سر سید احمد خان

سرسید کی تصویر دیکھ کر کسی کو خیال بھی نہیں آسکتا کہ سرسید لطیفہ گو بلکہ لطیفہ باز بھی ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ ایک بار ایک شیعہ نے سرسید سے پوچھا: ’’اگر آپ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے زمانے میں ہوتے تو کس کو خلیفہ بنانے کی کوشش کرتے؟‘‘ سرسید نے یہ بات سنی تو چند لمحے توقف کیا، پھر فرمایا: ’’میاں اگر ہم اُس زمانے میں ہوتے تو اپنی خلافت کے لیے کوشش کرتے‘‘۔ سرسید کے اس ’’تاریخی لطیفے‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ سرسید کی تحریریں خواہ کیسی ہی کیوں نہ ہوں اُن کے لطیفے ’’بامعنی‘‘ ہوتے تھے۔ اتفاق سے کراچی میں سرسید کی دو سو ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والے سیمینار کے کئی شرکا نے سرسید کی لطیفہ بازی کی روایت کو بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔ مذکورہ سیمینار تین دن جاری رہا۔ اس سیمینار کا اہتمام جامعہ کراچی کے شعبہ اردو نے کیا تھا۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ سرسید سے متعلق سیمینار کے فاضل مقررین نے کیسے کیسے ’’علمی لطائف‘‘ تخلیق کیے۔

ڈاکٹر سید جعفر احمد ایک معروف سوشلسٹ اور سیکولر دانش ور ہیں۔ وہ جامعہ کراچی میں پاکستان اسٹڈیز سینٹر کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ علمی حلقوں میں ڈاکٹر صاحب کی بڑی قدر و منزلت ہے، مگر افسوس کہ ڈاکٹر صاحب نے سیمینار میں سرسید کے حوالے سے ایسی باتیں کہیں جن کی کوئی تاریخی اور علمی بنیاد ہی نہیں ہے۔ ’’ڈیلی ڈان‘‘ کراچی کی 17 اکتوبر 2017ء کی اشاعت میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ سرسید نے اپنی جدوجہد میں مشرق و مغرب کے درمیان ’’مکالمے‘‘ کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول سرسید نے برصغیر کے مسلمانوں اور انگریزوں کے درمیان ’’پُرامن بقائے باہمی‘‘ کا ماحول بھی پیدا کیا۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر ڈاکٹر جعفر نے سرسید کے زمانے میں یہ کہا ہوتا کہ سرسید نے مشرق و مغرب کے درمیان مکالمے کی راہ ہموار کی تو سرسید ڈاکٹر صاحب کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیتے۔ اس لیے کہ سرسید کے نزدیک مغرب ہی سب کچھ تھا۔ سرسید مشرق کیا، مسلمانوں اور ان کے تمام علوم و فنون کو فضول، ماضی کی یادگار اور بے وقت کی راگنی سمجھتے تھے۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ مغرب اُن کے نزدیک ’’غالب‘‘ تھا اور مشرق ’’مغلوب‘‘۔ سوال یہ ہے کہ ان حالات میں سرسید مشرق و مغرب کے درمیان مکالمے کا آغاز کیسے کرا سکتے تھے؟ یہاں اس امر کی نشاندہی بھی ضروری ہے کہ مغرب سرسید کی جیب میں پڑی ہوئی کوئی چیز نہیں تھا کہ سرسید اُسے حکم دیتے کہ چلو اُٹھو اور مشرق کے ساتھ مکالمہ کرو اور مغرب کہتا: جی حضور ذرا بتائیے تو کس ٹیبل پر بیٹھوں؟ مغرب سرسید کا آقا بلکہ ’’خالق‘‘ تھا، اور سرسید مغرب کی ’’مخلوق‘‘ تھے، اور سرسید کے خالق کی تاریخ یہ ہے کہ اُس نے آج تک کسی قوت بالخصوص غلاموں کے ساتھ مکالمہ نہیں کیا۔ لیکن آئیے دیکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں خود سرسید کی تحریریں کیا کہتی ہیں؟ سرسید نے فرمایا:

’’وہ زمانہ جس میں انگریزی حکومت ہندوستان میں قائم ہوئی، ایک ایسا زمانہ تھا کہ بے چاری انڈیا بیوہ ہوچکی تھی۔ اس کو ایک شوہر کی ضرورت تھی۔ اس نے خود انگلش نیشن کو اپنا شوہر بنانا پسند کیا۔ انگلش نیشن ہمارے مفتوحہ ملک میں آئی مگر مثل ایک دوست کے، نہ کہ بطور ایک دشمن کے‘‘۔ (افکارِ سرسید۔ از ضیا الدین لاہوری۔ صفحہ238)

ایک اور مقام پر سرسید نے لکھا:

’’خدا کی مرضی ہوئی کہ ہندوستان ایک دانش مند قوم کی حکومت میں دیا جائے جس کا طرزِ حکومت زیادہ تر قانونِ عقلی کا پابند ہو۔ بے شک اس میں بڑی حکمت خدا تعالیٰ کی تھی‘‘۔ (افکار سرسید۔ از ضیاالدین لاہوری۔ صفحہ239)

ایک جگہ سرسید رقم طراز ہیں:

’’ہم کو جو کچھ اپنی بھلائی کی توقع ہے وہ انگریزوں سے ہے‘‘۔ (افکارِ سرسید۔ از ضیا الدین لاہوری۔ صفحہ241)

سرسید نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:

’’خدا کا شکر ہے کہ ہم ملکہ معظمہ کوئن وکٹوریہ قیصرِ ہند کے زیر سایہ ہیں‘‘۔ (افکارِ سرسید۔ از ضیا الدین لاہوری۔ صفحہ241)

اس سلسلے میں سرسید کی ایک اور تحریر کا نمونہ ملاحظہ فرمائیے:

’’ہندوستان میں برٹش گورنمنٹ خدا کی طرف سے ایک رحمت ہے۔ اس کی اطاعت اور فرماں برداری اور پوری وفاداری اور نمک حلالی، جس کے سایہ وعاطفت میں ہم امن وامان سے زندگی بسر کرتے ہیں، خدا کی طرف سے ہمارا فرض ہے۔ میری رائے آج کی نہیں بلکہ پچاس ساٹھ برس سے اسی رائے پر قائم ہوں‘‘۔ (افکارِ سرسید۔ از ضیا الدین لاہوری۔ صفحہ242)

سوال یہ ہے کہ ان تحریروں میں سرسید کیسے انسان نظر آرہے ہیں؟ ایک آزاد اور صاحبِ عزت انسان، یا ایک ایسے انسان جو انگریزوں کی غلامی کو صرف سیاسی اور عسکری سطح پر ہی نہیں۔۔۔ ذہنی، نفسیاتی، تہذیبی بلکہ مذہبی سطح پر بھی قبول کرچکا ہے۔ اسی لیے سرسید کو انگریزوں کی غلامی ’’خدا کی مرضی‘‘ اور ’’خدا کی رحمت‘‘ نظر آرہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا شخص مشرق و مغرب کے درمیان کیسے اور کیوں مکالمہ کرائے گا؟ اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ جس شخص کو مغرب پہلے ہی اپنے قدموں میں پڑا ہوا پاتا ہو اُس شخص یا اُس کی تہذیب سے مغرب کس لیے مکالمے کی زحمت کرے گا؟ مغرب اگر سرسید کے زمانے میں مشرق سے مکالمہ کرتا بھی تو اُن لوگوں سے کرتا جو اس کی مزاحمت کررہے تھے۔ جو شخص مغرب کی غلامی کھا رہا ہو، جو شخص مغرب کی غلامی پی رہا ہو، جو شخص مغرب کی غلامی بچھا رہا ہو، جو شخص مغرب کی غلامی اوڑھ رہا ہو، جو شخص مغرب کی غلامی کو خدا کی مرضی اور اس کی رحمت کہہ رہا ہو اُس سے عقلی طور پر بھی مغرب کو مکالمے کی ضرورت نہیں ہوسکتی تھی۔ افسوس ڈاکٹر سید جعفر احمد نے ان معاملات پر جو سرسید کے حوالے سے واضح ہیں، غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ سرسید نے مشرقی اور مغربی علوم کے درمیان کیسا مکالمہ کرایا ہے؟ لکھتے ہیں:

