شہر قائد میں بڑھتے جرائم 

محمد سمیع الدین انصاری
کراچی میں رہزنی وڈکیتی کی وارداتوں میں اچانک اضافہ شہریوں کو نہ صرف خوف میں مبتلا کررہاہے بلکہ وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ بھی محسوس کررہے ہیں،لٹیرے جب چاہتے ہیں عوام کو دبوچ لیتے ہیں کوئی نہیں جو انہیں لگام دے سکے ،موبائل فونز کاچھینناتوروز کامعمول بن چکاہے بلکہ ایک واردات شہرمیں ایسی بھی ہوئی کہ جس میں چھیناگیاموبائل فون علاقے کے ایس ایچ او سے برآمد ہوا ،اس سے ظاہر ہوتاہے کہ مجرموں کو پولیس کی پشت پناہی حاصل ہے اور یہ بات اب راز نہیں رہی کہ پولیس والے اکثر جرائم کی پشت پناہی کررہے ہوتے ہیں،جرائم کے اڈے پر چھاپے سے قبل ہی انہیں معلومات فراہم کردیتے ہیں جس کے نتیجے میں ملزمان بآسانی بھاگ نکلتے ہیں اور ان کے حوصلے مزید بلند ہوجاتے ہیں،وہ پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے ہیں۔
سوچنے کی بات ہے پولیس اور دیگر قانون نافذکرنے والے اداروں پر اتنی رقم کیوں خرچ کی جاتی ہے جب جرائم کی شرح اتنی عروج پر ہو،ڈکیتی اور راہزنی،نقب زنی کی وارداتیں معمول ہوں،تاجر ہوں یا اساتذہ،طلباہوں یا خواتین کوئی بھی طبقہ ایسا نہیں جو مجرموں کی زیادتیوں کا نشانہ نہ بنا ہو،موبائل فون سے محروم نہ ہواہو،سامان تجارت نہ لٹابیٹھاہو،اس میں انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ فرد جب انصاف کیلئے آواز اٹھاتاہے تو اس کی شنوائی تک نہیں ہوتی،بعض اوقات انسانیت سے گری ہوئی حرکت کرتے ہوئے یہ اہلکار اس سے رشوت بٹورنے سے بھی گریز نہیں کرتے جس کے نتیجے میں عوام کا بڑا طبقہ مقدمات درج یا رپورٹ نہیں لکھواتا کیونکہ ان کو ڈر ہوتاہے کہ پولیس انہی کی جیب خالی کردے گی،پے در پے ہونے والی وارداتیں پولیس کے دعووں کی نفی کرنے کیلئے کافی ہیں ورنہ ان کی جانب سے بہت بلند وبانگ دعوے کیے جاتے ہیں اور اس طرح کی بیان بازی کی جاتی ہے کہ جیسے معاشرے سے جرائم کاخاتمہ کردیاگیاہو،ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پولیس والے اکثریہ شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایک تو ہمارے الاؤنسز کم ہیں اور دوسرا فیول وغیر کے پیسے بھی نہیں دیے جاتے ،یونیفارم خود خریدنا پڑھتاہے ،میڈیکل نہیں ملتا ،بچوں کے پڑھنے کے اخراجات ہیں جوپورے نہیں ہوپاتے جس کے باعث ہماری کارکردگی متاثر ہے ،

جواب چھوڑ دیں