اساتذہ کی تعلیمی ،فنی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا فروغ

ہر دور میں معاشرے کی ترقی کا دارو مدار اساتذہ کے تعلیمی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ سے راست یا بالواسطہ طور پر وابستہ رہا ہے۔اساتذہ میں جب ذہنی جمود طاری ہوجائے اور ان میں تعلیمی و فنی صلاحیتوں کے فروغ کے راستے مسدود ہوجائیں تب نظام تعلیم بے روح اور معنویت سے عاری ہوجاتا ہے۔اساتذہ کی تعلیمی و فنی صلاحیتوں کے فروغ کے بغیرملک و قوم کا عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا بھی تقریبا ناممکن ہی نظر آتا ہے۔یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اساتذہ کے بغیر کوئی بھی قوم آج تک ترقی کا سفر طئے نہیں کر سکی ۔ نظام تعلیم کوزندہ بامقصد اور قوم و ملت کی آرزؤں کی تکمیل کا ذریعہ بنانے میں اساتذہ کے تعلیمی و فنی صلاحیتوں کے فروغ کوکلیدی حیثیت حاصل ہے۔عصری تقاضوں سے عاری اساتذہ کے ہاتھوں قوم و ملک کی جدیدتعمیر یقیناًایک امر محال نظرآتی ہے۔زمانے سے قدم ملانے کے لئے اساتذہ کا عصری تقاضوں، تعلیمی اور فنی صلاحیتوں سے آراستہ ہونا بے حد ضروری ہوتا ہے۔تعلیمی وفنی فروغ میں معاون وسائل اور مواقعوں سے بہتر استفادہ کرنے والے اساتذہ درس و تدریس اور اکتساب پراپنے گہرے نقش چھوڑتے ہیں ۔ اساتذہ میں تعلیمی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ سے درس و تدریس اور اکتساب کومعیار اور کمال حاصل ہوتا ہے۔ اساتذہ کی تعلیمی و فنی صلاحیتوں کافروغ درس و تدریس کو نئے زاویے عطاکرنے معنویت کی ردا بخشنے اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے میں ایک مثالی کردار انجام دیتا ہے۔ہماراتعلیمی نظام اساتذہ کی تعلیمی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ میں بلاشبہ کوتاہی کا شکار ہے۔ تعلیمی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ میں محدود وسائل کا شکوہ کرنے سے بہتر ہے کہ اساتذہ ازخود اپنی تدریسی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ کے وسیلے اور سامان تلاش کر یں۔اساتذہ کی یہ ایک ادنیٰ سی کوشش نہ صرف ان کے تعلیمی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ کا باعث بنے گی بلکہ ملک و قوم کی ترقی کا دھارا بھی بدل دے گی۔کسی بھی قوم کا معیار اس کے ملک کے اساتذہ سے بلند نہیں ہوتا ہے۔اسی لئے اساتذہ کو قومی ترقی کا ایک اساسی عنصر کہا گیا ہے۔ تعلیمی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ میں اساتذہ کی مسلسل کوشش اور اپنے پیشے سے کبھی نہ ختم ہونے والی دلچسپی نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ملک وقوم کو خوشحالی سے ہمکنار کرنے کے لئے نظام تعلیم کوایسے راستے اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے جو اساتذہ کی تدریسی اور فنی صلاحیتوں کے فروغ اور ان کے پیشہ وارانہ ترقی میں معاون ومددگار ثابت ہوں۔اساتذہ سے بہتر خدمات کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ ان کی مسلسل رہبری ،رہنمائی اور ان کی تعلیمی و فنی صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے تاکہ قوم و ملک کی تعمیر میں وہ اپنا گرانقدر کردار ادا کر سکیں۔اساتذہ کی خدمات کو موثر اور کامیابی سے ہمکنا ر کرنے کے لئے ان کو تعلیمی ،فنی اور عملی تربیت کی جانب مائل کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ تاکہ وہ جدید تعلیمی نظریات اور ترقی یافتہ دنیا کے پیچیدہ مسائل سے آگہی حاصل کرتے ہوئے نئی نسل کو ان چیالنجس کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرسکیں۔