’’کیا ہندوستان کی ترقی علومِ مشرقی کی ترقی سے ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔‘‘ (افکارِ سرسید۔ از ضیا الدین لاہوری۔ صفحہ205)

ایک اور مقام پر سرسید نے لکھا ہے:

’’ہم صاف صاف کہنا چاہتے ہیں کہ ہم کو علومِ مشرقی کی ترقی کے پھندے میں پھنسانا ہندوستانیوں کے ساتھ نیکی کرنا نہیں ہے بلکہ دھوکے میں ڈالنا ہے‘‘۔ (افکارِ سرسید۔ از ضیا الدین لاہوری۔ صفحہ206)

مشرقی علوم جن میں تفسیر، سیرتِ طیبہؐ، علمِ حدیث اور فقہ شامل ہیں، کے برعکس سرسید مغربی علوم کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے انہی کی زبانی سنیے۔ کہتے ہیں:

’’ہمارے ملک کو، ہماری قوم کو اگر درحقیقت ترقی کرنی ہے اور فی الواقع ہمیں ملکۂ معظمہ، قیصرہ ہند کا سچا خیر خواہ اور وفادار رعیّت بننا ہے تو بجز اس کے اور کوئی راہ نہیں ہے کہ علومِ مغربی و زبانِ مغربی میں اعلیٰ درجے کی ترقی حاصل کریں‘‘۔

(افکارِ سرسید۔ از ضیا الدین لاہوری۔ صفحہ206)

ایک اور مقام پر سرسید نے فرمایا ہے:

’’جو شخص اپنی قومی ہمدردی سے اور دُور اندیش عقل سے غور کرے گا کہ ہندوستان کی ترقی۔۔۔ کیا علمی، کیا اخلاقی۔۔۔ صرف مغربی علوم میں اعلیٰ درجے کی ترقی حاصل کرنے پر منحصر ہے۔ اگر ہم اپنی اصلی ترقی چاہتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی مادری زبان تک کو بھول جائیں۔ تمام مشرقی علوم کو نسیاً منسیاً کردیں (یعنی بھلادیں، مٹادیں)۔ ہماری زبان یورپ کی اعلیٰ زبانوں میں سے انگلش یا فرنچ ہوجائے۔ یورپ ہی کے ترقی یافتہ علوم دن رات ہمارے دست مال ہوں۔ ہمارے دماغ یورپین خیالات سے (بجز مذہب کے) لبریز ہوں۔ ہم اپنی قدر، اپنی عزت کی قدر خود کرنا سیکھیں، ہم گورنمنٹ انگریزی کے ہمیشہ خیر خواہ رہیں اور اسی کو اپنا محسن سمجھیں‘‘۔ (افکارِ سرسید۔ از ضیا الدین لاہوری۔ صفحہ207)

آپ نے دیکھا، سرسید نے مشرقی و مغربی علوم کے درمیان کیسا زبردست ’’مکالمہ‘‘ کرایا ہے۔ سرسید کی تحریروں کے ان اقتباسات کو دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ سرسید نے اپنے طور پر تمام مشرقی علوم کو زمین میں زندہ دفن کرنے اور مغربی علوم کو ساتویں آسمان پر پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کن مغربی علوم کو؟ اس سلسلے میں پہلے آپ ایک انگریز ڈاکٹر ہنٹر کی وہ رائے ملاحظہ کیجیے جسے سرسید نے خود اپنی ایک تحریر میں ’’کوٹ‘‘ کیا ہے۔ ہنٹر نے کہا ہے:

