بلاگرز کا جمعہ بازار

نذیر الحسن میں ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ جب کسی کا م کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس پر جی جان سے لگ جاتا ہے، یہاں تک تو ٹھیک ہے، لیکن جب وہ اپنے دوستوں کو بھی اس راہِ پر خار میں گھیسٹتا ہے توپھر جان عذاب میں آجاتی ہے، پھر اس کا ایک معیار اور کام کا اپنا انداز۔۔۔ وہ جو بھی کا کرنا چاہتا ہے اسے خوبصورتی اور نفاست سے انجام دیتا ہے، مجھے بھی اس کی خوبی خوب بھاتی ہے، اب اس نے جسارت بلاگ کی ذمہ داری سنبھالی ہے اور اس کام میں بھی جی جان سے لگ گیا ہے، اوپر سے انھیں ڈاکٹر واسع شاکر جیسا منتظم اور نابغہ مل گیا۔ ڈاکٹر صاحب بھی جناتی خصوصیت رکھتے ہیں، اپنے شعبے میں کمال کی سند رکھنے اور خوب پیسے کمانے کی اہلیت رکھنے کے باوجود وہ صحافت اور میڈیا میں گوڑوں گوڑوں دھنستے جارہے ہیں، ایک پرچہ نکالا ہے، جو صحت سے متعلق ہے، راہ ٹی وی ، جسارت، کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ لکھتے بھی ہیں، شوز میں بھی شرکت کرتے ہیں، درس قرآن بھی دیتے ہیں۔ بیرونی دورے بھی کرتے ہیں۔ پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں، جسارت بلاگ میں جس تیزی سے بلاگ لکھنے والے ٹوٹ پڑے ہیں،اسی کو دیکھتے ہوئے، انھوں نے جسارت بلاگ کی رسمی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا،تقریب کیا تھی، بلاگرز کا میلہ تھا، اچھے لکھنے والے، بہت لکھنے والے، ہر وقت فیس بک اور ٹوئیٹر پر بسیرا کرنے والے، صحافت میں نام کمانے والے اور لکھنے کا ہنر رکھنے والے سب ہی اس تقریب میں جمع تھے، شاہنواز فاروقی، اطہر ہاشمی، زاہد علی عسکری، مشتاق احمد خان، شکیل خان، کاشف نصیر، فہد کیہر، فیض اللہ، مزمل شیخ بسمل، فراز الحسن، عارف جتوئی، عماد ۔ غرض یہ کہ نئے پرانے لکھنے والوں کی ایک کہکشاں تھی، جس کی چمک سے بلاگر ز کا روشن افق جسارت بلاگ جگمگا رہا ہے۔ بلاگ لکھنا اب ہنسی کھیل بھی نہیں رہا، اب تو کسی کو یاد بھی نہ رہا ہو کہ اسرائیلی حکام ایک فلسطینی بلاگر باسل الاعراج سے اس قدر تنگ تھے کہ بالآخر اسرائیلی کمانڈوز نے اُس کے رہائشی فلیٹ میں گھس کر اس کی زندگی کا چراغ گل کردیا۔ فلسطینی بلاگر باسل الاعراج کا تعلق بیت لحم شہر کے نزدیک واقع گاؤں الولجہ سے تھا۔ وہ فلسطینی میڈیا کے حلقوں میں معروف تھا۔ اسرائیلی جاسوس کتوں کی طرح تقریباً ایک برس سے باسل کا تعاقب کر رہے تھے۔ پھر وہ شامی بلاگرخرطبیل سفدی جسے شام کی ظالم حکومت نے پھانسی دے دی۔ سفدی فلسطینی نثراد شامی تھے، جس نے سافٹ ویئر میں شہرت حاصل کی تھی۔ اسے پانچ برس تک جیل میں اذیت دی گئی۔ ہلاکت کے وقت، خرطبیل کی عمر صرف 34 برس تھی۔ وہ دمشق میں سافٹ ویئر تخلیق کرنے کا ورکشاپ چلاتے تھے، وہ عربی کے تخلیقی کام کے سرکردہ ماہر تھے۔ بنگلہ دیش میں بھی کئی بلاگرز کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے، ہمارے یہاں بھی بلاگر کے غائب ہونے یا غائب کردیئے جانے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔
یوں تو اس وقت دنیا میں فیس بک پر تقریباً ڈھائی کروڑ جعلی اکاونٹ ہیں، جس کے لکھنے والے شوشل میڈیا پر جو چاہے لکھتے ہیں، ایک بلاگر بھی ، اپنے بلاگ میں جو چاہے لکھ سکتا ہے، کچھ تو ایسے ہیں جو پردے میں رہ کر لکھتے ہیں۔ لیکن نئے لکھنے والوں کے لئے مشورہ ہے کہ وہ ، غیر موزوں، اور مہمل باتوں کے بجائے جو بھی لکھیں سنجیدگی اور تصدیق اور تحقیق سے لکھیں تو ان کے لکھے حروف کی عظمت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
پچھلے ایک دوسال سے مشترکہ بلاگنگ ویب سائٹس کی بہار آئی ہے نئے لکھنے والوں کی ایک نئی پود نے جنم لیا۔ ان میں سے اکثریت بہت اچھا لکھ رہی ہے، ایسے بلاگرزجو نام اور چہرہ رکھتے ہیں۔ ان کی کوئی نہ کوئی پہچان ضرور ہے۔ ان کی تحریر میں جان ہے۔بلاگ تخلیق کرنا یا بلاگر ہونا آپ کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی آپ پر ذمہ داری کا بوجھ بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ آپ کے تحریر کردہ مواد کے ذمہ دار آپ خود ہوتے ہیں، اس میں لکھی جانے والی تمام باتوں اور حقائق کی اخلاقی ذمہ داری آپ پر ہوتی ہے، آپ کے لکھے ہوئے اعداد و شمار کی جانچ پرکھ بھی آپ ہی کو کرنا ہوتی ہے۔ یوں بھی بقول اطہر ہاشمی’’ بلاگ ایک ذاتی ڈائری کی مانند ہے اس لیے اس میں وہ کچھ لکھیے جس پر بعد میں کوئی پشیمانی نہ ہو‘‘۔ جیسے ایک سیکولر لکھنے والے نے یہ لکھ کر خود ہی رسوائی مول لی کہ’’ اس نے اپنی ماں کا جنازہ نہ پڑھا اور اس دوران وہ سگریٹ نوشی میں مشغول رہے۔،،
اور لوگ اپنی ذات کے آئینے میں دنیا کو دیکھتے ہیں، اور لکھے الفاظ زیادہ تر اپنے متعلقہ شعبہ ہائے زندگی پر ہی محیط ہوتے ہیں، اس لیے دنیا میں لوگ مستند آرا کے لیے بلاگز کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ جسارت بلاگ نے اپنے لکھنے والوں کے لیے اظہار کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ اپنے نام اور شناخت سے لکھنا، بہت ہمت اور حوصلے کی بات ہے۔ بے نام اور بے چہرہ لوگ کی کوئی پہچان نہیں ہوتی۔ آپ بھی کسی دوسرے چہرے کے پیچھے چھپ کر اپنے خیالات کا اظہار کیوں کریں۔ ایسے بے چہرہ لوگ کسی نہ کسی ڈر یا خوف کا شکار ہوتے ہیں، ان کو یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ اگر وہ سامنے آئیں گے تو لوگ ان کی بات سننا بھی گوارہ نہیں کریں گے یا ان کے درپے ہو جائیں گے۔ شاید اس لیے وہ بے چہرہ ناموں اور نقابوں کا سہارا لیتے ہیں۔ جو لوگ اپنے بلاگ لکھ رہے ہیں، وہ ایک ایسی اخلاقی ذمہ داری کی بھی پاسداری کریں، جس میں کوئی بھی ذی شعور انسان کسی محفل میں بیٹھ کر اخلاق سے گری بات نہیں کرتا۔ اس لیے آپ کو بھی اپنے بلاگ میں اس اخلاقی معیار کو برقرار رکھنا ہوگا۔ اور شائد یہی جسارت کا طرہ امتیاز بھی ہے۔

حصہ

2 تبصرے

  1. بہت خوب۔۔۔ماشاءاللہ۔۔۔اچھا سلسلہ شروع کیا ہے۔۔ ہمیں بھی ویسے ہی بلالیتے۔۔۔لکھنا تو نہیں آتا دوستوں سے ملاقات ہوجاتی۔۔۔اور نذیر بھائی پر لکھنے کو تو میرا بھی جی چاہتا ہے۔ پتا نہیں خلوص کی کون سی دکان پر بیٹھتے ہیں۔ اللہ انہیں اور آپ سب کو ہمت اور انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرماتا رہے۔۔۔آمین

  2. نذیر بھائی کے بارے

    میں جو اپ کے خیالات ہیں ان کی میں بھی تصدیق کرنا چاھتا ھوں اگرچہ میں نہ تو لکھاری ھوں اور نا ھی اس شعبہ کے کسی حصہ سے وابستہ . مگر ساتھی ھونے کے حوالے سے ان کی محنت, مستقل مزاجی, کام کے اختتام تک اس کو اپنے اور طاری رکھنے کا فن اور اضطرارییت کم لوگوں میں دیکھی ھے

جواب چھوڑ دیں