عصری آگہی و عصری معلومات سے وابستگی پیدا کرنے کے لئے اساتذہ کی تعلیمی ،فنی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ارباب نظام تعلیم اساتذہ میں عصری تعلیمی نظریات کے فروغ میں تساہل سے کام نہ لیں اور ان میں تعلیمی و فنی صلاحیتوں کے فروغ کا جذبہ پیدا کریں۔ گزرتے وقت کے ساتھ اساتذہ میں محسوس یا غیر محسوس طور پر درس و تدریس سے اکتاہٹ کا احساس پایا جانا ایک عام بات ہے۔ اسکولوں میں درس و تدریس کے بڑھتے ہوئے کام کے بوجھ اور دباؤ کی شکایت بھی اساتذہ میں بے چینی کا سبب بنتی جارہی ہے۔محنت و دیانت داری سے خدمات انجام دینے کے باوجود ان کو وہ ستائش اور تعریف حاصل نہیں ہوپاتی جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ان کے مشاہیرہ میں اضافہ نہیں ہورہا ہے ۔ان کی ضروریات کا خیال نہیں رکھا جاتاوغیر ہ وغیرہ ۔اگر ان تمام مسائل کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اساتذہ نے اپنی شخصیت کے معیار اور اپنے فن کو بلند کرنے میں تساہل سے کام لیا ۔اپنی تعلیمی و فنی صلاحیتوں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں بنایا۔ اپنے پیشے سے جذباتی مطابقت کے فقدان کے سبب درس و تدریس میں کوئی خاص اور نمایا ں کام انجام دینے سے خو د کو عاجز رکھا۔اساتذہ اپنا مقام مرتبہ اورعظمت کی برقراری کے لئے اپنی تعلیمی ،فنی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں بہتری لائیں اور ان کو فروغ دینے کی ہر وقت کوشش کریں۔ ارباب مجاز اساتذہ کو پیشہ درس وتدریس سے ہم آہنگ کرنے اور ان میں جوش و ولولہ بھرنے ،جذبے درس و تدریس کے ٹمٹماتے دیوں کو روشنی عطاکرنے کے لئے اساتذہ کیتعلیمی و فنی صلاحیتوں کے فروغ کو ممکن بنائیں۔ اساتذہ اپنی تعلیمی ،فنی اور پیشہ وارانہ ترقی میں لاپرواہی سے کام نہ لیں۔ اساتذہ اپنے عزم و یقین سے کام لے کر نہ صرف پیشہ وارنہ ترقی کی بلندیوں کو سر کرسکتے ہیں بلکہ درس و تدریس کو بھی دلچسپ اور موثر بنا دیتے ہیں۔ماہر تعلیم لنڈا شولاوے(Linda Sholaway)کے مطابق ’’شخصی اور پیشہ وارانہ نشوونما و ترقی ایک دوسرے سے باہم مربوط ہوتی ہے۔دونوں میں سے اگر ایک بھی نظراندازہوجائیتب دوسری ترقی بھیمتاثر ہوجاتی ہے۔لیکن دونو ں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اساتذہ ایک صحت مند اور خوشحالی تدریسی کیرئیر کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ (personal and professional growth are complementary processes.Neglect one, and the other will suffer.But concentrating on both, you’re assuring yourself of a healthy and happy teaching career)درس و تدریس کو ایک مکمل فنکارانہ پیشہ کی صور ت عطا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اساتذہ اپنی معلومات اور مہارتوں کو عصر ی تقاضوں کے مطابق بنائیں۔ اساتذہ کے تعلیمی ،فنی اور پیشہ وارانہ فروغ کے لئے سانڈرا ڈی ینگ کے مطابق’’ اپنے علم میں اضافے کے لئے ضروری ہے کہ اساتذہ مطالعہ،تحقیق،مشقی عمل اورحصول علم میں مسلسل مصروف رہیں۔‘‘(Reading,researching,practice and continuing of education is neccessary for expanding the knowledge of a teacher-Sandra De Young)اساتذہ نصابی کتب کے علاوہ خارجی کتابوں اور دیگر تعلیمی وسائل کا بروقت اور مناسب استعمال کرتے ہوئے اپنی معلومات میں اضافے کے علاوہ اختراعی طریقے ہائے تدریس کے ذریعہ اکتساب اور درس و تدریس کو ایک کیف آور اور پرکشش عمل بنا سکتے ہیں۔اپنی درسیات میں تخلیقی وسائل اور اختراعی تکنیک کا استعمال وہی اساتذہ کرتے ہیں جو زمانے کی رفتار کاعلم رکھتے ہیں اور جدید علوم کے حصول میں ہمہ وقت اپنے آپ کو مصروف رکھتے ہیں۔کمرۂ جماعت میں اپنی تدریسی فرائض کی انجام دہی کے ساتھ اساتذہ کو اپنی تعلیمی ،فنی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے فروغ میں معاون سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے تاکہ ان کی پیشہ درس و تدریس سے دلچسپی اور جوش و ولولہ باقی رہے۔
اساتذہ کی تعلیمی فنی اور شخصی ترقی کو بہتر بنانے کے طریقے:۔ایک کامیاب اور موثر استاد بننے کے لئے سخت محنت و خاص مدت کی ضرورت ہوتی ہے۔دیگر پیشوں کی طرح پیشہ تدریس سے وابستہ افراد کی فطری اور قدرتی صلاحیتوں کو بھی فروغ دینا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اساتذہ کو ان کااپنا اداراہ یا محکمہ کوئی موقع فراہم کرے یا نہ کرے وہ درج ذیل طریقوں کو اپناکراپنی تعلیمی ،فنی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں ۔
(1)ایک بہتر اور کامیاب استاد بننے کے لئے ضروری ہے کہ استاد اپنی خوبیوں اور کمزوریوں سے واقف ہو۔کمزوریوں کا ادراک استادکو اپنی معلومات منظم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اساتذہ جب اپنی کمزوریوں سے واقف ہوجاتے ہیں تو ان میں نئے تعلیمی رجحانا ت سیکھنا نے کا جذبہ سر اٹھانے لگتا ہے۔نئے تعلیمی و تدریسی رجحانات اساتذہ کی پیشہ وارانہ مہارتوں میں نکھار پیدا کرنے کے علاوہ اساتذہ کو یقین و اعتماد کی کیفیت سے سرشار کردیتے ہیں۔
(2)استاد اپنی تدریسی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لئے دیگر اساتذہ سے مشاورت کریں۔اپنی ناکامیوں اور تدریسی مشکلات کو دیگر اساتذہ کے علم میں لاتے ہوئے ان سے مسائل کے حل طلب کریں۔دوسروں کے صحت مند نظریات کو اپنانے میں تامل سے کام نہ لیں ۔تنقید کو تعمیر سے تعبیر کریں۔نکتہ چینی اور تنقیدوں کا خندہ پیشانی سے سامنا کریں۔اپنے تدریسی برتاؤ اور رویوں کو دوسروں کے آگے پیش کرنے میں گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں۔ کمرۂ جماعت کی اپنی تدریس سرگرمیوں کے مشاہد ے اور احتساب کا دیگر ساتھیوں کو موقع دیں تاکہ آپ کی تعلیمی ،فنی اور پیشہ وارانہ ترقی ممکن ہو۔ دیگر اساتذہ کو کھلی اجازت دیں کہ وہ آپ کے کمرۂ جماعت کی سرگرمیوں کو بہتر بنانے میں مشورے دینے سے گریز نہ کریں۔
(3) تدریسی سرگرمیوں میں بہتری کے لئے حکمت عملیاں وضع کریں۔زیادہ سے زیادہ وقت مطالعہ میں صرف کریں۔نئے تعلیمی رجحانات و نظریات سے اپنے آپ کو متصف کریں۔جدید اختراعی، تخلیقی نظریات ،تجربات اور طریقوں کو اپنی تدریس کا حصہ بنائیں۔جدید نظریات سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ہمہ وقت اپنی تربیت پرتوجہ دیں۔جدید طریقہ ہائے تدریس کو کمرۂ جماعت کا حصہ بنائیں ۔
