اے چاند یہاں نہ نکلا کر

دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں گو کہ ایک سال کا عرصہ باقی ہے مگر میں اپنے وطن کے ہمعصروں سے مخاطب ہوں جو ۵۰ اور ۶۰ سال کی عمر کی دہائی میں کھڑے ہیں ہاتھ پیر میں کچھ طاقت بھی ہے اور قلم کے ذریعے حق بات کہنے کا حوصلہ بھی موجود ہے ۔ویسے تو انسان کو کل کا پتہ نہیں مگر ہم میں بہت سے ایسے ضرور ہوں گیں جو ۲۰۲۳ء کا الیکشن نہ دیکھ سکیں گے اور اگر زندہ رہے بھی تو کچھ کرنے سنیں کے قابل نہ ہونگیں۔
آئیے یہ عہد کریں کہ ۲۰۱۸ء کے الیکشن سے قبل اپنے ملک میں بسنے والے چند مخصوص ٹولوں اور بے شرم بے حیا حکمرانوں اور ان کے بے ضمیر درباریوں سے جن کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کو سواے رسوائی اور ذلت کے کچھ نہ مل سکا ان سے نجات دلانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور اور اپنی نئی نسل کو ان چور اور کرپٹ حکمرانوں کے چنگل سے نکالنے میں اپنا دینی اور ملکی فریضہ ادا کریں اور اپنی نئی نسل کو ووٹ کی حقیقت اور اس کے صحیح استعمال سے آ گاہ کریں اس ملک میں قابض تینوں سیاسی جماعتوں جو برسوں سے اس ملک میں حکمرانی کر رہی ہیں اور ملکی خزانے کو اپنے باپ کی میراث سمجھ کر لْوٹ رہی ہیں انکے مکروہ چہرے اور انکی کارگردگی سے آگاہ کریں تاکہ ماضی کے غلط فیصلوں سے وہ سبق حاصل کرسکیں ،یاد رکھیے جو قومیں اپنے ماضی سے سبق حاصل کرتی ہیں وہی ترقی کے منزلیں طے کرتی ہیں۔میرے عزیز دوستوں اس آنے والے الیکشن میں ہم نے یہ عہد کرنا ہے کہ ہم اس بار اپنے ووٹ کا استعمال کرنے سے پہلے صوبائیت، رشتہ داری،ذات برادری کو معیارِ انتخاب نہیں بنائینگے ہمارے لیے صرف وہی شخص قابل احترام ہو گا جو بیشک غریب ہو مگر امانت دار ہو جس کے ہاتھ ملک کی لْوٹی ہوئی دولت سے نہ رنگے ہوں جسکا ماضی پاک ہو اور جو خوف خْدارکھتا ہو۔یہ بات ذہین میں رکھیں اگر اس بار قوم نے اپنی آنکھیں نہ کھولیں تو پھر ان بے ضمیر،,حکمرانوں کی اولادیں بلاول زرداری ،حمزہ شریف،مریم نواز،اور بہت سے ایسے ہماری اوپر حکمرانی کرینگی اور پھر سے تاریخ دْہرائی جاے گی۔ نسلوں صدیوں سے یہ ملک ایک ماتم کدہ بنا ہوا ہے کبھی بجلی کے نام پر تو کہیں روٹی کے نام پر ، بے روزگاری کا ایک بڑھتا ہوا سمندر ہے جس کی وجہ سے نوجوان طبقہ احساس محرومی کا شکار ہے ایسے میں مفاد پرست سیاسی جماعتیں ان کو چند پیسوں کی لالچ دے کر اپنے ناپاک گھناونے عزائم ان سے پورے کراتی ہیں پکڑے جانے پر اْن سے لا تعلقی کا اظہار کرتیں ہیں۔ یوں پھر انکا مقدر برسوں جیل کی سلاخوں میں سڑنا رہ جاتا ہے یا تختہ دار پر لٹک کر اس دْنیا سے رْخصت ہو جاتے ہیں۔حکمرانوں کو جب موت کا خوف نہ رہے اور زندگی کی آسایشوں سے محبت ہو جاے اور ملْکی مفادات کے بجاے ذاتی مفادات اور مصلحت عزیز ہو جائے تو پھر یاد رکھیں معاشرے میں خرابیاں اس تیزی سے اپنا اثر دیکھاتی ہیں کہ گھر گھر میں اس کے آثار نمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں اس مملکت اسلامی پاکستان کا حا ل تو دیکھیے جس کے وْزرا بیس کڑوڑ مسلمانوں کے نمایندگی کرتے ہیں مگر سورہاخلاص تک سے نہ واقف ہیں نہ شرمندگی، نہ ندامت، یہ ہیں اس ملک کے حکمرانوں کی اہلیت ۔ بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کر کے چوروں کی سرپرستی اور اپنے مفادات کو حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔
جس قوم کا لیڈر ہی بے شرم اور بے حیا ہواور جس پر ملکی دولت لوْٹنے کا مقدمہ عدالت میں چل رہا ہو تو اس قوم میں بد دیانت ،بدمعاش ،بد تہذیب ،اور ملکی دولت کو لوْٹنے والے کرپٹ اور بے ایمان لوگ ہوں تو اس میں افسوس کرنے کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ ان کو ہم نے ہی اپنے ووٹوں سے اس ان لوگوں کو اس منصب پر بیٹھایا ہے،حکمرانوں کی مثال اس چرواہے کی طرح ہوتی ہے چرواہا اگر ایماندار اور اچھی نیت والا ہو تو وہ کبھی بھی اپنے ریوڑ کو غیر کی کھیتی میں جانے نہ د یگا اور ریوڑ میں موجود بکریوں کے دودھ کا بھی امانت دار ہو گا مگر جب چرواہا اپنی من مانی کرے اور ریوڑ اپنی مرضی سے گھومے پھرے تو خرابیاں جنم لیتی ہیں اس کی مثال بالکل ہمارے ملک کے حکمرانوں اور عوام کی طرح ہیں حکمراں ملکی خزانے لْوٹ رہے ہیں اور عوام موقعہ ملنے پر ایک دوسرے کو لْوٹ رہی ہے، ہم جس سوسایٹی اور معاشرے کے رہنے والے ہیں وہاں مسجد سے جوتے چوری کرنے والے کو تو سب مل کرمارنے لگتے ہیں اور یہ سارے پنج وقتہ نمازی ہیں مگر عقل و شعور سے عاری ہیں غریب پر زور چلتا ہے تو سارے مل کر اپنا حصہ ڈال دیتے ہیں ۔
اس ملک کے حکمران صرف ایک دوسرے کی باریاں لگاتے ہیں ایک آتا ہے پانچ سال ملکی دولت کو لْوٹا اور سعودی عرب روانہ ہو جاتا ہے پھر دوسرا آتاہے اس نے پانچ سال عوام کا جوس نکالنا ہے ملکی دولت کو باپ کی میراث سمجھ کر لْوٹتاہے اور وہ دْبئی روانہ ہو جاتا ہے ۔ تیسرا بڑا شیطان لندن میں بیٹھا اربوں کے بھتے سے علیشان زندگی گزار رہا ہے اس ملک کے تمام لیڈر اْس وقت تک ملک میں رہتے ہیں جب تک حکمرانی کے منصب پر فائز رہتے ہیں ان کو ملک سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں نے اپنی ذمہ داری ہی پوری نہیں کی بلکہ آپکو وہ حقایق دیکھائے ہیں جس سے پوری قوم واقف ہے ابھی وقت ہے تاکہ جب اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں تو سر اْٹھا کر یہ کہ سکیں مالک۔ میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو اچھے اور برے کی تمیز سے آگاہ کردیا تھا اور میں اپنے پچھلے غلط فیصلوں پر معافی کا طلب گار ہوں اور میری آنے والی نسلوں کو ان کرپٹ سیاستدانوں کے شر سے محفوظ رکھ آمین

حصہ

جواب چھوڑ دیں