مایوس ہونے کا پیمانہ

مایوس ہونے کا امکان ہر انسان میں پایا جاسکتا ہے، البتہ مایوس ہونے کی سطح الگ الگ ہو سکتی ہے۔

موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوان کسی راہگیر سے موبائل فون چھین رہے تھے۔ پاس سے گزرنے والے ایک شخص عبدالقدوس نے یہ واردات ہوتی دیکھی۔ عین ممکن ہے، وہ صرف یہ واقعہ دیکھ کر اس ملک سے، نئی نسل سے حتیٰ کہ پوری انسانیت سے مایوس ہو جائے، اور اس مایوسی سے کبھی نہ نکل پائے۔

دوسری طرف ، یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص لیاقت نیازی کا کروڑوں روپے کا کاروبار کسی آتشزدگی سے یا پارٹنر کی دھوکہ دہی سے تباہ ہو جائے، وہ مقروض ہو کر پیسے کا محتاج ہو جائے، اس کا گھر تک فروخت ہو جائے اور سر چھپانے کے لیے اسے ایک دڑبا نما فلیٹ کرائے پر لینا پڑ جائے پھر بھی وہ اپنے مستقبل سے مایوس نہ ہو۔

عبدالقدوس اور لیاقت نیازی میں اتنا بڑا فرق کیسے پیدا ہوا؟

سوچا جائے تو یہ زندگی کے بارے میں انسان کا اپنا نقطۂ نظر ہوتا ہے جو اسے پُر امید یا مایوس بناتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نقطۂ نظر بنتا کیسے ہے؟  اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ انسانی ذہن نہایت پیچیدہ مشین ہے۔ پیچیدگی اس کی ساخت کے علاوہ اس کے افعال میں بھی ہے۔ ذہن کو مخصوص طرز پر ڈھالنے میں جو چیزیں اپنا اپنا کردار ادا کرتی ہیں  ان میں موروثیت،فطری مزاج، بچپن کے تجربات، ماحول، صحبت سب ہی شامل ہیں۔ ان عوامل کا تناسب کم یا زیادہ ہو سکتا ہے، تاہم یہ سب ذہن کو ڈھالنے میں شریک ہوتے ہیں۔

موروثیت کی تفصیل میں جائیں تو یہ چیزیں انسان کو عموماً والدین سے ملتی ہیں: مذہب، عقیدہ، خدا کے بارے میں تصور، زندگی کا مقصد، طرزِ زندگی۔

فطری مزاج میں یہ چیزیں شامل ہو سکتی ہیں: پسند اور ناپسند، خود اپنی نظروں میں اپنی حیثیت اور مقام، حالات برداشت کرنے کی صلاحیت۔

بچپن کے تجربات انسانی شخصیت کو مکمل طور پر ڈھال دیتے ہیں۔ اگر بچپن میں خوب پیار محبت،حوصلہ افزائی اور توجہ ملی ہو تو انسان کا یقین پیار محبت اور حوصلہ افزائی پر بے حد پختہ ہو جاتا ہے اور ان چیزوں کی جھلک اس کی شخصیت پر سب سے نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ اس کے برعکس اگر بچپن ہی میں سختی، ڈانٹ پھٹکار، سزا، جدائی، نفرت اور نظر انداز کیے جانے کا دکھ مل جائے تو انسان چار و ناچار ان ہی اقدار پر یقین کر بیٹھتا ہے، الا ماشاء اللہ۔

ماحول ساری عمر بدلتا رہتا ہے۔ آپ کی زندگی میں آنے والے ہر اسکول ، ہر مدرسے، محلے، کالج، دفتر وغیرہ کا ماحول جدا جدا ہوگا تاہم آپ کا فطری مزاج اس ماحول کے اثرات کو کم یا زیادہ کر دے گا چنانچہ ایک ہی ماحول میں رہنے والے دو افراد کی طبیعتوں میں فرق ہوگا۔

صحبت چاہے دوستوں کی ہو یا کتابوں کی، انسان پر زبردست اثرات مرتب کرتی ہے اور زندگی کی طرف اُس کا نقطۂ نظر پختہ کرتی ہے۔یہ درست ہے کہ دو متضاد رجحانات کے افراد بھی اچھے دوست ہو سکتے ہیں اور رہ سکتے ہیں تاہم عام کلیہ وہی ہے،کند ہم جنس با ہم جنس پرواز، کبوتر با کبوتر، باز بباز۔

****

حصہ
تحریر و تصنیف کے شعبے میں اپنی شناخت بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ عامل صحافی تھے، فی الحال مترجم کی حیثیت سے معروف ہیں۔ ایم اے ابلاغ عامہ اردو کالج کراچی سے ۱۹۹۸ء میں کرنے کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑ دی، جس کا تعلیم پر کوئی برا اثر نہیں پڑا، البتہ نئی نسلوں کو عبرت ملی کہ تعلیم چھوڑ دینے کا کیا نقصان ہوا کرتا ہے۔ اردو اور انگریزی فکشن سے دلچسپی ہے، اردو میں طنز و مزاح سے۔

جواب چھوڑ دیں