(4)کمرۂ جماعت کی تدریس پیشہ وارانہ احساس و ذمہ داری کاایک حصہ ہوتی ہے ۔کمرۂ جماعت کی ذمہ داریوں کے علاوہ بھی استاد پر چند اور ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جس پر اساتذہ کو خاطر خواہ توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔اکثر اساتذہ کمرۂ جماعت کی سرگرمیوں کی انجام دہی کو ہی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور دیگر ذمہ داریوں سے عہدہ براں نہیں ہوتے ہیں جس کے خراب اثرات نہ صرف درس و تدریس پر مرتب ہوتے ہیں بلکہ اساتذہ کی شخصی اور پیشہ وارانہ زندگی کے لئے بھی یہ سم قاتل ثابت ہوتے ہیں۔اپنی تعلیمی،فنی اور پیشہ وارانہ مہارتوں کے فروغ میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھیں۔کمرۂ جماعت کے باہر کی سرگرمیوں سے استاد کا لاتعلق ہوجانا طلبہ کے ہمہ جہت ترقی کے لئے بہت مضر ثابت ہوتا ہے۔
(4)ساتھی اساتذہ سے بہتر میل میلاپ قائم رکھیں۔ساتھیوں سے دوستانہ تعلقات سے استاد کی پیشہ وارانہ اور فنی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔اساتذہ کا باہمی میل جول تجربات اور مشاہدات کے اشتراک کا ایک کامیاب وسیلہ ہوتا ہے۔ باہمی تعاون کی وجہ سے نظریات رجحانات اور تکینک کا تبادلہ عمل میں آتا ہے۔ کمرۂ جماعت کے اکثر و بیشتر مسائل اساتذہ کی آپسی گفت و شنید سے حل ہوجاتے ہیں۔ اکتساب کو پروان چڑھانے میں اساتذہ کا ایک دوسرے سے تعاون اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔یہ تعاون جہاں طلبہ کی ترقی کے لئے کارآ مد ہوتا ہے وہیں اساتذہ کی فنی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بھی بلند ی عطا کرتا ہے۔باہمی تعلقات کام کرنے کی صلاحیت اور معیار میں اضافے کا سبب ہوتے ہیں۔
(5)اساتذہ اپنی تعلیمی،فنی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانے والے ہر پروگرام میں خوش دلی ،جوش و ولولے سے حصہ لیں۔اپنی معلومات میں اضافے ،جدید تعلیمی نظریات و رجحانات سے آگہی پیدا کرنے کے علاوہ جدید اور اختراعی تدریسی طریقوں سے اپنے آپ کو متصف کریں اور کوئی ایسا موقع نہ گنوائیں جو ان کی تعلیمی، فنی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوسکتاہے۔تعلیمی سیمنارس، ورکشاپس، تربیتی ورکشاپس اور ادبی ،سائنسی پروگرامس میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔ایسے پروگرامس میں ضرور شریک ہوں جہاں ماہرین کے نظریات سے استفادے کے موقع دستیاب ر ہیں۔
(6)جدید نظریات کو اپنے کمرۂ جماعت میں نافذ کرنے کے لئے اگر ان میں تبدیلیوں کو جگہ دینی پڑے تو ضرور کمرۂ جماعت کے مطابق اپنے طریقہ تدریس اور تکنیک میں تبدیلی کو جگہ دیں۔قدیم تکنیک کو جدید تکنیک سے بدل دیں۔ قدیم تدریسی تکنیک کی وجہ سے طلبہ مثبت اکتسابی عمل سے محروم رہتے ہیں۔ضرورت ہوتو قدیم اور جدید کے امتزاج سے کام لیں۔درس و تدریس کے دوران ہر وقت عصر ی تقاضوں کو مدنظر رکھیں تاکہ بچوں کواسکول سے باہر کی دنیا اجنبی معلوم نہ ہو۔ اپنی تدریس کو حقیقت سے قریب رکھیں۔درس و تدریس میں مصنوعی پن کو بالکل جگہ نہ دیں۔درس و تدریس کا مقصد بچوں کو حقائق سے آشنا کرنا ہوتا ہے۔ حقائق کو دلکش پیرائیہ میں بیان کرنے کے ہنر سے اپنے آپ کو آراستہ کریں۔ تلخ بات کو شیریں انداز میں پیش کرنے کا سلیقہ سیکھیں۔حقائق و نظریات کو شفاف طریقے سے پیش کریں۔شک و شبہ اور ابہام کو ہر گز جگہ نہ دیں۔
(7)اساتذہ کی تربیت سازی کا کام انجام دینے والے افراد سے رابطے میں رہیں ان کے تجربات اور مشاہدات سے اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں۔ تجربہ کار قابل اساتذہ سے ملاقات کریں۔ماہرین تعلیم اورنظریہ ساز شخصیات سے میل جول رکھیں۔اساتذہ کی فنی ،تعلیمی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے والے کلبس ،اساتذہ انجمنوں اور تحقیقاتی مراکز سے رابطہ برقرار رکھیں تاکہ فنی اور پیشہ وارانہ ترقی جمود کا شکار نہ ہو۔محکمہ تعلیمات کی جانب سے جاری کردہ اعلانات اور پالیسوں پر نظر رکھیں۔
(8)تعلیمی رسائل،جرائد اور اخبارات کا مطالعہ کریں۔ تعلیمی رسائل جرائد اور اخبارات کے ذریعے جدید تعلیمی نظریات ،رجحانات ،تجربات اور تکنیک تک رسائی آسان ہوجاتی ہے۔دنیا بھر میں انجام پانے والی تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل ہوتی ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں اساتذہ اپنی فنی،تعلیمی اور پیشہ وارانہ ترقی کو مزید مستحکم کر سکتے ہیں۔
(9)سوشل میڈیا کے استعمال اور انٹرنیٹ کا استعمال بھی اساتذہ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے فروغ میں بے حد معاون ہوتا ہے۔انٹرنیٹ کے ذریعہ اساتذہ نہ صرف اپنی نصابی معلومات میں اضافے کو یقینی بناسکتے ہیں بلکہ درس و تدریس کے جدید طریقے ہائے تدریس سے بھی اپنے آپ کو مزین کر سکتے ہیں۔انٹرنیٹ پر کئی ایسی تعلیمی ویب سائٹس موجود ہیں جس سے اساتذہ اپنی فنی ،تعلیمی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو جلا دے سکتے ہیں۔
اساتذہ کا پختہ عزم و یقین ہی ان کو اپنے پیشے میں کامیابی عطاکرتا ہے۔وہ کاوشیں جن کے پس پردہ اخلاص اور محنت و لگن کارفر ہو وہ یقیناًکامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں۔پیشہ تدریس جہدمسلسل کادوسرا نام ہے ۔یہ ایک عظیم قومی خدمت ہے۔اساتذ ہ میں تعلیمی و فنی صلاحیتوں ،مہارتوں کا فروغ انھیں عظیم کارنامے سرانجام دینے پر آمادہ کرتا ہے۔وہ اساتذہ جو اپنے تدریسی کیرئیر میں کارنامے انجام دینے کے متمنی ہوتے ہیں اپنے عزائم اور اہداف کا تعین بہت پہلے ہی کر لیتے ہیں۔مثبت شخصیت کے حامل اساتذہ کبھی ناکامی سے خوفزدہ نہیں ہوتے ہیں۔مایوسی ان کے لئے کفر ہوتی ہے۔وہ ہر وقت امید اور یقین کے درمیان اپنے آپ کو کھڑا پاتے ہیں۔فطرت ہمیشہ تبدیلی کی خوگر رہی ہے اور جو اساتذہ فطرت کے اصولوں پر کاربند رہتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کو عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ عظیم کامیابیاں ان ہی کے قدم چومتی ہے جو خود کو وقت کے ساتھ ڈھالنے کا ہنر جانتے ہیں۔اساتذہ کو عزم و یقین کے ساتھ اخلاص کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے۔ادارہ جات و محکماجات اگر فنی ،تعلیمی اور پیشہ وارانہ مہارتوں کے فروغ میں اپنا تعاون پیش کرے یہ نہ کریں لیکن اساتذہ اپنی تعلیمی،فنی،اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور مہارتوں کے فروغ میں تساہل سے کبھی کام نہ لیں۔اساتذہ اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور مہارتوں کے فروغ کے لئے ہر ممکن اقدام کریں۔کیونکہ درس و تدریس کا اولین مقصد طلبہ کو زندگی کی بے پنا ہ صلاحیتیں سے آراستہ کرتے ہوئے قوم و ملت کی خدمت کے لئے تیار کرنا ہوتا ہے۔اساتذہ کا تعلق سماج کے ان افراد میں ہوتا ہے جو ذہانت و لیاقت کی دولت سے مالامال ہوتے ہیں۔ اساتذہ اپنے عہدے کے پاس ووقار کو ملحوظ رکھیں۔ اپنی بہترین تخلیقی،ذہنی توانائیوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قوم وملت کی تعمیر میں اپنا تعاون پیش کریں۔اساتذہ میں تعلیمی ،فنی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہوئے قوم و ملت کی حقیقی خدمت انجام دی جاسکتی ہے۔

حصہ
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں