباب آخر
آج مغربی دنیا میں موسیقی کے بے تاج بادشاہوں نے بھی جب اس کے منفی اثرات کا جائزہ لیا ہے اور اس کے برعکس اسلام کا مطالعہ کیا ہے انہوں نے موسیقی کو ترک کرکے اسلام قبو ل کیا ہے۔
ماضی میں ہماری ماؤں نے ٹیپو سلطان۔۔۔محمد بن قاسم۔۔۔۔ شیر شاہ سوری۔۔
جیسے جاں نثار پیدا کیے ہیں لیکن آج ہمارا میڈیا ہمیں تنزلی کی شاہراہ پہ لے جارہا ہے۔۔ایسے میں ہر باشعور مسلمان عالم دین حضرات اور پیمرا ذمہ داران سے گزارش ہے کے میڈیا پہ پیش ہونے والے ایسے پروگرامات پر پابندی لگائی جائے جس سے جونوان نسل بے راہ روی کا شکار ہو۔

حصہ

9 تبصرے

  1. ہمارے میڈیا کو یسے informative پروگرام نشر کرنے چاہیے جو نوجوان نسل کے لیے لئے سودمند ثابت ہو ناکہ ایسے پروگرام جو نسل کو تباہی کے دہانے پر لے جا ءے۔
    بہت اچھی تحریر۔

  2. Ascy programme ko foren band hona chiya jo hamari naslon ko bara rawi ke traf la ja k na sirf un ko dunyavi balky akhrat k hasaray ma dal dayn in programme ko chalanay walon pa b pabandi lagahe jaha k wo sirf islami hadood k ander rah k no jawab nasal k lia ascy programme chalayn jo sahe mahno ma un k lia trbit o tafree ka bahis hon

  3. شہلا عمیر نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے ناچ گانے کلچر پر بلکل صیح قلم اٹھایا ہے۔آج کے نوجوان کو ہمارا میڈیا جس رخ پر لے جارہا ہے وہ لمحہ فکریہ ہے۔جس نسل کو آگے بڑھ کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے اسے رقص و موسیقی کے زہریلے نشے میں مست کیا جارہا ہے۔جو کام کسی زمانے میں بادشاہوں کے خواجہ سرا کیا کرتے تھے آج فخر سے انکے مقI ابلے منعقد کروائے جارہے ہیں۔
    شہلا کا بلاگ اس کلچر کے خلاف بہت عمدہ تحریر ہے۔

  4. Aap k murasla na bot ham point ke traf sub ke tawaja devahe hay k media nojawan nasal ke zani sazi ma bot ham role ada kr k un ke khaleef ul arz honay zamidari ke traf sa nojawan nasal ka dayan hata raha hay

جواب چھوڑ دیں