قدیم و جدید فتنے کہاں سے پھوٹے ؟

  کلامِ الہی قرآنِ مجید کیا کہتا ہے ؟

یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا ہمیں کوئ نہیں بتائے گا ،

قرآنِ مجید (کلامِ الہی) کے  ”شارح”  صرف اور صرف محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ،

آسمان سے جو بھی وحی الہی نازل ہوئ – وہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی پر نازل ہوئ ، لہذا وحی الہی کی شرح کا حق و منصب صرف اور صرف خاتم النبیین والرسل نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلی وسلم) ہی کا ہے ،

اللہ نے کیا فرمایا ہے ؟

یہ صرف اور صرف محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی بتائینگے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی کلامِ الہی کی  توضیح و تشریح فرمائینگے ،

سوال یہ ہے کہ ؛

کلامِ الہی کی  ”نبوی”  تشریح و تفسیر و توضیح و تفہیم و تعبیر ہم کہاں سے جانیں اور سمجھیں گے ؟

کیا صحابہ کرام کے سوا ہمارے پاس کوئ معتبر ذریعہ ہے ؟

یقیناً اور بلاشبہ ، قطعًا نہیں ۔۔۔۔

یعنی  نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کلامِ الہی کی کیا تشریح و توضیح و تفسیر کرکے دی ہے ؟

یہ ہمیں صرف اور صرف اصحاب کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) ہی بتائینگے ،

چنانچہ ہم (اہلسنت والجماعت) صرف اور صرف قرآنِ مجید اور احادیث نبوی (یعنی قرآن کی  ”نبوی”  تشریح و توضیح و تفسیر تعبیر و تفہیم) ہی کو دینِ اسلام مانتے ہیں ،

اور دینِ محمد کو ہم صرف اور صرف  ”بذریعہ صحابہ” لینے پر ہی ایمان و یقین و اعتقاد رکھتے ہیں ،

ہمارے نزدیک قرآنِ مجید کی  ”نبوی”  تشریح و توضیح و تعبیر و تفسیر و تفہیم صرف اور صرف  ”وہی”  معتبر و حقیقی و اصل تسلیم کی جائے گی – جو  ”بذریعہ صحابہ”  ہم تک پہنچے ،

اہل سنت والجماعت میں  ”والجماعت”   سے مراد ؛

  ”جماعتِ صحابہ”  ہے ،

یعنی قرآن و حدیث کے اُس فہم کو  ”حُجّت”  ماننے والے جو فہمِ قرآن و حدیث  ”بذریعہ صحابہ”  آئے ،

ہمارا اعتقاد و ایمان ہے کہ ؛

اللہ کے پسندیدہ دین کی عین نبوی تشریح و تفہیم و توضیح کے ابلاغ اور حفاظت کیلئے جماعتِ صحابہ اللہ کا پسندیدہ انتخاب ہے ،

اور بلاشبہ آپ اصحاب (رضی اللہ عنہم) نے  ”علمی و عملی”  ہر دو میدانوں میں دینِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو من و عن اسکی اصل و حقیقی شکل میں قائم رکھا ،

صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) دینِ محمد کے سلسلہ سند کی پہلی کڑی ہیں ،

صحابہ کرام دینِ اسلام کی حقیقی و اصل ”عملی”  تصویر ہیں ،

صحابہ کی سیرت و منہج کو ہم منبعِ ہدایت مانتے ہیں ،

چنانچہ اللہ تعالٰی نے قرآنِ مجید ہی میں جماعتِ صحابہ کی بابت ضمانت دیتے ہوئے خوب صاف صاف فرما دیا ؛ کہ

”رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ”   (القرآن)

اللہ صحابہ پر راضی ہوا اور صحابہ کرام اللہ پر راضی ہوئے

اللہ کی رضا ؛

یعنی جماعتِ صحابہ سے بحیثیتِ مجوعی اللہ کی مرضی کیخلاف کبھی کچھ صادر نہیں ہوا ،

لہذا خوب ذہن نشین رہے !

ہر وہ فرد ، ہر وہ گروہ و جماعت و مسلک و جتھہ و پارٹی گمراہ و رسوا و ناکام و نامراد ہے ، قرآن و سنت پر ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!

پہلا وہ جو قرآنِ مجید کی  ”نبوی تشریح کے علاوہ”  بھی کسی کی تشریح و تفسیر کو دین مانے یا خود ہی کوئ شرح کرنے کی جسارت کرے ،

  اور دوسرا وہ جو احادیثِ رسول کا منکر ہو یا احادیث کی کوئ خود ساختہ تفہیم پیش کرے ،

منکرِ حدیث دراصل رسول اللہ ہی کا منکر ہے ، جو خود شارحِ قرآن بن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منصب و مقام پر ڈاکہ ڈالتا ہے ،

اور تیسرا وہ جو قرآن و حدیث کو تو مانے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن صحابہ کرام کا منکر ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا صحابہ کی بابت شک و بدگمانی میں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا صحابہ کو کسی بھی طرح موردِ الزام ٹھہراتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔

یا صحابہ کرام کو نشانۂ تنقید بنائے اور اُمّتِ محمد کی عدالت میں صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کو مجروح قرار دینے کی ناکام کوشش کرے ،

یہ بھی دراصل قرآن و حدیث کی کوئ جعلی ، جدید اور خود ساختہ تشریح و توضیح و تعبیر کرنا چاہتا ہے اور یہ بھی بنیادی طور پر قرآنِ مجید کی  ”آسمانی و نبوی”  تشریح و توضیح و تفسیر و تعبیر و تفہیم ہی کا انکار کرتا ہے ،

کیونکہ بِنا صحابہ کے قرآنِ مجید و احادیثِ رسول کی  ”محمدی”  تشریح و توضیح و تفہیم و تفسیر و تعبیر تک رسائ ناممکن ہے اور صحابہ کرام کو نکال دیں تو دینِ محمد کی عمارت ہی منہدم ہوجاتی ہے ،

کوئ بھی فتنہ ہو ، شروع سے اب تک کے سب کے سب فتنوں کی بنیاد میں اِن تین وجوہات میں سے ایک وجہ – یا دو – یا تینوں وجوہات ضرور پائ جاتی ہونگی

(( فتنہ کی تعریف ؛

ہر وہ شے جو مخلوق کو خالق سے دور اور جدا کردے –

فتنہ کہلاتا ہے ۔

اِس تعریف کی رو سے ہر وہ فرد و گروہ و جماعت و جتھہ و پارٹی آپ کیلئے فتنہ ہے جو آپ کو اللہ سے دور کردے

اور ہر وہ دور پرفتن دور کہلاتا ہے جس دور میں مخلوق کا اپنی انفرادی و اجتماعی ۔۔۔۔۔ زندگی کے ہر دو پہلوؤں میں خالق کی بندگی میں جینا مشکل ہوجائے

ہر وہ ادارہ مخلوق کیلئے فتنہ کہلائے گا جو مخلوق کو خالق کی عبدیت سے آزاد کر دے ،

ہر وہ علم و تعلیم مخلوق کیلئے فتنہ ہے جو مخلوق کو مقصدِ تخلیق اور مقصدِ حیات سے ہٹا دے))

اللہ ہمیں فتنوں کے اِس دور میں اصل و حقیقی ، آسمانی دینِ اسلام کی صحیح و درست سمجھ و فہم عطا فرمائے (آمین)

ہر فتنے اور ہر گمراہی و ضلالت و ذلت سے اپنی حفاظت میں رکھے ، (آمین ثمہ آمین یا رب العالمین)

حصہ

1 تبصرہ

  1. صرف یہی ایک نکتہ امت کو سمجھ آ جائے تو امت کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے. بہت عمدہ تحریر. بارک اللہ فیک

جواب چھوڑ دیں