’’کوئی نوجوان خواہ ہندو ہو خواہ مسلمان، ایسا نہیں ہے جو ہمارے انگریزی مدرسوں میں تعلیم پائے اور اپنے بزرگوں کے مذہب سے بداعتقاد ہونا نہ سیکھے۔ ایشیا کے ترو تازہ مذہب جب مغربی علوم کی سچائی کے قریب آتے ہیں جو مثل برف کے ہے، تو سوکھ کر لکڑی ہوجاتے ہیں‘‘۔

یہ اقتباس پیش کرنے کے بعد سرسید نے لکھا ہے:

’’یہ قول ڈاکٹر ہنٹر کا بالکل سچ ہے‘‘۔ (افکارِ سرسید۔ از ضیا الدین لاہوری۔ صفحہ221)

مزے کی بات دیکھیے کہ اس کے باوجود ڈاکٹر جعفر فرماتے ہیں کہ سرسید نے مشرق و مغرب کے درمیان مکالمہ کرایا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ سرسید جن علوم کو ایشیائی مذہب ’’اسلام‘‘ کے لیے جان لیوا سمجھتے تھے انہی علوم کی تعریف میں وہ زمین آسمان ایک کیے ہوئے تھے اور انہی علوم کو انہوں نے اپنے قائم کیے ہوئے تعلیمی ادارے کی ’’جان‘‘ بنایا۔ اس کے باوجود بعض لوگ سرسید کو اسلام کا ’’مخلص سپاہی‘‘ اور مسلمانوں کا ’’محسن‘‘ کہتے ہیں۔

سرسید سے متعلق سیمینار میں ڈاکٹر جعفر صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ سرسید نے انگریزوں اور برصغیر کے مسلمانوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کا ماحول بھی پیدا فرمایا۔ ارے صاحب! آقا اور غلاموں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کہاں سے آگئی؟ اس لیے کہ آقا اور غلاموں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کا مطلب یہ ہے کہ آقا قیامت تک آقا رہے گا اور غلام قیامت تک غلام۔ غلام اگر اپنی غلامی کو سرسید کی طرح دل و جان بلکہ دل و ایمان سے قبول نہیں کرے گا تو آقا ناراض ہوگا اور پُرامن بقائے باہمی ممکن نہ ہوسکے گی۔ یعنی سرسید کی طرح ڈاکٹر جعفر بھی یہی چاہتے ہیں کہ مسلمان انگریزوں سے آزاد نہ ہوتے۔ ہم انگریزوں سے ہندوستان، اور ہندوستان سے مسلمانوں کی آزادی پر ڈاکٹر جعفر صاحب کے دکھ کو سمجھتے ہیں، لیکن اُن سے ہماری گزارش ہے کہ انگریزوں کی غلامی کی سرسیدی یا اپنی خواہش کو ’’پُرامن بقائے باہمی‘‘ جیسا عالی شان نام نہ دیں۔ ایسا کرنے سے پُرامن بقائے باہمی کے تصور کی عزت اور تقدس خاک میں مل کر رہ گیا ہے۔

ڈیلی ڈان کراچی کے مطابق ڈاکٹر جعفر صاحب نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سرسید خواتین کی تعلیم کو ترقی پسند معاشرے یا ڈاکٹر جعفر صاحب کے اپنے الفاظ کے مطابق Progressive Society کے قیام کے سلسلے میں ضروری خیال کرتے تھے۔

سرسید کی رائے کی روشنی میں دیکھا جائے تو ڈاکٹر جعفر کی یہ بات ’’علمی لطیفے‘‘ سے بھی آگے کی چیز ہے۔ یہاں تک کہ اس رائے کے لیے غلط بیانی بھی ایک ’’نرم اصطلاح‘‘ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرسید ویسے تو مغربی تعلیم کے عاشق تھے مگر وہ مسلم خواتین کے لیے اس تعلیم کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ چناں چہ لکھتے ہیں:

’’باوجودیکہ بہت سی باتوں میں میری طرف نئے خیالات منسوب کیے جاتے ہیں، لیکن عورت کی تعلیم کی نسبت میرے وہی خیالات ہیں جو ہمارے قدیم بزرگوں کے تھے‘‘۔ (افکارِ سرسید۔ ازضیا الدین لاہوری۔ صفحہ210)

