بچوں کو دنیاکی تعلیم کے ساتھ دین بھی سیکھائیں

اولاد کو انسان کے لیے نعمت قرار دیا گیا ہے۔ ایک ایسی نعمت کہ جو انسان کو اس کی آخرت سے بھی غافل کردیتی ہے۔ محبت و شفقت کی وجہ سے اولاد کے دنیاوی اخراجات اٹھانا اور سہولیات فراہم کرنا ہر شخص بقدر استطاعت کرتا ہے۔ لیکن سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اولاد کو دین کی راہ پر لگایا جائے یہی اخروی کامیابی کی ضامن ہے۔ اگر ہماری اولاد کی دنیا آرام سے گزرے مگر آخرت خراب ہو تو یہ کونسی سمجھداری اور محبت ہوئی۔
اسلام انسان کے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے۔ وہ احکام جو ہم پر فرض ہیں ان کا سیکھنا بھی ہم پر ضروری ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ شریعت اسلامیہ ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے۔ جس طرح دنیاوی فوائد سامنے ہونے کے ناتے دنیاوی امور انسان دوسروں کی دیکھا دیکھی بھی سیکھ لیتا ہے لیکن آخرت ہماری نظر کے سامنے نہیں ہے اس لیے اسے ہم اہمیت نہیں دیتے ۔ اگر دیکھا جائے تو وہی زندگی ابدی ہے۔ اس لیے نہ صرف ہمیں دین سیکھنا چاہیے بلکہ اپنی اولاد کو بھی دینی علوم سے آراستہ کرنا چاہیے۔
اپنی اولاد کی اچھی تربیت کے لیے ماں یعنی عورت جسے آدھی دنیا کہا جاتا ہے کی ذمے داری بہت اہم ہے۔ جامع ترمذی کی تین مختلف احادیث ہیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’اپنی اولاد کو جب وہ 7سال کی ہوجائے نماز کا حکم دیں اور جب وہ 10سال کے ہوجائی اور نماز نہ پڑھیں تو انہیں سرزنش کریں‘‘۔ ’’والد کا اپنی اولاد کو بہترین تربیت دینے سے بہتر کوئی تحفہ نہیں‘‘۔ ’’انسان اپنے بچے کو ادب سکھائے یہ اس کے لیے صدقہ کرنے سے بہتر ہے‘‘۔
ادب سے مراد پسندیدہ اعمال اور بلند اخلاق ہیں۔ جن باتوں کا شریعت نے حکم دیا ہے ان کا اہتمام کرنا اور جن باتوں سے منع کیا گیا ہے ان سے رکنا یہ سب آداب میں شامل ہیں۔ اپنے ماحول اور معاشرے میں رہنے والوں سے اچھے اخلاق سے پیش آنایعنی نہ ان سے بہت اچھے طریقے سے رہنے اخلاقات سے رہنا بھی سلیقہ آداب میں سے ہے۔
اب اگر والدین اپنی اولاد کو ان آداب سے محروم رکھے ہوئے ہیں تو یقیناًوہ شریعت کی بتائی ہوئی حدو د و قیود سے تجاوز یا کمی کر تے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہے کہ جب ہم مسلمان ہیں تو پھر طرز زندگی غیروں کا کیوں اپنایا ہوا ہے۔ کیا ایک مسلم کو یہ لائق ہے کہ اس کے بچوں کو قرآن ، نماز چاہے آئے یا نہ انگریزی فرفر آنی چاہیے۔ پھر ایک مسئلہ جو اہم ہے کہ کچھ لوگ اپنے بچوں کو دینی تعلیم سیکھا دیتے ہیں مگر بچیوں کو بالکل بھی دینی تعلیم نہیں سیکھائی جاتی۔ اگرچہ کچھ مقامات پر تعلیم دی جاتی ہے تاہم اکثریت نہ جانے کیوں اس کو معیوب سمجھتی ہے۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کو غیر ضروری اور بکثرت مقامات پر معیوب بھی سمجھا جاتا ہے ۔ لڑکیاں ضعیف جنس ہیں ۔ مردوں سے ہر لحاظ سے کمزور ہیں ۔ بہت سے گھرانوں میں یہ مقہور و مظلوم ہوکر زندگی گزارتی ہیں چہ جائے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور شفقت کا برتاؤ کیا جائے ان کے جائز حقوق بھی سلب کرلیے جاتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کی بہترین پرورش اور ان کی خیر خبر رکھنے والے کو جنت کی بشارت دی ہے فرمایا’’جس نے تین بیٹیوں/ بہنوں کی اچھی پرورش کی انہیں ادب سکھایا محبت و شفقت کا برتاو کیا یہاں تک کہ وہ اس سے بے نیاز ہوگئیں، اللہ اس کے لیے جنت واجب کردے گا‘‘۔ سوال کرنے والے نے پوچھا اگر دو ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تب بھی‘‘۔ حدیث بیان کرنے والے فرماتے ہیں ہیں کہ اگر ایک کے بارے میں بھی سوال ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تب بھی یہی فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’جو شخص بچیوں کی وجہ سے آزمایا گیا اس کے لیے جنت واجب کردی گئی‘‘ (مسلم)
