کراچی کی المناک تباہی اور ایم کیو ایم ۔۔۔۔۔ شاہنواز فاروقی

کراچی کا المیہ یہ ہے کہ کراچی پاکستان میں مذہبی شعور کا سب سے بڑا مرکز تھا، ایم کیو ایم اور اس کے ’’تخلیق کار‘‘ کراچی کے مذہبی شعور کو ہڑپ کرگئے۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا نظریاتی مرکز تھا، ایم کیو ایم اور اس کے سرپرست کراچی کا ’’نظریاتی تشخص‘‘ کھا گئے۔ کراچی دِلّی اور یوپی کی تہذیب کی علامت تھا، ایم کیو ایم اور اس کے نگرانوں نے کراچی کی تہذیب کو منہدم کردیا۔
کراچی علم اور اہلیت کا استعارہ تھا، ایم کیو ایم اور اس کے ’’نگرانوں‘‘ نے کراچی کی علمی بنیادوں کو کھود ڈالا اور اس کی نئی نسل کو اہلیت پیدا کرنے کے کام سے دور کردیا۔ کراچی پاکستان میں سیاسی شعور کا بلند ترین مرکز تھا، ایم کیو ایم اور اس کے ’’محافظوں‘‘ نے کراچی کے سیاسی شعور کو تعصب کی رسّی سے مصلوب کردیا۔
کراچی روشنیوں کا شہر تھا، ایم کیو ایم اور اس کے ’’سرپرستوں‘‘ نے اسے اندھیروں کا شہر بنادیا۔ کراچی ملک کا سب سے جدید شہر تھا، ایم کیو ایم اور اس کو زندہ رکھنے والوں نے کراچی کو ایک بہت بڑی ’’کچی بستی‘‘ بناکر کھڑا کردیا ہے، ایسی کچی بستی جس کی ہر گلی میں کوڑے کے ڈھیر جمع ہیں، جس کی ہر گلی میں گٹر ابل رہے ہیں، جہاں بارش ہوتی ہے تو پورا شہر ڈوب جاتا ہے، جہاں عیدالاضحی آتی ہے تو حیوانات کی آلائشیں بیس بیس دن تک سڑکوں اور گلیوں میں پڑی سڑتی رہتی ہیں۔ یہ کراچی کی تباہی کی ’’چند جھلکیاں‘‘ ہیں۔
جب بستیاں ذہن سے خالی اور نمو سے عاری ہوجاتی ہیں تو پھر ان میں ’’بلائیں‘‘ ڈیرہ ڈال لیتی ہیں۔ ایسی بلائیں جو کئی کئی نسلوں کے حال اور مستقبل کو ہڑپ کرجاتی ہیں۔
ایم کیو ایم ایک ایسی ہی بلا تھی۔ مگر ایم کیو ایم نہ خود وجود میں آئی، نہ خود زندہ اور توانا رہی۔ اس سلسلے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن ہے۔ اتنا بنیادی، اتنا فیصلہ کن کہ جنرل ضیاء الحق کے بغیر الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا تصور بھی محال ہے۔
بلاشبہ ’’مہاجروں کے مسائل‘‘ جنرل ضیاء الحق کی ایجاد نہیں تھے، اور اے پی ایم ایس او بھی جنرل ضیاء الحق نے نہیں بنائی تھی۔ اس کی پشت پر حالات کا جبر موجود تھا۔ مگر جنرل ضیاء الحق کی سرپرستی سے پہلے الطاف حسین کی سیاست ایک ’’ویرانے‘‘ کے سوا کچھ نہ تھی۔ 1985ء میں کراچی کے علاقے ناظم آباد میں ایک کالج کی طالبہ بشریٰ زیدی منی بس کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئی۔ اس سانحے نے کراچی میں مہاجر پٹھان تصادم کی صورت حال پیدا کردی، لیکن الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو ایک بڑی سیاسی قوت بنانے میں سانحۂ اورنگی ٹاؤن (علی گڑھ کالونی) نے مرکزی کردار ادا کیا۔
اس سانحے کا لبِ لباب یہ ہے کہ مبینہ طور پر پٹھانوں نے بہاریوں کے علاقے میں گھس کر چھے گھنٹے تک قتل و غارت گری کی اور پھر فرار ہوگئے۔ اُس وقت سندھ کے وزیراعلیٰ سید غوث علی شاہ تھے، اور سید صاحب جنرل ضیاء الحق کے خاص آدمی تھے۔ سانحۂ اورنگی ٹاؤن کی عجیب بات یہ تھی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سانحے کی اطلاع فوری طور پر ہوگئی تھی مگر قانون نافذ کرنے والا کوئی ادارہ چھے گھنٹے تک متاثرہ علاقے میں داخل نہیں ہوا۔ ’’نامعلوم‘‘ مگر مبینہ طور پر ’’پٹھان دہشت گرد‘‘ چھے گھنٹے تک جو کرسکتے تھے انہوں نے کیا اور پھر وہ دھویں کی طرح فضا میں تحلیل ہوگئے۔
جب یہ ہوچکا تو ’’قانون نافذ کرنے والے ادارے‘‘ اورنگی کے متاثرہ علاقوں میں داخل ہوئے۔ دراصل یہ سانحہ الطاف حسین کو سیاسی رہنما اور ایم کیو ایم کو مقبول مہاجر جماعت بنانے کی منصوبہ بندی کا حصہ تھا، اور بلاشبہ جنرل ضیاء اور اُن کے ریاستی اداروں کی یہ ’’منصوبہ بندی‘‘ پوری طرح کامیاب رہی۔
الطاف حسین اور اُن کی جماعت دیکھتے ہی دیکھتے ایک سیلابِ بلاخیز بن کر کراچی، حیدرآباد، خیرپور، نواب شاہ اور سکھر پر چھا گئی۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی اس طاقت کے ذریعے جنرل ضیاء الحق نے پیپلزپارٹی کو پیغام دیا کہ اگر تم نے میرے لیے زیادہ مسائل پیدا کیے تو شہری سندھ تمہارے ہاتھ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکل سکتا ہے۔ یہ بھی نہیں تو ایم کیو ایم کی سیاست تمہارے لیے مستقل دردِ سر بنادی گئی ہے۔
جنرل ضیاء الحق کو جماعت اسلامی، بالخصوص جماعت اسلامی کراچی کے رہنماؤں کی جانب سے سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی سیاست نے جماعت اسلامی کا بھی ’’علاج‘‘ مہیا کردیا۔ لیکن قصہ صرف اتنا سا نہیں ہے۔
آج ملک میں اس بات پر ماتم کیا جاتا ہے کہ الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کررہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ الطاف حسین ملک سے فرار کیسے ہوئے؟ کیا ریاست کے اہم اداروں کی مرضی کے بغیر وہ ملک سے فرار ہوسکتے تھے؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب ایک زوردار ’’نہیں‘‘ میں ہے۔ ایم کیو ایم میں دہشت گردی اور تشدد کا عنصر پہلے دن سے موجود تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا گیا۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ اور ایم کیو ایم کے باہمی تعلق کو جنرل پرویز نے ایک مکمل اشتہار بنادیا۔ جنرل پرویز ملک کے صدر ہی نہیں آرمی چیف بھی تھے اور وہ ایم کیو ایم کے ’’سیاسی اتحادی‘‘ تھے۔ جنرل پرویزمشرف اور ایم کیو ایم کا اتحاد 12 مئی (2007ء) کو کراچی میں عروج پر نظر آیا۔ اُس دن ایم کیو ایم نے جنرل پرویز کے اشارے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو کراچی کے ہوائی اڈے سے باہر نہ نکلنے دیا۔ ایم کیو ایم نے شہر کی اہم شاہراہیں بند کردیں اور جگہ جگہ فائرنگ کرکے 40 لوگ شہیدکردیے۔ ایم کیو ایم کی اس دہشت گردی کو جنرل پرویزمشرف نے ایک سیاسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دل کھول کر ’’سراہا‘‘ اور اسے ’’عوامی طاقت کا مظاہرہ‘‘ قرار دیا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ الطاف حسین نے اپنے دورۂ بھارت میں دو قومی نظریے کا مذاق اڑایا تھا اور قیام پاکستان پر حملہ کرتے ہوئے صاف کہا تھا کہ وہ اگر 1947ء میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوتے تو کبھی پاکستان کے قیام کے حق میں ووٹ نہ ڈالتے۔ یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ الطاف حسین نے لندن میں بیٹھ کر کراچی میں پندرہ سے بیس ہزار افراد کو قتل کرایا ہے، اربوں روپے کا بھتہ وصول کیا ہے، 50 سے زیادہ پُرتشدد ہڑتالیں کرائی ہیں جس سے کراچی کی معیشت کو کوئی سو ارب روپے کا نقصان ہوا۔
مگر اس سب کے باوجود فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کبھی الطاف حسین کے ٹیلی فونک خطابات پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی، لیکن جیسے ہی انہوں نے جرنیلوں اور فوج کو گالیاں دینی شروع کیں اُن کی زبان بند کردی گئی۔ جرنیلوں اور فوج کو گالیاں دینا بدترین بات ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، لیکن ملک کے نظریے اور خود پاکستان کو گالیاں دینا اس سے کہیں زیادہ ہولناک بات ہے۔ ۔
کہا جارہا ہے کہ الطاف حسین کی 22 اگست 2016ء کی تقریر کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ نے الطاف حسین پر ملک میں سیاست کے دروازے بند کردیے ہیں، لیکن اس حوالے سے یہ تماشا ہمارے سامنے ہے کہ الطاف حسین پر دروازے بند ہیں مگر الطاف حسین کے بھیانک جرائم میں شریک فاروق ستار، مصطفی کمال اور ان کے ساتھیوں کو مذہب اور حب الوطنی کی ’’لانڈریز‘‘ کے ذریعے ’’پاک صاف‘‘ اور ’’کارآمد‘‘ بنایا جارہا ہے۔
۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی قوم پرستانہ سیاست کو دیکھا جائے تو اس کی بنیاد تین نعروں پر تھی۔ ایک یہ کہ ایم کیو ایم کوٹا سسٹم ختم کرائے گی۔ دوسرا یہ کہ بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔
تیسرا یہ کہ ایم کیو ایم مہاجروں کی تہذیب اور کلچر کو فروغ دے گی۔ بدقسمتی سے ایم کیو ایم گزشتہ 30 برسوں میں ان میں سے ایک کام بھی نہ کرسکی، بلکہ اب تو وہ پندرہ بیس برس سے ان نعروں کا ذکر بھی نہیں کرتی۔ یہ مکمل طور پر ایک ناکامی کا منظر ہے۔ ایم کیو ایم کی اس ناکامی کو ایک فقرے میں بیان کرنا ہو تو کہا جائے گا کہ اس نے مہاجروں سے سب کچھ لے کر انہیں کچھ بھی نہیں دیا۔ ۔
کراچی کی تباہی میں نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کا بھی مرکزی کردار ہے۔ پیپلزپارٹی عام مہاجروں کو کوٹا سسٹم میں ایک فیصد کی بھی رعایت دینے پر تیار نہیں مگر وہ کسی مجبوری کے بغیر ہمیشہ ایم کیو ایم کو اقتدار میں شریک کرتی ہے اور اس پر وزارتوں کی بارش کرتی ہے۔
الطاف حسین بے نظیر بھٹو ہی کے نہیں، آصف زرداری کے بھی ’’الطاف بھائی‘‘ رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کی تمام تر دہشت گردی، بھتہ خوری اور ملک دشمنی کے باوجود میاں نوازشریف نے بھی ہمیشہ ایم کیو ایم کی سرپرستی کی ہے۔ انہیں وفاق میں اقتدار میں شریک کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق میاں صاحب ابھی حال ہی میں لندن گئے تھے تو وہاں انہوں نے ایم کیو ایم لندن کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔
کراچی کی المناک تباہی کا ایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ کراچی سب کا ہے اور کراچی کا کوئی نہیں۔ اس بات کو دوسرے الفاظ میں بیان کیا جائے تو کہا جائے گا کہ کراچی ایک ’’لاوارث شہر‘‘ ہے۔ وہ سب کو اپناتا ہے، سب کو Own کرتا ہے، مگر کراچی کو کوئی اپنانے یا Ownکرنے کے لیے تیار نہیں۔
کراچی جرنیلوں اور فوج کا شہر ہے مگر جرنیل اور فوج کراچی کو Own نہیں کرتے۔ کراچی پندرہ سے بیس لاکھ پنجابیوں کا شہر ہے مگر پنجابی کراچی کو Own نہیں کرتے۔ کراچی پندرہ سے بیس لاکھ پٹھانوں کا شہر ہے مگر پٹھان اسے Own نہیں کرتے۔
کراچی لاکھوں سندھیوں کا شہر ہے اور سندھ کا دارالحکومت ہے مگر سندھی کراچی کو Own نہیں کرتے۔ کراچی مہاجروں کا شہر ہے مگر مہاجروں کی ترجمان کہلانے والی ایم کیو ایم کو دہشت گردی، بھتہ خوری، بوری بند لاشوں کے کلچر، چائنا کٹنگ اور زمینوں پر قبضے جیسے مسائل سے نجات ملے تو وہ کراچی کو Own کرے، اسے کچھ دینے کی کوشش کرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ گزشتہ 30 برسوں میں کراچی میں بنیادی شہری سہولتوں کا ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔
پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور کراچی میں پانی کی شدید قلت ہے۔ کراچی کو روزانہ 1200 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے مگر اسے صرف 650 ملین گیلن پانی فراہم ہورہا ہے، اور جو پانی فراہم ہورہا ہے اس کا 80 فیصد آلودہ ہے۔ کراچی کے ہر علاقے میں گٹر ابل رہے ہیں اور کچرے کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں۔ کراچی کے مرکزی شاہراہیں تک ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ قیامت کا منظر پیش کررہی ہے۔
فوجی اور سول حکمرانوں کی ناکامی کا یہ عالم ہے کہ وہ کچھ اور کیا کراچی کا کچرا تک نہیں اٹھا پا رہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ریاست چلانا کھیل نہیں کیونکہ یہ کام وہی کرسکتا ہے جو ریاست چلانے کا فن یا State Craft جانتا ہو۔ مگر کراچی میں ’’اسٹیٹ کرافٹ‘‘ کی پستی کا یہ عالم ہے کہ وہ کچرا اور قربانی کے جانوروں کی آلائشیں اٹھانے اور گٹر کھولنے میں بھی ناکام ہے۔ اس صورتِ حال پر فوجی اسٹیبلشمنٹ، ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کو کہیں ڈوب مرنا چاہیے۔
کراچی ایک ایسی گائے ہے جس کا ’’دودھ‘‘ تو ہر ایک پی رہا ہے مگر اسے چارہ مہیا کرنا کسی کو یاد نہیں۔ یہ ایک شرمناک صورت حال ہے۔ لیکن اس صورت حال کے ذمے دار خود وہ مہاجر بھی ہیں جو کروڑوں تلخ تجربات کی اطلاع، مشاہدے اور تجربے کے باوجود ابھی تک ایم کیو ایم سے چپکے ہوئے ہیں ۔
حصہ
شاہنواز فاروقی پاکستان کے ایک مقبول اورمعروف کالم نگار ہیں۔ آج کل جسارت کے کالم نگار اور ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کے اسٹاف رائیٹر ہیں۔ ان کے موضوعات میں زبان، ادب، شاعری، تنقیدکے ساتھ برصغیر کی تاریخ وتہذیب، عالمی، قومی اور علاقائی سیاست ، تعلیم، معیشت، صحافت، تاریخ اور سماجی مسائل شامل ہیں۔ اسلام اورمغرب کی آ ویزش اور امت مسلمہ کے ماضی وحال اور مستقبل کے امکانات کا مطالعہ ان کا خصوصی موضوع ہے۔ اس کے علاوہ سوشلزم اور سیکولرازم پر بھی ان کی بے شمار تحریریں ہیں۔ فاروقی صاحب ’’علم ٹی وی‘‘ پر ایک ٹاک شو ’’مکالمہ‘‘ کی میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔ شاہنوازفاروقی اظہار خیال اور ضمیر کی آزادی پر کسی سمجھوتے کے قائل نہیں ہیں۔

3 تبصرے

  1. معاف کیجئے اس مضمون میں کون سی نئی بات بیان کی گئی ہے۔ ان حقائق سے ہر باشندہ آگاہ ہے اور مسائل کا ادراک بھی رکھتا ہے اور اگر کوئی نہیں بھی جانتا تو بھی اس کا علم رکھنا کوئی خاص فائدہ کا حامل نہیں۔ حل کیا ہے، کس سمت اور کس طرح آگے بڑھنا ہے، اس وقت یہ اہم ہے۔

  2. your article is good and informative, you have raised the core issues and the hands behind such situations, some indepth information and historical elements must have been missed that make an article authentic . The political scenario of that era
    has not been addressed properly. the writer seems one has sympathy for one community.

  3. I agreed with Abu Abdullah. Talk about solution not the problems. At least JI is not the solution.JI was itself a problem for Karachites. That’s why people at that time found solution under the umbrella of MQM.

جواب چھوڑ دیں