ایک اور جگہ سرسید نے اپنے نقطہ نظر کو زیادہ وضاحت سے پیش کیا ہے، فرماتے ہیں:

’’لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عام اسکول بنانے کو، جہاں کہ عام لڑکیاں بلالحاظ اس کے کہ کس قوم و خاندان کی ہیں، چادر یا برقع اوڑھ کر یا ڈولی میں بٹھا کر بھیجی جائیں، میں پسند نہیں کرتا۔ معلوم نہیں کیسی عورتوں سے صحبت ہوگی؟ معلوم نہیں کہ کیسی لڑکیاں جمع ہوں گی؟ معلوم نہیں ان کا طرز کیا ہے؟ گفتگو کیسی ہے؟ مگر میں نہایت زور سے کہتا ہوں کہ اشراف جمع ہوکر اپنی لڑکیوں کی تعلیم کا ایسا انتظام کریں جو نظیر ہو پچھلی تعلیم کی، جو کسی زمانے میں ہوتی تھی۔ کوئی شریف خاندان کا شخص یہ نہیں خیال کرسکتا کہ وہ اپنی بیٹی کو ایسی تعلیم دے کہ ٹیلی گراف آفس میں سگنلر ہونے کا کام دے، یا پوسٹ آفس میں چٹھیوں پر مہر لگایا کرے۔ عورتوں کی تعلیم نیک اخلاق، نیک خصلت، خانہ داری کے امور، بزرگوں کے ادب، خاوند کی محبت، بچوں کی پرورش، مذہبی عقائد کا جاننا ہونی چاہیے۔ اس کا میں حامی ہوں۔ اس کے سوا کسی اور تعلیم سے بیزار ہوں‘‘۔ (افکارِ سرسید۔ از ضیا الدین لاہوری۔ صفحہ 211)

سیمینار سے معروف نقاد اور افسانہ نگار ناصر عباس نیر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے سرسید کے بارے میں ڈاکٹر جعفر سے بہتر تجزیہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرسید ’’نوآبادیاتی جدیدیت‘‘ یا ان کے اپنے الفاظ میں Colonial Modernity کے حامی تھے۔ ناصر عباس نیر نے جدیدیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ’’حقیقی جدیدیت‘‘ یا True Modernity ہے اور ایک نوآبادیاتی جدیدیت یعنی Colonial Modernity ہے۔ اتفاق سے انہوں نے نوآبادیاتی جدیدیت اور حقیقی جدیدیت کے فرق کی وضاحت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی جدیدیت یہ ہے کہ انسان (کسی آسمانی ہدایت کے بغیر) اپنا فیصلہ خود کریں اور اتھارٹی کو چیلنج کریں۔ جب کہ ناصر عباس نیر کے مطابق نوآبادیاتی جدیدیت میں آپ ’’اتھارٹی‘‘ کی مرضی کو ذہن میں رکھتے ہیں۔ ناصر عباس نیر کے مطابق سرسید نوآبادیاتی جدیدیت کے حق میں تھے۔ چلیے ناصر عباس نیر نے اتنا تو مانا کہ سرسید کے لیے انگریزوں کی مرضی اور مفاد ہی سب کچھ تھا۔ مگر ناصر عباس نیر نے جدیدیت کی جو تفہیم فرمائی ہے، ٹھیک نہیں ہے۔ جدیدیت ہر صورت میں نوآبادیاتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ کہیں وہ سیاسی و عسکری اتھارٹی ہے اور کہیں نظریات، تصورات، خیالات اور نام نہاد تہذیب و ثقافت کی اتھارٹی ہے۔ لیکن یہ ایک الگ ہی موضوع ہے، اس پر پھر کبھی گفتگو ہوگی۔

سیمینار سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اجمل نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے پُرجوش انداز میں فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ سرسید نے سمجھوتے کیے۔ بے شک انہوں نے سمجھوتے کیے، مگر انہوں نے ’’زمینی حقائق‘‘ کو دیکھ کر دو قدم پیچھے ہٹائے تو موقع ملتے ہی تین قدم آگے بھی بڑھائے۔ ڈاکٹر اجمل نے دعویٰ کیا کہ سرسید نے لوگوں کو بولنے کی ’’جرأت‘‘ دی۔ بدقسمتی سے ان خیالات میں علمی لطائف کیا ’’فلمی لطائف‘‘ بھی موجود نہیں۔ کیا ڈاکٹر اجمل کو معلوم ہے کہ سرسید نے کیسے سمجھوتے کیے؟ انہوں نے صحابہ کرامؓ سے اپنے زمانے تک آنے والے پورے تفسیری علم کو مسترد کردیا اور فرمایا کہ عرب کے ’’بدو‘‘ تابعین اور تبع تابعین قرآن کو سمجھے ہی نہیں۔ یہ انگریزوں کے پروٹسٹنٹ ازم کا اثر تھا۔ سرسید نے علمِ حدیث کا انکار کردیا اور اپنے طور پر قرآن اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کے فہم تک پہنچانے والا سب سے بڑا دروازہ بند کردیا۔ انہوں نے قرآن کے معجزات کا انکار کیا، اور اس پر پوری امت کا ’’اجماع‘‘ ہے کہ قرآن کے کسی جزو کا منکر بھی کافر ہے۔ جیسا کہ اس کالم میں بیان ہوا کہ انہوں نے مشرق کے تمام علوم کو مسترد کردیا، یہاں تک کہ انہوں نے لکھ دیا کہ اپنی زبانوں یعنی عربی، فارسی اور اردو، سندھی کو بھول جاؤ، صرف یورپی زبانوں یعنی انگلش اور فرانسیسی کو گلے لگاؤ۔ انہوں نے جنت و دوزخ اور فرشتوں کا مذاق اڑایا۔ سوال یہ ہے کہ اتنے سمجھوتوں کے بعد ہمارے پاس کیا بچتا ہے؟ ڈاکٹر اجمل نے فرمایا کہ سرسید نے ہمیں جرأت سے بولنا سکھایا۔ جناب، انہوں نے مسلمانوں کو جرأت سے بولنا نہیں، انگریزوں کے سامنے چپ سادھنا سکھایا، انہوں نے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی اور اس پر فخر کرنا سکھایا۔ جو شخص انگریزوں کے آگے گونگا بنا ہوا تھا وہ بھلا مسلمانوں کو جرأت سے بولنا کیسے سکھا سکتا تھا! اجمل صاحب کے دعوے کے مطابق سرسید دو قدم پیچھے ہٹتے تھے تو موقع ملتے ہی تین قدم آگے بڑھ جاتے تھے، مگر وہ اس ’’کارنامے‘‘ کی کوئی ایک مثال بھی پیش نہ کرسکے اور نہ کرسکتے ہیں۔ اس لیے کہ سرسید نے ذلت، غلامی اور پسپائی کو ’’فن‘‘ نہیں ’’سائنس‘‘ بلکہ مذہب بنا ڈالا تھا۔ اُن کا تو ’’خدا‘‘ بھی ایسا ہے جو سید کو بدترین غلامی بھی اپنی رحمت کے روپ میں دکھاتا ہے۔ اللہ اکبر

سیمینار کا ایک خاص پہلو یہ تھا کہ تین روزہ سیمینار سے جن لوگوں نے خطاب فرمایا اُن میں سے کسی کی شہرت سیکولر فرد کی تھی، کوئی لبرل اور سابق سوشلسٹ تھا، کوئی جدیدیہ تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سب کے سب سرسید کے بت کے گلے میں ہار پھول ڈال رہے تھے، صرف ڈاکٹر تحسین فراقی ایسے فرد تھے جنہیں سرسید سے ’’کچھ‘‘ اختلافات ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی سرسید یا اُن کی جدیدیت کی سکھائی ہوئی ’’جرأتِ اظہار‘‘ ہے؟ ارے بھئی آپ سرسید پر سیمینار کررہے ہیں تو 20 لوگ ایسے بلائیں جنہیں سرسید سے جزوی یا کامل اتفاق ہو، لیکن سرسید پر ایک دو نہیں درجنوں ہمالیہ جیسے اعتراضات ہیں، چنانچہ پانچ سات لوگ ایسے بھی تو بلاؤ جو سرسید پر مدلل تنقید کرکے لوگوں کو بتائیں کہ سرسید اصل میں کیا تھے۔ یک طرفہ پروپیگنڈہ تو جھوٹے، مکار، علم سے لاتعلق اور خوف زدہ لوگ کرتے ہیں۔ کیا سیمینار کے منتظمین کو معلوم ہے کہ سرسید نے ایک جگہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’محمد صاحب‘‘ لکھا ہے! رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام کی دو عظیم ترین ہستیوں کے بارے میں سرسید نے کیا فرمایا ہے، پڑھیے:

’’خلافت کی نسبت، بحیثیت انتظامِ ملکی کیا لکھا جائے اور کون لکھ سکتا ہے۔ میں تو ان صفات کو جو ذاتِ نبوی میں جمع تھیں دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں۔ ایک سلطنت اور ایک قدوسیت۔ اوّل کی خلافت حضرت عمرؓ کو ملی، دوسری کی خلافت حضرت علیؓ و ائمہ اہلِ بیت کو، مگر یہ کہہ دینا آسان ہے، کس کو جرأت ہے کہ اس کو لکھے۔ حضرت عثمانؓ نے سب چیزوں کو غارت کردیا، حضرت ابوبکرؓ تو برائے نام بزرگ آدمی ہے‘‘۔ (افکارِ سرسید۔ از ضیا الدین لاہوری۔ صفحہ235)

یہاں کہنے کی بات یہ ہے کہ سرسید جس کے بارے میں جو چاہے کہیں کوئی بات نہیں، مگر سرسید پر ہونے والے سیمینار میں کوئی یہ بتانے والا بھی نہ ہو کہ سرسید ہمارے مذہب، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، ہمارے صحابہؓ، ہماری تہذیب اور ہماری تاریخ کے بارے میں کیا کچھ فرما چکے ہیں۔ کیا سرسید کا ’’مرتبہ‘‘ ہماری ہر چیز سے بلند ہے؟ ہم یہ جان کر غم میں ڈوب گئے کہ سیمینار کا انعقاد کرنے والوں میں شعبہ اردو جامعہ کراچی کی چیئرپرسن ڈاکٹر تنظیم الفردوس اور ڈاکٹر رؤف پاریکھ پیش پیش تھے۔ ہم ’’You to Brutus‘‘ کہتے ہوئے ان سے عرض کریں گے کہ اپنے مذہب، تہذیب، تاریخ اور سرسید کی نظر میں قابلِ گردن زدنی قرار پانے والے مشرقی علوم کا دفاع نہیں کرتے تو کوئی بات نہیں، لیکن ’’علمی توازن‘‘ کا دفاع تو کریں۔

 

حصہ
شاہنواز فاروقی پاکستان کے ایک مقبول اورمعروف کالم نگار ہیں۔ آج کل جسارت کے کالم نگار اور ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کے اسٹاف رائیٹر ہیں۔ ان کے موضوعات میں زبان، ادب، شاعری، تنقیدکے ساتھ برصغیر کی تاریخ وتہذیب، عالمی، قومی اور علاقائی سیاست ، تعلیم، معیشت، صحافت، تاریخ اور سماجی مسائل شامل ہیں۔ اسلام اورمغرب کی آ ویزش اور امت مسلمہ کے ماضی وحال اور مستقبل کے امکانات کا مطالعہ ان کا خصوصی موضوع ہے۔ اس کے علاوہ سوشلزم اور سیکولرازم پر بھی ان کی بے شمار تحریریں ہیں۔ فاروقی صاحب ’’علم ٹی وی‘‘ پر ایک ٹاک شو ’’مکالمہ‘‘ کی میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔ شاہنوازفاروقی اظہار خیال اور ضمیر کی آزادی پر کسی سمجھوتے کے قائل نہیں ہیں۔

جواب چھوڑ دیں