آزمانے کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بیٹی کی پیدائش کو معیوب سمجھا جاتا تھا اور بیٹی کی خوشخبری پر کفار کے چہرے سیاہ ہوجاتے تبھی اسے ایک آزمائش کہا گیا۔ مگر موجودہ دور میں بھی بچیوں کی وجہ سے بہت سی آزمائشیں آتی ہیں۔ کچھ خود ساختہ ہوتی ہیں تو کچھ پیدا ہوجاتی ہیں۔ تاہم اگر کوئی اپنی بچیوں کو تعلیم کے لیے لے آنے اور لے جانے کے لیے کوشش جاری رکھے اور انہیں اچھی تربیت دے تو یہ ایک آزمائش تو ہے مگر یہ اس کے لیے جنت میں جانے کا سبب بھی ہے۔ بچیوں کی تعلیم و تربیت ان کی پرورش بھی ایک آزمائش ہے اور وہ معاشی مسائل میں والدین کا ساتھ نہیں دے پاتیں اس لحاظ سے بھی آزمائش کہا گیا۔
یہ بات تو طے ہے کہ بچیوں کی دینی تعلیم ضروری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیوں ضروری ہے۔ عورت کا ایک روپ ماں ہے۔ ماں بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اگر ماں باشعور اور دینی تعلیم سے بہرہ ور ہو تو کئی خاندان باشعور اور اچھی تربیت کے حامل ہوں گے۔ کسی نے کہا تھا کہ ایک اگر تم مجھے ایک پڑھی لکھی ماں دو تو میں تمہیں ایک پڑھا لکھا معاشرہ دوں گا۔
عہد نبوت میں بھی خواتین کو دینی معلومات سکھانے کے لیے الگ سے دن مقرر تھا۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خصوصا خواتین سے مخاطب ہوتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آنے والی خواتین کو پیچیدہ اور مشکل مسائل سیکھاتی تھیں۔ دینی علوم سیکھانے کے پس پردہ بہت سی حکمتیں بھی شامل ہیں۔ آپ اپنی بچی کو دینی تعلیم دیں گے تو اسے یہ علم ہوگا کہ اس کے ذمے کون کون سے حقوق اللہ اور حقوق العباد ہیں۔ اس کے فرائض کیا ہیں۔ اس طرح بچیوں کو نہ صرف گھر بلکہ باہر کے مسائل سے بھی واقفیت ہوگی۔ اس کے اٹھنے بیٹھنے چلنے کھانے پینے الغرض وہ تمام مسائل معلوم ہوں گے جو وہ شاید کسی سے پوچھنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہو۔ اپنے محارم پہچان لے گی۔ اسے اپنی حدود کا پتا ہوگا۔ وہ اپنی اولاد اور خود اپنے کے لیے حرام حلال میں امتیاز کر پائے گی۔
اگر دیکھا جائے تو دینی علوم سے واقف بچیاں نہ صرف باحیا ہوتی ہیں بلکہ وہ اپنے بڑوں کا ادب کرنے والی بھی ہوتی ہیں۔ انہیں رشتوں کی پہچان ہوتی ہے۔ اپنی بچیوں کو اچھے اوربرے کی تمیز دینی ہے تو دینی ماحول سے مزین فی میل اسلامک سینٹرز میں داخلہ کروائیں۔ یاد رکھیں ماڈرن اسکول میں کھڑی چند روپوں کے عوض پڑھانے والی ٹیچر جسے خود تربیت کی ضرورت ہو کبھی بھی آپ کی بچیوں کو تربیت نہیں دے سکتی۔ اسکول اور کالج میں جانے والی آپ کی بچی اور تو بہت کچھ سیکھ جائے گی جو اسے نہیں سیکھنا چاہیے تاہم وہ سب نہیں سیکھ پائے گی جو اس کے مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے۔
روز قیامت کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔ اپنی اولاد کو بھی دینی تعلیم دیں اور وہ خواتین جو بڑی عمر کو پہنچ چکی ہوں وہ بھی عمر یا شرم کو دین سیکھنے کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں۔ دین سیکھیں اپنے اندر دین سیکھنے کے لیے شوق اور طلب صادق پیدا کریں ۔ اللہ دین آپ کو سکھانے کے اسباب مہیا فرمادے گا۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں