گراں فروشوں کی من مانیاں 

‘‘ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے جہاں غریب کا جینا دو بھر کردیا وہیں متوسط طبقہ بھی گراں فروشوں کی من مانیوں سے پریشان ہے جس چیز کودیکھو اس کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں، مارکیٹ اور دکانوں میں گویاتاجر نہیں،لٹیرے بیٹھے ہوں کہ جو عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کاعزم کیے ہوئے ہیں،دوسری جانب یوٹیلیٹی بلز اندازاً بھیج دیے جاتے ہیں اداروں کو کوئی پوچھنے والا ہے نہ غریب کی کوئی سننے والا جس کو جہاں موقع مل رہاہے وہاں چونا لگارہا ہے ،چیک اینڈ بیلنس اور قوانین کا نفاذ کہیں نظر نہیں آتا،اگر نظر آتاہے تو کرپشن کے ریٹ بڑھانے ،کمزور طبقے کو دبانے یاپھر بیان بازی کیلئے اس کے علاوہ معاشرتی رویوں کو دیکھاجائے تو کہیں بھی نظم وضبط دکھائی دیتاہے نہ ہی منظم طریقے سے کام کے انداز ،اگر جائزہ لیاجائے تو سمجھ یہ آتا ہے کہ عوام میں ایک توشعور کی کمی ہے جو مہنگائی پراحتجاج نہیں کرتے ،اشیا کی قیمتوں کے بارے میں معلومات کافقدان ہے ،دوسری جانب قانون کی حکمرانی بھی کہیں نظر نہیں آتی،تعلقات اور سیاسی تعلقات کی وجہ سے قانون شکنی کھلے عام ہورہی ہوتی ہے جبکہ اس کے برعکس جہاں بندے کا بیک گراؤنڈ کمزور ہو وہیں اس کااستحصال ہوجاتاہے ،گویا مالی طورپر کمزورہونا کمتری سمجھی جاتی ہے ،اسی طرح معاملہ گراں فروشوں کو چھوٹ دینے کابھی ہے جہاں پیسوں کے عوض ہرطرح کی چھوٹ دھوکے بازوں کو مل جاتی ہے کہ وہ جس طرح چاہیں خراب مال بیچیں،اضافی قیمتوں پر بیچیں ،کوالٹی کنٹرول کے لوگ بھی کچھ سکوں کے لیے قوم کی صحت سے کھیلتے ہیں رشوت جیب میں رکھ کر بھلابیٹھتے ہیں کہ خدا کے ہاں بھی حاضر ہونا ہے بلکہ مقصدحیات کو پس پشت رکھتے ہوئے وہ زندگی کی رنگینوں میں کھونے لگتے ہیں آسائشات کی دنیا میں گم ہونے لگتے ہیں،یہ فکر ہی سرے سے ختم ہوجاتی ہے کہ مکافات عمل بھی کوئی چیزہوتی ہے ،خدانخواستہ کل کو یہی گھٹیامعیار کی اشیا ان کے گھروں تک بھی پہنچ سکتی ہے اور کسی کی زندگی کاچراغ گل کر سکتی ہے ،کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی آنکھوں پر پٹیاں پڑھ جاتی ہیں پھر انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتاسوائے دولت کے ،چاہے یہ کسی طرح بھی آئے ،انسان صرف اتناہی سوچ لے کہ میری کہیں باز پرس ہونی ہے ،ایک ایک چیزکاحساب دیناہے اور اس ذات کے سامنے حاضرہونا ہے جس کے سامنے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں تو کسی کی جرات ہی نہ ہوکہ وہ چندسکوں کے لیے گورکھ دھندوں کو اختیار کرے ۔

جواب چھوڑ دیں